ہندیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ہندیات یا جنوب ایشیائی مطالعات تایخ، ثقافتوں، زبانوں اور ادب کا تعلیمی مطالعہ ہے اور یہ ایشیائی مطالعات کی ذیلی شاخ ہے۔ [1][2]

ہندیات کے لیے انگریزی زبان کا متبادل لفظ انڈیالوجی (Indology) ہے، جسے جرمن زبان میں اس کے مخصوص انداز کے حساب سے Indologie لکھا جاتا ہے۔ چوں کہ تحقیقی شعبے میں کافی کام جرمنی کے شہریوں نے کیا ہے، اس وجہ سے ان اصحاب کا یہاں خاص تذکرہ کیا جاتا ہے۔ اسے زیادہ معروف طور پر جرمن اور پورپ کے بر اعظم کی جامعات میں استعمال کیا جاتا ہے۔

نیدرلینڈز میں یہ اصطلاح Indologie کے طور پر معروف ہے، تاہم اس کا استعمال انڈونیشیا کی تاریخ اور ثقافت کے لیے ہوتا ہے جو ڈچ ایسٹ انڈیز کی استعماری خدمات کی تیاری کے لیے درکار تھی۔

بطور خاص ہندیات میں سنسکرت ادب اور ہندومت کا مطالعہ دیگر بھارتی مذاہب، جین مت، بدھ مت، پالی زبان کا ادب اور سکھ مت شامل ہیں۔ اس کی ایک شاخ دراوڑیات ہے جو جنوبی بھارت کی دراوڑی زبانوں کے مطالعے کے لیے ہے۔

کچھ محققین کلاسیکی ہندیات کو جدید ہندیات سے مختلف بتاتے ہیں۔ ان کے مطابق اول الذکر سنسکرت اور قدیم زبانوں کے ماًخذ کے مطالعے پر مرکوز ہے، جب کہ ثانی الذکر معاصر بھارت اور اس کی سیاست اور عمرانیات کا مطالعہ کرتی ہے۔

تاریخ[ترمیم]

ابتدا[ترمیم]

ہندوستان کا غیر ملکیوں کی جانب سے مطالعہ کم از کم میگاستھینیس (350–290 قبل مسیح) سے شروع ہوتا ہے جو سیلیوسیڈ کے ایک یونانی سفیر تھے جو چندر گپت کے دربار بھیجے گئے تھے۔ چندر گپت موریا سلطنت کے بانی تھے۔ اسی میگاستھینیس کی چار جلدوں پر مشتمل انڈیکا ہندوستان میں اس کی زندگی کا حوالہ دیتی ہے۔[3] یہ کتاب اگرچیکہ اپنی اصل شکل میں مفقود ہے، تاہم اس کے کچھ اجزاء دست یاب ہیں اور یہ کلاسیکی جغرافیہ نگار اریئین، ڈیوڈور اور اسٹرابو پر اپنا گہرا اثر چھوڑ چکی ہے۔[3] میگاستھینیس نے یہ اطلاع دی تھی کہ ذات پات کا نظام لازمی طور پر ناخواندہ ہندوستان پر غالب رہا ہے۔ [4][5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Devdutt Pattanaik (21 February 2016)۔ "Devdutt Pattanaik: Four types of Indology"۔ میڈ ڈے۔ 
  2. Indology - Oxford Dictionary
  3. ^ ا ب Bosworth، A. B. (April 1996). "The Historical Setting of Megasthenes' Indica". کلاسیکل فیلولوجی (The University of Chicago Press) 91 (2): 113–127. doi:10.1086/367502. 
  4. Panthapalli A. Augustine: Social equality in Indian society: the elusive goal, Concept Publishing Company, 1991, ISBN 9788170223030, p. 40
  5. John Duncan Martin Derrett: Essays in Classical and Modern Hindu Law: Consequences of the intellectual exchange with the foreign powers, Brill 1976, ISBN 9789004048089, p. 1