یاسمین راشد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یاسمین راشد
Dr. Yasmin Rashid.png

مناصب
رکن پنجاب صوبائی اسمبلی[1]   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکنیت سنہ
15 اگست 2018 
حلقہ انتخاب پنجاب صوبائی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشست 
پارلیمانی مدت 17 ویں صوبائی اسمبلی پنجاب 
معلومات شخصیت
پیدائش 21 ستمبر 1950 (72 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
چکوال  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان تحریک انصاف  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی فاطمہ جناح میڈیکل کالج  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان،  ماہر امراضِ نسواں  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ڈاکٹر یاسمین راشد پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی سیاست دان ہیں۔ اس وقت وہ سردار عثمان بزدار کی کابینہ میں وزیر صحت ہیں۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

ڈاکٹر یاسمین راشد کا تعلق ضلع چکوال کے گاؤں نرگھی سے ہے جہاں وہ 21 ستمبر 1950ء کو پیدا ہوئیں۔[2][3][4]

پیدائش کے وقت ان کی والدہ میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تھیں جبکہ والد کی ملازمت ایئر فورس میں تھی۔ چنانچہ ان کا بچپن دادا، دادی کے ساتھ گاؤں میں گذرا۔ انہیں ضلع چکوال میں واقع اپنا آبائی گاؤں بہت عزیز ہے، جس سے ان کی بچپن کی یادیں وابستہ ہیں۔ کہتی ہیں، ’’بچپن میں بہت شرارتی تھی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایک بچہ، دادا، دادی کے پاس ہو تو اسے دنیا جہان کا لاڈ پیار ملتا ہے، شاید مجھے یہ لاڈ میرے والدین بھی نہ دے سکتے۔‘‘

وہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں، اُن سے چھوٹے دو بھائی اور ایک بہن ہے۔ تعلیم کا آغاز ساڑھے پانچ سال کی عمر میں پشاور میں ہوا، جہاں ان کے والد تعینات تھے۔ 1961ء میں والد کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ خاندان لاہور آ گیا۔ یہاں ’’کونونٹ آف جیزز اینڈ میری‘‘ سے 1966ء میں سینئر کیمبرج کیا۔ پھر لاہور کالج برائے خواتین سے ایف ایس سی کی۔ کالج میں کھیلوں میں بھی بھرپور حصہ لیا، سوئمنگ، باسکٹ بال، ٹیپ بال اور ٹیبل ٹینس کھیلا کرتی تھیں۔

پاکستان کی سطح پر ٹیبل ٹینس کھیلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔ ایف ایس سی میں نمبر تھوڑے کم آئے تو ڈینٹل کالج چلی گئیں۔ تین سال یہاں تعلیم حاصل کی اور ٹاپ کیا، اس دوران نیا میڈیکل کالج بننے کی وجہ سے نشستوں میں اضافہ ہوا تو فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں ان کا میرٹ پر داخلہ ہو گیا۔ گائناکالوجسٹ بننے کا شوق تھا، اس لیے ڈینٹسٹری کو خیرباد کہا اور دوبارہ پہلے سال سے میڈیکل کی تعلیم کا آغاز کیا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز چکوال کے نیلہ گاؤں سے کیا۔[4] اس کے بعد ڈاکٹر یاسمین راشد لاہور منتقل ہوگئیں اور انہوں نے اپنی باقی تعلیم کانونٹ آف جیزز اینڈ میری سے حاصل کی۔[3] ڈاکٹر یاسمین راشد کی شادی 1972ء میں ہوئی۔[4] فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی سے انہوں نے 1978ء میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔[5] ڈاکٹر یاسمین راشد 1984ء میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے برطانیہ چلی گئیں،[3] وہاں رائل کالج اوبسٹیٹریشن اینڈ گائناکالوجی سے ایم آر سی او جی اور 1999ء میں ایف آر سی او جی کیا۔[4] جب کہ ایف سی پی ایس کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان سے 2010ء میں کیا۔[4]

پیشہ ور زندگی[ترمیم]

وہ 1998ء سے 2000ء تک صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سینٹر،[4][2] 2008ء سے 2010ء تک صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور اور چیئرپرسن ٹاسک فورس وومن ڈویلپمنٹ[4] اور چیئرپرسن وومن ہیلتھ کمیٹی سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ پنجاب[3] کے علاوہ کئی اہم عہدوں پر فائز رہیں۔

وہ پیشہ کے لحاظ سے گائنا کالوجسٹ ہیں[6] اور وہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ اوبسٹیٹرکس اور گائنا کالوجی کی سربراہ رہیں۔[7] انہوں نے راولپنڈی میڈیکل کالج، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں کام کیا اور سینٹرل پارک میڈیکل کالج کے شعبہ علم الانساب کی بھی سربراہ رہیں۔[4]

سیاسی زندگی[ترمیم]

یاسمین 2010ء میں سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہوئیں اور اپنے سسر ملک غلام نبی (تحریک پاکستان کے کارکن اور ذو الفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیر تعلیم رہے) کے مشورے پر[3][4] پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت اختیار کی۔[2]

2013 کے انتخابات میں نواز شریف[2][8] کے مدمقابل این اے 120 لاہور 3 سے الیکشن لڑا مگر ناکامیاب رہیں[9] 52,354 ووٹ حاصل کیے[4]

جولائی 2017ء میں عدالت عظمیٰ پاکستان نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا۔ اور حلقہ این اے 120 (لاہور 3) میں ستمبر 2017ء ضمنی انتخابات ہوئے، پی ٹی آئی نے یاسمین راشد کو امیدوار نامزد کیا۔[2][10] تاہم وہ کلثوم نواز شریف سے ہار گئیں۔[11]

اس وقت وہ سردار عثمان بزدار کی کابینہ میں وزیر صحت ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.pap.gov.pk/members/profile/en/21/1538
  2. ^ ا ب پ ت ٹ "Iron ladies in the race". TNS – The News on Sunday. 20 اگست 2017. 20 اگست 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 ستمبر 2017. 
  3. ^ ا ب پ ت ٹ "NA-120: Know your candidates". GEO News. 12 ستمبر 2017. 11 ستمبر 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 ستمبر 2017. 
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ "PTI Contender Yasmeen Rashid's Biography". Abb Takk News. 17 ستمبر 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 ستمبر 2017. 
  5. سفید کپڑوں میں ملبوس یہ خاتون ملک کی کونسی معروف سیاست دان ہے؟ - JavedCh.Com
  6. "Lahore by-polls: Shehbaz's absence casts shadow on campaign of Nawaz's wife". hindustan times/ (بزبان انگریزی). 16 ستمبر 2017. 16 ستمبر 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 ستمبر 2017. 
  7. "Status of women in Pakistan extremely poor". www.pakistantoday.com.pk. 8 اگست 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 ستمبر 2017. 
  8. "Maliks yet to win on NA-120". www.thenews.com.pk (بزبان انگریزی). 13 ستمبر 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 ستمبر 2017. 
  9. "Preparations complete for NA-120 by-election; polling to begin at 8am". www.geo.tv. 17 ستمبر 2017. 16 ستمبر 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 ستمبر 2017. 
  10. "Polling underway in momentous NA-120 by-election amid tight security". DAWN.COM (بزبان انگریزی). 17 ستمبر 2017. 17 ستمبر 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 ستمبر 2017. 
  11. "NA-120 by-polls: Unofficial results show Kulsoom Nawaz in the lead". DAWN.COM (بزبان انگریزی). 17 ستمبر 2017. 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 ستمبر 2017. 

بیرونی روابط[ترمیم]