ہيرے کی کان (ناول)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ہيرے کی کان جاسوسی دنیا سلسلے کا تیرہواں ناول ہے۔ یہ ناول فروری 1953ء میں شائع ہوا۔[1]

کردار[ترمیم]

  • انور سعید: روزنامہ اسٹار کا کرائم رپورٹر اور نجی جاسوس۔
  • رشیدہ: اسٹار اخبار کی ٹائپسٹ اور انور کی ہمسائی اور دوست۔
  • جمیلہ: انور کی محبوبہ جس نے ارشاد علی سے شادی کر لی۔
  • سیٹھ ارشاد علی: شہر کا مشہور سرمایہ دار۔
  • شاہد: ارشاد کا دوست اور اس کے کاروبار کا حصہ دار۔
  • انسپکٹر آصف: سرکاری جاسوس۔
  • رضوان صدیقی: ارشاد کا دوست۔
  • زبیدہ: ایک مظلوم لڑکی۔
  • دھارا سنگھ: ہیرے کی کان میں ارشاد کا حصہ دار۔
  • سیٹھ اطہر: ہیرے کی کان میں ارشاد کا حصہ دار۔

پلاٹ[ترمیم]

انور کمرے میں بیٹھا مطالعہ میں مشغول تھا۔ رشیدہ نے اسے بتایا کہ ایک عورت اس سے ملنا چاہتی ہے۔ انور کے منع کرنے کے باوجود وہ عورت انور کے پاس کمرے میں پہنچ گئی۔ یہ عورت جمیلہ تھی۔ جمیلہ کا شوہر یادداشت کھو جانے کے بعد کہیں غائب گیا تھا اور اب اسے انور کی مدد درکار تھی۔ جمیلہ نے انور کو آدھا معاوضہ دیا اور اس نے تفتیش شروع کر دی۔ انور سب سے پہلے ارشاد علی کے دفتر میں اس کے حصہ دار شاہد سے ملا۔ اس کے بعد انور کو ایک نائٹ کلب کے کلرک سے پتا چلا کہ ارشاد کو دولت گنج کے پتے سے خطوط آتے ہیں اور وہ اسی پتے پر پارسل روانہ کرتا ہے جو سعید منزل کے رضوان صدیقی کے نام ہوتے ہیں۔ سعید منزل پہنچنے پر اسے معلوم ہوا کہ زبیدہ نامی لڑکی کو اس کے ظالم چچا سے آزاد کرا کے رضوان کی بیوی کے طور پر فلیٹ میں رکھا گیا ہے اور ارشاد کے اس لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔

گھر واپسی پر مطالعہ کے دوران اسے ساجدہ نے فون پر بتایا کہ ارشاد نے تار جام کے علاقے میں خودکشی کر لی ہے۔ انور رشیدہ کو سعید منزل سے زبیدہ کو ہٹانے کی ہدایت کر کے خود ساجدہ کے ساتھ تار جام روانہ ہوا۔ تار جام پہنچنے پر انور نے اس خودکشی کو قتل ثابت کر دیا۔ ایسے میں پولیس کا شبہہ دھارا سنگھ پر تھا جس نے پولیس کو ارشاد کی خودکشی کی اطلاع دی تھی۔ اسے پولیس کی گاڑی میں بیٹھایا جا رہا تھا اسی دوران کسی نے اسے گولی مار دی۔ انور اور پولیس دھارا سنگھ کے قاتل کے تعاقب میں ناکامی پر واپس لوٹے تو جمیلہ بےہوش پڑی تھی۔

سیٹھ اطہر سے تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ ارشاد کے کہنے پر اس نے ہیرے کی کان پر پیسہ لگایا۔ ارشاد کے ایک انجینئر دوست نے، جو دراصل ایک بدمعاش اور بلیک میلر ہے، ہیرے کی موجودگی کی یقین دہانی کرائی تھی۔ لیکن چھ ماہ گزر جانے کے باوجود چند ذروں کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ لہذا ارشاد نے اسے دھوکا دیا ہے۔

رضوان بھی تار جام پہنچتا ہے اور ارشاد کی طرف سے ادھار کے مطالبے کے بارے میں بتاتا ہے۔ انور نے اس سے زبیدہ کے بارے میں گفتگو کر کے اسے حیران کر دیتا ہے۔ پولیس رضوان کو روک لیتی ہے اور انور جمیلہ کے ساتھ واپسی کی راہ لیتا ہے۔ وہ راستہ میں جمیلہ کی طرف سے دی گئی رقم واپس کر کے کار سے اتر جاتا ہے۔ انسپکٹر آصف کی زبانی انور کو معلوم ہوا کہ شاہد نے رات کے وقت رشیدہ کو دھمکایا اور صبح دس بجے اسے بھی فون کیا۔ اب شاہد غائب ہو گیا تھا۔ اس سے انور الجھن کا شکار ہو گیا۔ انور نے زبیدہ کا پیچھا کیا اور اسے محفوظ مقام پر پہنچا دیا لیکن زبیدہ نے کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا۔

انسپکٹر آصف کو ارشاد کے گھر سے ایک خط ملتا ہے جس میں ارشاد کے شاہد کی بیوی سے لیے گئے قرض کی واپسی کا مطالبہ تھا۔ انور کی رائے میں یہ شاہد کی بیوی کے ارشاد سے تعلقات ظاہر کر کے تفتیش کا رخ غلط سمت موڑنے کی خاطر لکھا گیا ہے۔ رات کے وقت رضوان جمیلہ کے ساتھ انور سے زبیدہ کا پتہ معلوم کرنے آتا ہے اور نہ بتانے پر اسے ڈرا دھمکا کر چلا جاتا ہے۔ اسی دوران رشیدہ، زبیدہ سے معلومات حاصل کرتی ہے۔ انور، رشیدہ کے اس سوال پر الجھن میں پڑ جاتا ہے کہ ارشاد کے چہرے پر گولیاں برسا کر اس کی صورت کیوں خراب کر دی گئی۔ اگلے دن رات کے وقت انور پر چاقو کے وار سے حملہ کیا جاتا ہے اور زبیدہ زہر پی کر خودکشی کر لیتی ہے۔

اگلے روز انور رشیدہ کے ساتھ ساجدہ کے گھر جا کر ارشاد کے زندہ ہونے کے شبہ کا اظہار کرتا ہے۔ ارشاد اس پر دوبارہ حملہ کرتا ہے لیکن اس کی گولی سے زخمی ہو جاتا ہے۔ انور آصف کو بلاتا ہے جو چند کانسٹیبلوں کے ساتھ پہنچتا ہے۔ ارشاد کو دیکھ کر سب حیران رہ جاتے ہیں۔ انور بتاتا ہے کہ شاہد کی لاش کو مسخ کر کے ارشاد بنا دیا گیا تھا اور رضوان کا تعلق صرف زبیدہ والے معاملے سے تھا۔ انور اس کامیابی کا سہرا آصف کے سر باندھ کر رشیدہ کے ساتھ کھانا کھانے چلا جاتا ہے۔

تنقید[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.compast.com/ibnesafi/jduniya.htm