ہیکٹر
| ہیکٹر | |
|---|---|
| (قدیم یونانی میں: Έκτορας) | |
| معلومات شخصیت | |
| مقام وفات | ٹرائے |
| قاتل | ایکلیز [1] |
| شہریت | ٹرائے |
| والد | پریام [2][3][4][5] |
| والدہ | ہیکوبا [2][6][4][5][7] |
| بہن/بھائی | |
| عملی زندگی | |
| عسکری خدمات | |
| لڑائیاں اور جنگیں | ٹرائے کی جنگ |
| درستی - ترمیم | |
ہیکٹر یا ہیکطور (یونانی: Ἕκτωρ) طروادہ کا شہزادہ، اس کی فوج کا سپہ سالار اور اس کے عظیم ترین جانبازوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس نے جنگِ طروادہ کے دوران دس برس تک یونانی افواج کے حملوں کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ وہ اپنی شجاعت، عسکری حکمتِ عملی، شہسواری اور گھوڑوں کو سدھانے کی مہارت کے لیے مشہور تھا۔
ہیکٹر، بادشاہ پریام اور ملکہ ہیکوبا کا محبوب ترین بیٹا اور ولی عہد تھا۔ وہ شہزادہ ہیلینوس، اس کی جڑواں بہن شہزادی کاساندرا، شہزادہ دیفوبوس اور شہزادہ پیرس کا بھائی تھا۔ پیرس ہی وہ شخص تھا جس نے ہیلن کو اغوا کیا، جس کے نتیجے میں طروادہ کی تباہ کن جنگ چھڑ گئی۔ یونانی روایت میں ہیکٹر کو قدیم یونان کے نو عظیم ہیروز میں اولین مقام حاصل ہے۔ اس کی شہرت صرف جنگی بہادری کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کی بلند اخلاقی صفات، شرافت اور نجابت کی بنا پر بھی تھی۔ [8]
جنگ کے بارے میں اس کا مؤقف
[ترمیم]ہیکٹر اپنی سرزمین اور یونانیوں کے درمیان جنگ کے حق میں نہیں تھا۔ اس نے اپنے بھائی پیرس کو سخت ملامت کی، کیونکہ اس کے نزدیک پیرس نے اپنے ذاتی عمل کی وجہ سے پورے ملک کو تباہی کے خطرے میں ڈال دیا تھا۔ بعد میں پیرس اور مینیلاؤس کے درمیان یہ طے پایا کہ دونوں ایک دوسرے سے مبارزہ کریں؛ جو فاتح ہوگا، وہ ہیلن کو حاصل کرے گا اور جنگ ختم کر دی جائے گی۔ لیکن چونکہ پیرس جنگی مہارت میں مینیلاؤس کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا، اس لیے جب وہ شکست کے قریب پہنچا تو دیوی افرودیت نے اسے نظروں سے اوجھل کر کے بچا لیا۔ مینیلاؤس نے خود کو فاتح قرار دیا، مگر اسی دوران پانداروس، جو پریام کا پوتا تھا، نے محفوظ مقام سے اس پر تیر چلا دیا، جس کے نتیجے میں جنگ دوبارہ بھڑک اٹھی۔ [9]
جنگ میں شرکت
[ترمیم]
روایت کے مطابق ایک معرکے میں طروادہ کی فوج یونانیوں کے سامنے پسپا ہونے لگی، تو ہیکٹر خود میدان میں اترا اور جوابی حملے کی قیادت سنبھالی۔ جب وہ جنگ کے لیے روانہ ہونے لگا تو اس کی بیوی انڈرومیکی اپنے ننھے بیٹے استیاناکس کو گود میں لیے شہر کے دروازے پر آ گئی اور آنسوؤں کے ساتھ اس سے التجا کی کہ وہ جنگ میں نہ جائے۔ لیکن ہیکٹر جانتا تھا کہ طروادہ اور اس کے والد بادشاہ پریام کی سلطنت شدید خطرے میں ہے اور اگر شہر سقوط کر گیا تو اس کے خاندان کا انجام قتل یا غلامی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔
اس نے نہایت محبت اور نرمی سے اپنی بیوی کو سمجھایا کہ وہ اپنے فرض سے منہ نہیں موڑ سکتا اور یہ کہ انسان اپنی مقررہ گھڑی سے پہلے نہیں مر سکتا۔ جب اس کی کانسی کی چمکتی ہوئی خود (خودِ جنگ) کو دیکھ کر اس کا بیٹا استیاناکس خوف سے رونے لگا، تو ہیکٹر نے خود اتار دی، اپنے بیٹے کو گود میں لیا، بیوی کو شفقت سے گلے لگایا، پھر بلند آواز سے زیوس سے دعا کی کہ وہ ان دونوں کی حفاظت کرے اور اس کے بیٹے کو ایسا عظیم اور بہادر قائد بنائے جو اپنے باپ سے بھی بڑھ کر نامور ہو۔
پاتروکلس کی موت
[ترمیم]ہیکٹر نے مسلسل دس برس تک طروادہ کے دفاع کی قیادت کی۔ اسی دوران اخیل نے اگامیمنون کے ساتھ اختلاف کی وجہ سے جنگ میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ بعض روایات کے مطابق اس اختلاف کا سبب طروادی قیدی خاتون بریئیس تھی، جس سے اخیل محبت کرتا تھا۔
اس موقع پر اخیل کے نہایت قریبی ساتھی پاتروکلس نے اس کا زرہ اور خود پہن کر میدانِ جنگ میں اترنے کا فیصلہ کیا، تاکہ یونانی فوج کا حوصلہ بلند ہو، جو ہیکٹر کے حملوں کے سامنے پسپا ہو رہی تھی۔ ہیکٹر نے اسے اخیل سمجھ کر اس کا مقابلہ کیا اور شدید جنگ کے بعد اسے قتل کر دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مقتول اخیل نہیں بلکہ پاتروکلس تھا اور یہی واقعہ اخیل کے دوبارہ میدانِ جنگ میں اترنے اور ہیکٹر سے انتقام لینے کا سبب بنا۔ [10]
اخیل کا انتقام
[ترمیم]جب اخیل کو پاتروکلس کی موت کی خبر ملی تو وہ شدید غم اور غصے میں مبتلا ہو گیا۔ اس نے قسم کھائی کہ جب تک ہیکٹر کو قتل نہیں کرے گا، پاتروکلس کی تدفین نہیں کرے گا۔ اخیل دوبارہ میدانِ جنگ میں اترا اور طروادی فوج کو چیرتا ہوا ہیکٹر تک پہنچ گیا۔ ابتدا میں ہیکٹر، اخیل کے غضب کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا، لیکن پھر اس نے اپنے خوف پر قابو پایا اور اس کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنے بھائی دیفوبوس کی مدد کا منتظر تھا، مگر روایت کے مطابق دیوی ایتھینا نے دیفوبوس کو اس کی نظروں سے اوجھل کر دیا، جس سے ہیکٹر تنہا رہ گیا۔ جنگ سے پہلے ہیکٹر نے اخیل سے درخواست کی کہ اگر وہ مارا جائے تو اس کی لاش اس کے والد بادشاہ پریام کے حوالے کر دی جائے تاکہ اسے مناسب طریقے سے دفن کیا جا سکے، لیکن اخیل نے یہ درخواست مسترد کر دی۔
دونوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔ ہیکٹر نے اپنا نیزہ پھینکا، مگر وہ اخیل کو نقصان نہ پہنچا سکا۔ جب وہ دوسرا نیزہ لینے کے لیے دیفوبوس کی طرف متوجہ ہوا تو وہاں کوئی نہ تھا۔ تب اسے یقین ہو گیا کہ دیوتاؤں نے اخیل کا ساتھ دیا ہے اور اس کی موت قریب آ چکی ہے۔ اس کے باوجود اس نے ایک سچے جنگجو کی طرح آخری دم تک بہادری سے لڑنے کا فیصلہ کیا، اس یقین کے ساتھ کہ تاریخ اس کی شجاعت کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ اخیل نے ہیکٹر کی زرہ میں گردن کے قریب ایک کمزور جگہ دیکھی اور اپنے نیزے سے وہیں وار کیا۔ ہیکٹر شدید زخمی ہو کر زمین پر گر پڑا۔ مرتے ہوئے اس نے ایک بار پھر اخیل سے التجا کی کہ اس کی لاش کی بے حرمتی نہ کی جائے، مگر اخیل نے اس کی کوئی بات نہ سنی اور اس کی لاش کے ساتھ سخت سلوک کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ [11][12] اپنی آخری سانسوں میں ہیکٹر نے اخیل سے کہا کہ پیرس اور دیوتا اپولو اس کی موت کا بدلہ لیں گے۔
ہیکٹر کی موت
[ترمیم]
ہیکٹر کے قتل کے بعد اخیل نے ایجیکس کی رسی اس کے پاؤں سے باندھ کر لاش کو اپنے رتھ کے پیچھے گھسیٹا اور طروادہ کی فصیلوں کے گرد چکر لگائے۔ اہلِ طروادہ اپنے محبوب شہزادے کی یہ بے حرمتی بے بسی سے دیکھتے رہے، مگر کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اخیل سے اس کی لاش چھڑا سکے۔ اخیل ہیکٹر کی لاش کو اپنے لشکر میں لے گیا اور بارہ دن تک اپنے پاس رکھے رہا۔ آخرکار دیوتاؤں نے اسے حکم دیا کہ وہ ہیکٹر کی لاش اس کے والد بادشاہ پریام کے حوالے کر دے۔ روایت کے مطابق پریام ایک جادوئی مادہ اپنے جسم پر لگا کر یونانی لشکر میں پہنچا، جس کے اثر سے اسے دیکھنے والا ہر شخص سو جاتا تھا، تاکہ وہ بحفاظت اخیل تک پہنچ سکے۔ اخیل نے بالآخر ہیکٹر کی لاش اس کے حوالے کر دی، جسے پریام طروادہ واپس لے آیا اور اس کی شان کے مطابق آخری رسومات ادا کیں۔ [13]
ہیکٹر کی وفات پر پورے طروادہ میں سوگ منایا گیا۔ حتیٰ کہ ہیلن نے بھی اس عظیم سپہ سالار پر نوحہ کیا، کیونکہ وہ اسے اپنا محافظ اور طروادہ کا سب سے بڑا ہیرو سمجھتی تھی۔ بعد میں ہیکٹر "طروادہ کا شہزادہ، گھوڑوں کو سدھانے والا" کے لقب سے مشہور ہوا۔ ہیکٹر کی موت کے بعد طروادہ اپنی بہترین فوجی قیادت سے محروم ہو گیا، جس کے نتیجے میں شہر بالآخر یونانیوں کی مشہور لکڑی کے گھوڑے (حصانِ طروادہ) کی تدبیر سے فتح ہو گیا۔ روایت کے مطابق یونانی بادشاہ اگامیمنون نے بادشاہ پریام کو قتل کر دیا، لیکن بعد میں خود بھی مارا گیا۔ مزید روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ ہیکٹر کی بیوی، اس کا بیٹا، چند قریبی ساتھی، شہزادہ ہیلینوس، ہیلن اور شہزادہ پیرس شہر سے نکل گئے۔ اسی روایت کے مطابق پیرس نے اخیل کے ٹخنے پر تیر مار کر اسے ہلاک کیا اور یوں اس سے ہیکٹر کا بدلہ لیا۔ بعد کی اساطیری روایات میں ان بچ جانے والوں کے ایک نئی سرزمین کی تلاش کا بھی ذکر ملتا ہے، جہاں آخرکار روم کی بنیاد رکھے جانے کی داستان بیان کی جاتی ہے۔ [14]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ عنوان : Encyclopædia Britannica — دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/topic/Hector-Greek-mythology
- 1 2 عنوان : Гектор
- ↑ عنوان : Приам
- 1 2 عنوان : Hector
- 1 2 عنوان : Гектор — اشاعت: عظیم سویت دائرۃ المعارف (1926ء - 1947ء)
- ↑ عنوان : Гекуба
- ↑ عنوان : Гекуба — اشاعت: عظیم سویت دائرۃ المعارف (1926ء - 1947ء)
- ↑ R. S. P. Beekes (2010)۔ Etymological Dictionary of Greek۔ بریل پبلشرز۔ ج 1۔ ص 399
- ↑ This etymology is given under "Hector" in the Online Etymological Dictionary, which, if true, would make it an Indo-European name whose ultimate origin would be the root *seĝh- [
x-protois not a valid script code.]. - ↑ Michael Ventris؛ John Chadwick، مرتبین (1973)۔ Documents in Mycenaean Greek (2nd ایڈیشن)۔ Cambridge University Press۔ ص 104۔ ISBN:978-0-521-08558-8
- ↑ The Rise of the Greek Epic by Gilbert Murray, 1907, p196
- ↑ Moses Finley (1978) [1954]۔ The World of Odysseus (Revised ایڈیشن)۔ Viking Press۔ ص 44
- ↑ Pseudo-Apollodorus۔ Bibliotheca۔ III, xii, 5–6; "Epitome" IV, 2
- ↑ George Diepenbrock (1 جون 2015)۔ "Were some dreams in ancient Roman poetry the precursor to film?"۔ KU News۔ 2024-06-03 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
