ہندو قانون کم سنی و سرپرستی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہندو قانون کم سنی و سرپرستی
صورت حال: نامعلوم

ہندو قانون کم سنی و سرپرستی ہندو کوڈ بل کے تحت 1956ء میں بنایا گیا تھا۔ اسے کے ساتھ ساتھ تین اہم قوانین اس وقت بنائے گئے تھے جن میں ہندو قانون شادی 1955ء، ہندو قانون وراثت 1956ء اور ہندو قانون تبنیت و پرورش (1956ء) شامل ہیں۔ یہ سارے قوانین جواہر لال نہرو کی سرپرستی میں بنائے گئے تھے اور ان کا مقصد اس وقت موجود ہندو قانونی روایات کی جدیدکاری تھا۔ 1956ء کا ہندو کم سنی و سرپرستی قانون کا مقصد 1890ء کے سرپرست و زیرسرپرستی قانون 1890ء کو تقویت پہنچانا تھا، نہ کہ اس کی جگہ لینا۔ یہ قانون بطور خاص سرپرست کے رشتوں کی بالغوں اور کم سنوں کے درمیان کی تعریف فراہم کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہر عمر کے لوگوں اور ان کی جائدادوں پر روشنی ڈالتا ہے۔

تعارف[ترمیم]

یہ قانون ہندو ضابطے کے چار قوانین کا حصہ ہے جو نہرو نظم ونسق کی جانب سے 1956ء میں بنائے گئے تھے۔ دیگر تین میں ہندو قانون شادی، ہندو وراثت قانون اور ہندو گود لینے اور تکمیل ضروریات کی تکمیل قانون شامل ہیں۔ ہندو کم سنی اور سرپرستی قانون ان پالیسیوں کو واضح کرتا ہے جو بھارتی ہندو شخصی قانون کے مطابق ہیں۔

اہم تعریفیں[ترمیم]

A. کم سن یا نابالغ وہ شخص ہے جو 18 سال کی عمر سے کم ہو۔

B. سرپرست وہ شخص ہے جو ایک کم سن یا اس کی جائداد یا دونوں کی دیکھ ریکھ کرتا ہے۔ سرپرستوں کے زمرے میں فطری سرپرست؛ ایسا سرپرست جسے ماں یا باپ چنے؛ وہ سرپرست جسے عدالت مامور کرے؛ اور وہ شخص جو زیر سرپرستوں کی عدالت متعین کرے۔[1]

قانون کی وسعت[ترمیم]

یہ قانون جموں و کشمیر ریاست کو چھوڑکر پورے بھارت پر نافذ ہوتا ہے۔[1]

سرپرست اور زیرسرپرستی قانون 1890ء کا اضافہ شدہ ہے نہ کہ اس کی جگہ لیتا ہے۔[1]

ماورائی صفت[ترمیم]

کوئی بھی سابقہ قانون جو اس قانون سے مطابقت نہیں رکھتا کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ یہ قانون اور سبھی متعلقہ قوانین سے مقدم ہے۔[1]

عمل آوری[ترمیم]

یہ قانون نافذ ہوگا:

-ہر اس شخص پر جو بدھ مت کا پیروکار، جین یا مذہبًا سکھ ہو۔

-ہر وہ شخص جو ان علاقوں میں رہتا ہو جہاں یہ قانون نافذ ہوتا ہے اور وہ مسلمان، مسیحی، پارسی یا یہودی نہ ہو، جب تک کہ یہ ثابت نہ ہو جائے کہ ایسا شخص ہندو قانون کے تحت فیصلہ کیا نہیں جاتا ہو یا کسی رسم ورواج یا عمل درآمد سے ان معاملوں سے متصادم ہو جو ان معاملوں پر محیط ہو جو کافی ہوتے اگر یہ قانون بنایا نہ جاتا۔[1]

جائز اور ناجائز کم سن جو کم از کم والدین میں سے ایک متعلقہ قانون کا خاکہ رکھتے ہوں، اس قانون کے دائرے میں آتے ہیں۔[1]

فطری سرپرست[ترمیم]

باپ اپنے جائز لڑکے اور غیر شادی شدہ لڑکی اور ان دونوں کی جائداد کا ابتدائی سرپرست ہے۔ ماں ثانوی نگراں کار ہے۔ تاہم پانچ برس سے کم عمر سبھی بچوں کے لیے ابتدائی نگراں کار ہے۔ ناجائز بچوں کے لیے ماں اولین نگراں کار ہے جبکہ باپ ثانوی نگراں کار ہے۔ شادی شدہ عورت کا شوہر اس کا نگراں کار بن جاتا ہے۔ لے پالک لڑکے کے لیے اس کا پالنہار باپ ابتدائی نگراں کار ہوتا ہے، پھر ماں کا مقام آتا ہے۔[1]

ان میں ہر کوئی اگر چاہے تو اپنے زیرتربیت شخص یا جائداد کا نگراں کار مقرر کر سکتا ہے۔[1]

اگر والدین میں سے کوئی ہندو مت ترک کرے یا سنیاسی اور تارک الدنیا بنے، تب وہ اپنے نگراں کار کے حقوق کھو دیتا ہے۔[1]

فطری سرپرستوں کے اختیارات[ترمیم]

فطری سرپرست کم سن کو یا اس کی جائداد کو فائدہ پہنچانے والے اقدامات اٹھاسکتے ہیں۔ تاہم سرپرست کم سن کی جانب سے کوئی شخصی معاہدہ نہیں کر سکتا۔ سرپرست کم سن کی غیر منقولہ جائداد کو بیچنے، رہن رکھنے، ہبہ کرنے یا جائداد کو پانچ سال سے زیادہ ٹھیکے پر نہیں دے سکتا۔ کم سن کے اٹھارہ سال کے ہونے کے بعد سرپرست جائداد کو ایک سال سے بڑھ کر ٹھیکے پر نہیں دے سکتا۔[1]

کم سن اور جائداد[ترمیم]

ایک کم سن کسی دوسرے کم سن کی جائداد کا سرپرست نہیں بن سکتا ہے۔[1]

ایسے کم سن کے لیے جو مشترکہ خاندان میں غیر منقسم حصہ رکھتے ہیں جو پہلے سے خاندان کے کسی بالغ کے زیر قبضہ ہو کوئی الگ سرپرست اس غیر منقسم جائداد کی دیکھ ریکھ کے لیے متعین نہیں ہوگا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ http://nrcw.nic.in/shared/sublinkimages/61.htm آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ nrcw.nic.in [Error: unknown archive URL].