یسوع مسیح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(یسوع سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
یسوع
مقدس یوحنا اصطباغی گرجا گھر میں یسوع المسیح کا رنگ دار شیشہ
(یوحنا 10:11 کے مطابق یسوع نے فرمایا: ”میں ایک اچھا چرواہا ہوں اور اچھا چرواہا اپنی بھیڑوں کے لئے اپنی زندگی دیتا ہے“)
القابات یسوع
ولادت پیدائش کی تاریخ
بیت لحم، رومی سلطنت۔
وفات تصلیب کی تاریخ و قیامت اور الرفع
القدس، رومی سلطنت
قابل احترام مسیحیت، اسلام، بہائیت۔
تاريخ الذكرى عیدیں و ضیافتیں
نسب نسب نامہ، خاندان، ان کے رشتہ دار۔

یسوع مسیح (انگریزی: Jesus Christ) مسلمانوں اور مسیحیوں دونوں کے نزدیک نہایت مقدس ہستی ہیں۔ مسلمان ان کو اللہ کا برگزیدہ نبی مانتے ہیں، اور عیسیٰ کے نام سے پکارتے ہیں۔ مسیحیت میں دو طرح کے گروہ ہیں۔ ایک جو ان کو اللہ کا نبی مانتے ہیں اور دوسرا جو ان کو تثلیث کا ایک کردار مانتے ہیں اور خدا کا درجہ دیتے ہیں۔ بعض یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ خدا کا بیٹا ہیں مگر مسلمانوں اور کچھ مسیحیوں کے مطابق اللہ یا خدا ایک ہے اور اس کی کوئی اولاد یا شریک نہیں۔ یہودیت میں انہیں نبی نہیں مانا جاتا بلکہ یہودی بھی نہیں مانتے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ جبکہ مسلمان اور مسیحی دونوں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یسوع مسیح بغیر باپ کے ایک کنواری ماں مریم کے بیٹے پیدا ہوئے۔

مسیحی عقائد

یسوع[1] یا عیسیٰ مسیحی مذہب کے بانی اور پیشوا ہیں۔ مسیحی عقیدے کے ایک بڑے گروہ مطابق آپ خدا کے بیٹے ہیں اور پاک تثلیث کے دوسرے اقنوم ہوتے ہوئے از خود بھی خدا ہیں۔ آپ کو آقا، خداوند، یہودیوں کا بادشاہ، خدا کا کلمہ، ہمارا خداوند، ابن خدا، اور عمانوئیل کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ چنانچہ انجیل یوحنا میں یوں مرقوم ہے كہ
"ابتداء میں کلمہ تھا اور کلمہ خدا کے ساتھ تھا اور کلمہ خدا تھا، وہی ابتداء میں خدا کے ساتھ تھا"۔
لفظ یسوع دراصل عبرانی اور آرامی لفظ (יהושע - ܝܫܘ) یشوع [تلفظ یے۔شو۔عا] سے لیا گیا ہے جس کا مطلب ہے "خداوند نجات ہے" جبکہ مسیح عبرانی لفظ مشیخ [تلفظ م-شی-اخ ] سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں "مسح کیا گیا"۔

آپ کی زندگی کے بارے سب سے اہم دستاویزات چہار قانونی اناجیل یعنی بمطابق متی، مرقس، لوقا، اور یوحنا ہیں۔ یہ چاروں اناجیل کتاب مقدس بائبل کے عہد نامہ جدید میں پائی جاتی ہیں۔

آپ ایک گلیلی یہودی تھے اور بیت اللحم شہر میں کنواری مریم کے بطن سے پیدا ہوئے۔ بچپن اور لڑکپن کا زیادہ تر عرصہ ناصرت میں صرف کیا۔ آپ اپنی علانیہ زندگی کے تین سال تک خداوند کی بادشاہت کی منادی کرتے رہے۔ اس ضمن میں آپ تمام فلسطین، دیکاپولس، گلیل، سامریہ اور دریائے اردن کے پار بھی گئے۔ تاہم جب یروشلیم گئے تو یہودیوں کے سردار کاہنوں، فقیہوں اور فريسیوں نے آپ پر کفر گوئی کا الزام لگاتے ہوئے گرفتار کروا دیا اور رومی حاکم پینطس پیلاطس کے ذریعے آپ کو صلیب پر مصلوب کروا دیا۔

آپ عہد عتیق میں خدا کی طرف سے موعودہ نجات دہندہ ہیں جو دنیا کو اس کے گناہوں سے خلاصی دلانے کی خاطر متجسد ہوئے۔ مسیح علیہ السلام کے حالات زندگی عہد عتیق میں کیے گئے وعدوں اور پیشینگوئیوں کی تکمیل ہیں۔

مسیحیت کے اکثر فرقوں کے مطابق اپنے مصلوب ہونےکے تیسرے روز آپ مردوں میں سے جی اٹھے۔ اس واقعے کو قیامت المسیح کہا جاتا ہے۔ بعد ازیں آپ اپنے شاگردوں کو چالیس روز تک دکھائی دیتے رہے جس کے بعد آپ آسمان پر چڑھ گئے تا آنکہ اپنے آسمانی باپ کے داہنے ہاتھ ابدی تخت پر براجمان ہو جائیں صعود المسیح۔ مسیحی عقیدہ کے مطابق آپ دنیا کے آخر میں اپنے آسمانی باپ کے ساتھ کمال جاہ وجلال کے ساتھ لوٹیں گے اور زندوں اور مردوں، راستبازوں اور گناہگاروں کے درمیان میں عدالت کریں گے۔
مسیحی فرقہ یہوواہ کے گواہ (Jahova's witness) ان چیزوں کو نہیں مانتے۔ ان کے عقائد کے مطابق یسوع ایک نبی تھے اور خدا نہیں تھے۔ اور خدا (یہوواہ) ایک ہی ہے۔ ان کے مطابق یسوع المسیح کو سولی نہیں دی گئی۔

ولادت

مريم کو جبرائیل بشارت دیتے ہوئے، انیسویں صدی کا روسی آئیکن۔

یسوع کی پیدائش کے بارے میں سب زیادہ مفصل بیان انجیل متی اور انجیل لوقا میں پایا جاتا ہے۔ اگرچہ آپ کا یوم پیدائش 25 دسمبر کو منایا جاتا ہے تاہم بیشتر ماہرین کے مطابق یہ تاریخ حتمی نہیں۔ بعض محققین کے مطابق آپ کی پیدائش گرمیوں کے مہینہ جون میں ہوئی۔ تاریخوں کو معلوم رکھنے کا موجودہ نظام عیسوی تقویم یسوع مسیح کی تاریحِ پیدائش کی نسبت سے 'قبل از مسیح' اور 'بعد از مسیح' کی اکائیوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ مذکورہ بالا دونوں اناجیل کے مطابق آپ کی ولادت یہودی بادشاہ ہیرودیس کے دورِ حکومت میں ہوئی۔

اناجیل کے مطابق آپ کی ولادت سے قبل خدا کے فرشتے جبرائیل آپ کی والدہ مقدسہ مریم کے حضور حاضر ہوئے تاکہ ان کو بتائیں کہ وہ یسوع مسیح کی ماں بنیں گی۔ جب مقدسہ مریم نے یہ عذر بیان کیا کہ وہ مرد سے ناواقف ہیں تو جبرائیل نے جواب دیا کہ "روحِ خدا تجھ پر سایہ ڈالے گا اور تو حاملہ ہو گی" جس پر مقدسہ مریم نے جواب دیا " دیکھ میں خداوند کی بندی ہوں، میرے لئے تیرے قول کے موافق ہو"۔

خاندان

مسلمان اور مسیحی عقیدہ کے مطابق یسوع مریم کے بیٹے تھے جو کنواری ماں بنی تھیں۔ یہودی یہ عقیدہ نہیں رکھتے اور اکثر یہودیوں نے کنواری مریم پر شک کیا تھا۔ لیکن کچھ یہودی یہ سمجھتے ہیں کہ یسوع مسیح مریم اور یوسف کے بیٹے تھے۔ قرآن و اسلامی روایات اور لوقا کی انجیل کے مطابق یسوع داؤد کی نسل سے تھے یعنی ابراہیم اور ان کے بیٹے اسحاق کی نسل سے تھے۔
کچھ یہودی یہ شجرہ نسب یوسف کے ذریعے داؤد تک لے جاتے ہیں۔ مگر یوسف اور مریم رشتہ دار تھے اور ان دونوں کا نسب دوسری یا تیسری پشت میں ایک ہو جاتا ہے۔

ابتدائی حالاتِ زندگی

انجیلِ لوقا کے مطابق یسوع مسیح کے جنم کے قریب رومی حکام نے حکم صادر کیا کہ ہر شخص مردم شماری میں اپنے نام کے اندراج کے لئے اپنے آباء کے وطن کو روانہ ہو۔ اس ضمن میں جنابِ یوسف (مقدسہ مریم کے شوہر – اس جوڑے کے تا دمِ زیست کوئی جسمانی تعلقات نہ تھے) مریم کے ہمراہ اپنے وطن بیت اللحم کو روانہ ہوئے اور وہیں پر یسوع مسیح کی ولادت ایک چرنی میں ہوئی کیونکہ شہر کی سرائے میں جگہ نہ تھی۔ آپ کی ولادت کے کچھ عرصہ بعد "مشرق سے مجوسی" آپ کی تعظیم اور سجدہ کے لئے بیت اللحم آئے۔یہ مجوسی ایک ستارے کا تعاقب کرتے کرتے سرزمینِ مقدسہ آئے تھے۔ تاہم جب ہیرودیس کو یہ علم ہوا کہ یہودیوں کے بادشاہ کا جنم ہوا ہے تو نہایت برہمی میں اس نے بیت اللحم اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں دو سال سے کم عمر کے تمام لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔اس پر یوسف آپ کو مقدسہ مریم کے ہمراہ مصر لے گئے۔

کچھ سال بعد پھر خواب میں آگہی پاکر پاک خاندان واپس اپنے وطن روانہ ہوگئے اور ناصرت میں آبسے۔ یہاں پر حضرتِ مسیح پروان چڑھے اورغالباً جنابِ یوسف کے زیرِ سایہ بڑھئی کا کام سیکھا۔اسی اثنا میں آپ نے یروشلم کے بھی دورے کئے۔ آپ کی زندگی کے اس حصے کے بارے میں ہمارے پاس سب سے کم معلومات ہیں۔غالبا آپ کی زندگی نہایت ہی معمولی رہی ہوگی۔آپ نے اس طرح اپنی زندگی کے تیس سال گزارے۔

بپتِسمہ اور آزمائش

اناجیلِ متوافقہ [متی، مرقس، اور لوقا] کے مطابق خداوند یسوع مسیح نے اپنے رشتہ دار یوحنا اصطباغی [یوحنا بپتسمہ دینے والے] کے ہاتھوں بپتسمہ پایا۔ ان بیانات کے مطابق آپ دریائے اردن آئے جہاں یوحنا اصطباغی منادی اور اصطباغ کیا کرتے تھے۔ یوحنا اولاً اصطباغ دینے سے کترائے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ مسیح ان کو بپتسمہ دیں۔ لیکن آپ کے کہنے پر یوحنا بپتسمہ دینے پر راضی ہو گئے۔ جب آپ پانی سے ابھرے تو"۔۔آسمان کو کھلتا دیکھا اور روح القدس کو کبوتر کی مانند اپنے اوپر اترتے دیکھا۔ پھر آسمان سے آواز آئی: تو میرا بیٹا ہے المحبوب، جس سے میں خوش ہوں" [مرقس1:10–11] ۔

اپنے بپتسمہ کے بعد خدا آپ کو بیابان میں لے گیا جہاں آپ نے چالیس دن اور چالیس راتوں تک روزہ رکھا [متی4 باب 1-2 آیات]۔ اس دوران میں آزمانے والا [شیطان] متعدد بار آپ کو آزمانے آیا لیکن ہر بار آپ نے اس کو تورات میں سے حوالہ جات سنا کر ناکام اور ناامید کر دیا۔

علانیہ زندگی اور تعلیمات

یوحنا کی انجیل میں خداوند یسوع مسیح کی علانیہ زندگی کی تین فسح کی عیدوں کا ذکر کیا ہے جس سے ہمیں معلوم پڑتا ہے کہ آپ کی اعلانيہ زندگی کا دورانیہ تین برس تھا۔ اس دوران میں آپ نے کئي اعجازات دکھائے جن میں بیماروں کو شفاء دینا، پانیوں پر چلنا، پانی کو مے میں بدلنا اور کئی اشخاص کو موت کے بعد زندہ کرنا شامل ہے۔ آپ کی علانیہ زندگی میں آپ کے سب سے قریب آپ کے بارہ شاگرد [حواری] تھے۔آپ تعلیم دیتے تھے کہ دنیا کا انجام بالکل غیر متوقع طور پر ہوگا، اور کہ آپ آخری اوقات میں دنیا میں واپس آئیں گے تاکہ لوگوں کے اعمال کا حساب لے سکیں۔ اس لئے آپ نے اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ تیار رہنے کی ہدایت کی۔

آپ کی تعلیمات میں سے سب سے مشہور "پہاڑی وعظ" ہے۔ یہ وعظ مسیحی طرزِ عمل کی سب سے کلیدی دستاویز ہے۔ اسی وعظ میں مشہورِزمانہ 'مبارکبادیاں' بیان کی گئی ہیں۔ آپ اکثر اوقات تماثیل کا سہارہ لیا کرتے تھے مثلا اڑاؤ پوت کی تمثیل اور بیج بونے والے کی تمثیل۔ آپ کے کلام کا مرکزی خیال خدمت، پاکدامنی، معافی، ایمان، "اپنی گال پھیرنا"، دشمنوں سے محبت رکھنا اور حلیمی ہوتا تھا۔ شریعت کے مخض دکھاوے کے لئے نفاذ کے آپ مخالف تھے۔

آپ اکثر اوقات معاشرے کے رد کئے ہوئے طبقات (مثلا محاصل) سے تعلقات استوار کیا کرتے تھے۔ آپ کے سامریوں سے بھي مکالمات درج ہیں اگرچہ دیگر یہود ان کو غیر قوم تصور کرتے تھے۔

مسیحی عقائد کے مطابق اناجیلِ متوافقہ کے مطابق ایک مرتبہ آپ اپنے تین شاگردوں یعنی پطرس، یوحنا، اور یعقوب کو پہاڑ کی چوٹی پر دعا کی غرض سے لے گئے اور یہاں آپ کی 'تبدیلی صورت' واقع ہوئی اور آپ کا چہرہ سورج کی مانند پُر نور ہو گیا اور الیاس اور موسیٰ آپ کے ارد گرد دکھائی دیے۔ ایک بدلی نے ان کو آ گھیرا اور آسمان سے پھر آواز آئی "یہ میرا بیٹا ہے المحبوب، جس سے میں خوش ہوں"۔ تقریباًًً اسی زمانے میں آپ اپنے شاگردوں کو اپنی آئندہ تکالیف، شہادت اور قیامت کے بارے میں آگاہ کرنے لگے۔[متّی 16:21–28] ۔

گرفتاری، مقدمہ اور شہادت

اناجیلِ متوافقہ کے مطابق آپ اپنا آخری فسح منانے کے لئے یروشلم تشریف لائے۔ جب آپ شہر میں داخل ہوئے تو عام لوگوں کا ایک بڑا ہجوم آپ کے استقبال کے لئے اِکٹھا ہو گیا اور برملا چِلّانا شروع ہوگیا "ہوشعنا، مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے، مبارک ہے شاہِ اسرائیل"۔ اس کے بعد آپ ہیکل میں حاضری دینے گئے جہاں آپ نے تاجروں کی چوکیاں الٹا دیں اور ان کو جھڑکا۔ بعد ازاں آپ نے اپنا فسح قربان کیا اور اپنا آخری کھانا کھایا جس میں آپ نے پاک یوخرست کے ساکرامنٹ کی بنیاد ڈالی۔آپ نے روٹی اور مے لی اور فرمایا
" یہ میرا بدن ہے "
اور یہ کہ
"یہ میرا خون ہے جو تمہارے بلکہ بہت سے لوگوں کے گناہوں کی معافی کے لئے بہایا جائے گا میری یاد میں یہی کیا کرو" [لوقا22:7–20 ]
بعد ازاں آپ اپنے شاگردوں کے ہمراہ گتسمنی کے باغ میں دعا کی غرض سے گئے۔

گتسمنی کے باغ میں یسوع مسیح کو ہیکل کی رکھوالی پر معمور سپاہیوں نے گرفتار کر لیا۔ یہ عمل رات کو رازداری کے ساتھ کیا گیا تاکہ آپ کے چاہنے والوں کو علم نہ ہونے پائے۔ یہودہ اسخریوطی جو آپ ہی کا ایک شاگرد تھا، اس نے آپ کا بوسہ لے کر آپ کی نشاندہی کی کیونکہ رات کے وقت سپاہیوں کو پہچاننے میں دِقت کا سامنا تھا۔ اسی وقت شمعون پطرس ، جو شاگردوں میں سے سب سے برتر تھے، انہوں نے اپنی تلوار کش کی اور ایک سپاہی کا کان اڑا ڈالا، لیکن خداوند یسوع مسیح نے جنابِ پطرس کو یہ کہتے ہوئے اس کا کان بحال کیا " جو کوئی تلوار چلائے گا تلوار ہی سے ہلاک ہوگا" [متی26:52 ]۔ آپ کی گرفتاری کے بعد آپ کے شاگرد اپنی جانوں کے خطرے کے پیشِ نظر چھپ گئے۔

گلگتا کا روایتی مقام
گلگتا ​​کے روایتی مقام پر قربان گاہ


اناجیل کے مطابق پلاطس خود نہیں چاہتا تھا کہ آپ کو سزا ہو لیکن اس نے یہودی کاہنوں کے پرزور اصرار پر آپ کو مصلوب کرنے کا حکم صادر کر دیا۔

آپ کو کوہِ کلوری پر فسح کے دن نہایت تکلیف دہ انداز میں صلیب دی گئی۔[2][3][4][5] موت کے وقت آپ کی والدہ اور یوحنا رسول موجود تھے۔ آپ کے دو چاہنے والے یعنی یوسف رامتی اور نکودیمس نے آپ کے کفن دفن کا انتظام کیا۔ پلاطس کا احکام پر آپ کی قبر کے منہ پر ایک بھاری پتھر لڑھکا دیا گیا۔

قیامتِ یسوع مسیح

یہودی عقیدہ کے مطابق یسوع صلیب پر فوت ہو گئے۔ جبکہ مسیحی عقائد کے مطابق آپ اپنے مصلوب ہونے کے تیسرے دن مردوں میں سے جی اٹھے۔ متی کی انجیل کے مطابق جب مریم مگدلینی اور دوسری مریم آپ کی قبر پر خوشبوئیں لے کر آئیں تو پتھر کو لڑھکا ہوا اور قبر کو خالی پایا۔اس کے بعد آپ چالیس روز تک اپنے شاگردوں کو دکھائی دیتے رہے۔ جس کے بعد آپ آسمانوں پر تشریف لے گئے۔

دیگر ادیان میں

مذہبِ اسلام کے مطابق مسیح کی موت واقع نہیں ہوئی بلکہ اللہ نے انہیں لوگوں کی نظروں سے غائب کر دیا اور ان کا ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔ ان کی جگہ ان کا ایک ہم شکل مصلوب ہوا۔ ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور ان کا دوبارہ ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔ احمدیہ کے عقیدہ کے مطابق مسیح صلیب تو دیئے گئے لیکن نہ تو صلیب پر فوت ہوئے نہ ہی آسمان پر گئے بلکہ صلیب سے زندہ اتر کر بنی اسرائیل کے دس گمشدہ قبائل کے پاس کشمیر چلے گئے۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. http://www.ur.ways-of-christ.com
  2. مرقس، 15:22
  3. متی، 27:33
  4. لوقا، 23:33
  5. یوحنا، 19:17