ہیر رانجھا (پاکستانی فلم)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہیر رانجھا
ہدایت کار مسعود پرویز
پروڈیوسر اعجاز
مسعود پرویز
کہانی مسعود پرویز
ستارے فردوس
اعجاز درانی
اجمل
زمرد
سلمیٰ مختار
نجم الحسن
منور ظریف
رنگیلا
الیاس کاشمیری
یوسف خان
موسیقی خواجہ خورشید انور
سنیماگرافی مسعود الرحمان
تاریخ اشاعت
  • جون 19، 1970 (1970-06-19)
دورانیہ
3 گھنٹے
ملک Flag of پاکستان
زبان پنجابی

ہیر رانجھا (انگریزی: Heer Ranjha) ‏1970ء میں نمائش کے لیے پیش ہونے والی پنجابی زبان میں پاکستان کی مقبول ترین فلم تھی۔ یہ فلم پنجاب کی مشہور لوک داستان ہیر رانجھا پر مبنی تھی جسے وارث شاہ نے تحریر کر کے امر کر دیا۔[1]

ہیر رانجھا کی داستان پر اس فلم سے پہلے بھی کئی فلمیں بن چکی تھیں۔ تقسیم ہند سے پہلے اس داستان پر 1932ء میں ہیر رانجھا (فلم ساز عبد الرشید کاردار) کے نام سے فلم بنی جب کہ قیام پاکستان کے بعد نذیر نے 1955ء میں ہیر اور 1962ء میں ہیر سیال کے نام سے اس داستان کو فلم بند کیا گیا مگر 1970ء میں ریلیز ہونے والی فلم ہیر رانجھا کو بلاشبہ ایک شاہکار فلم قرا دیا جاسکتا ہے۔[1]

ہیر رانجھا کی نمائش 19 جون، 1970ء کو ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز اعجاز اور مسعود پرویز، ہدایت کار و کہانی کار مسعود پرویز،موسیقار خواجہ خورشید انور، نغمہ نگار احمد راہی اور عکاس مسعود الرحمان تھے۔ اس فلم میں فردوس اور اعجاز درانی نے ہیر اور رانجھا کا کردار ادا کیا۔[1]

اداکار[ترمیم]

موسیقی[ترمیم]

اس فلم کی موسیقی خواجہ خورشید انور نے ترتیب دی جبکہ نغمات احمد راہی تحریر کیے۔ پس پردہ گلوکاروں میں ملکہ ترنم نور جہاں، مسعود رانا، نسیم بیگم اور غلام علی شامل تھے۔[1]

نغمات[ترمیم]

تمام شاعری از احمد راہی; تمام موسیقی کے کمپوزر خورشید انور.

ہیر رانجھا البم - نغمے
نمبر شمارعنوانگلوکارطوالت
1."اول حمد خدا دا وِرد کرئیے"نور جہاں، غلام علی4:30
2."میں چھم چھم نچاں، میں چھم چھم گاواں"نور جہاں، نسیم بیگم3:41
3."سن ونجلی دی مٹھڑی تان وے"نور جہاں4:23
4."او ونجلی والڑیا، توں تاں موہ لئی او مٹیار"نور جہاں، نیر حسین3:29
5."چن ماہیا تیری راہ پئی تکنی آں"نور جہاں3:29
6."ڈولی چڑھدیاں ماریاں ہیر چیکیاں"نور جہاں1:07
7."تیری خیر ہوئے، ڈولی چڑھ جان والیے"نیر حسین3:17
8."ربا ویکھ لیا تیرا میں جہان"مسعود رانا3:37
9."کدی آ مل رانجھن وے، تینوں دل دا حال سناواں"نور جہاں3:55
10."ادھی رات جد لوگ ارام کر دے (ہیر وارث شاہ)"غلام علی، نسیم بیگم2:59
11."توں چور میں تیری چوری بلوچا ہانیا"آئرین پروین3:19
12."زلفاں دی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں ڈھولنا"نور جہاں، آئرین پروین4:04
13."وچھڑے میت ملا دے ربا"مجیب عالم اور دیگر3:17
کل طوالت:45:01

اعزازات[ترمیم]

فلم ہیر رانجھا نے مجموعی طور پر پانچ (05) نگار ایوارڈ حاصل کیے۔ اس فلم نے یہ ایوارڈ جن شعبوں میں حاصل کیے ان میں[1]:

نمبر شمار شعبہ نام ایوارڈ کا نام
1 بہترین پنجابی فلم اعجاز، مسعود پرویز نگار ایوارڈ
2 بہترین ہدایت کار مسعود پرویز نگار ایوارڈ
3 بہترین اداکارہ فردوس نگار ایوارڈ
4 بہترین موسیقار خواجہ خورشید انور نگار ایوارڈ
5 خصوصی ایوارڈ اجمل نگار ایوارڈ

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ص 316، پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء