یاسر شاہ (سیاست دان)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
یاسر شاہ
Yasar Shah Cabinet Minister.jpg
رکن، اتر پردیش سولہویں قانون ساز ساز اسمبلی[1]
عہدہ سنبھالا
مارچ2012ء–11مارچ2017ء
پیشرو خود
جانشین خود
حلقہ مٹیرہ (ضلع بہرائچ)
اتر پردیش حکومت میں ریاست کےوزیر مملکت برائے توانائی
عہدہ سنبھالا
مارچ 2014ءاکتوبر 2015ء
اتر پردیش حکومت میں ریاست کے وزیر(آزاد چارج) برائے ٹرانسپورٹ [2][3]
عہدہ سنبھالا
نومبر 2015ءستمبر 2016ء
اتر پردیش حکومت میں ریاست کے کبینیٹ وزیر برائے سیلس ٹیکس
عہدہ سنبھالا
ستمبر 2016ءمارچ 2017ء
رکن، اتر پردیش سولہویں قانون ساز ساز اسمبلی[4]
عہدہ سنبھالا
12 مارچ 2017ء-
پیشرو خود
حلقہ مٹیرہ (ضلع بہرائچ)
ذاتی تفصیلات
پیدائش 15جون1977ء[5]
قومیت بھارتی
سیاسی جماعت سماج وادی پارٹی
شریک حیات ماریہ علی
ماں روباب سعیدہ (سابق ممبر لوک سبھا)
باپ وقار احمد شاہ
تعلیم (ایم۔بی۔اے)
مادر علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،ڈاکٹر اے پی جےعبدالکلام ٹیکنیکل یونی ورسٹی(ایم۔بی۔اے)(ایم۔ بی۔ اے)[6]
پیشہ سیاستدان
مذہب اسلام
ویب سائٹ http://www.yasarshah.in/

یاسر شاہ  کی پیدائش جون1977ء میں بھارت کے صوبہ اتر پردیش کے مشہور شہر بہرائچ کے محلہ قاضی پورہ میں شہر کے ایک معروف خاندان میں ہوئی۔آپ کے والد کا نام ڈاکٹر وقار احمد شاہ اور والدہ کا نا م محترمہ روباب سعیدہ(سابق ممبر لوک سبھا) ہیں۔ یاسر شاہ ایک بھارتی سیاستدان اور اتر پردیش کی 16th اور 17thقانون ساز اسمبلی کے ممبر اسمبلی ہیں۔[7][8] آپ میں اتر پردیش کے ضلع بہرائچکےقانون ساز اسمبلی حلقہ مٹیرہ کی نمائندگی کرتےہیں۔ آپ سماج وادی پارٹی سے رکن ممبر اسمبلی ہے ۔[9][10][11]

ابتدائی حالات[ترمیم]

یاسر شاہ کی ابتدائی تعلیم شہر بہرائچ میں ہی ہوئی ۔آپ بہرائچ کے مشہور انگلش اسکول سیوینتھ ڈے ایڈوینٹست انٹر کالج کے طالب علم تھے۔جہاں آپ نے انٹر تک کی تعلیم حاصل کی ۔اس کے بعد آپ نے مشہور یونیورسٹی علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے ایم ۔بی۔اے۔کی سند حاصل کی ۔آپ کے والدوقار احمد شاہ بہرائچ اسمبلی حلقہ سے 1993 ء سے 2012ء مسلسل پانچ مرتبہ رکن اسمبلی چنے گئے۔اور آپ کی والدہ روباب سعیدہ 1995ء میں صدر ضلع پنچایت بہرائچ رہی اور بعد میں 2004ء کے لوک سبھا انتخابات میں بہرائچ لوک سبھا حلقہ سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئی۔

سیاسی سفر[ترمیم]

یاسر شاہ نے اپنا سیاسی سفر 2005ء میں ہوئے ضلع پنچایت بہرائچ کے لئے ہوئے ایلکشن سے کیا تھا جس میں آپ کو سب سے زیادہ وٹوں سے فتح حاصل ہوئی تھی۔ 2007ء میں بہرائچ کے نانپارہ اسمبلی حلقہ سے سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر ایلکشن میں حصہ لیا تھا لیکن بعد میں اپنا نام ایلکشن سے واپش لے لیا تھا۔ 2012ء میں بہرائچ میں نئے بنے اسمبلی حلقہ مٹیرا سے سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر ایلکشن میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے ۔ 2013ء میں آپ کے والد ڈاکٹر وقار احمد شاہ جو اترپردیش حکومت میں وزیر برائے محنت اور روزگار تھے بیمار ہو گئے ۔2014ءاس وقت وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے یاسر شاہ کو اپنی وزارت میں شامل کیا اور وزیر تواانائی کا عہدہ حاصل کیا ۔آپ نے اس عہدے پر کام کرتے ہوئے ضلع اور شہر بہرائچ میں بجلی کی سپلائی کی بہتری کے لئے شہر اوپورے ضلع میں پاور ہاوئس کا جال پھیلادیا تھا۔شہر بہرائچ میں بجلی کی زیر زمین سپلائی کے منسوبے کو شروع کیا جس کی لاگت 100کروڈ ہے۔اس کے علاوہ شہر میں میڈیکل کالج اور ٹرامہ سینٹر کی تعمیر شروع کرائی۔| اتر پردیش کی اکھلیش یادو حکومت میں ریاست کےوزیر مملکت برائے توانائیمارچ 2014ء سے اکتوبر 2015ء تک رہے۔ نومبر 2015ءسے ستمبر 2016ءتک اتر پردیش کی اکھلیش یادوحکومت میں ریاست کے وزیر(آزاد چارج) برائے ٹرانسپورٹ رہے۔ ستمبر 2016ءمارچ 2017ءاتر پردیش حکومت میں ریاست کے کبینیٹ وزیر برائے سیلس ٹیکس۔2017 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں آپ نے فتح حاصل کی اور دوبارہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔

عہدے[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]