ہم باشی
ظاہری ہیئت
ہم باشی (انگریزی: Commensalism، کمنسلزم) دو جانداروں کا ایسا تعامل ہے جس میں ایک کو فائدہ پہنچتا ہے جبکہ دوسرے کو نہ نقصان اور نہ کوئی معاونت یا فائدہ ملتا ہے۔[1] یہ ایک ماحولیاتی تعامل ہے۔ دیگر ماحولیاتی تعاملات کی طرح ہم باشی بھی مختلف دورانیے اور عمق کی حامل ہو سکتی ہے۔
زیادہ دیرپا اور قریبی ہم باشی کے لیے ایک اصطلاح ہم زیستی (Symbiosis) بھی ہے۔ ہم باشی کی درج ذیل اشکال ہو سکتی ہیں:
- تنقل (Phoresy): اس صورت میں ایک جاندار کسی دوسرے جاندار کو نقل و حمل کے لیے استعمال کرتا ہے۔ شارک پر سفر کرتی مصاص ماہی (Remora) اس کی مثال ہے۔ یہ ہم باشی عارضی بھی ہو سکتی ہے اور مستقل بھی۔
- در مکینی (Inquilinism): اس شکل میں ایک جاندار کسی دوسرے جاندار میں گھر بنا لیتا ہے۔ بڑے درختوں پر اُگنے والے Epiphytic پودے اس کی مثال ہیں۔
- میٹابیوسس (Metabiosis): یہ بالواسطہ ہم باشی ہے۔ اس میں انحصار کرنے والا جاندار دوسرے کی موت کے بعد اس کی پیدا کردہ کسی چیز سے استفادہ کرتا ہے۔ مثال کے طور پر گوشہ گیر کیکڑا (Hermit crab) اپنی حفاظت کے لیے شکم پایہ (گیسٹروپوڈ) کے خول میں رہنے لگتا ہے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ EO Wilson (1975). "Ch.17-Social Symbiosis". Sociobiology: The New Synthesis (بزبان انگریزی). Harvard University Press. p. 354. ISBN:978-0-674-00089-6.