یثرب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

یثرب مدینہ کا پرانا نام تھا۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ سے یثرب کو ہجرت کی تو اس کا نام مدینۃ النبی پڑ گیا جو اب اختصاراً مدینہ کہلاتا ہے۔

یثرب وجہ تسمیہ[ترمیم]

مدینہ منورہ کے نام سو سے زیادہ نام ہیں ہجرت سے پہلے لوگ اسے یثرب کہتے تھے یا تو اس لیے کہ یہاں قوم عمالقہ کا جو پہلا آدمی آیا اس کا نام یثرب تھا یا یہ لفظ ثرب سے مشتق ہے بمعنی سرزنش،سزا مصیبت وبلا،رب تعالیٰ فرماتا ہے:"لَا تَثْرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الْیَوْمَ"اب اسے یثرب کہنا سخت منع ہے،

یثرب کہنے کی ممانعت[ترمیم]

قرآن کریم میں جو اسے یثرب کہا گیا "یٰۤاَہۡلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمْ"وہ قول منافقین ہے۔امام احمد فرماتے ہیں کہ جو مدینہ منورہ کو یثرب کہے وہ توبہ کرے،بخاری نے اپنی تاریخ میں فرمایا کہ جو ایک بار اسے یثرب کہے وہ بطور کفارہ دس بار اسے مدینہ کہے۔

مدینہ کے معنی[ترمیم]

مدینہ کے معنے ہیں اجتماع کی جگہ،مدن سے مشتق ہے بمعنی اجتماع اسی سے ہے تمدن و مدنیت،شہر کو مدینہ اسی لیے کہتے ہیں کہ و ہاں ہر قسم کے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے،[1]

ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے ایسے شہر جانے کا حکم دیا گیا جو دوسرے شہروں کو کھاجائے، منافق لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں اس کا نام مدینہ ہے اور برے لوگوں کو اس طرح دور کردے گا جس طرح بھٹی لوہے کا میل دور کرتی ہے۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد چہارم صفحہ346 مفتی احمد یار خان نعیمی
  2. صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1797