ہشام بن مغیرہ
| ہشام بن مغیرہ | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 540ء مکہ |
| وفات | سنہ 598ء (57–58 سال) مکہ |
| رہائش | حجاز |
| آبائی علاقہ | مکہ |
| زوجہ | اسماء بنت مخربہ |
| اولاد | حارث بن ہاشم ، ابوجہل |
| والد | مغیرہ بن عبد اللہ مخزومی |
| خاندان | بنی مخزوم |
| عسکری خدمات | |
| لڑائیاں اور جنگیں | حرب الفجار |
| درستی - ترمیم | |
ہشام بن مغیرہ قریشِ مکہ کے باوقار سرداروں میں شامل تھے جنھوں نے زمانۂ جاہلیت کے سماجی، مذہبی اور قبائلی ڈھانچے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ بنو مخزوم کے معتبر رئیس تھے اور اسی قبیلے کی سیاسی قوت اور جنگی شان نے انھیں قریش میں ایک مضبوط مقام عطا کیا۔ روایات کے مطابق ہشام بن مغیرہ، عمرو بن ہشام المعروف ابو جہل کے والد تھے اور اسی نسبت نے انھیں مؤرخین کی تحریروں میں ایک مستقل شناخت بخش دی۔ بنو مخزوم قریش کے مال دار، جنگی طاقت رکھنے والے اور روایتی سرداری کے خوگر قبائل میں شمار ہوتا تھا، جس کی وجہ سے ہشام کا اثر و رسوخ نہایت مستحکم تھا.[1]
ہشام کا مذہب وہی تھا جو زمانۂ جاہلیت میں اہلِ مکہ کے درمیان عام تھا، یعنی بت پرستی۔ وہ کعبہ میں موجود متعدد بتوں کی تعظیم کرتے اور انہی عقائد کی پاسداری کرتے تھے جنہیں قریش اپنے آبا و اجداد کی وراثت سمجھتے تھے۔ مکہ کا سماجی نظام اس دور میں بت پرستی سے گہرا جڑا ہوا تھا، اس لیے ہشام جیسے سردار مذہبی رسومات کے محافظ بھی تھے اور ان کے محافظت میں قبائلی رواجوں کا تسلسل بھی شامل تھا.[2]
ابو جہل کی شدید اسلام دشمنی کے تاریخی پس منظر کو سمجھنے کے لیے مؤرخین اس کے خاندان کی ذہنی ساخت اور مذہبی وراثت کا بھی ذکر کرتے ہیں، جس میں ہشام کا نام ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ ہشام کا براہِ راست کوئی بڑا تصادم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مذکور نہیں، لیکن جاہلی مذہبی نظام اور قریشی روایات کی سختی سے پاسداری ان کے مزاج کی خصوصیت تھی۔ یہی سخت پابندی ابو جہل میں بھی منتقل ہوئی، جو قریش کے پرانے مذہبی نظام کا سب سے جری محافظ بن کر سامنے آیا۔[3]
قریش میں سرداری کے لیے صرف دولت کافی نہیں تھی بلکہ قبائلی دور اندیشی، سخاوت، شجاعت اور مشترکہ معاملات میں قائدانہ صلاحیت بھی ضروری سمجھی جاتی تھی۔ روایات کے مطابق ہشام بن مغیرہ ان اوصاف میں ممتاز تھے۔ مکہ کے قبائلی فیصلوں، حج کے انتظامات اور تجارتی قافلوں کی نگرانی جیسے اہم امور میں ان کی رائے فیصلہ کن حیثیت رکھتی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد بھی بنو مخزوم نے قریش میں اپنی سرداری اور وقار برقرار رکھا، جو ہشام کی سیاسی بصیرت اور قبیلے کے اندر ان کی مضبوط پوزیشن کا ثبوت ہے۔[4]
یوں ہشام بن مغیرہ نہ صرف ابو جہل کے والد ہونے کے ناتے بلکہ قریشِ مکہ کے مذہبی و سماجی ماحول کو سمجھنے میں ایک اہم تاریخی کردار رکھتے ہیں۔[5]