یعرب

یعرب ، ایک قدیم عرب جد (آبا و اجداد میں سے) کا نام ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ قحطان کا بیٹا تھا۔ قحطان کے نسب کے بارے میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں: بعض کا کہنا ہے کہ وہ اسماعیل کی نسل سے ہے، جبکہ بعض اسے ہود یا عابر کی نسل سے مانتے ہیں، جیسا کہ عام طور پر عقیدہ ہے۔
نسب
[ترمیم]قحطان کے نسب کے بارے میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں، جن میں سے ایک اہم قول یہ ہے کہ وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ [1][2]
قحطان کی نسبت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرف
[ترمیم]اس قول کے قائلین نے اپنی بات کو ان دلائل کی بنیاد پر مضبوط کیا ہے:
- اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ... مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ...﴾ [الحج: 78] (ترجمہ: اور اللہ کی راہ میں ویسے ہی جہاد کرو جیسے اُس کا حق ہے... یہ تمھارے باپ ابراہیم کا دین ہے...) اس آیت میں خطاب مہاجرین اور انصار کو ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قحطان بھی حضرت اسماعیل کی نسل سے تھے، کیونکہ انصار قحطانی النسب تھے۔
- ابن عبد البر اندلسی نے ذکر کیا ہے کہ:
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان لوگوں کے قول کی تائید کرتے تھے جو قحطان اور تمام عرب کو اسماعیل کی اولاد مانتے ہیں۔[3]
- ابو الحسن الاشعری نے اپنی کتاب میں واضح طور پر لکھا ہے کہ تمام عرب حضرت اسماعیل کی نسل سے ہیں اور اس کے لیے آیت "ملَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ" سے استدلال کیا۔[4]
- رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
"ارموا بني إسماعيل فإن أباكم كان رامياً" (ترجمہ: بنی اسماعیل! تیر اندازی کرو کیونکہ تمھارے والد (حضرت اسماعیل) تیر انداز تھے۔) اس حدیث کا خطاب قبیلہ اسلم اور بعض انصاری قبائل سے تھا، جو سب قحطان سے تعلق رکھتے تھے۔ لہٰذا اس حدیث میں قحطان کا اسماعیل سے ہونا واضح ہے۔
- امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایک باب قائم کیا:
"باب نسبة اليمن إلى إسماعيل" (یعنی یمن کی نسبت حضرت اسماعیل کی طرف)، اسی طرح زبیر بن بکار نے بھی یہی باب باندھا۔[5]
- امام عینی نے اسی حدیث (ارموا بنی اسماعیل) کے تحت لکھا کہ:
اس حدیث سے اُن نسب کے علما کے قول کی ترجیح ظاہر ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ یمنی اقوام حضرت اسماعیل کی نسل سے ہیں، جبکہ قبیلہ اسلم قحطان سے ہے۔[6]
- ابن حزم اندلسی بھی اس حدیث کی بنیاد پر قحطان کو حضرت اسماعیل کی نسل سے مانتے ہیں۔[7]
- ابن حجر عسقلانی نے کہا:زبیر بن بکار کا قول یہ ہے کہ قحطان، اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور اُن کا نسب اس طرح ہے:
قحطان بن ہميسع بن تيم بن نبت بن إسماعيل علیہ السلام اسی کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی تقویت ملتی ہے، جو انھوں نے حضرت ہاجرہ کے ذکر پر انصار سے کہا تھا:"فتلك أمكم يا بني ماء السماء" (یہ تمھاری ماں ہے، اے بارش کے بیٹو!)
- ابن حجر عسقلانی نے مزید کہا: میرے نزدیک یہی قول زیادہ راجح ہے، کیونکہ صحابہ کرام اور دیگر مشہور شخصیات کے نسب میں قحطان اور عدنان کے درمیان آباء کی تعداد تقریباً برابر ہے، اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قحطان کا زمانہ حضرت اسماعیل کے قریب ہی تھا۔
پھر ابن حجر نے کہا: میں نے مختلف اقوال جمع کیے تو معلوم ہوا کہ اس موضوع پر دس سے زیادہ اقوال ہیں۔ ابو رؤبہ کی "کتاب النسب" میں، محمد بن نصر کے واسطے سے ایک روایت ہے، جس میں عدنان کا نسب بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: عدنان بن أد بن أدد بن زيد بن معد بن مقدم بن ہميسع بن نبت بن قيدار بن إسماعيل ۔ [8]
نسب کو ہود یا عابر سے جوڑنے کا بیان
[ترمیم]کہا گیا ہے کہ یعرب، نبی ہود علیہ السلام کی نسل سے ہیں، جنھیں دیگر محرف آسمانی کتابوں میں "عابر" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کا نسب اس طرح بیان کیا گیا ہے:،[11][12] یعرب بن قحطان بن ہود بن شالخ بن قینان بن ارفخشذ بن سام بن نوح۔ وہ عربوں کے جدِّ اعلیٰ مانے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ 8062 قبل مسیح کے دور میں زندہ تھے اور وہی پہلے شخص تھے۔ جنھوں نے قدیم عربی زبان (شاید اس سے مراد کنعانی یا فینیقی عربی ہو) تحریر کی۔ عربوں نے اپنا نام بھی انہی سے اخذ کیا۔ وہ اپنے بھائی یقطان بن قحطان کے ساتھ یمن کی سرزمین پر آباد ہوئے اور قحطان وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے یمن پر حکومت کی۔[13][14] [15][16]
اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شاعر بحتری نے کہا:
- نحن أبناء يعربٍ أعربُ الناس
- لسانًا وأنضرُ الناس عودًا
(ہم یعرب کی اولاد ہیں، زبان میں سب سے فصیح اور جوانی و طاقت میں سب سے بہتر لوگ ہیں)
ابن ہشام نے کہا: ’’یمن، دراصل یعرب بن قحطان کا لقب ہے اور ان کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ ہود نے ان سے فرمایا: ’’تم میرے سب سے نیک اور بابرکت بیٹے ہو‘‘، جیسا کہ ایک روایت میں ذکر آیا ہے۔ یہ روایت کہ قحطان کی نسل حضرت اسماعیلؑ سے ہے، بعض لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے اس فرمان سے دلیل لی:
| ” | "ارموا يا بني إسماعيل فإن أباكم كان راميا"، جو آپؐ نے اسلم قبیلہ سے کہا، حالانکہ یہ قبیلہ قحطان کی نسل سے ہے۔ | “ |
مگر یہ حدیث قحطانیوں کو اسماعیلؑ کی نسل کہنا ثابت نہیں کرتی، کیونکہ اگر تمام یمنی قبائل اسماعیلؑ کی نسل سے ہوتے تو صرف ایک قبیلے کو اس سے نسبت دینا بے معنی ہوتا۔
| ” | ابو ہریرہؓ کا قول "یہ تمھاری ماں ہے اے بنی ماء السماء" (یعنی ہاجرہؑ) بھی اسی طرح تأویل پر مبنی ہے، جیسا کہ عرب بعض اوقات اپنی پرورش یا سوتیلے تعلق کی بنیاد پر بھی نسبت کرتے ہیں۔ | “ |
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "الموسوعة الشاملة - المنتخب في ذكر نسب قبائل العرب"۔ islamport.com۔ 2020-04-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-04-23
- ↑ "الموسوعة الشاملة - الإنباه على قبائل الرواة"۔ islamport.com۔ 2020-04-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-04-23
- ↑ الإنباه /صفحة 26
- ↑ التعريف في الانساب /صفحة 233
- ↑ صحيح البخاري /صفحة 34
- ↑ عمدة القاري شرح صحيح البخاري جزء12/صفحة 56
- ↑ جمهرة أنساب العرب /صفحة 33
- ↑ فتح الباري جزء54 /صفحة 12
- ↑ صبح الأعشى جزء87 /صفحة 2
- ↑ النسب-أبو عبيدة /صفحة 45
- ↑ van Donzel, 1994, p. 483.
- ↑ Prentiss, 2003, p. 172.
- ↑ Crosby, 2007, pp. 74-75.
- ↑ Sperl, 1989, p. 209.
- ↑ Sperl et al., 1996, p. 138.
- ↑ Thackston, 2001, p. 7.