یاسر عودہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شیخ یاسر عودہ

شیخ یاسر عودہ ایک لبنانی عالم دین ہیں اور آیت اللہ سید فضل اللہ کے ادارے موقع موسسہ فضل اللہ [1] کے مدیر[2] ہیں۔ اور اس پر شرعی مسائل کے جواب دیتے ہیں ،نیز مقالات و مضامین [3] بھی لکھتے ہیں۔

پیدائش[ترمیم]

شیخ یاسر عودہ جو اس وقت 47 یا 48 سال کے ہیں۔ آپ 1969 عیسوی مین لبنان کے برعشيت نامی گاؤں مین پیدا ہوئے۔

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

آپ نے اسی کی دہائی میں اپنی دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ اور حوزہ علمیہ لبنان "حوزة المعهد الشرعي الاسلامي" سید فضل اللہ کے حوزے سے دینی تعلیم پڑھا

قم کا سفر[ترمیم]

نوے کی دہائی میں آپ قم تشریف لے گئے اور وہاں حوزہ علمیہ قم سے دینی تعلیم مکمل کر کے واپس لبنان آئے۔ پھر آپ نے آیت اللہ سید فضل اللہ کے بحث خارج کے دروس میں شرکت کی۔ اور دروس مکمل کیے۔ آپ آج کل Dahieh ضاحیہ جنوب لبنان کے مسجد امام سجاد کے امام جمعہ و جماعت ہیں۔[4] آپ نے علوم اسلامیہ میں ڈپلومہ بھی کیا ہوا ہے۔

کتابیں[ترمیم]

آپ کی کتابوں مین سب سے زیادہ مشہور کتاب صحیح الدعوات ہے جس میں مفاتیح الجنان سے صرف مستند ادعیہ و زیارات کو منتخب کیا ہے۔[5]

معاشرتی جمودکے خلاف جدوجہد[ترمیم]

جب آپ نے دینی عقائد و رسومات میں غلو،بدعات اور شدت پسندگی کے خلاف آواز بلند کی اور لیکچرز دئے تو بہت سے جمود پسند لوگ آپ کے سخت خلاف ہو گئے[6] اور آپ کے خلاف تحریک چلایا۔ لیکن اس تحریک کا مثبت اچر ہوا اور آپ کی تائید کرنے والون کی تعدا میں کافی اضافہ ہوا۔

ایمان ٹی وی چینل اور البشائر پر لیکچرز[ترمیم]

ایمان ٹی وی چینل اور البشائر [7] پر آپ کے فقہی و عقئاد پر لائیو مباحث اور گفتگو،نیز لوگوں کے روزمرہ مسائل کا حل اور مشکلات کے علاج پر یہ پروگرام پشتمل تھا۔ فقہی ،اجتماعی اور دینی امور پر آپ کے دسترس اور معقول گفتگو کی وجہ سے ناطرین و سامعین اور پروگرام کو پسند کرنے والوں کی تعدا مین حد درجہ اضافہ ہوا۔ تین سال سے آپ نے مراجع اور مجتھدوں کی جانب سے بدعات و خرافات اور اسراف کے خلاف آواز بلند نہ کرنے پر ان کو سخت تنقید اور نکتہ چینی کی خصوصا انہون نے بعض ایسی چیزوں پر رد عمل ظاہر کیا کہ جن کی وجہ سے ان کے خیال میں شیعہ مذہب کو نقصان پہنچ رہا تھا جیسے کہ عراق میں مقامات مقدسہ پر سنا چاندی چڑھانا۔[8]

غلو و بدعات کا رد[ترمیم]

تطبیر یا قمہ زنی،رینگتے ہوئے اماموں و اولیائ کے مقابر کی طرف آنا،آگ پر چل کر ماتم کرنا اور شیشہ پر چلنا۔ انہوں نے دعوت دی کہ ان بدعات کے خلاف کھل کر بولا جائے کیونکہ یہ دین کی ساحت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ انہون نے بعض رسومات اور عادات پر سخت حملہ کیا جو مذہب میں داخل کی گئی تھیں،اور انہون نے ان چیزون کو غلو،بدعت اور خرافات قرار دیا۔[9]

خلفائے ثلاثہ اور حضرت عائشہ پر موقف[ترمیم]

خلفائے راشدین اور ام المومنین عائشہ کے متعلق معتدل ترین افکار رکھتے ہیں۔

شیخ یاسر کے خلاف پراپگنڈا[ترمیم]

آپ کے مخالفین نے سوشل میڈیا اور بعض چینلز پر آپ کے خلاف مہم چلایا کہ شیخ یاسر نے رسول اللہ ص کی شان میں گستاخی کی ہے۔[7] اور اس کے ساتھ ہی آپ پر سب و شتم،قدح اور مذمت کیا جانے لگا۔ اور آپ کو ان تہمتوں اور غلط منسوب جھوٹ کا رد کرنا پڑا۔ انہوں نے تاکید کی اور تائید کی کہ وہ غلو اور خرافات و جہالت کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے اور ان کے مخالفین نے یہاں تک پراپغنڈا کیا ہوا ہے کہ وہ مراجعین کے خلاف دْزبان درازی کرتا ہے ماور حتی معاملہ یہاں تک پہنچا کہ ان کو رسول اللہ ص کی شان میں گستاخی کرنے کی جھوٹی نسبت دی گئی۔ شیخ نے انکار کیا کہ انہون نے رسول ص کی شان مین کچھ غلط کہا ہو،بلکہ ان کے خطبہ سے کلپ کاٹ کر،سیاق و سباق کے برعکس غلط معنی نکالنے کے لیے پاپغنڈا کا سہار لیا گیا ہے۔ اور اللہ نے قرآن میں بہت ساری آیات نازل کی ہین جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ غیب کا علم صرف اور صرف اللہ تعالی کے پاس ہے،نبی کریم ص غیب نہیں جانتے اور جتنی ضرورت تبلیغ رسالت میں ہوتئ ہے اتنا ہی غیب وحی کے ذریعے آپ کو تعلیم دی جاتی ہے تاکہ لوگوں کو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف بلایا جائے۔[10]

مہم جوئی پر موقف[ترمیم]

شیخ یاسر نے یہ واجح کیا کہ انہوں نے کوئی نئی بات نہیں کہی بلکہ انہون نے السيد محسن الامين والسيد المرجع محمد باقر الصدر والسيد المرجع محمد حسين فضل الله کی سیرت کو اپناتے ہوئے بدعات و خرافات کے خلاف آواز بلند کیا ہے۔ اور قدیم سوچ والون کی جانب سے ان تینوں کو بھی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اور جو بھی ایسے غلو و بدعات اور خرافات کے خلاف بولتا ہے تو اس کو بھی یا سر عودہ کی طرح عوامی مخالفت اور مخالف علما کی طرف سے مہم جوئی کا سامنا کرنا پڑتا ہے[11] کیونکہ ان کے پاس سوائے سب وشتم ولعن وتكفير اور بائیکات و محصور کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا ،اور تاریخ میں یہی ان کا شعار رہا ہے۔

چند دعاؤں پر موقف[ترمیم]

شیخ یاسر عودہ نے دعائے توسل،دعائے ندبہ،مجعول دعائے کساء،دعائے فرج اور دیگر دعاؤن کو اہل بیت کی تعلیمات سے متصادم قرار دیا بلکہ ان کی توحید اور اللہ سے رجوع والی دعاؤں جیسے دعائے کمیل،دعائے عرفہ،صحیفہ سجادیہ کی دعاؤں کو عین اسلامی قرار دیا۔[12]

شیخ کو قتل کرنے کی دھمکیاں[ترمیم]

[13] شیخ یاسر نے اخبار النہار کو بتایا کہ ان کو قتل کی دھمکیاں بھی ملیں بلکہ انکو قتل کرنے کے لیے پمفلٹ شایع کیے گئے یا عوام کو اس کے لیے ابھارا گیا۔ شیخ کے خلاف محاذ آرائی کرنے میں 80 لوگوں کا ہاتھ تھا جن کا ذکر شیخ نے کیا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]