ہیبت اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہیبت اللہ
(پشتو میں: هبت الله اخونزاده ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آغاز منصب
25 مئی 2016
معلومات شخصیت
پیدائش 7 جون 1961 (59 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Afghanistan (1931–1973).svg مملکت افغانستان
Flag of Afghanistan (1974–1978).svg جمہوریہ افغانستان
Flag of Afghanistan (1987–1992).svg جمہوری جمہوریہ افغانستان
Flag of Afghanistan (1992–2001).svg دولت اسلامی افغانستان
Flag of Taliban.svg اسلامی امارت افغانستان
Flag of Afghanistan (2002–2004).svg افغانستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
جماعت تحریک الاسلامی طالبان  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ الٰہیات دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
وفاداری

سربراہ فوجی عدالت امارت اسلامیہ افغانستان

لڑائیاں اور جنگیں جنگ افغانستان  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مولوی ہبۃ اللہ اخندزادہ شیخ مولوی محمد خان کے صاحب زادے اور مولانا خدائے رحیم صاحب کے پوتے ہیں۔ انہوں نے  1387ہجری میں رجب کی 15 تاریخ کو قندھار کے ضلع پنجوائی کے ایک گاؤں ناخونی کے ایک علمی اور دین دار خاندان میں آنکھیں کھولیں۔ اُن کی زندگی کا ابتدائی مرحلہ اپنے والد صاحب کی جانب سے علمی پرورش اور تربیت میں گزرا۔

خاندان[ترمیم]

شیخ صاحب کا علمی خاندان  علاقے کی سطح پر کئی نسلوں سے علم، فضیلت اور تقوی میں خاصی شہرت کا حامل ہے۔ اس علمی خاندان کا اصل مسکن افغانستان کے جنوب مغربی صوبے قندھار کا ضلع ’تختہ پل‘ رہا ہے۔شیخ نورزئی قوم کی شاخ سامیزئی سے تعلق رکھتے ہے۔ بعدازں اِس خاندان نے قندھار کے ضلع پنجوائی کی طرف نقل مکانی کر لی۔ خود شیخ ہبۃ اللہ اخندزادہ کی پیدائش بھی یہیں کے ایک گاؤں ’ناخونی‘ میں ہوئی ہے۔ امیرالمؤمنین کے والد شیخ مولوی محمد خان کو اپنے ہم عصر علما کے درمیان علمی اور فقہی اعتبار سے مشہور علمی شخصیت اور معاشرے میں خاص ’معاشرتی اعتماد‘کا امتیاز حاصل رہا ہے۔ ایک عالمِ دین کے طورپر علاقے کے لوگوں کی علمی تربیت اور اصلاح میں ان کا خاص کردار تھا۔ انہوں نے تدریس، دعوت و تبلیغ اور اصلاح کی ذمہ داری کی بنیاد پر بہت سے شاگرد دین کی خدمت اور دفاع کے لیے تیار کیے۔

جب کمیونسٹوں نے نورمحمد ترہ کئی کی قیادت میں بغاوت کی اور افغانستان کے سیاسی اقتدار پر اپنے پنجے مضبوط کیے تو مولوی محمد خان صاحب اپنے علاقے کی سطح پر ان اولین جہادی علما میں سے تھے، جو کمیونسٹوں اور الحادی حکومت کے خلاف اٹھے تھے۔ علاقائی مسلمان پہلے سے ہی شیخ صاحب کی اسلامی تربیت اور دعوت سے متاثر تھے، اس جہادی اقدام میں شیخ صاحب کے ساتھ شریک ہو گئے۔ ملحد کمیونسٹوں کو یہ ’عوامی اُٹھان‘ اپنی نوزائیدہ حکومت کے خلاف شدید خطرہ محسوس ہو رہی تھی، اسی لیے وہ شیخ محمد خان کو منظر سے غائب کرنے کی فکر میں لگ گئے۔ حکومت کی سکیورٹی فورسز شیخ صاحب کو گرفتار کرنے کے لیے ان کے گھر اور مدرسے تک پہنچ گئیں، مگر اللہ کے فضل سے شیخ صاحب بچ نکلے۔ قبل اس سے کہ وہ شیخ صاحب کو گرفتار کرتے، شیخ صاحب نے قندھار کے ریگستانی علاقے ’ریگ‘ کی طرف ہجرت کی اور وہاں دیگر مجاہدین کے تعاون سے کمیونسٹوں کے خلاف جہاد کا آغاز کر دیا۔

مولوی محمد خان صاحب قندھار میں جہادی مزاحمت کی توسیع اور تدریجی کامیابی کے بعد واپس آبادی کی طرف آ گئے اور تادمِ مرگ اپنی جہادی و علمی خدمات جاری رکھیں۔ شیخ ہبۃ اللہ اخندزادہ اپنے والد صاحب کی وفات کے بعد خطے پر روسی جارحیت پسندوں کے وحشیانہ مظالم کی وجہ سے افغانستان کے دیگر لاکھوں شہریوں کی طرح اپنا گھر بار اور گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ انہوں نے پڑوس میں موجود خطے پاکستان کی طرف ہجرت کر لی۔ وہ صوبہ بلوچستان کے علاقے زنگل پیرعلی زئی کے مہاجر کیمپ میں دیگر ہم وطنوں کے ساتھ افغانستان کی آزادی اور اسلامی حکومت کے قیام کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے مہاجرانہ زندگی گزارنے لگے۔

دینی تعلیم[ترمیم]

شیخ ہبۃ اللہ اخندزادہ، مولوی محمد خان صاحب کی نرینہ اولاد میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ انہوں نے اپنے والد صاحب سے دینی تعلیم کا آغاز کیا تھا۔ قرآن کریم کی قرات، فقہی مبتدیات، صرف، نحو، عربی ادب، معانی اور اصولِ فقہ کی دوسرے درجے تک کی کتابیں اپنے والد سے پڑھیں۔ بعد ازاں سابعہ تک کی تعلیم کے لیے علاقے کے مشہور مدارس اور جامعات کا رخ کیا، جہاں انہوں نے تمام مروجہ علوم و فنون کی تکمیل کی، جب کہ دورۂ حدیث 1411ہجری میں علاقے کے مشہور علما شیخ الحدیث مولوی محمد جان آغا صاحب اور شیخ الحدیث مولوی حبیب اللہ صاحب سے کیا تھا۔

جہادی و سیاسی سرگرمیاں[ترمیم]

جب شیخ صاحب دینی تعلیم کے آخری مراحل میں تھے، افغانستان میں روسی جارحیت پسندوں کے خلاف مسلح مزاحمت کا محاذ بہت گرم تھا۔ یہ ایسا دور تھا کہ جہاں ہر افغان جوان، بالخصوص علمی خانوادوں کے فرزند جہادی محاذوں میں روسی جارحیت پسندوں کے خلاف آمادۂ پیکار تھے۔ شیخ ہبۃ اللہ اخوندزادہ سب سے بڑھ کر روسی جارحیت کے خلاف جہادی اور فکری مقابلے کے لیے تیار تھے۔ انہوں نے اپنے تعلیمی سفر کے دوران بھی جہاد میں شرکت کے لیے وقت متعین کر رکھا تھا۔ شیخ صاحب مدارس کی سالانہ تعطیلات میں قندھار کے مشہور جہادی کمانڈر ملا حاجی محمد اخند کے محاذ پر جاتے اور وہاں عملاً سوویت یونین کے ریچھوں کے خلاف جہاد میں دادِ شجاعت دیتے۔ ملا حاجی محمد اخند کا جہادی محاذ افغانستان کے جنوب مغرب میں ایک مشہور مرکز تھا، جہاں امارت اسلامیہ کے دیگر مسئولین اور رہنماء؛ امیرالمؤمنین شہید ملا اختر محمد منصور اسلامی امارت افغانستان کے اہم رکن الحاج ملا محمد حسن اخوند و دیگر حضرات بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ اس محاذ پر جہاد کے اوائل میں مولوی محمد نبی محمدی مرحوم کی قیادت میں حرکتِ انقلابِ اسلامی سے تعلق رکھتے تھے، بعد ازاں وہ  مولوی محمد یونس خالص کی قیادت  میں حزبِ اسلامی میں شامل ہو گئے۔

شیخ ہبۃ اللہ صاحب جہادی محاذ کے اہم ارکان میں ایسی شخصیت تھے، جو تنظیم کے اہم کارکنوں اور مجاہدین کے درمیان علمی اور جہادی حوالے سے ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے روسی جارحیت پسندوں کے خلاف جنگ کے دوران امارت اسلامیہ کے سابق سربراہوں؛ امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد اور شہید امیرالمؤمنین ملا اختر محمد منصور کے ساتھ جہادی معرکوں میں عملا حصہ لیا، جس میں وہ زخمی بھی ہوئے۔ تب جنوب مغربی علاقوں میں، خصوصا قندھار کے مجاہدین اپنے محاذوں اور مراکز کو ’اطاق‘ کہتے تھے۔ شیخ صاحب کبھی کبھی اطاق کی سرپرستی بھی کرتے، مگر ان کازیادہ وقت جہادی امور اور مجاہدین کی علمی رہنمائی اور تربیت میں گزرتا۔

شیخ صاحب جہادی تنظیموں میں شرکت کے دور میں بھی زیادہ توجہ اس بات پر دیتے کہ مجاہدین کی الحاد اور دیگر غلط افکار کے خلاف علمی اور فکری اعتبار سے تربیت ہونی چاہیے۔ کیوں کہ ملحد کمیونسٹوں اور ان کے سرپرست روسیوں نے افغانستان پر جارحانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ فکری جارحیت بھی کی ہے۔ بسا اوقات فکری جارحیت کا مقابلہ عسکری مقابلے سے زیادہ اہم اور ضروری ہوتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ شیخ صاحب تنظیم میں بھی اور مدرسے میں بھی مجاہدین کی فکری تربیت کا زیادہ اہتمام کرتے تھے۔ انہوں نے اس حوالے سے خاصی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

شرعی علوم میں تدریسی امتیاز[ترمیم]

شیخ ہبۃ اللہ شرعی علوم، بالخصوص فقہ، اصولِ فقہ، تفسیر اور حدیث کی تدریس میں خصوصی مہارت اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے 1411ھ میں فراغت کے بعد سے اب تک تمام تر جہادی مصروفیات کے ساتھ ساتھ مذکورہ علوم کی تدریس بھی جاری رکھی اور اس حوالے سے ان کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ انہیں شیخ صاحب کا ’لقب‘ صحاح ستہ اور اصول حدیث کی تدریس میں امتیازی حیثیت کی وجہ سے ملا ہے۔ ان کی سندِ حدیث شیخ الحدیث مولوی محمد جان آغا صاحب اور شیخ الحدیث مولوی حبیب اللہ صاحب کے توسط سے متصلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہے۔

تحریکِ طالبان میں تاسیسی کردار[ترمیم]

جب افغانستان سے روسی جارحیت پسندوں کے نکلنے اور کمیونسٹ انتظامیہ کے خاتمے کے بعد تنظیمی جھگڑے شروع ہوئے تو شیخ ہبۃ اللہ صاحب اپنی تنظیم کے دیگر ارکان کی طرح باہمی چپقلشوں اور فسادات سے دور اپنے علمی اور اصلاحی کاموں میں مشغول رہے۔ باوجود اس یہ کہ قندھار تنظیموں جھگڑوں کے باعث میدانِ جنگ بن گیا تھا۔ بہت سے کمانڈر اِن جنگوں میں مصروف ہو گئے، مگر شیخ صاحب ایک جہادی تنظیم کے علمی استاد اور مربّی کی حیثیت سے اِن تنازعات سے ہٹ کر اپنے علمی اور اصلاحی کاموں کی جانب متوجہ رہے۔ جب اِن فسادات کے خلاف مرحوم ملا محمد عمر مجاہد کی قیادت میں طالبان کی اسلامی تحریک سامنے آئی تو شیخ ہبۃ اللہ صاحب تحریک کےمؤسس اور ایک جہادی ساتھی کے طورپر آغاز سے ہی امیرالمؤمنین رحمہ اللہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے۔ جنوب مغربی خطے میں تحریک طالبان کی پیش قدمی کے بعد تحریکی قیادت کی جانب سے انتظامی سلسلے کے طور پر قندھار میں فوجی عدالت بھی قائم کی گئی۔ اس عدالت میں افغانستان کی سطح پر مشہور علمی اور فنی شخصیات کو جمع کیا گیا، جن میں سے ایک شیخ ہبۃ اللہ اخندزادہ صاحب بھی تھے، جنہیں تحریک کی قیادت سابق جہادی دور میں اِن کی امتیازی علمیت، فقاہت اور تقوی و طہارت کی وجہ سے پہچانتی تھی۔

فوجی عدالت کی سربراہی[ترمیم]

جب 1994 میں دار الحکومت کابل مجاہدین کے ہاتھوں فتح ہوا تو شیخ صاحب کو امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے خصوصی فرمان پر فوجی عدالت کا سربراہ متعین کیا گیا۔ کابل میں فوجی عدالت کی تجدید اور اس میں مطلوبہ اصلاحات کے بعد مشرقی علاقوں میں فوجی عدالت کی ذمہ داری اِنہیں سونپی گئی۔ مشرقی علاقوں، خصوصا ننگرہار میں فوجی عدالت سے متعلق دو سالہ کارکردگی کے بعد امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد کے حکم پر کابل آئے اور یہاں امارت اسلامیہ کے دورِ حکومت کے آخر تک فوجی عدالت کے ذمہ دار کی حیثیت سے رہے۔

فوجی عدالت کی ذمہ داری[ترمیم]

اسلامی امارت افغانستان کی حکومت کا ایک بڑا امتیازی کارنامہ افغانستان میں امن کا قیام تھا۔ امارت اسلامیہ کا دورِ حکومت مثالی امن کے قیام کی وہ واضح حقیقت ہے، جس کا اعتراف دشمن بھی کرتا ہے۔ قیامِ امن کی خاص وجہ وقوع پزیر ہونے والی دیگر اصلاحات کے ساتھ حدود اللہ کا نفاذ تھی۔

جب امارت اسلامیہ کا سارا نظام، انتظام، دفاع اور  عدالت جیسے تمام اہم امور کے ذمہ داران کام اور تجربے کے اعتبار سے نئے تھے، ان کے سکیورٹی وسائل بھی نہ ہونے کے برابر تھے، لیکن اِنہی شرعی حدود کے نفاذ کی برکت تھی جس خطے کے دو عشرے جنگ اور بے امنی کی نذر ہو چکے تھے، وہاں ایسا امن قائم ہوا، جس کا اعتراف دوست اور دشمن سب نے کیا ہے۔ خدا کی زمین پر شرعی حدود کا نفاذ اس وقت امن کے قیام کا باعث ہوتا ہے، جب اس کا نفاذ شریعت کے مزاج و مذاق کے موافق ہو۔ یہی وجہ تھی کہ امارت اسلامیہ کی زیادہ توجہ اس بات پر رہی کہ عدالتی اداروں کی سربراہی ایسے افراد کے سپرد کی جائے، جو قرآن و حدیث اور علومِ شرعیہ کی روشنی میں شرعی حدود کے فلسفے سے باخبر ہوں۔ امارت اسلامیہ میں حدود کے نفاذ کی تمام تر ذمہ داری عدالتوں کو سونپی گئی تھی۔ جب کہ جہادی محاذوں پر دفاعی قوتوں کے مواخذے و اصلاح کی ذمہ داری بطور خاص فوجی عدالت کو دی گئی تھی۔ اس لیے فوجی عدالت کی ذمہ داری کے لیے سوچا جا رہا تھا کہ ایسے شخص کا انتخاب کیا جائے، جو شرعی علوم اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے اعتبار سے اس اہم منصب کی صلاحیت رکھتا ہو۔

دوسری طرف ایسے اہم مناصب پر تقرری کے لیے دو چیزیں اہم ہیں:

جہادی علم اور عمل: شیخ ہبۃ اللہ صاحب اپنے ہم مسلک معاصرین کے اعتراف کے مطابق اِن دونوں خصوصیات سے بہرہ ور ہیں۔یہی وجہ تھی اُنہیں امیرالمؤمنین کی جانب سے فوجی عدالت کی سربراہی جیسے حساس منصب کے لیے منتخب کیا گیا۔ مرحوم امیرالمؤمنین رحمہ اللہ کے اس انتخاب میں کچھ مصلحتیں بھی پوشیدہ تھیں، جن کی جانب ذیل میں اشارہ کیا جا رہا ہے۔ دار الحکومت کابل میں فوجی عدالت سب سے اہم ادارہ تھا، جسے حدود کے نفاذ کے اختیارات دیے گئے تھے۔ نفاذِ حدود جتنا اہم اور معاشرے کی اصلاح کا باعث بنتا ہے، اتنا ہی نافذ کرنے والے کے لیے علم و فقاہت اور سنجیدگی و دقتِ نظر کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح حدود نافذ کرنے والا شخص مذکورہ بالا صفات کے ساتھ ساتھ پوری طرح سے انسانی شفقت اور ہمدردی سے بھی بہرہ ور ہونا چاہیے۔

مرحوم امیرالمؤمنین رحمہ اللہ نے یہ امتیازی اوصاف شیخ صاحب میں محسوس کر لیے تھے، اس لیے اِنہیں یہ اہم ذمہ داری سونپی گئی۔ یہی وجہ تھی جب بھی فوجی عدالت میں اس کے قاضیوں اور مفتیوں کی جانب سے کسی مجرم کے متعلق قصاص کا حکم جاری کیا جاتا تو شیخ صاحب سب سے پہلے ورثاء سے قاتل کے لیے معافی کا مطالبہ کرتے۔ اُنہیں اسلامی شریعت کے حوالے سے معافی بارے اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ فضائل و ثواب بتا کر قاتل کے لیے معافی کا راستہ بناتے۔ اس معافی کے لیے قصاص کی جگہ پر حاضر ہونےوالے دیگر بڑوں، بزرگوں اور علما سے بھی مدد طلب کرتے۔ اُنہیں مقتول کے ورثاء کے پاس سفارش کے لیے لے جاتے ۔

وہ مقتول کے ورثاء سے ایک حکومتی ذمہ دار کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک مذہبی رہنما کی حیثیت سے قاتل کے لیے معافی طلب کرتے۔ بہت سے مواقع پر ان کی اسی ہمدردی اور کوششوں کی برکت سے ایسے افراد، جن کے بارے قصاص کا حکم جاری کر دیا گیا تھا، انہیں مقتولین کے خاندان کی جانب سے معاف کر کے اچھی زندگی گزارنے کا موقع دیا گیا۔ اسی طرح جب جرائم میں ملوث افراد بارے قاضی اور جج کوئی حکم سناتا تو اس کے واقعاتی ثبوت ڈھونڈنے کے لیے تمام تر فقہی اصولوں اور قواعد کی رعایت کے لیے پوری محنت سے کام لیا جاتا۔ شریعت کے قاعدے ’’الحدود تندرئُ بالشبہات‘‘ (شرعی حد شبہ سے ساقط ہو جاتی ہے)کے مطابق مجرم کو سزا سے بچانے کے لیے کوئی نکتہ تلاش کیا جاتا۔ مذکورہ حقائق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شیخ ہبۃ اللہ امارت اسلامیہ کے دورِ حکومت میں بااختیار عدالتی سربراہوں میں سے تھے، جو شرعی احکامات کی تطبیق میں انتہائی محتاط، سنجیدہ اور مہربان و ہمدرد ذمہ دار کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔ اِن صفات سمیت دیگر بہت سے اوصاف کی وجہ سے اِنہیں امارت اسلامیہ کا امیر نامزد کیا گیا تھا۔

غاصبوں کے خلاف دوبارہ جہادی کردار[ترمیم]

جب 2001 میں امریکی جارحیت پسندوں نے مغربی اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر یلغار کی اور امارت اسلامیہ کی قیادت نے مناسب وقفے کے بعد جارحیت پسندوں کے خلاف مجاہدین کو دوبارہ منظم اور متحد کیا تو شیخ ہبۃ اللہ اخوندزادہ صاحب دیگر ذمہ داران کے ساتھ جہادی تیاری کے اس حساس مرحلے میں اپنا مؤثر کردار ادا کر رہے تھے۔ جب امریکا کی بہت زیادہ نگرانی اور جاسوسی نظام کے باعث ہر طرح کی جہادی سرگرمی کو عمل میں لانا تقریبا ناممکن تھا، تب بھی شیخ ہبۃ اللہ صاحب چند دیگر مجاہدین، شیوخ اور علمائے کرام کے ساتھ اس حساس مرحلے پر بھی مجاہدین کی تنظیم اور ترتیب میں ناقابل فراموش کردار ادا کر رہے تھے۔

شیخ غلام حیدر صاحب مرحوم، شیخ عبدالسلام شہید اور محترم شیخ عبدالحکیم حفظہ اللہ، شیخ ہبۃ اللہ صاحب کے ساتھ اس تاریخی خدمت میں ایک جگہ رہے، جنہوں نے مسلمانوں کو صلیبی جارحیت کے خلاف جہادی محاذوں کی طرف بلایا۔ علمی لحاظ سے قرآنی ارشادات اور نبوی فرامین بیان کر کے انہیں اللہ تعالی کے کلمے کی سربلندی اور دین و عقیدے کے دفاع کے لیے تیار کیا۔ امریکی قیادت میں عالمی صلیبی اتحاد کے مقابلے میں نہتے اور جنگ زدہ افغانوں کو جہاد کے لیے نئی اُٹھان دینا کوئی آسان کام نہ تھا۔ اس لیے کہ یہی افغان روسی جارحیت کے وقت بھی جہاد اور اسلام کے دفاع کے لیے ڈیڑھ ملین شہداء، 7 ملین مہاجرین اور لاتعداد قیدیوں، زخمیوں اور معذوروں کی صورت میں قربانی دے چکے تھے، مگر بدقسمتی سے کچھ تنظیمی قائدین کے اختلافات اور جنگوں کی وجہ سے یہ قربانیاں ضایع ہوگئیں، جس کی وجہ سے تمام افغان عوام شدید پریشانی اور مایوسی کا شکار ہوئے۔

شیخ ہبۃ اللہ صاحب اور ان کے اولوالعزم ساتھیوں کی اَن تھک کوششوں، بیانات اور عام فہم دلائل کی برکت تھی کہ بے انتہا مایوسی اور تھکاوٹ کے باوجود صلیبی جارحیت پسندوں کے خلاف افغانوں کا جذبۂ جہاد پھر سے زندہ ہو گیا۔ انہوں نے نہتے ہو کر بھی امریکا کی قیادت میں جمع عالمی کفریہ اتحاد کے خلاف جہاد کا آغاز کر دیا۔ اس مزاحمت کے دوران افغان مسلمانوں نے دنیا کو دکھا دیا کہ وہ جتنے بھی تھک جائیں، جیسے بھی نہتے ہو جائیں، پھر بھی کفار کے خلاف جہاد جاری رہے گا۔ اِنہیں اس پر مکمل اعتماد ہے کہ باطل کے خلاف آخری فتح اِنہی کی ہوگی…  ’’و کان حقا علینا نصر المؤمنین‘‘

صلیبی جارحیت پسندوں کے خلاف مزاحمت کے دوران مجاہدین کی پشت پر شیخ ہبۃ اللہ صاحب جیسے باعزم علما کی کوششیں اور دعائیں تھیں، جن کی وجہ سے مجاہدین نے نہتے ہوکر بھی صلیبی اتحاد اور سب سے بڑے فوجی معاہدے کو تاریخی شکست دی۔ اس مزاحمت کے 15 سالہ دورانیے میں شیخ صاحب نے دعوت و ارشاد کی ذمہ داری سے لے کر عدالتوں کے عمومی دفتروں سمیت مختلف مناصب پر رہ کر کام کیا۔

امارت اسلامیہ میں نیابت[ترمیم]

جب 2016ء میں اسلامی امارت افغانستان کی رہبری شوری کی جانب سے مرحوم امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد کی وفات کا اعلان کیا گیا اور شہید ملا اختر محمد منصور کو امیر کے طور پر متعین کیا گیا تو شیخ صاحب کو شہید رحمہ اللہ کا معاون مقرر کیا گیا۔ شہید امیرالمؤمنین ملا اختر محمد منصور کو اپنی خدداد صلاحیت کی بنا پر اشخاص اور ذمہ داران کے تعین و انتخاب میں خاص مہارت تھی۔ وہ امارت اسلامیہ کے تقریبا تمام ذمہ داران کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔ سب کو ان کی استعداد اور قوتِ فہم کے مطابق ذمہ داریاں دیتے تھے۔ اِنہی ذمہ داران میں سے ایک اہم فرد شیخ ہبۃ اللہ صاحب تھے، جنہیں شہید امیرالمؤمنین نے ان کی علمی صلاحیت اور امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے درمیان اجتماعی وجاہت کی بنا پر امارت اسلامیہ کی انتظامی تشکیلات میں انہیں معاون منتخب نامزد کیا تھا، تاکہ اس اہم منصب پران کی پختہ علمی استعداد سے عالمِ اسلام کو فائدہ پہنچایا جائے۔ شہید امیرالمؤمنین کے اس انتخاب سے ایک اہم اور بنیادی فائدہ یہ ملا کہ امارت اسلامیہ کے تمام عسکری اور انتظامی حکام میں اجتماعیت اور یکجہتی برقرار رہ گئی۔ شیخ صاحب ہبۃ اللہ دس ماہ تک امارت اسلامیہ کے نائب امیر کی حیثیت کام کرتے رہے ہیں۔ اسی دوران امارت اسلامیہ کو امریکا اور اس کے حامیوں کی جانب سے شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

امارت اسلامیہ کے بانی کی وفات کے بعد کچھ لوگوں نے نئے امیر کے خلاف ’رائے‘ اختیار کر لی۔ اُنہیں علمی لحاظ سے مطمئن اور اصلاح کرنے کے لیے شیخ ہبۃ اللہ صاحب کا کردار انتہائی قابل ذکر ہے۔ امارت اسلامیہ کے اس تاریخی مرحلے پر شیخ صاحب نے بہت کوششیں کیں۔ مجاہدین کی وحدت اور اتحاد کے لیے علما، قومی رہنماؤں اور جہادی شخصیات سے متعدد ملاقاتیں کیں۔ شیخ صاحب تمام تر مجالس میں مجاہدین کو وحدت اور اتفاق و اتحاد پر زور دیتے رہے۔ یہی دور تھا، جب شہید امیرالمؤمنین ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قیادت میں شیخ صاحب اور دیگر شیوخ اور علمائے کرام کی کوششوں کی برکت سے خدا تعالی نے امارت اسلامیہ کی متحد صف کو تفرق و انتشار سے بچا لیا۔ امارت اسلامیہ کی رہبری شوری کے ارکان بیک زبان امیرالمؤمنین کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور افغانستان کے 34 صوبوں میں صوبائی گورنرز، عسکری ذمہ داران، عوامی رہنماؤں اور عوام کے تمام طبقات نے ان کی حمایت کی۔ جارحیت پسندوں اور ان کے حامیوں کے خلاف جہاد جاری رکھنے پر بیعت کی گئی۔

امیرالمؤمنین کے طور پر[ترمیم]

جب 1437 ھ میں 14شعبان المعظم کو امیرالمؤمنین ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ امریکی ڈرون حملے میں شہید کیے گئے تو رہبری شوری کی طرف سے اتفاقِ رائے کے ساتھ شیخ ہبۃ اللہ صاحب کو امارت اسلامیہ کے امیر، خلیفہ سراج الدین حقانی اور مولوی محمد یعقوب مجاہد کو معاونین کی حیثیت سے متعین کیا گیا۔شیخ صاحب کا امارت اسلامیہ کے امیر کی حیثیت سے تقرر جہادی مصالح کے نفاذ، جارحیت پسندوں اور ان کے حامیوں کے خلاف جہاد کی روانی اور امارت اسلامیہ کی صف کو متحد رکھنے کے سب سے اہم ذریعہ اور وسیلہ ہے۔ باوجود یہ کہ رہبری شوری کے ارکان میں بہت سے ایسے افراد بھی موجود تھے، جنہیں بہت زیادہ عسکری اور سیاسی شہرت حاصل تھی، مگر ان سب نے اتفاق رائے سے شیخ صاحب کو ان کے علمی اور جہادی استحقاق اور جہادی صف کے اتحاد کی خاطر انتخاب کا زیادہ حق دار قرار دیا۔ کیوں کہ شیخ صاحب امارت اسلامیہ کے تمام ارکان، ذمہ داران اور عام مجاہدین کے دلوں میں موجود خصوصی محبت کی وجہ سے سب کے لیے انتہائی قابل قدر اور قابل اعتماد شخص سمجھے جاتے ہیں۔ اللہ تعالی نے انہیں تمام ذمہ داران اور مجاہدین کو اپنے گرد جمع کرنے کی خاص صلاحیت عطا فرمائی ہے۔

مذہبی و فکری زاویۂ نگاہ[ترمیم]

شیخ ہبۃ اللہ صاحب افغانستان کے دیگر علما جیسے ایک مذہبی عالم اور اہل سنت والجماعت میں حنفی مذہب کے پیروکار ہیں۔ سنتوں کا اتباع اور سلف صالحین کا راستہ ان کا فکری منہج ہے۔ مسلمانوں کے درمیان ہر طرح مذہبی، فکری اور تنظیمی تعصبات سے بے پروا، بدعات اور خرافات کے شدید مخالف ہیں۔ امارت اسلامیہ کے اتحاد کو مسلمانوں کی کامیابی کا راز اور تفرقہ و انتشار کو ہر برائی کا سبب سمجھتے ہیں۔ مطالعے کا خاص موضوع رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور جہادی زندگی ہے۔ یہی وجہ تھی، جب 1999 میں بیت اللہ شریف فریضۂ حج کی ادائیگی کےلیے گئے تو مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد مدینہ منورہ میں جبلِ احد اور جبلِ رماۃ کے تاریخی مقام دیکھنے کا شوق بہت تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہیں تاریخی غزوہ کے موقع پر زخمی ہوئے تھے اور حضرت سید الشہداء حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ اسی میدان میں شہید کیے گئے تھے۔

روزمرہ زندگی کی چند خصوصیات[ترمیم]

شیخ صاحب اپنی علمی اور معاشرتی زندگی میں کچھ خاص امتیازات رکھتے ہیں۔ اِنہیں امارت اسلامیہ کے تمام ذمہ داران ایک جامع شخصیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے شہید امیرالمؤمنین کے انتخاب کے موقع پر شیخ صاحب نے مجاہدین کے اتحاد و اتفاق اور ان کی بیعت میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ امیرالمؤمنین کی شہادت کے بعد امارت اسلامیہ کے تمام ارکان اور مجاہدین نے یقینی اتفاق کے ساتھ ان کی امارت پر اتفاق کیا اور سب نے بلااستثناء ان کی بیعت کر لی۔  شیخ صاحب گزشتہ دس سالوں سے مسلسل قرآن کریم کی تفسیر اور احادیث شریف کا درس دے رہے ہیں۔ اب تک بے شمار علما اور شاگرد اِن کی جامع علمیت کے ساتھ ساتھ بیان کی اچھی فصاحت سے بہرہ ور ہیں۔ آپ بہت آسان اور عام فہم اسلوب میں مقابل فریق کو مطمئن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اپنے فیصلوں اور ارادوں کے نفاذ میں بہت یقینی، واضح اور پُرعزم ہیں۔ مجلس میں اکثر خاموش رہتے ہیں، مگر ضرورت کے موقع پر ان کی مختصر باتیں بہت مؤثر ہوتی ہیں۔باوجود یہ کہ وہ اپنی زندگی کی پانچویں دہائی میں ہیں، مگر جہادی تربیت سے انہیں خاص محبت ہے۔ سنجیدگی، وقار اور اسلامی ہمدردی ان کی زندگی کے بنیادی امتیازات میں سے ہے۔

امیرالمؤمنین حفظہ اللہ کی زندگی بہت سادہ اور بے تکلف ہے۔ کھانے، پینے اور لباس و رہائش میں تکلف کا کوئی اثر نظر نہیں آتا۔انہیں دیکھنے پر لوگ ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے وہ اپنے مہربان بڑے بھائی یا مشفق رہنما سے مل رہے ہیں۔ جہادی امور کا اہتمام بہت دقتِ نظر سے کرتے ہیں۔ موجودہ ایام میں مطالعہ و تدریس کی جگہ زیادہ وقت جہادی امور کی تنظیم، تنسیق اور ترتیب میں گزرتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

الامارہ اردو

مزید دیکھیے[ترمیم]

ملا ہبۃ اللہ کی فہم و فراست اور میڈیا کا جھوٹ پروپیگنڈا