ہلل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہلل
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 112 ق م  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سلطنت بابل[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 9  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
یروشلم  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ شمایا[4]،  اباتلیون[4]  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص یونتن بن عزئیل،  یونتن بن زکائی[5]  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ربی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ہلل یا بزرگ ہلل (انگریزی: Hillel، عبرانی: הלל) جسے کچھ محتلف ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے جیسے: ہلل ہزاکن اور ہلل ہاگاڈول یا ہاباولی[6][7] پہلی صدی عیسوی کا ایک معروف یہودی عالم اور یہودی تاریخ کا اہم رہنما، جو 110 قبل مسیح بابل میں پیدا ہوا اور 10 عیسوی یروشلم میں مرا۔[8] مشنا اور تالمود کی ترویج کے لیے اس نے کام کیا۔ وہ ایک معروف یہودی مفکر اور عالم کے طور پر جانا جاتا تھا اس نے ہلل اکادمی کی بنیاد رکھی۔

زندگی[ترمیم]

"جو خود کے لیے پسند نہیں کرتے، وہ ساتھی کے لیے بھی نہ کرو۔"

بزرگ ہلل کا مشہور زمانہ بیان۔[9][10]

ہلل بابل سے پہلی صدی عیسوی کے شروع میں یروشلم آیا وہ وہاں اپنے حریف شمائی کی موجودگی میں تبلیغ کیا کرتا تھا جو فریسیت کی سخت گیرانہ تشریح کا علمبردار تھا۔

سنہری اصول[ترمیم]

کہا جاتا ہے کہ ایک دن ہلل کے پاس ایک بت پرست آیا اور اس سے کہا کہ اگر تم ایک ٹانگ پر کھڑے کھڑے ساری تورات کا خلاصہ بیان کرو تو میں فورا یہودیت قبول کر لوں گا۔ ہلل نے ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر کہا کہ

"تم جو کا م اپنے لیے ناپسندیدہ سمجھتے ہو، وہ اپنے ساتھی سے نہ کرو: اصل تورات بس اتنی ہے; باقی اسی کی تفسیر ہے; جاؤ اور مطالعہ کرو"[11]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.britannica.com/EBchecked/topic/265877/Hillel
  2. http://www.independent.co.uk/voices/editorials/leading-article-brevity-as-the-soul-of-wit--ndash-and-the-shorter-the-better-2375809.html
  3. http://www.ingentaconnect.com/content/mcb/jmh2/2012/00000018/00000003/art00003?crawler=true
  4. فصل: 1 — باب: 12
  5. فصل: 2 — باب: 8
  6. Shulamis Frieman, Who's Who in the Talmud, Jason Aronson, Inc., 2000, p. 163.
  7. Pirḳe Avot, CUP Archive, 1939, p. 20.
  8. Jewish Encyclopedia: Hillel: "His activity of forty years is perhaps historical; and since it began, according to a trustworthy tradition (Shab. 15a), one hundred years before the destruction of Jerusalem, it must have covered the period 30 BCE - 10 CE"
  9. http://etexts.diggingwithdarren.com/pirkei_avot/chapter_2 Mishnah 5
  10. http://www.shechem.org/torah/avot.html 2:5
  11. Shab. 31a.