یعقوب میمن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
یعقوب میمن
معلومات شخصیت
پیدائش 30 جولا‎ئی 1962  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ممبئی   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 30 جولا‎ئی 2015 (53 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ناگپور   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات پھانسی   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ
شعبۂ عمل دہشت گردی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

| module2 = | website = | footnotes = }}

یعقوب عبد الرزاق میمن (پیدائش: 30 جولائی 1962[2]) ایک بھارتی حساب دار جو دہشت گردی کے الزام میں ناگپور سینٹرل جیل میں قید رہے۔[5] یعقوب میمن 12 مارچ 1993ء کو ممبئی شہر میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکے کا مبینہ مجرم تھا اور ٹاڈا نے اس جرم میں اسے 27 جولائی 2007 کو سزا سنائی۔[6] جس پر 10 جولائی 2015ء کو عمل کیا گیا۔

ان سلسلہ وار دھماکوں میں ایک درجن سے زائد مقامات پر دھماکے، 260 افراد ہلاک، اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ پندرہ برسوں تک چلے مقدمہ میں خاص ٹاڈا جج پی كودے نے جولائی 2007ء میں 12 لوگوں کو موت کی سزا سنائی تھی، جس میں سے ایک یعقوب میمن بھی تھا۔ یعقوب پر دھماکوں کی سازش میں شامل ہونے کے علاوہ واردات کے لئے گاڑیوں کا انتظام نیز دھماکا خیز مواد سے لدی گاڑیوں کو مخصوص جگہوں پر کھڑا کروانے کا الزام تھا، پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد سے وہ ناگپور سینٹرل جیل میں قید ہے۔ میمن کی نظر ثانی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے اس کی پھانسی برقرار رکھی تھی۔ سن 2014ء میں بھارت کے صدر پرنب مکھرجی کی طرف سے بھی اس کی رحم کی درخواست مسترد کی جا چکی ہے، حالانکہ ان کے وکلاء نے پھانسی کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کی کوشش کی تھی؛ وکلاء کی دلیل تھی کہ وہ صرف دھماکوں کی سازش میں شامل تھا نہ کہ دھماکوں کو انجام دینے میں۔ عدالت کے مطابق، یعقوب میمن، ٹائیگر میمن اور داؤد ابراہیم ممبئی دھماکوں کے اہم سازشی کردار تھے۔ یعقوب میمن تب سے بھارتی جیل میں بند تھے جب نیپال پولیس نے اسے کھٹمنڈو سے گرفتار کرکے ہندوستانی جانچ ایجنسی سی بی آئی کو سونپا تھا۔ اس پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ ایک اکاؤنٹ سے وابستہ فرم چلا رہا تھا، جس کے ذریعے وہ اپنے بھائی ٹائیگر میمن کے غیر قانونی فائنانس سنبھالتا تھا۔[7][8]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]