ہم جنس پسندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ہم جنس پسندی
۲۰۱۳ میں ایک رسرچ،جس میں لوگوں نے کہا کہ ’’ہاں،ہم جنسی صحیح ہے‘‘۔ ہاں کرنے والے ممالک کے فیصد:
  81% - 90%
  71% - 80%
  61% - 70%
  51% - 60%
  41% - 50%
  31% - 40%
  21% - 30%
  11% - 20%
  1% - 10%
  No data
عالمی قوانین ،س

ہم جنس پسندی (انگریزی: Homosexuality) ایک ہی جنس کے حامل افراد کے مابین پائے جانے والے جنسی میلان کا رویہ جس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اِرثی یا وراثتی یا موروثی ہے. انگلستان اور ویلز میں باہمی رضا مندی کے تحت قانون جنسی جرائم مجریہ 1967ء کے تحت اسے جائز قرار دیا گیا ہے۔ کئی دیگر ممالک میں بھی اسے جائز قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اسلام سمیت اکثر دوسرے مذاہب میں بھی اسے ناجائز قرار دیا گیا ہے اور اس کا مرتکب مستوجب سزا ہے۔
اس قبیح حرکت کا آغاز بمطابق ابراہیمی ادیان،پہلی مرتبہ قوم لوط نے کیا۔قرآن میں اس قوم اور ان کی کہانی کا ذکر باتفصیل کیاگیا ہے۔ اور یہ اسی قوم کا ایجادت ہے۔آج دنیا بھر میں ہم جنسی سرپزیر ہے جہاں پر اکثر غیر اسلامی ممالک نے اسے جائز قراردیاہے۔اس کے نتیجے میں ان ممالک میں بچّے بہت کم جنے جاتے ہیں اور ن ممالک کے گورنمنٹ کو بچے جننے والوں پر لاکھوں رائج الوقت رقم خرچ کرنا پڑتا ہے اور ان ممالک میں عورتوں کا بھی برا حال ہے ،یہی وجہ ہے کہ اسلام اور دیگر ممثل مذہبوں نے اس کام کو ناپاک قرار دیتے ہوئے منع کیا ہے اور فاعل اور مفعول دونوں کو محمد ﷺ نے سخت سزا کے موجب قراردیے ہیں۔

تاریخی پس منظر[ترمیم]

جب ہم جنس پرستی کی ریسرچ کا آغاز ہوا تو اسے پہلے پہل ایک نفسیاتی خرابی کے طور پردیکھا جاتاتھا۔اس مسئلہ پر سائیکالوجی برسوں کے منظم مطالعہ کے بعد موجودہ پوزیشن پر پہنچی ہے۔لیکن ہم جنس پرستی سے متعلق موجودہ رویے کی جڑیں۔مذہبی قانونی اور ثقافت کی مضبوط قدروں میں پیوست ہیں۔قرون وسطی کے آغاز میں عیسائی چرچ ہم جنس پرستی کو برداشت کرتا یا کم سے کم چرچ کے باہر اسے نظر اندازکردیا جاتا تھا۔ تاہم بارہویں صدی کے آخر میں یورپ کے سیکولراور مذہبی اداروں میں ہم جنس پرستی کو قابل نفرت نگاہوں سے دیکھا جانے لگا تھا۔عیسائی مذہبی رہنما ایکویناس سینٹ اور دیگرنے اپنی تحریروں میں ہم جنس پرستی کو غیر فطری قرار دیتے ہوئے اس کی خوب مذمت کی ۔انیس ویں صدی تک ہم جنس پرستی کو فطرت کے خلاف بغاوت تصور کیاجاتھا تھا۔قانون کی نظر میں یہ بدفعلی نہ صرف قابل سزاتھی بلکہ اس کے مرتکب کو موت کی سزا بھی دی جاتی تھی۔[1] جس کے بعد لوگ ہم جنس پسندی کی وجوہات معلوم کرنے کیلئے زیادہ دلچسپی لینے لگے۔ طب اور سائیکالوجی نے اس مسئلہ کو سمجھنے کیلئے قانون اور مذہب کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کرنے لگا۔19 ویں صدی کے آغاز میں لوگوں نے سائنسی طور پر ہم جنس پرستی کا مطالعہ شروع کیا۔اس وقت سب سے زیادہ یہ نظریہ حاوی تھاکہ ہم جنس پرستی ایک بیماری ہے ۔ لیکن اس نظریہ پر موثر ثقافتی اثرات صاف نظر ارہے تھے۔[2] لیکن بیسویں صدی کے وسط میں علم نفسیات میں ہم جنس پرستی سے متعلق نظریات میں تبدیلی آگئی تھی۔ماہرین نفسیات کو یقین ہوگیاتھاکہ تھراپی کے ذریعے ہم جنس پرستی کا علاج کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح دیگر جینیاتی اور ہارمونل نظریات بھی قبول کرلئے گئے تھے۔ان دنوں ہم جنس پرستی کو عالمی مرضpathological کے طور پر نہیں بلکہ مختلف حالت کے اعتبارسے دیکھا جانے لگا تھا۔[1] سگمنڈ فرایڈ اور ہیولاک ایلس کی طرح کچھ ماہرین نے ہم جنس پرستی پر مزید قابل قبول مؤقف اختیار کیا ہے ۔ فرایڈ اور ایلس کا خیال تھا کہ کچھ افراد میں ہم جنس پرستی عمومی نتیجہ کے طور پر ابھرتی ہے ۔ الفریڈ کینسے کی ریسرچ اور مطبوعہ تحریرات میں سماجی اور ثقافتی نقطہ نظر کے تحت اس سے متعلق ابنارمل حالت سے دوری اختیار کی گئی ۔ نفسیاتی مطالعہ میں اس نقطہ نظر کی منتقلی کو پہلی مرتبہ 1952 میں (Diagnostic Statistical Manual (DSM کے ورژن میں پیش کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے ۔ لیکن 1973 میں اسے حذف کردیا گیا۔[2]

نفسیاتی تحقیق کے اہم مباحث[ترمیم]

ہم جنس پرستی کے اہم نفسیاتی تحقیق کو پانچ اقسام میں تقسیم کیا گیاہے:

1۔ وہ کیا وجوہات ہیں کہ کچھ لوگ اپنی ہی جنسی کی طرف مائل ہوتے ہیں ؟

2۔ کن وجوہات کی بنیاد پر ہم جنس پرست عوامی امتیاز کا شکار ہوتے ہیں۔ اور کیونکر یہ متاثر کن ہوسکتا ہے؟

3۔ ہم جنس پرستی کی عادت سے کسی کی عمومی اور نقسیاتی صحت متاثر ہوتی ہے ؟

4۔موافق ساجی حالات کی تبدیلی کیلئے کونسےکامیاب طریقہ کار اختیار کئے جاسکتے ہیں ؟کیوں کچھ لوگوں کیلئے ہم جنس پرستی مرکزی شناخت رکھتی ہے جبکہ دیگرکیلئے ضمنی شناخت کی حامل ہے۔؟

5۔ہم جنس پرستوں کے بچے کیسے پرورش پاتے ہیں۔؟

ہم جنس پسندی کی وجوہات[ترمیم]

ہم جنس پسندوں اور Bisexual ہونے کی وجوہات پر اتفاق نہیں پایا جاتا ہے۔ بہت سے مذاہب میں ہم جنس پسندی یاBisexual کو گناہ سمجھا جاتا ہے ۔ کچھ مذاہب میں اسے ختیاری طور پر یعنی ادمی کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ لیکن بہت سے جدید سائنسدانوں کا کہنا ہیکہ ہم جنس پسندی اختیاری نہیں بلکہ جینیاتی اور پیدائش سے قبل ہارمون کے زیر اثر (جب بچہ رحم مادرمیں ہوتا ہے) ہوتا ہے ۔ بعضے اوقات ماحول کی وجہ سے بھی ادمی اس کا عادی ہوجاتا ہے ۔ یہ بات تقریبا طئے ہیکہ اب تک ہم جنس پسندی کے پختہ وجوہات کا علم نہیں ہوسکا ہے ۔

اسی طرح بہت سے سائنسداں او ر ڈاکٹرز اس بات پر بھی متفق ہیں کہ ہم جنس پسندوں کے رویے کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے ۔پہلے ڈاکٹرس اسے ایک ذہنی بیماری سمجھ کر علاج کرتے تھے لیکن آج بہت سے ملکوں میں ہم جنس پسندی کو ذہنی بیماری کے زمرے سے نکال دیا گیا ہے ۔ تاہم کچھ مذہبی کمیونٹیز اج بھی ہم جنس پرستی کے علاج کی کوششوں میں سرگرم ہیں۔ہم جنس پرستی کے علاج کو Reparative طب کہا جاتا ہے ۔

اس قسم کے علاج میں بہت سے ہم جنس پرستوںنےخودکوHeterosexual ( جنس مخالف کی طرف مائل ) بنانے کی بھی کوشش کی ہے ۔ ان کا دعوی ہیکہ علاج سے ان میں تبدیلی بھی ائی ہے، لیکن بہت سے لوگ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے ۔

مختلف جانوروں میں ہم جنس پسندی[ترمیم]

ماہرین کا ماننا ہے کہ ہم جنس پسندی اور مخنثانہ صفت (Transgender) صرف انسانوں میں ہی نہیں بلکہ بہت سے مختلف انواع کے جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے ۔ جیسے پینگوئن، چمپنزی اور ڈالفن میں بھی ہم جنس پرستی دیکھی گئی ہے ۔ کچھ جانور تو انسانوں کی طرح زندگی بھر اس فعل کے عادی رہتے ہیں۔[3] اس میں جنسی فعل، محبت، دوہم جنسوں کے تعلقات اور سرپرستانہ طرز عمل بھی شامل ہیں۔,[4] محقق Bruce Bagemihl کے جائزے سے معلوم ہوتا ہیکہ ہم جنس پرست رویہ تقریبا 1500 انواع کے جانوروں میں پایاجاتاہے۔Bruce Bagemihl کا یہ جائزہ 1999 میں کیا گیا تھا۔جائزہ کے مطابق 1500میں سے 500 جانوروں کے انواع سے متعلق بہترین دستاویزات بھی تیار کی گئی ہیں۔[4][5] مختلف جانوروں میں یہ جنسی رویے بھی مختلف شکلوں میںپائے جاتے ہیں۔بلکہ ایک ہی نوع کے مختلف جانوروں میں بھی جنسی رویہ مختلف پایا گیا ہے۔ جانوروں میں اس رویہ کے مضمرات  کو مکمل طور پر سمجھنا ابھی باقی ہے۔جبکہ کئی انواع کے جانوروں کی ہم جنس پرستی کی وجوہات کامطالعہ کیاجاچکاہے۔[6] Bagemihl کا کہنا ہیکہ جانوروں کی دنیامیں homosexual، bisexual اوربازتخلیقی سیکس سمیت دیگرجنسی تنوع کثیرتعدادمیں پایاجاتاہے۔ سائنسی برادری اور سوسائٹی کے مقابل جانوروں کی دنیا زیادہ جنسی تنوع رکھتی ہے۔ [7]

ہم جنس پرستوں کو درپیش مشکلات[ترمیم]

اج کے ماڈرن زمانے میں مغربی ممالک میں ہم جنس پرستی کو تسلیم کیاجاتاہے۔بیشتر مغربی ملکوں میں ہم جنس پرستوں کو تشدد اور امتیازی سلوک سے بچانے کیلئے باقاعدہ قانون سازی بھی ہے۔کئی ملکوں میں ہم جنس پرستوں کو امتیازی سلوک کا سامنا ہوتا ہے۔ ان ملکوں میں ہم جنس پرست کو ملازمت سے برطرف کردیا جاتاہے۔ اگرچہ وہ خواہ کتنا ہی اچھا ملازم ہو۔ ہم جنس پرستوں کو کرایہ پر مکان کے حصول اور ریستورانٹس میں کھانے سے محروم رکھا جاتا ہے۔بعض مسلم ملکوں میں اس قبیح فعل کے عادی افراد کو جیل میں ڈالا جاتا ہے جبکہ ان کو موت کی سزا بھی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ 1979کے بعد سے ایران میں تقریبا 4000 ہم جنس پرستوں کو پھانسی دی گئی ہے ۔ [8] برطانیہ میں بھی پہلے ہم جنس پرستی کو جرم قرار دیا جاتا تھا۔لیکن اج انھیں قانونی تحفظ حاصل ہے۔ اس قانون کے مطابق بالغوں کے بیچ جنسی تعلقات جرم نہیں ہے۔یہاں ہم جنس پرست مرد اور خواتین اپس میں شادی تو نہیں کرسکتے، لیکن ان کے درمیان شہری شراکت داری ہوسکتی ہے جس کے تحت شادی سے متعلق کچھ حقوق اور فوائد حاصل ہوسکتے ہیں. ہم جنس پرست مرد فوج میں ملازمت حاصل کرسکتے ہیں.وغیرہ۔۔

عالمی قانون سازی[ترمیم]

World homosexuality laws

اقوام متحدہ تمام اداروں رکن ملکوں کو ہم جنس پسندوں کے حقوق کے تحفظ کی تلقین کرتا ہے۔اس عالمی ادارے کے مطابق ہم جنس پرستی یا جنسی ترجیحات کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک اور تشدد کے خلاف بھی اسی سختی سے کارروائی کی جائے جیسی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف کی جاتی ہے۔

کچھ ملکوں میں ہم جنس پرستوں کو شادی کرنے کی اجازت ہے۔ان ملکوں میں ہالینڈ، ناروے، بیلجیم، اسپین، جنوبی افریقا، سویڈن اور کینیڈا شامل ہے۔ہالینڈ میں سب سے پہلے ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت ملی۔ہالینڈ میں یہ قانون 2001 میں منظور ہوا تھا۔اسپین میں 2005 میں اسے قانونی حیثیت عطا کی گئی۔سب سے آخری میں کینیڈا نے ان شادیوں یعنی ’’گیے میریج‘‘ کو تسلیم کیا۔سویڈن کے اسٹاک ہوم جیسے مغربی تہذیب کے مراکزمیں ہم جنسی پرستی کی شادیوں کا رواج کافی پرانا ہے لیکن سنہ 2009ء میں حکومت نے اسے قانونی حیثیت دی ۔مصر میں ہم جنس پرستی پر قانونی طور پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن معاشرے میں اس کو اب بھی برا سمجھا جاتا ہے۔

سانچہ:ایران میں ہم جنس پرستی

ایران میں ہم جنس پرست مردوں یا خواتین کو اپنی جنس تبدیل کروانے پر مجبور کرنا سرکار کی پالیسی نہیں ہے، لیکن ان لوگوں پر شدید دباؤ ہوتا ہے۔80کی دہائی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ خمینی نے لوگوں کو اپنی جنس بدلوانے کی اجازت دینے کا فتویٰ جاری کیا تھا۔حکومت کی پالیسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مخنث ایرانیوں کو اپنی زندگی کو پوری طرح جینے میں مدد دی جا رہی ہے اور انھیں دوسرے ممالک سے زیادہ آزادی حاصل ہے۔لیکن خدشہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو بھی جنس کی تبدیلی کی سرجری کی طرف مائل کیا جا رہا ہے جو مخنث نہیں، بلکہ ہم جنس پرست ہیں۔سال 2006 میں 170 سرجریز کی گئی تھیں جو 2010 میں 370 ہو گئیں۔ لیکن ایک ایرانی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ صرف وہ ہر سال کم از کم 200 آپریشن کرتے ہیں۔

Flag of Pakistan (bordered).svg پاکستان

پاکستان میں بھی ہم جنس پسندوں کے باقاعدہ زیرزمین اجتماعات ہوتے ہیں اور پاکستانی ہم جنس پرستوں کے بیرون ملک تنظیموں سے بھی رابطے ہیں۔پاکستانی قوانین میں اس فعل بد کو جرم قرار دیا گیاہے اوراس کے مرتکبین کو دس سال قید یا کوڑے کی سزا دی جاتی ہے۔

ہم جنس پرستی اور علم نفسیات[ترمیم]

ہم جنس پرستی کے موضوع پر سب سے پہلے علم نفسیات نے ایک مجرد رجحان کے طور پرمطالعہ کیا ۔ بیسوی صدی سے پہلے اوراس صدی میں جنرل سائیکولوجی نے pathological ماڈل کے لحاظ سے ہم جنس پرستی کو ایک ذہنی بیماری کے طور پرجانچ کی ۔اس ریسرچ کیلئے ہم جنس پرستی کی درجہ بندی کی گئی۔لیکن یہ ریسرچ سائنسی طورپراسےابنارمل اور ڈس‌آرڈر کی حیثیت سے پیش کرنے کیلئے مسلسل ناکام رہی۔جس کے نتیجہ میں ایسی accumulated research ۔ماہرین طب و دماغی صحت سمیت بھیویرئیل اورسوشل سائنس نے ہم جنس پرستی کو ایک ذہنی بیماری کے طورپر درجہ بندیکرنے کی مخالفت کی ہے۔ یادرہیکہ ڈی سی ایمدرجہ بندی ایسے خیالات کی عکاسی کرتی ہے جس کی جانچ پختہ طور پر نہیں کی گئی ہو۔یہ خیالات کسی زمانے میں مقبول سماجی معیار ات اورunrepresentative نمونوں کے clinical impressions پرمبنی ہیں ۔ یہ خیالات علاج کے خواہیش مند مریضوں اوران مریضوں کومجرمانہ نظام انصاف میں گھسیٹنے والوں کے ہیں۔[9]

1970 کے بعد سے behavioral۔social sciences اور صحت اور ذہنی صحت کے پروفیشنلس نے عالمی سطح پراس بات سے اتفاق کیاہیکہ ہم جنس پرستی انسانی جنسی رجحان کی ایک عام تبدیلی ہے۔ لیکن وہ لوگ جو اسے ڈس‌آرڈر سمجھتے ہیں اج بھی اپنے خیالات پرقائم ہیں۔ 1973 میںAmerican Psychiatric Association نے ہم جنس پرستی کو ایک ذہنی خرابیmental disorder کی درجہ بندی سے خارج کردیا ہے۔[10] اس کےبعد American Psychological Association Council کے نمائندوں نے 1975میں اوردیگردماغی صحت کے تنظیموں سمیت 1990 میں عالمی ادارہ صحتنے بھی اخرکاراسے declassified کردیاتھا۔[11] جبکہ American Psychiatric Association اور American Psychological Association کاماننا ہے کہ حالیہ ریسرچ اورکلنیکل لٹریچرواضح کرتے ہیں کہ ہم جنس پرستی۔ہم جنس کی طرف رومانی طورپر راغب ہونا ،احساسات ہونا انسانی جنسیات کے نارمل اورمثبت تنوع ہے۔

فرائیڈ اور تحلیل نفسی[ترمیم]

ہم جنس پرستی سے متعلق سگمنڈ فرائیڈ کے خیالات پیچیدہ تھے ۔ انھوں نے ہم جنس پرستی کے فروغ اور وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ سب سے پہلے bisexuality کی وضاحت کرتا ہے ۔ اس کا کہنا ہیکہ دوجنسیت پرستی دراصل جنسی طلب کا ایک عام حصہ ہے ۔"[12] اس کا مطلب یہ ہوا کہ سگمنڈ فرائیڈ کا ماننا ہیکہ تمام انسان پیدائشی طور پر دوجنسیت پرست ہوتے ہیں ۔ ان کا ماننا ہیکہ libido شہوت یا جنسی لیاقت میں ہم جنس پرستی ہم جنس پسندی اور مخالف جنس پرستی heterosexual کی خواہیش ہوتی ہے ۔یہ دراصل ایک دوسرے پر جیت کا course of development ہے۔ وہ قدرتی bisexuality کیلئے بنیادی حیاتیاتی وضاحت پر یقین رکھتا ہے ۔ اس کے مطابق انسان حیاتیاتی طور پر دونوں اقسام کے سکیس کیلئے پروان چڑھتا ہے ۔ اس لئے وہ وضاحت کرتا ہیکہ ہم جنس پرستی عوام کو دستیاب مختلف جنسی متبادلات میں سے ایک ہے۔

فرائیڈ نے تجویز پیش کی کہ انسانی موروثیت bisexuality کی طرف رہنمائی کرتی ہے ۔ اسی رہنمائی کی وجہ سے افراد بالآخر منتخب کرتے ہیں کہ جنس پرستی کا کونسا طریقہ زیادہ تسکین بخش ہے ۔ لیکن ثقافتی پابندیوں کی وجہ سے لواطت پرستی کے جذبات بہت سے لوگوں میں دب کر رہ جاتے ہیں ۔ فرائیڈ کے مطابق اگر کوئی پابندیاں نہ ہو تو عوام اس طریقہ کار کا انتخاب کریں گے جسے وہ زیادہ تسکین بخش سمجھتے ہیں ۔ اسی طرح وہ پوری زندگی گزار دیں گے ۔ کبھی ہم جنس پرست تو کبھی مخالف جنس پرست بن کر۔ [13]

ہم جنس پرستی کے دیگر اسباب میں وہ معکوس لاشعوری پیچیدگی( Oedipus complex )کوبھی شامل کرتاہے جس کے تحت ایک لڑکا خود اپنی ماں اور لڑکی اپنے باپ کے ساتھ جنسی تعلقات کے خواہیش مند ہوتے ہیں۔اس خواہیش کو خودپرستی کہا جاتا ہے۔فرائیڈ کا خیال تھا کہ جن میں خودپرستی کی خاصیت زیادہ ہوتی ہے ان میں ہم جنس پرستی کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہیکہ ہم جنس سے محبت خودپرستی کی توسیع ہے۔[13]

مخالف ہم جنس پسندوں کا موقف[ترمیم]

بحیرہ مرداربحیرہ مردارکے جنوبی حصے میں سدوم اور عمورہ کا علاقہ ہے۔ جب حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام اس علاقے میں آباد تھے تو یہ علاقہ دور دور تک سرسبز و شاداب تھا۔ لیکن یہاں آباد قوم بدکاری سمیت ہم جنس پرستی کے مرض میں مبتلا تھی۔سیدنا لوط علیہ الصلوۃ والسلام نے لوگوں کو اس بدکاری سے روکا تھا۔لیکن اس بدبخت قوم نے اللہ کے اس نبی پر ایمان لانے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ اپنی برائی پر قائم رہے۔جس کے باعث قوم لوط پر اللہ کا عذاب آیا۔ قرآن مجید کے مطابق انھیں مٹی کے دہکتے پتھروں کی بارش برسا کرہلاک کردیا گیاتھا۔

قرآن مجید میں قوم لوط کے ذکر کے ساتھ اس بدفعلی کا بھی بیان ہے ۔سدوم اور قدیم یونان کے لوگوں کو چھوڑ کر پوری تاریخ انسانیت میں ہم جنس پرستی کو ایک برائی کی حیثیت ہی حاصل رہی ہے۔دین اسلام اس فعل بد کو حرام قراردیتاہے اور ہم جنس پرستی کے مرتکبین کیلئے دنیا اور اخرت میں المناک سزا مقرر کی گئی ہے۔

ترمذی شریف کی حدیث ہیکہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

( تم جسے بھی قوم لوط کا عمل کرتے ہوئے پاؤ تو کرنے والے اور جس کے ساتھ کیا گیا ہو (اگر وہ اس فعل پر راضی ہو) دونوں کو قتل کردو)

ائمہ فقہ امام شافعی، امام مالک، اور امام احمد اور اسحاق رحمہم اللہ تعالی کا کہنا ہیکہ انھیں رجم کی حد لگائی جائے گی چاہے وہ شادی شدہ یاکنوارہ ہو۔یاد رہیکہ بعض اوقات اللہ تعالی اپنے بندوں کو سختیوں میں مبتلا کرکے ان کے ایمان کو آزماتا ہے،ان کے گناہ معاف کرتا ہے اور ان کے درجات بلندکرتا ہے لیکن اللہ کسی بندے کو گناہ پر مجبور کرکے اسے عذاب نہیں دیتا۔یہ اللہ تعالی کے عدل کے خلاف ہے۔مخلوق اپنی مرضی اور اختیار سے گناہ کرتی ہے اور سزا کے مستحق ٹھرتی ہے۔

آج مغربی ملکوں میں ایک اقلیتی گروہ اس بدفعلی کی حمایت میں سرگرم ہے۔اس بدکاری کے مخالفین کا کہنا ہیکہ مباشرت ہم جنسی قطعی طور پر فطری وضع کے خلاف ہے۔آج ہم جنس پرستوں کے حامی اپنے غلیظ پروپیگنڈا کے تحت بائیو کیمسٹری کے کچھ تصورات کو توڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں۔

ہم جنس پرستوں کا دعوی ہیکہ انسان کے جسم و دماغ میں کچھ ایسے کیمیکلز ہیں جن کے باعث اس کا فطری میلان صنف مخالف کی بجائے اپنی ہی صنف کی طرف ہو جاتا ہے۔ یہ میلان ان کے ڈی این اے میں بھی پایا جاتا ہے۔ان کا کہنا ہیکہ یہ بدکاری اختیاری نہیں ہوتی اس لیے معاشرے کو ہم جنس پرستوں کو قبول کر لینا چاہیے۔لیکن معاشرے کو برے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے ہم جنس پرستوں میں پائے جانے والے کیمیکلز کا علاج کیا جانا چاہئے۔ جینز اور ڈی این اے کا مفروضہ ایک غیر ثابت شدہ پروہیکنڈہ ہے۔تحقیقات کے مطابق لوگ کم عمری میں بری صحبتوں کا شکار ہو کر اس گناہ کے عادی ہوجاتے ہیں۔عمر کے ساتھ ساتھ یہ عادت پختہ ہوجاتی ہے۔ کسی اچھے ماہر نفسیات بالخصوص ہپناٹسٹ یا پھر اچھے سائیکاٹرسٹ کی مدد سے ان عادات سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 Katz، J (1995). Gay and American History: Lesbians and Gay men in the United States. New York: Thomas Crowell. 
  2. ^ 2.0 2.1 Glassgold، Judith. "Report of the American Psychological Association Task Force: Appropriate Therapeutic Responses to Sexual Orientation". اخذ کردہ بتاریخ 10/12/2013. 
  3. समलैंगिक पेंग्विन
  4. ^ 4.0 4.1 خطا در حوالہ: حوالہ بنام Bagemihl کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  5. Harrold، Max (16 February 1999). "Biological Exuberance: Animal Homosexuality and Natural Diversity". The Advocate, reprinted in Highbeam Encyclopedia. اخذ کردہ بتاریخ 10 September 2007. 
  6. Gordon، Dr Dennis (10 April 2007). "‘Catalogue of Life' reaches one million species". National Institute of Water and Atmospheric Research. اصل سے جمع شدہ 13 July 2007 کو. اخذ کردہ بتاریخ 10 September 2007. 
  7. "Gay Lib for the Animals: A New Look At Homosexuality in Nature – 2/1/1999 – Publishers Weekly". Publishersweekly.com. اخذ کردہ بتاریخ 2 September 2012. [مردہ ربط]
  8. "कार्यकर्ताओं द्वारा मानवाधिकारों के आह्वान के साथ समलैंगिक प्राणदंड की वर्षगाँठ मनाई गई।". ०२-०१-२००८. "पी॰जी॰एल॰ओ और आउटरेज का विश्वास है कि लगभग ४,००० समलैंगिक पुरुषों और महिलाओं को ईरान की इस्लामी क्रांति के बाद फाँसी दी जा चुकी है।" 
  9. Case No. S147999 in the Supreme Court of the State of California, In re Marriage Cases Judicial Council Coordination Proceeding No. 4365(…)
  10. American Psychological Association: Appropriate Therapeutic Responses to Sexual Orientation
  11. Bayer، Ronald (1987). Homosexuality and American Psychiatry: The Politics of Diagnosis. Princeton: Princeton University Press. [صفحہ درکار]
  12. Freud، Sigmund (1953). Three essays on the theory of sexuality. London: Hogarth Press. 
  13. ^ 13.0 13.1 Ruitenbeek، H.M. (1963). The problem of Homosexuality in modern society. New York: Dutton.