یحییٰ علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
یحییٰ علیہ السلام
مکمل نام یحییٰ بن زکریا علیہ السلام
والد کا نام زکریا علیہ السلام
والدہ کا نام الیشبع
علاقۂ نبوت یروشلم،اسرائیل
آسمانی کتب نہیں
آسمانی صحائف ںہیں
انبیاء میں شمار 12397
منسوب دین اسلام
ہمعصر انبیاء زکریا علیہ السلام
جانشین نبی عیسیٰ علیہ السلام


مضامین بسلسلہ

اسلامی انبیاء
توسيط
قرآن میں مذکور انبیاء

رسل وانبیاء

آدم·ادریس
نوح·ہود·صالح
ابراہیم·لوط
اسماعیل · اسحاق
یعقوب·یوسف
ایوب
شعیب · موسیٰ ·ہارون
یوشع بن نون
ذو الکفل · داؤد · سلیمان · الیاس
الیسع · یونس
زکریا · یحییٰ
عيسىٰ ابن مريم
محمد بن عبد الله


دمشق کے امیہ مسجد میں واقع، یحییٰ علیہ السلام کا روضہ۔[1]


یحیی کے معنی ہیں زندہ ہوتا ہے یا زندہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام یحیی رکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کے ساتھ زندہ رکھا۔ یا وہ کلمہ حق کہنے کی باداش میں قتل کئے جانے کے بعد ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگئے۔[2] یحییٰ علیہ السلام خدا کےبرگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک تھے۔ آپ حضرت زکریا علیہ السلام جو خود اللہ کے ایک نبی تھے حضرت یحییٰ علیہ السلام ان کے بیٹے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے معبوث ہوئے۔اور آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چھ ماہ بڑے تھے۔جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو معراج هوئی تو دوسرے آسمان پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اور حضرت یحییٰ علیہ السلام و حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ملاقات هوئی۔ آپ حضرت سلیمان علیہ اسلام کی اولاد میں سے ہیں۔

شہادت[ترمیم]

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت:۔ابن عساکر نے المستقصی فی فضائل الاقصیٰ میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ اس طرح تحریر فرمایا ہے کہ دمشق کے بادشاہ حداد بن حدارنے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں۔ پھر وہ چاہتا تھا کہ بغیر حلالہ اس کو واپس کر کے اپنی بیوی بنالے۔ اس نے حضرت یحییٰ علیہ السلام سے فتویٰ طلب کیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ اب تم پر حرام ہوچکی ہے اس کی بیوی کو یہ بات سخت ناگوار گزری اور وہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کے درپے ہو گئی۔ چنانچہ اس نے بادشاہ کو مجبور کر کے قتل کی اجازت حاصل کرلی اور جب کہ وہ مسجد جبرون میں نماز پڑھ رہے تھے بحالت سجدہ ان کو قتل کرادیا اور ایک طشت میں ان کا سر مبارک اپنے سامنے منگوایا ۔ مگر کٹا ہوا سر اس حالت میں بھی یہی کہتا رہا کہ تو بغیر حلالہ کرائے بادشاہ کے لیے حلال نہیںاور اسی حالت میں اس پر خدا کا یہ عذاب نازل ہوگیا وہ عورت سر مبارک کے ساتھ زمین میں دھنس گئی۔ [3]

قبر کا معجزہ[ترمیم]

آپ کی قبر کا ایک معجزہ تھا کہ جہاں آپ کو دفن کیا گیا وہاں آپ کی قبر میں سے 300 سال تک خون بہتا رہا۔حوالہ درکار؟

حوالہ جات[ترمیم]

  • Meri، J. W. (2002). The Cult of Saints Among Muslims and Jews in Medieval Syria. Oxford University Press. ISBN 0-19-925078-2. 
  1. Meri (2002) pp. 200-01
  2. تفسیر تبیان القرآن غلام رسول سعیدی، سورہ آل عمران، آیت39
  3. البدایہ والنہایہ،ج2،ص55