یزید کے دربار میں زینب بنت علی کا خطبہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بسم الله الرحمن الرحیم
Allah1.png

مضامین بسلسلہ اہل تشیع:
اہل تشیع
کوئی جوان نہیں سوائے علی کے اور کوئی تلوار نہیں سوائے ذو الفقار کے

بسم الله الرحمن الرحيم
الله

مضامین بسلسلہ اسلام :

Ahlul Sunnah.png

واقعہ کربلا کے بعد زینب بنت علی کا کردار بہت اہم ہے۔ واقعہ کربلا کے بعد وہ دمشق لے جائی گئیں جہاں یزید بن معاویہ کے دربار میں دیا گیا ان کا خطبہ بہت مشہور ہے۔ یزید کی محفل میں جب زینب کی نظر اپنے بھائی کے خون آلود سر پر پڑی تو انہوں نے جو غم ناک آواز میں فریاد کی جس سے سب لوگوں کے دل دہل گئے۔ آپ نے فرمایا تھا ”اے حسین اے محبوب خدا، اے مکہ و منی کے بیٹے! اے فاطمہ زہرا سید نساء العالمین کے بیٹے، اے محمد مصطفی کی بیٹی کے بیٹے!“

روضہ زینب کا سنہری گنبد

راوی اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: ”خدا کی قسم! بی بی زینب کی آواز سے وہ تمام لوگ رونے لگے جو یزید کے دربار میں بیٹھے ہوئے تھے اور یزید اس طرح خاموش بیٹھا ہوا تھا جس طرح اس کو سانپ سونگھ گیا ہو۔“

یزید نے خیزران کی لکڑی لانے کا حکم دیا، پھر یزید نے اس لکڑی کو امام حسین کے لبوں اور دانتوں پر لگایا۔ ابو برزہ اسلمی (جو صحابی رسول تھے اور وہاں پر موجود تھے) نے یزید کو مخاطب کر کے کہا: ”اے یزید! کیا تو اس چھڑی سے فرزند فاطمہ کے دندان مبارک پر مار رہا ہے؟ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ پیغمبر اکرم حسین اور ان کے بھائی حسن کے لبوں اور دندان مبارک کو بوسہ دیتے اور فرماتے تھے کہ تم دونوں جوانان جنت کے سردار ہو جو تمہیں قتل کرے خدا اس کو قتل کرے اور اس پر لعنت کرے اور اس کے لیے جہنم کو آمادہ کرے اور وہ بہت خراب جگہ ہے۔“

یزید غصہ میں چیخنے لگا اور حکم دیا کہ صحابی رسول کو باہر نکال دو۔

یزید نے جب امام حسین کے دندان پر چھڑی پھیر کر بے حرمتی کرنا شروع کی تو زینب بنت علی سے نہ رہا گیا انہوں کھڑے ہو کر وسیع خطبہ فرمایا۔ ذیل میں ذینب بنت علی کے خطبے کی خاص خاص باتیں لکھی ہیں:

خطبہ[ترمیم]

زینب بنت علی نے خطبہ اللہ کے نام سے شروع کیا[ترمیم]

سب تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جو کائنات کا پروردگار ہے۔ اور خدا کی رحمتیں نازل ہوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اور ان کی پاکیزہ عترت و اہل بیت پر۔ اما بعد! بالآخر ان لوگوں کا انجام برا ہے جنہوں نے اپنے دامن حیات کو برائیوں کی سیاہی سے داغدار کر کے اپنے خدا کی آیات کی تکذیب کی اور آیات پروردگار کا مذاق اڑایا[1]

حق کا انکار کرنے والوں کو مہلت دی[ترمیم]

آل عمران 178 میں فتح مکہ کی طرف اشارہ ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ابو سفیان، معاویہ، قریش کے بزرگ افراد اور اپنے دشمنوں کو بخش دیا تھا اور فرمایا تھا: اذھبوا فانتم الطلقاء (جاؤ تم آزاد ہو) پھر اس آیت کو زینب بنت علی نے استعمال کیا

اے یزید! کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے تنگ کر دیے ہیں اور رسول کی آل کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر در بدر پھرانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرفراز ہوا اور ہم رسوا ہوئے ہیں؟ کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر ذلیل ہو گئے اور تو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے؟ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے خدا کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے؟۔ آج تو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے، مسرت و شادمانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اترا رہا ہے۔ اور خلافت کے ہمارے مسلمہ حقوق کو غصب کر کے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے۔ اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور هوش کی سانس لے ۔ کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے یہ نہ سمجھیں کہ ہم جو انہیں مہلت دیتے ہیں یہ ان کے حق میں بھلائی ہے، ہم انہیں مہلت اس لیے دیتے ہیں کہ وہ گناہ میں زیادتی کریں، اور ان کے لیے خوار کرنے والا عذاب ہے۔[2]

دشمن کی رسوائی اور اہل بیت کا حق[ترمیم]

اے طلقاء کے بیٹے! کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں بٹھا رکھا ہوا ہے جبکہ رسول زادیوں کو سر برہنہ در بدر پھرا رہا ہے۔ تو نے مخدرات عصمت کی چادریں لوٹ لیں اور ان کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا۔ تیرے حکم پر اشقیاء نے رسول زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر بہ شہر پھرایا۔[3]

شہدائے کربلا کا مقام[ترمیم]

اے یزید! یاد رکھ کہ خدا، آل رسول پاک کا تجھ سے انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق انہیں دلائے گا۔ اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالا مال کر دے گا۔ خدا کا فرمان ہے کہ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں انہیں مردے نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے ہاں سے رزق دیے جاتے ہیں۔[4]

جبر کا ذکر[ترمیم]

افسوس تو اس بات پر ہے کہ شیطان کے ہمنوا اور بد نام لوگوں نے رحمان کے سپاہیوں اور پاکباز لوگوں کو تہہ تیغ کر ڈالا ہے۔ اور ابھی تک اس شیطانی ٹولے کے ہاتھوں سے ہمارے پاک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ ان کے ناپاک دہن ہمارا گوشت چبانے میں مصروف ہیں اور صحرا کے بھیڑیے ان پاکباز شہیدوں کی مظلوم لاشوں کے ارد گرد گھوم رہے ہیں اور جنگل کے نجس درندے ان پاکیزہ جسموں کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔[5]

نتیجۂ جنگ[ترمیم]

تو (یزید) جتنا چاہے مکر و فریب کر لے اور بھر پور کوشش کر کے دیکھ لے مگر تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ تو نہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحی الٰہی کے پاکیزہ آثار محو کر سکتا ہے۔ تو یہ خیال خام اپنے دل سے نکال دے کہ ظاہر سازی کے ذریعے ہماری شان و منزلت کو پا لے گا۔ تو نے جس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا بد نما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو پائے گا۔ تیرا نظریہ نہایت کمزور اور گھٹیا ہے۔ تیری حکومت میں گنتی کے چند دن باقی ہیں۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ تیرے پاس اس دن کی حسرت و پریشانی کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا۔ جب منادی ندا کرے گا کہ ظالم و ستم گر لوگوں کے لیے خدا کی لعنت ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. روم، آيه 10
  2. القرآن الکریم، سورہ ال عمران آیتِ پاک 178
  3. بحار الانوار، جلد 21، صفحہ 106 و تاريخ طبرى، جلد 2، صفحہ 337
  4. القرآن الکریم، سورہ آل عمران، آیت 169
  5. مقتل الحسين مقرّم، صفحہ 357 سے 359 ؛ بحارالانوار، جلد 45، صفحہ 132 سے 135 و احتجاج، جلد 2، صفحہ 122 سے 130

بیرونی روابط[ترمیم]