یاور عباس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈاکٹر سید یاور عباس رضوی
پیدائش 21 فروری 1917(1917-02-21)ء
دہلی ، برطانوی ہندوستان
وفات 25 اگست 1985(1985-08-25)ء
کراچی، پاکستان
قلمی نام ڈاکٹر یاور عباس
پیشہ طبیب ، شاعر
زبان اردو
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
اصناف مرثیہ گوئی
نمایاں کام

عبادت ( مرثیئے )

سنو ہو (غزل )

یادش بخیر (غزل )

ڈاکٹر یاور عباس شعبہ طب سے وابستہ تھے نیز مرثیہ گوئی اور ترویج مرثیہ گوئی کا ایک معتبر حوالہ ہیں ۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

سید یاور عباس رضوی 21 فروری 1917 کو دہلی، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام ڈاکٹر سید ناصر عباس تھا۔[1] اور والدہ محمودہ بیگم تھیں۔ یاور عباس نے اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایف سی کالج لاہور سے انٹر کیا اور عثمانیہ یونیورسٹی، دکن سے ایم بی بی ایس کی ڈگری پائی۔ ان کی شادی 1944 میں عابدہ بیگم سے ہوئی۔ 1947 میں ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ اور کراچی میں رہائش اختیار کی۔ یہاں انہوں نے اپنا کلینک قائم کیا۔ ان کے گھرانے میں ڈاکٹری کی تعلیم کا حصول اگلی نسلوں تک آیا ۔، بھائی سرجن دلاور عباس، بہن ڈاکٹر عصمت، بہنوئی ڈاکٹر ذیشان عباس اور ڈاکٹروں کا یہ سلسلہ ان کے خاندان میں اب بھی جاری ہے۔

ادبی سفر کا آغاز[ترمیم]

ڈاکٹر یاور عباس بے اگرچہ شا عری کی ابتدا نوجوانی سے کی۔ اور پہلا شعر 1926 میں کہا۔ آغا شاعر قزلباش کی شاگردی اختیار کی۔ پہلی غزل 1928 میں دلی میں کہی۔ جبکہ پہلی نظم 1934 میں لاہور میں کہی۔ اپنے ایک دوست شفق اکبر آبادی کی ترغیب پر انہوں نے پہلا جدید مرثیہ 1950میں کراچی میں کہا۔ اس سے قبل بھی وہ 1935 میں دورانِ تعلیم پہلے پہل ایک مرثیہ کے اٹھارہ بند کہہ چکے تھے۔ البتہ پہلا مکمل مرثیہ 1949 میں کہا۔ الغرض غزل، قصیدہ، رباعی، سلام ہر صنفِ شعر میں طبع آزمائی کی۔ ان کی شاعری میں سب سے زیادہ مقبولیت ایک نعتیہ رباعی ( (قسمت میں مری چین سے جینا لکھ دے ۔۔۔۔۔ ) کو ملی جو غلام فرید قوال صاحب نے اپنی مشہور قوالی تاجدارِ حرم کے شروع میں گائے۔ اس کے علاوہ 1965 کی جنگ میں ان کا لکھا ہوا ملی نغمہ میری سرحدوں کی جانب کبھی بھول کر نہ آنا بھی بہت مقبول ہوا۔

مرثیہ گوئی کی محافل کی ترویج[ترمیم]

کراچی میں ڈاکٹر یاور عباس مرحوم نے مرثیہ خوانی کی مجلسیں قائم کیں جو بہت کامیاب رہیں۔ ان کی رہائش گاہ سعید منزل جو ایم اے جناح روڈ پر تھی اور یہیں انکا دواخانہ ہوتا تھا۔[2] اس رہائش گاہ پر مرثیہ گوئی کی مجالس کا انعقاد ہوتا۔ پھر ڈاکٹر یاور جب فردوس کالونی والے گھر میں منتقل ہوئے تو وہاں محرم کے مہینے میں نو تصنیف مرثیوں کی محافل میں وقت کے تمام اہم مرثیہ نگار شمولیت کرتے تھے جن میں نسیم امروہوی، آلِ رضا، صبا اکبر آبادی، مشتاق مبارک اور دیگر معتبر نام شامل ہیں ۔

مطبوعہ شعری مجموعے[ترمیم]

  1. عبادت ( مرثیئے )
  2. سنو ہو (غزل )
  3. یادش بخیر (غزل )
  4. یہ مرثیہ نہیں ہے میرا دل ہے دوستو ( تحقیق و تدوین: ڈاکٹر ہلال نقوی )
  5. ڈاکٹر یاور عباس کے مرثیے (تحقیق و تدوین: ڈاکٹر ہلال نقوی 2012)

نمونہِ کلام[ترمیم]

نعتیہ رباعی

قسمت میں مری چین سے جینا لکھ دےڈوبے نہ کبھی میرا سفینہ لکھ دے
جنت بھی گوارا ہے‘ مگر میرے لیے اے کاتب تقدیر مدینہ لکھ دے

٭٭٭

متفرق اشعار

کس طرح کہہ دوں کہ کوئی آرزو باقی نہیں ہاں مگر پہلا سا کیف ِ جستجو باقی نہیں
عالمِ جذب میں اک بے خبری اور آنسو عشق کی منزل ، صاحب نظری اور آنسو

٭٭٭

مرثیہ کا بند

لطف ہی کیا تھا اگر پھول نہ پاتا خوشبو غم سے خالی ہی جو رہتاکہیں دل کا پہلو
آب کھو بیٹھتی جو آنکھ نہ پاتی آنسو اتنی شائستہ نہ ہوتی کبھی انسان کی خو
غم نے انسان کو انسان بنا رکھا ہے
ورنہ اس خاک کی تعمیر میں کیا رکھا ہے

٭٭٭

ملی نغمہ [3]

بڑی پاک سرزمیں ہے یہاں سنتری کھڑے ہیں کوئی دشمنوں سے کہہ دے یہاں غزنوی ؒ کھڑے ہیں
یہاں بدر کا ہے عالَم یہاں حیدری ؑ کھڑے ہیں کبھی بھول کر نہ آنا میری سرحدوں کی جانب
میری سرحدوں کی جانب کبھی بھول کر نہ آنا
فقط اک خدا کو سجدہ ہے نشانِ سرفرازی مرا نام ہے مجاہد مری آن ہے نمازی
گئی جان تو شہادت ، ہوئے سرخرو تو غازیکبھی بھول کر نہ آنا میری سرحدوں کی جانب
میری سرحدوں کی جانب کبھی بھول کر نہ آنا
مری سرحدوں کے اندر نہ قدم جماسکو گے مری سرحدوں تک آئے تو نہ بچ کے جاسکوگے
مری ضربِ حیدریؓ ہے کہاں تاب لا سکوگے کبھی بھول کر نہ آنا میری سرحدوں کی جانب
میری سرحدوں کی جانب کبھی بھول کر نہ آنا
یہاں شیر دل سپاہی یہاں سرفروش انساں نہ کسی میں بد حواسی نہ یہاں کوئی پریشاں
مری ذوالفقار دولت ، مرا اعتماد ایماں کبھی بھول کر نہ آنا میری سرحدوں کی جانب
میری سرحدوں کی جانب کبھی بھول کر نہ آنا

وفات[ترمیم]

ڈاکٹر یاور عباس نے 25 اگست 1985 میں کراچی میں وفات پائی۔ پسماندگان میں ایک بیوہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل تھیں ۔

تاثرات[ترمیم]

ممتاز محقق اور شاعر ڈاکٹر ہلال نقوی نے ڈاکٹر یاور عباس کی مرثیہ گوئی میں خدمات کو ان الفاظ میں سراہا ہے۔ وہ کہتے ہیں ۔

ڈاکٹر یاور عباس کو ہم بحیثیت مرثیہ گو اگرچہ بلند پایہ مرثیہ نگاروں کی صف میں نہیں شامل کرتے تاہم مرثیہ کی ترویج میں انکا بہت بڑا مقام ہے ۔ ان کے کہنے پر لاتعداد نامور شعرا نے بلاتفریقِ مسلک مرثیہ کہا۔ میں اپنی نوجوانی کے ایام سے اکثر ان کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی محافلِ مرثیہ میں شرکت کرتا تھا اور اپنا کلام بھی سنانے کی سعادت پاتا تھا ۔ ان محفلوں میں مرثیہ ِنو تصنیف اور تحت اللفظ کہنے والوں کا ایک بہت اجتماع ہوتا تھا ۔ اور اس طرح زمانہِ طالب علمی سے ہی ہم نے بہت سے نامور چہرے یہاں مرثیہ پڑھتے ہوئے دیکھے ۔

حوالہ جات[ترمیم]