مندرجات کا رخ کریں

یاوز علی پاشا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یاوز علی پاشا
(ترکی میں: Malkoç Yavuz Ali Paşa)  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 16ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 26 جولا‎ئی 1604  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلغراد   ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت عثمانیہ   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
گورنر مصر
برسر عہدہ
1601  – 1603 
صدرِ اعظم برائے سلطنت عثمانیہ
برسر عہدہ
16 اکتوبر 1603  – 26 جولا‎ئی 1604 
یمشچی حسن پاشا  
صوقلو زادہ لالا محمد پاشا  
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عثمانی ترکی   ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

یاوز علی پاشا (وفات: 26 جولائی 1604ء) عثمانی سیاست دان تھا۔ یاوز علی پاشا کا پیدائشی نام مالکوچ علی پاشا تھا۔ یاوز علی پاشا کا تعلق مالکوچ اوغلو (آلِ مالکوج) خاندان سے تھا۔ 16 اکتوبر 1603ء کو سلطان محمد ثالث نے یاوز علی پاشا کو وزیراعظم سلطنت عثمانیہ مقرر کیا۔ یاوز علی پاشا 26 جولائی 1604ء تک وزیراعظم سلطنت عثمانیہ کے عہدہ پر قائز رہا۔[1] اِس سے قبل یاوز علی پاشا کو امارتِ مصر 1601ء میں سونپی گئی اور یاوز علی پاشا 1603ء تک مصر کے عثمانی گورنر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتا رہا۔[2][3][4][5][6] 26 جولائی 1604ء کو یاوز علی پاشا نے بلغراد میں وفات پائی۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Turkish State Archives
  2. Sicill-i Osmanî، 1996
  3. Nelly Hanna (1998)۔ Making Big Money in 1600: The Life and Times of Isma'il Abu Taqiyya, Egyptian Merchant۔ Syracuse University Press۔ ص 101۔ ISBN:978-0-8156-2763-0۔ 2019-01-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-15
  4. Uzunçarsılı, İsmail Hakkı, (1954) Osmanlı Tarihi III.
  5. P. M. Holt (2009)۔ "The beylicate in Ottoman Egypt during the seventeenth century"۔ Bulletin of the School of Oriental and African Studies۔ ج 24 شمارہ 02: 227–229۔ DOI:10.1017/S0041977X00091424۔ ISSN:0041-977X
  6. Yılmaz Öztuna (1994). Büyük Osmanlı Tarihi: Osmanlı Devleti'nin siyasî, medenî, kültür, teşkilât ve san'at tarihi (بزبان ترکی). Ötüken Neşriyat A.S. Vol. 10. pp. 412–416. ISBN:975-437-141-5. Archived from the original on 2019-01-07. Retrieved 2017-02-15.