ہندی زبان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ہندی بھارت میں بولی جانے والی ایک زبان ہے، جس کے ماخذ وہ ہی ہیں جو اردو کے ہیں، بلکے حقیقت یہ ہے کے ہندی اردو سے نکلی ہے، فرق یہ ہے کہ ہندی کا جھکاؤ سنسکرت کی طرف بہت زیادہ ہے۔

ہندی زبان ١٩ ویں صدی کے اؤل میں اردو زبان سے بنایئی گی تھی، ہندی زبان کو انگریزوں کی ایک نفسیاتی پالیسی نے بنایا تھا، ہندی زبان اردو میں سے اردو-فارسی الفاظ نکال کے اور نستعلیق خط ہٹا کر، اس میں کچھ سنسکرت الفاظ رکھنے سے اور دیوناگری خط ڈال نے سے ہندی وجود میں آئی۔

برصغیر کے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اردو ایک نئی زبان ہے اور اس کے مقابلے میں ہندی ایک قدیم زبان ہے۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اردو اگرچہ بہت پرانی زبان نہیں ہے بلکہ ہندی بالکل ایک نئی زبان ہے اور اس کے وجود میں آئے ہوئے مشکل سے دو سو سال ہوئے ہیں۔

پرانے وقتوں میں ہندوؤں کی زبان سنسکرت تھی، لیکن یہ زبان کسی کو بولنے نہیں دی جاتی تھی، کیوںکے یہ ان کے خداؤں کی زبان تھی، نتیجہ سنسکرت ختم ہونے لگی، ہندوؤں نے اپنی زبان بچا نے کے لیے۔ اردو کو ہندی بنا لیا. اور اس میں سے اردو-فارسی الفاظ ہٹا کر اس کی جگہ سنسکرت کے کچھ الفاظ ملا نے سے ہندی زبان وجود میں آی۔[1]

ہندوستانی[ترمیم]

جب انگریز برصغیر میں آئے تو ان کو جس زبان سے واسطہ پڑا وہ اردو تھی جسے وہ ہندوستانی کہتے تھے۔ انہوں نے ابتدا میں عدالتی اور دفتری زبان فارسی رکھی۔ مگر اردو کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اردو کو رائج کرنے کا فیصلہ کیا۔ کیوں کہ یہ طبقہ اسی کو اپنی بول چال میں استعمال کرتا تھا۔ اس میں مذہب کی بنا پر کوئی امتیاز نہیں تھا اور ہندو و مسلمان سب اسے لکھتے اور پڑھتے تھے۔ جسے انگریز ہندوستانی Hubdistanee کہتے تھے۔ جس کے بارے میں گلکرسٹ نے اپنی کتاب Oriental Liinguig میں ہندوستان میں مقبول عام زبان لکھتا ہے اور یہ کہتا ہے مقامی سطح پر بعض بولیاں ضرور رائج ہیں لیکن وہ چھوٹے چھوٹے علاقوں تک محدود ہیں۔ رابطہ کی زبان کے طور یا اسے لنگوافرنیکا کہہ سکتے ہیں پورے شمالی ہندوستان میں پنجاب تا بہار اردو رائج تھی۔ سنیتی چٹرجی اپنی کتاب Indo Aryan and Habdi لکھتے ہیں کہ انیسویں صدی سے اردو ہندوؤں کی خاص توجہ کا خاص مرکز بن گئی تھی۔ کیوں کہ یہ عدالتوں کی زبان تھی اور اسکولوں میں اس زبان میں تعلیم دی جاتی تھی۔ جس کے پڑھنے سے قانون، طب، انجینئری وغیرہ پیشوں کی راہیں کھلتی تھیں۔۔ شمالی ہندوستان میں یونیورسٹیوں کے قائم ہونے سے پہلے جو کچھ بھی تعلیم دستیاب تھی وہ اردو کے ذریعہ ممکن تھی۔ ہندوؤں کو جب ہندستانی نثر کی ضرورت ہوئی تو انہوں نے پنجاب سے لے کر بہار تک اسکولوں اور کالجوں میں اردو کو اپنایا۔ پنجاب، یوپی اور بہار کی عدالتوں میں مشکل سے ایسا کلرک ملتا تھا جو ناگری میں عرضی دعویٰ یا کوئی دستاویز لکھ سکے۔ کیوں کہ بیشتر تعلیم یافتہ ہندو اردو پڑھتے تھے۔ اس وقت سے پہلے ہندی اپنا وجود نہیں رکھتی تھی۔ سنسکرت اور کچھ مقامی زبانیں دیو ناگری میں استعمال ہوتی تھی۔ عدالتوں اور دفتروں میں ناگری میں درخواستیں لکھنے والے محرر نہیں ملتے تھے۔   

ابتدا[ترمیم]

1800ء میں فورٹ ولیم کی ڈاغ بیل ڈالی گئی کہ برطانوی اہلکاروں کو اردو زبان سیکھائی یا جائے۔ جان گلکرسٹ جس نے اردو کی بیش بہا خدمت کی ہے نے 1803ء میں للوجی نے کو پریم ساگر دیوناگری رسم الخط میں لکھنے کو کہا گیا اور اس نے فورٹ ولیم کے احاطے میں ایک نئی زبان کی بنیاد رکھ دی۔ فورٹ ولیم کے باہر بھی کچھ ہندو کھڑی بولی میں دیوناگری میں لکھنے کا تجربہ کرنے لگے اور عربی فارسی کے الفاظ نکال کر سنسکرت کے الفاظ استعمال کرنے لگے۔ سنیتی کمار چٹرجی نے اس زبان کو سنسکرتی ہندی کا نام دیا۔

جارج اے گریرسن نے ہندی کی للوجی کی نثری تصنیف لال چندرکا کے دیباچے میں لکھتا ہے کہ اس زبان کا بھارت میں اس سے پہلے پتہ نہیں تھا۔ اس لیے للوجی نے جب پریم ساگر لکھی تو وہ بالکل ایک نئی بھاشا گھڑ رہے تھے۔ اپنی ایک اور تصنیف لسانی جائزہ میں لکھتا ہے کہ ہندی بالائی ہندوستان کے ہندوؤں کی نثری زبان ہے جو اردو استعمال نہیں کرتے ہیں۔ یہ زمانہ حال کی پیداوار ہے اور اس کا رواج گزشتہ صدی کے آغاز سے انگریزوں کے زیر اثر شروع ہوا۔ جب کوئی ہندو نثر لکھتا تھا تو وہ اردو استعمال کرتا تھا تو اپنی بولی اودھی۔ بندیلی، برج بھاکا وغیرہ لکھتا تھا۔ للوجی نے ڈاکٹر گلکرسٹ کے جوش ڈالانے پر معروف کتاب پریم ساگر لکھ کر سب کچھ بدل ڈالا۔ جہاں تک اس نثری کا تعلق ہے یہ عملاً اردو میں لکھی گئی ہے اور اس میں عربی، فارسی الفاظوں کی جگہ ہند آریائی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ آر ڈبلیو فریزر بھی لٹریری ہسٹری آف انڈیا میں لکھا ہے کہ جدید ہندی بھاشاہ کو دو پنڈتوں للو لال اور سدل مشر کی اختراع سمجھنا چاہیے۔ ایک اور انگریز مصنف اپنی کتاب ہندی کی تاریخ میں لکھتا ہے کہ جدید ہندی اردو میں سے عربی الفاظ خارج کرکے ان کی جگہ سنسکرت یا ہند کے خالص ہندوستانی نژاد الفاظ رکھ دیے گئے۔ وہ مزید لکھتا ہے کہ للوجی لال ایک برہمن تھے۔ جن کے خاندان کا تعلق گجرات سے۔ لیکن وہ عرصہ دراز سے شمالی ہند میں سکونیت رکھتے تھے۔ ڈاکٹر جان گلکرسٹ کی ہدایت پر انہوں نے سدل مشر کے ساتھ مل کر جدید اعلیٰ ہندی کی تخلیق کی۔ للوجی کی ہندی درحقیقت ایک نئی ادبی زبان تھی۔ یہ اعلیٰ ہندی یا معیاری ہندی ایک نئی ادبی زبان تھی اور یہ زبان بعد میں کافی مقبول ہوئی۔

انگریزوں کی ناکامی[ترمیم]

1804ء کو جان گلکرسٹ فورٹ ولیم کالج سے مستعفی ہو گئے اور 1808ء میں ولیم ٹلیر کا تقرر ہوا۔ انہوں نے ہی دیوناگری رسم الخط لکھی جانے والی زبان کے لیے ہندی کا لفظ اپنی ایک رپوٹ 1812ء کو کالج کی کونسل کو پیش کی گئی استعمال کیا۔ ورنہ اس سے پہلے ہندی فارسی رسم الخط میں لکھی جانے والی زبان کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ولیم ٹیلر کے جانے کے بعد 1823ء آئے جو تھے ہندوستانی شعبہ کے سربراہ مگر خود کو ہندی کے پروفیسر کہتے اور لکھتے تھے۔ اسی زمانے میں لفٹنٹ ڈی رڈیل کالج کی کونسل کے سیکٹریری بنے۔ وہ بھی اردو کے سخت خلاف تھے اور اردو کو ایک مغلوں کی رائج کردہ بدیسی زبان کہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ تین چوتھائی آبادی اس زبان کو نہیں سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے فورٹ ولیم کالج کی سفارش پر گورنر جنرل ایسٹ انڈیا کمپنی میں بھرتی ہونے والے نئے ملازمین کو بجائے ہندوستانی کے برج بھاشا کی تعلیم دیے جانے کی منظوری دی۔ حقیقت میں نہ صرف فورٹ ولیم کالج بلکہ انگریزی بھی اردو کے خلاف معاندانہ روش اختیا کرلی تھی۔ فورٹ ولیم کالج میں ہندی کا شعبہ قائم نہیں تھا اور نہ ہی کوئی ملازم تھا یہاں۔ کیوں کہ اس وقت تک ہندی کوئی زبان نہیں تھی۔ للوجی کو بھی بھاکا منشی کی حثیت سے تقریری ہوئی تھی۔  

برطانیوی احکام کی رپوٹوں سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کے نصف اول تک ہندی کو اہمیت حاصل نہیں تھی لیکن وہ اردو کے مقابلے میں ہندی کو آگے بڑھانے کے درپے تھے۔ سر جارج ابراہم گریزسن جس نے ہندوستانی لسانیات پر ایک کتاب لکھی ہندی کا زبردست حمایتی اور اس کی ترقی و ترویح کے لیے کام کیا۔ یہ ناگری پرچارنی سبھا کا رکن بھی تھا۔ بقول حکیم چند نیر کے اس نے یوپی میں عدالتوں اور دفتروں میں ہندی کو اردو کے برابر کا درجہ دینے میں اہم رول ادا کیا۔

ہندی کی تحریکیں[ترمیم]

رفتہ رفتہ سب بدل گیا اور انگریز احکام کی کوششیں رنگ لائیں۔ اردو اور اس کے رسم الخط کے خلاف ہندوؤں کی جارحانہ سرگرمیاں اور تحریکیں زور پکڑتی گئیں۔ ہندوؤں کی سماجی و اصلاحی تحریکیں نیر احیاء پرست تنظیمیں اردو کی مخالفت اور سنسکرت آمیز ہندی اور ناگری رسم الخط کے پرچار کے لیے کھل کر سامنے آگئیں۔ اس کے لیے فرقہ وارانہ جذبات و رجحانات کو ہوا دے کر ہندی اردو کشمکش پیدا کی گئی۔ اس کی زرد میں پورا شمالی ہندوستان آگیا۔ برہمو سماج جو بنگال کی سماجی تحریک تھی لیکن اس نے ہندی کے پرچار کا کام نہایت تندہی سے انجام دیا۔ دوسری طرف پنجاب میں 5781ء؁ میں آریہ سماج کے نام سے ایک سماجی تنظم قائم ہوئی۔ جو درحقیقت میں ہندوؤں کی ایک احیاء پرست تنظیم تھی۔ اس کا مقصد ہندوؤں کی اصلاح کے علاوہ ہندی زبان کا پرچار شامل تھا۔ جس کے رہنما سوامی دیانند سرسوتی نے آریا سماجیوں کے لیے ہندی جاننا لازمی قرار دے دیا تھا۔ پنجاب کے ایک اور سماجی کارکن شردھا رام پھلواری اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے اردو کے خلاف زہر اگلتے تھے۔ چنانچہ ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد نے اردو یعنی مسلمانی پربھاوا اور بھاشا کو چھوڑ کر ہندی بھاشا اور ہندو دھرم کیے ان پرتی شردھا کرنا سیکھا۔ یہ بات شتی کنٹھ مشر پھلوری لکھتے ہیں اور ان مزید لکھا ہے کہ پنجاب کی ہندو آبادی نے مسلم اثرات اور کو ترک کرکے ہندی زبان اور مذہب کے لیے ایمان و عقیدت پیدا کرنا سیکھا۔ آریہ سماجی رہمنا لالا لاجپت رائے نے اعتراف کیا کہ آریہ سماج سے وابستگی سے پہلے وہ ہندی سے نابلد تھے۔ اس کے بعد انہوں نے پنجاب میں ہندی کے فروغ میں نہایت سرگرمی سے حصہ لیا۔ اس سے پنجاب میں فرقہ وارنہ فضا پیدا ہو گئی اور پنجابی ہندو جو اردو لکھتے پڑھتے تھے ہندی کی طرف مائل ہو گئے۔

نئی بھاکا[ترمیم]

ہندی جو اردو کے بطن سے پیدا ہوئی ہے وہ اب بہت سے ہندی ادیب اردو کو ہندی کی شیلے یعنی اسلوب کہتے ہیں۔ وہ یہ حقیقت بھول گئے کہ کھڑی بولی میں انیسویں صدی سے پہلے نثری ادب کی کوئی روایت نہیں تھی۔ یہ بات ہندی کے ممتاز ادیب دھیر ورما اور بہت سے ہندی ادیبوں نے کہی ہے۔ بشتر ہندو ادیب کھڑی بولی اور اردو کو ایک ہی سمجھتے تھے اور وہ اس زبان میں شاعری کے حق میں نہ تھے اور ان کا خیال ہے تھا وہ شاعری اردو کہلائے گی۔ للوجی نے اردو کو بنیاد بنا کر اس میں سے عربی فارسی کے الفاظ نکال کر اس کی جگہ سنسکرت کے الظاظ رکھ کر اسے دیوناگری میں لکھ کر ایک نئی زبان اختراع کی۔ اس میں جو لسانی طریقہ کار استعمال کیا تھا وو ایک نئی زبان کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ اس لیے بھار تیندر ہریش چندر نے اپنی کتاب ہندی بھاشا میں للوجی کی کھڑی بولی ہندی کو نئی بھاشا کہتا ہے۔

مذہبی حمایت[ترمیم]

للو جی کی اس کی وجہ سے لسانی افتراق اور علحیدیگی کی بنیاد پڑی اور اردو کے بنیادی دھارے سے ہٹ کر ایک علاحدہ زبان کی تعمیر و تشکیل عمل میں آئی جس کے لیے دیوناگری رسم الخط اختیار کیا گیا۔ اس سے پہلے سنسکرت اور چند بولیوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس لسانی افتراق اور لسانی علاحدگی پسندی کو انیسویں صدی کی ابتدا میں ہندو احیا پرست تنظیوں اور ناگری پرچارنی سبھا نے خوب ہوا دی۔ چنانچہ اس نے بہت جلد ایک تحریک کی شکل اختیار کرلی۔ ہندی تحریک کو جارحانہ انداز میں چلایا گیا اور اسے مذہب اور قومیت سے جوڑ دیا گیا۔ چنانچہ 1885ء؁ کے آس پاس ہندی کے پرجوش حامیوں کا نعرہ تھا۔

جپو نتر ایک زبان

ہندی ہندو ہندستان

چٹرجی اپنی کتاب ہند آریائی اور ہندی میں لکھتے ہیں کہ قوم پرستانہ اور وطن پرستانہ مزاج رکھنے والے اور سنسکرت سے محبت کرنے واہے ہندو سوچ سمجھ کر اس کی جانب مائل ہونے لگے۔ اس سلسلے میں انہیں بنگال اور پنجاب میں آریہ سماج سے بہت مدد ملی۔ دھیرے دھیرے ہندو یہ محسوس کرنے لگے کہ ناگری رسم الخط کا احیاء بہت ضروری ہے۔ 1890ء؁ میں ناگری پرچارنی سبھا کا قیام عمل میں آیا اور ایک نئے عہد کی ہندی کی حقیقی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا۔ ۔

اور کانگریس کے ممتاز رہمنا پنڈت مدن موہن مالویہ کی قیادت میں ہندوؤں کی ایک تنظیم ہند سماج 0881 میں قائم ہوئی۔ اس نے ہندی اور ناگری رسم الخط کے پرچار کی ذمہ دار سنبھال لی۔ اس تنظیم نے یوپی کی حکومت اور حکومت ہند کو ہندی کے حق میں عرضداشتیں بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا اور 1884ء؁ میں الہ آباد میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ہند کو سرکاری دفتروں اور عدالتوں رائج کرنے کے پرگراموں پر غور و فکر کیا۔ یہ تنظیم اردو کی مخالفت میں اور ہندی کے حق میں جلسہ، مذاکرات منعقد کرتے رہے۔ 1894ء؁ میں پنڈت مالویہ بنارس کی ناگری پرچارنی سبھا سے منسلک ہو گئے۔

انفرادی اور اجتماعی سطح پر اردو کی مخالفت اور ہندی کو نشلزم اور ہندو ازم سے جوڑنے کا سلسلہ جاری رہا۔ انیسویں صدی کی آخری چھوتھائی میں پرتاب نارائن مشر کا دیا ہوا نعرہ ’ہندی، ہندو، ہندوستان’اسی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ پرتاب نارائن مشر، سوامی دیانند سرسوتی، شردھا رام پھلوری، لالا لاجپت رائے، پندت موہن مالویہ، ایودھیا پرساد کھتری، بابو شیو پرساد اور بھار تیندو ہریش چند ہندی کے پرچار اردو کے خلاف جدو جہد کرتے رہے۔ انہوں نے اس کے لیے ہندی آندولن کی تحریک کا آغاز کیا۔ یہ اردو کو ہندی کا ایک روپ مانتے تھے اور مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ اردو دیوناگری میں لکھنا شروع کر دیں۔  

ہندی کے احیا کی کوششیں[ترمیم]

یوں ہندی جس کا آغاز اردو میں عربی و فارسی الفاظ کی جگہ سنسکرت کے الفاظ سے ہوا تھا اور ہندی کو سنسکرت آمیز بنانے کا رجحان جلد ہی پروان چڑھا اس میں آگرے کے راجا لکشمن سنگھ پیش پیش تھے۔ انہوں نے کئی سنسکرت کی کتابوں کے ترجمہ کیے۔ راجا لکشمن سنگھ نے کالی داس کی سنسکرت تصنیف رگھواش کا ہندی ترجمہ جو 1878ء؁؁ شائع کیا اس کے دپباچے میں لکھا ہندی اور اردو دو مختلف زبانیں ہیں۔ ہندو ہندی بولے اور مسلمان فاری۔ ہندی میں سنسکرت کے الفاظ کثرت سے استعمال ہوتے ہیں اور اردو میں عربی اور فارسی ہے۔ اس لیے یہ ہندوؤں کی زبان نہیں ہے۔ نیز سرکاری اور تعلیمی سطح پر ہندی کے نفاذ کی تحریک کا آغاز کیا گیا۔ اس تحریک میں بنارس کے راجا بابو شیو پرساد سرکاری دفتروں اور عدالتوں کا نفاذ چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے انگریز حکومت کو ایک میمورنڈم پیش کیا۔ جس میں اردو کو مسلمانوں سے منسوب کرکے اردو اور مسلمانوں کو ہدف ملامت بنایا گیا۔ جس میں یہ لکھا گیا تھا کہ مسلم حکمرانوں نے اس بات کی قطعی زحمت نہ کی کہ وہ ہندوستانی زبانیں سیکھتے۔ بلکہ انہوں نے ہندوؤں کو فارسی سیکھنے پر مجبور کیا۔ نیز ہندی کہی جانے والی بولیوں میں فارسی اور عربی کے الفاظ داخل کرکے ایک نئی شکل قائم کی جو اردو یا نیم فارسی کہلائی۔ اس طرح کی لسانی پالیسی وضع کی کہ ایک غیر ملکی زبان اور فارسی رسم الخط کو عوام الناس پر جبرم تھوپ دیا گیا ہے۔ اس پالیسی سے تمام ہندوؤں کو نیم مسلمان بنانے اور ہندو قومیت کو نیست و نابود کرنے کی کوشش ہے۔ حکومت سے استدا ہے کہ وہ فارسی رسم الخط کو ختم کرکے ہندی نافذ کرے۔ اس سے ہندو قومیت بازیاب ہوگی۔ بھار تیندو ہریش چندر جو خود بھی اردو کے شاعر تھے اور رسا تخلص کرتے تھے۔ اس کے باوجو اپنی تحریروں میں اردو کا مزاق و تضحیک کرتے تھے۔  

اس تحریک میں ہندی کو ہندتو اور ہندی قومیت سے جوڑ دیا گیا تھا۔ ہندی کو ہندی تہذیب کی علامت اور اردو کو اس کا رقیب بناکر پیش کیا گیا۔ بقول کرسٹوفر کنگ ہندی تحریک ہندوستان کی آزادی سے قبل کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر فرقہ وارنہ بیداری کو بڑھاوا دینے کے عمل کا حصہ بن چکی تھی۔ اس عمل سے نسلی گروہ فرقوں اور قوموں میں بٹ گیا اور انجام کار 1947ء میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔

وہ مزید لکھتا ہے کہ اس تقسیم کادوسرا رخ 1860ء میں سامنے آیا جب بعض ہندوؤں نے یہ کہنا شروع کیا کہ کوئی شخص ایک اچھا ہندو اور اردو کا وکیل بھی ہو ایسا نہیں ہوسکتا ہے۔ ہندو، ہندو اور ہندوستان جسے نعروں نے اپنی انتہا کو پہنچادیا۔ ان کے نذدیک ہندی نہ بولنے والوں کے لیے ہندوستان میں کوئی جگہ نہیں تھی۔ ہم  اس عمل جس میں اردو کو سنسکرتیا بنائے جانے کا نام دیں گے۔   

اردو کی ہندوؤں مخالفت[ترمیم]

ہندوؤں کا ایک بڑا طبقہ اردو میں پیشہ ورانہ مہارت رکھتا تھا۔ اس میں کایستھ، کھتری اور کشمیری برہمنوں کے اردو سے نہایت گہرے رابط تھے۔ سرکاری ملازمتوں پر انہی کا غلبہ تھا۔ اس لیے سرسید احمد خان نے بابو شوپرشاد کی تحریک پر کہا اردو نہ رہی تو ہندو مسلمانوں کے درمیان اتفاق نہیں رہ سکتا ہے۔ اس دور میں اردو پر برابر حملے جاری تھے اور اسے کبھی غیر ملکی اور کبھی مسلمانی بھاشا کہہ کر ہندوؤں کو اردو سے دور کرنے کی مہم جاری تھی۔ یہاں تک انتہا پسند ہندوؤں نے اسے طوائفوں کی زبان کہنا شروع کر دیا۔ اس کے نہ صرف لسانی بلکہ سماجی، سیاسی اور تہذیبی منظر نامے پر دور رس نتائج مرتب ہوئے۔  

انیسویں صدی کے آخر میں ہندی تحریک میں شدت اور اس نے جارحانہ رخ اختیار کر لیا۔ ایک نئی تنظیم ناگری پرچانی سبھا کا 1893ء بنارس میں عمل میں لایا گیا۔ جس کو بڑے بڑے ہندو راجاؤں اور رئیسوں کی سرپرستی اور ہمدردی حاصل ہوئی۔ اس نے عدالتوں اور دفتروں میں ہندی اور ناگری رسم الخط کے نفاذ کو اپنا مقصد بنایا۔ چنانچہ 1895ء میں اودھ کے گورنر بنارس آئے تو ان کی خدمت ایک وفد بھیجا گیا۔ جس میں اجودھیا کہ مہاراجا پرتاب نارائن سنگھ سربراہ اور پنڈت موہن مالویہ، سر سندر لال، راجا ماڑا اور راجا آوا گڑھ وغیرہ شامل تھے۔ اس وفد نے ہندی کو تعلیمی اداروں، عدالتوں اور دفتروں میں رائج کرنے کی استدعا کی گئی  اس کے بعد گورنر جب 1898ء الہ آباد آئے تو وہاں بھی سبھا کا ایک وفد ملا جس نے ہندی کو سرکاری اور سطح پر رائج کرنے کے لیے میکڈانل کی خدمت میں ساٹھ ہر دستخطوں سے ایک یاداشت پیش کی۔ پنڈت مالویہ نے 1897ء میں ایک کتاب Court Character and Primaru Education in the N w P and Oudh شائع کی جس میں اردو رسم الخط کی خامیوں کو بیان کرتے ہوئے ہندی اور دیو ناگری کی پرزور   وکالت کی۔

انگریزوں کی اردو کی مخالفت  [ترمیم]

اگر دیکھا جائے تو پوری انیسویں صدی اردو مخالف جذبات و رجحانات اور معصبانہ نظریات سے پر نظر آتی ہے۔ ٹھیک ایک سو سال بعد یوپی کے گونر سر اینٹونی میکڈانل نے شمال مغربی صوبہ جات اور اودھ میں عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں ناگری رسم الخط کو جاری کیے جانے کا حکم صادر کیا۔ اردو مخالفوں میں ہندوؤں کے ساتھ انگریزی حکومت کی بے مہری اور مخالفانہ روش کا شکار ہو گئی۔ اس پر مسلمانوں نے سخت احتجاج کیا، مگر ان کی نہیں سنی گئی اور انہیں نظر انداز کر دیا گیا۔ سرسید نے انگریزوں کی اسی روش کے خلاف سخت احتجاج کیا تھا اور بالآخر یہ جھگڑا اتنا بڑھا کہ ہندو اردو کو مسلمانوں کی زبان کہنے لگے۔

ہندی سرکاری زبان[ترمیم]

سر میکڈونل کا رویہ اردو کے ساتھ انتہائی مخالفانہ تھا اور وہ دیوناگری اور ہندی کے حامی تھے۔ اس سے پہلے انہوں نے بہار میں ہندی کو رائج کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جنانچہ 81 اپریل1900ء انہوں نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کی رو سے عدالتوں اور سرکاری دفتروں میں اردو کے ساتھ دیوناگری رسم الخط اور ہندی جاری کر دیا۔

گورنر کے اس فیصلے سے اردو داں خاص کر مسلمانوں میں سخت بے چینی پھیلی اور جگہ جگہ اس کے خلاف احتجاجی جلسے منعقد کیے گئے۔ نواب محسن المک جو علی گڑھ کالج کے جنرل سکیٹری تھے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس فیصلے پر احتجاج کیا اور اس جلسے کی کارروائی کی نقل حکومت کو بھیجی گئی۔ گورنر اس پر سخت برہم ہوا اور اسے اپنی گورنمٹ کی پالیسی پر ایک حملہ سمجھا۔   

جب مسلم رہنماؤں کے وفد نے گورنر سے ملنے کی کوشش کی تو گورنر نے ملنے سے انکار کر دیا۔ لکھنؤ میں ایک شاندار احتجاجی جلسہ نواب محسن المک کی صدارت میں ہوا۔ جب اس کی اطلاع گورنر کو ملی تو وہ علی گڑھ آیا اور کالج کے ٹرسٹیوں کو جمع کرکے ان جلسوں پر اپنی سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا کہ کالج سے طلبہ ایجی ٹیشن کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ اس نے ڈھمکی دی اگر یہی طریقہ جاری رہا تو کالج کو حکومتی امداد بند کردی جائے گی۔ اس کی وجہ سے نواب محسن المک نے اپنے کو کالج کی ٹرسٹی سے علحیدہ کر لیا۔

فاصلے[ترمیم]

وقت کے ساتھ زبان کی تلخی اتنی بڑھتی گئی اور اردو سے مراد مسلمانوں کی زبان اور ہندی سے مراد ہندوؤں کی زبان لی جانے لگی اور ہندو و مسلم جو الگ الگ مذہب کے باوجود ایک ثقافت رکھتے تھے ان کے درمیان ڈراریں پڑگئیں۔ جو بالآخر تقسیم کا باعث بنی۔ آج بھارت کی سرکاری زبان پاکستان کی طرح انگریزی ہے۔ مگر وہاں کی قومی زبان ہندی ہے، جب کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت میں عام بولنے والی زبان ہندی ہے؟۔ اس سوال کے جواب کے لیے ایک تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔

ہندی کا استعمال[ترمیم]

دوسری اہم بات یہ ہے ہمارے یہاں اردو میڈیم اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے۔ لیکن بھارت میں ہندی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں میں دوسروں زبان بولنے کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ یہ زبان شمالی ہند میں ہی ادبی، سیاسی اور مذہب میں استعمال کی جاتی ہے اور دوسرے علاقہ میں رہنے والے اپنی اپنی زبانیں استعمال کرتے ہیں۔ یہ ہندی نہ ہی فلموں، ٹی وی ڈراموں اور گیتوں میں استعمال کی جاتی ہے۔ اس زبان کا تعلق ہندی سے کم اور اردو سے زیادہ قریبی رشتہ ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہندی زبان میں ف، خ، ق، ز وغیرہ استعمال ہوتے ہیں۔ جب کہ عام لوگ پھر بھی فارسی عربی الفاظوں  کو بولتے ہیں اور یہ فلموں، ٹی وی ڈراموں اور گیتوں ان کا استعمال عام ہے۔  

شاعری[ترمیم]

ہندوؤں کی شاعری سے دلچسپی کم رہی ہے۔ مقامی زبانوں میں کچھ شعرا کے نام ملتے ہیں مثلاً برج بھاکا یا بنگلہ یا پنجابی میں۔ ویدک اور دوسرے گرنتھ بھی منظوم لکھے گئے مگر اس کی باوجود ہندو شاعری میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ مگر اردو کے ہندو شعرا میں بڑے نامی گرامی شعرا گزرے ہیں۔ شاید اردو کا مزاج ایسا رہا کہ وہ لوگوں کو شاعری میں دلچسپی لینے پر مجبور کردیتی ہے۔ اس طرح مقامی زبانوں میں مسلم شعرا کی تعداد ہندوؤ سے کم نہیں ہوگی۔ ہندوؤں میں کلاسیکل ہمیشہ موسیقی مقبول رہی ہے۔ کیوں کہ اسے مذہبی تقدس رہا ہے۔ ان کے مذہب میں رقص اور گیت کو عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ اس لیے گھر گھر میں اس چرچا رہا ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کے گیت بھجن یا لوک گیتوں تک محدود رہے ہیں۔ غزل جو اردو کی مقبول ترین اصناف ہے وہ ہندوؤں میں نہایت پسند کی جاتی ہے۔ بھارت میں ہر دور میں ایسے گلوکار ملتے ہیں جو اردو بول نہیں سکتے ہیں۔ مگر اردو غزل اور گیت نہایت خوبصورت گاتے ہیں اور گیتوں کی طرح غزلوں کو نہایت پسند کیا جاتا رہا ہے۔ بہت سے ہندو گلوکاروں نے شہرت محض غزل کی گائیگی سے حاصل کی۔

اردو کی مقبولیت[ترمیم]

ہم اردو میں کوئی بھی سوال جس میں خ، ق، ز وغیرہ استعمال ہوئے ہوں آسام سے لے کر مکران تک، درہ خیبر سے راس کماری تک۔ یہاں تک پہاڑی علاقوں مثلاً نیپال، سکم اروناچل وغیرہ یعنی برصغیر کے کسی گوشے میں کریں تو لوگ اسے فوراًً سمجھ جاتے ہیں اور اس کا جواب دیتے ہیں۔ چاہے ان کا تلفظ کیسا ہی مختلف ہو۔ یعنی اس پر مقامی زبان کا اثر بھی ہوتا ہے۔ ایسی زبان کو بھارت میں ہندی کہا جاتا ہے۔ جب کہ یہ زبان پاکستان میں اردو کہلاتی ہے۔ لیکن اس سوال کو ایسی ہندی زبان جس میں سنسکرت کے ثقیل الفاظ، اصلاحاتیں اور ترکیبیں شامل ہوں پوچھیں تو پاکستان میں نہیں بلکہ بھارت کے بشتر لوگ جواب نہیں دے سکیں گے۔ کیوں کہ باوجود ہندی قومی زبان ہونے یہ زبان ان کے فہم سے بالاتر ہے۔ آپ چاہے اسے ہندی کہہ کر دیوناگری میں لکھیں مگر حقیقت میں یہ اردو ہی ہے۔ اس کے مقابلے میں بعض اوقات ہندی میں سنسکرت کے ایسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں کہ یہ زبان عالموں کی سمجھ سے بھی بالاتر ہوجاتی ہے اور یہ زبان عام بول چال کے لیے نہیں بلکہ ادبی، سیاسی اور مذہبی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

اس ہندی کے بارے میں گارساں دتاسی میرٹھ کے ایک ہندی اخبار ہندی اخبار (جگ سماچار) کے بارے میں لکھتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے اردو دوسری زبانوں سے زیادہ زیادہ مستعمل ہے۔ اس کا ثبوت اس اخبار سے ملتا ہے کہ اس کا سب اہم اشتہار اردو اور فارسی رسم الخط میں ہے۔ اس اخبار میں اس کی وضاحت کردی گئی ہے کہ اس زبان عام فہم ہے اگرچہ ناگری رسم الخط میں ہے۔ چنانچہ زبان کے اعتبار سے یہ اردو کا ہے نہ کہ ہندی کا۔  

آج اگرچہ بھارت میں ہندو فارسی رسم الخط استعمال نہیں کرتے ہیں۔ مگر گزشتہ صدی کے وسط تک ہندو عام طور اسی میں لکھتے اور پڑھتے تھے۔ اردو کے ہندو ادیب و شاعروں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ گزشتہ صدی کی ابتدا تک اکثر ہندو ادیب اپنی کتابیں عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے اردو میں لکھتے تھے۔ آپ اس وقت کی کسی بھی ہندو ادیب کی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں اس میں مصنف یہی لکھا ہوگا۔ مگر جیسے جیسے ہندو فارسی رسم الخط سے دور ہوتے گئے اور دیوناگری رسم الخط اپنالیا اور وہ اسے ہندی کہنے لگے۔ ان ادیبوں میں بڑی مثال منشی پریم چند کی ہے۔ جنہوں نے آخر میں اردو لکھنا چھوڑ دیا اور ہندی میں لکھنے لگے۔ مگر ان کی زبان میں فرق نہیں ہے۔ اس لیے ہم اسے دیوناگری رسم الخط میں اردو ہی کہیں گے۔  

پاکستان میں فلمیں دیکھی جاتی ہیں مگر اس شوق یا ذوق سے نہیں جیسا کہ بھارت میں۔ وہاں پر فلمیں فلاپ بھی ہوجاتی ہیں مگر اپنی لاگت نکال لیتی ہیں۔ اس لیے وہاں تجربات بھی ہوتے رہے ہیں اور ہر زبان میں فلمیں کثیر تعداد میں بنائی جاتی رہی ہیں۔ مگر وہاں مقبول عام فلمیں اردو میں ہی ہوتی ہیں۔ ان فلموں اور ڈارموں کے مکالمہ نگار اور شاعر دونوں اردو داں ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ فلمیں ہندی کہلاتی ہیں مگر وہاں کے بشتر فلمی شاعر اور مکالمہ نگار مسلمان ہیں اور جو مسلمان نہیں ہیں وہ بھی اردو میں اپنے گیت اور مکالمہ لکھتے ہیں جسے وہ اسے ہندی کہتے ہیں اور ان میں عربی اور فارسی الفاظ عام استعمال کیے جاتے ہیں۔

ہندو اگرچہ دیوناگری رسم الخط کی وجہ سے ان کی درست ادائیگی نہیں کرتے ہیں۔ مثلاً ف کی جگہ پھ۔ ز، ض ِ ظ کی جگہ ج، خ کی کھ استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر حیرت کی بات ہے جن کی زبان بظاہر نہیں ہے مگر اردو کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے اور وہ عربی اور فارس کے الفاظ بے تخلف استعمال کرتے ہیں۔ کیوں کہ الفاظوں کے بغیر وہ اپنا مفہوم دوسروں تک فصیح اور خوبصورت طریقہ تک پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی ان میں تاثر رہے جاتا ہے۔ آخر اردو میں عربی اور فارسی کے الفاظ نکال کر بنائی گئی ہندی میں کچھ سنسکرت کے الفاظ عام بول چال میں استعمال کرتے ہیں تو اور اس زبان کو دیوناگری میں لکھ کر اور ہندی کہنا خود فریبی ہے۔ اگر دیوناگری میں لکھی جاتی ہے تب بھی وہ اردو ہے۔ جس طرح رومن میں اردو کو لکھیں تب بھی وہ اردو کہلاتی ہے۔ عربی اور فارسی الفاظ کا استعمال اس زبان کے اردو ہونے کا ثبوت ہے اور کیا یہ اردو کی مقبولیت کا ثبوت نہیں ہے؟     

ہندی
हिंदी
(ہندی: हिन्दी یا हिंदी، انگریزی: Hindi)
Hindia با ابجدیہ: [ɦɪnd̪i:] Word Hindi in Devanagari.svg
مستعمل بھارت ، سری لنکا ، فجی (ہندوستانی) ، نیپال (بھوجپوری) ، سرینام (سرنامی) ، میانمار. Also in various countries due to immigration ، ریاستہائے متحدہ امریکا ، کینیڈا ، آسٹریلیا ، ناروے ، موریشس ، گیانا ، ملائیشیا
کل متتکلمین First language: ~ 300–400 million (2008)[2]
Second language: 120–225 million (1999)[3]
رتبہ 2 [Native]
خاندان_زبان ہند۔یورپی
نظام کتابت Urdu، اُردو ، دیوناگری، کیتھی، لاطینی، اور

کئی دوسرے مقامی رسومِ خط

باضابطہ حیثیت
باضابطہ زبان Flag of India.svg بھارت: اُردو ، Urdu ، میتھلی(معیاری ہندی)
Flag of Fiji.svg فجی (ہندوستانی)
نظمیت از مرکزی ہندی ڈائراکٹریٹ (بھارت),[5]
رموزِ زبان
آئیسو 639-1 hi
آئیسو 639-2 hin
آئیسو 639-3 hin
Indic script
یہ مضمون ، برہمنی حروف یا متن رکھتا ہے۔ موزوں معاونت کے بغیر آپ کو، برہمنی محارف کے بجائے سوالیہ نشان، خانے یا دیگر نشانات نظر آسکتے ہیں۔
نمبر شمار لفظ تلفظ مثال
1

اَ

اَ च्छा=اچھا
2 آ

آ ग=آگ
3 اِ

اِ क्कीस= اکیس
4 اِ یْ

اِ یْ बिल्ली =بلی
5 اُ

اُ उल्लू = ا لو
6 اُوْ ऊ اُوْ फूल =پھول (“و“ کی آواز)
7 اےए اے एक = ایک
8 اَے ऐ اَے ऐनक =عینک
9 اوओ او ओखली = اوخلی
9 اَوْऔ اَوْ औरत = عورت
10 اَنْ अं اَنْ अंक = اں ک
11 اَہْ(صرف سنسکرت کے لیے) अः اَہْ
12 رِ (صرف سنسکرت کے لیے) ऋ رِ

_________________________

وینجن (صیحیح حروف):۔

کَ क

کھَ ख

گَ ग

گھَ घ

اَنْگَ ङ

۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔

چَ च

چھَ छ

جَ ज

جھَ झ

نِیاں ञ

۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔

ٹَ ट

ٹھَ ठ

ڈَ ड

ڈھَ ढ

اَنْڑَ ण

۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔

تَ त

تھَ थ

دَ द

دھَ ध

نَ न

۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔

پَ प

پھَ फ

بَ ब

بھَ भ

مَ म

۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔

یَ य

رَ र

لَ ल

وَ व

شَ श

ششَ ष

سَ۔ ثَ स

ہَ۔ ھَ۔ حَ ह

_____________________


ہندی لفظ (دیوناگری) ہندی لفظ (اردو تلفظ) اردو معنی
विषय وِشے موضوع
संबंध سنبندھ تعلق
इतिहास اِتہاس تاریخ
धर्म دھرم مذہب
सफल्ता سپھلتا کامیابی
विशवास وِشواس یقین
राज्य راجیہ ریاست
उचित اُچِت مناسب
वि‌श وِش زہر
महिला مہِلا عورت
अधर्मी ادھرمی کافر
प्रेम پریم محبت
धर्ती دھرتی زمین
मिलाप مِلاپ ملاقات
अंधकार اندھکار اندھیر
मुक्त مُکْت آزاد
स्वयम سْوَیَم خود /اپنے آپ

ماخذ[ترمیم]

مرزا خلیل احمد۔ ایک بھاشاہ جو مسترد کردی گئی

عبدالستار دلوی۔ دو زبانیں دو ادب

گیان چند جین۔ ایک بھاشا دو لکھاوت

  1. http://www.rekhta.org/ebooks/ek-bhasha-jo-mustarad-kar-di-gai-mirza-khalil-ahmad-beg-ebooks/
  2. 258 million "non-Urdu کھڑی بولی" and 400 million مرکزی ہند-آریائی per 2001 Indian census data, plus 11 million Urdu in 1993 Pakistan, adjusted to population growth till 2008
  3. non-native speakers of Standard Hindi, and Standard Hindi plus Urdu, according to SIL Ethnologue.
  4. Dhanesh Jain۔ The Indo-Aryan languages۔ Routledge۔ صفحہ 251۔ آئی ایس بی این 9780700711307۔ Unknown parameter |coauthors= ignored (|author= suggested) (معاونت)
  5. مرکزی ہندی ڈائراکٹریٹ regulates the use of دیوناگری script and Hindi spelling in India. Source: Central Hindi Directorate: Introduction