یعقوب میمن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یعقوب میمن
پیدائش جولائی 1962 (عمر 55–56 سال)[1]
ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
پیشہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ
وجۂ شہرت 1993 بمبئی بم دھماکے
مذہب اسلام
مجرمانہ سزا موت[2] (مکمل فہرست کے لیے ذیل میں ملاحظہ کریں)
عدالتی فیصلہ مجرمانہ سازش (27 جولائی 2007)[2] (ذیل میں مکمل فہرست ملاحظہ فرمائیں)
قتل
ملک

بھارت

ریاست


یعقوب عبد الرزاق میمن (پیدائش: 30 جولائی 1962[1]) ایک بھارتی حساب دار جو دہشت گردی کے الزام میں ناگپور سینٹرل جیل میں قید رہے۔[4] یعقوب میمن 12 مارچ 1993ء کو ممبئی شہر میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکے کا مبینہ مجرم تھا اور ٹاڈا نے اس جرم میں اسے 27 جولائی 2007 کو سزا سنائی۔[5] جس پر 10 جولائی 2015ء کو عمل کیا گیا۔

ان سلسلہ وار دھماکوں میں ایک درجن سے زائد مقامات پر دھماکے، 260 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ پندرہ برسوں تک چلے مقدمہ میں خاص ٹاڈا جج پی كودے نے جولائی 2007ء میں 12 لوگوں کو موت کی سزا سنائی تھی، جس میں سے ایک یعقوب میمن بھی تھا۔ یعقوب پر دھماکوں کی سازش میں شامل ہونے کے علاوہ واردات کے لیے گاڑیوں کا انتظام نیز دھماکا خیز مواد سے لدی گاڑیوں کو مخصوص جگہوں پر کھڑا کروانے کا الزام تھا، پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد سے وہ ناگپور سینٹرل جیل میں قید ہے۔ میمن کی نظر ثانی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے اس کی پھانسی برقرار رکھی تھی۔ سن 2014ء میں بھارت کے صدر پرنب مکھرجی کی طرف سے بھی اس کی رحم کی درخواست مسترد کی جا چکی ہے، حالانکہ ان کے وکلا نے پھانسی کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کی کوشش کی تھی؛ وکلا کی دلیل تھی کہ وہ صرف دھماکوں کی سازش میں شامل تھا نہ کہ دھماکوں کو انجام دینے میں۔ عدالت کے مطابق، یعقوب میمن، ٹائیگر میمن اور داؤد ابراہیم ممبئی دھماکوں کے اہم سازشی کردار تھے۔ یعقوب میمن تب سے بھارتی جیل میں بند تھے جب نیپال پولیس نے اسے کھٹمنڈو سے گرفتار کرکے ہندوستانی جانچ ایجنسی سی بی آئی کو سونپا تھا۔ اس پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ ایک اکاؤنٹ سے وابستہ فرم چلا رہا تھا، جس کے ذریعے وہ اپنے بھائی ٹائیگر میمن کے غیر قانونی فائنانس سنبھالتا تھا۔[6][7]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]