مندرجات کا رخ کریں

یعقوب پیری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یعقوب پیری
(عبرانی میں: יעקב פרי ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش 20 فروری 1944ء (82 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تل ابیب [1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش تل ابیب [1]  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت اسرائیل   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت یش عتید (2012–)  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
رکن کنیست [1]   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن مدت
5 فروری 2013  – 31 مارچ 2015 
پارلیمانی مدت 19ویں کنیست  
رکن کنیست   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن مدت
31 مارچ 2015  – 9 فروری 2018 
پارلیمانی مدت 20ویں کنیست  
عملی زندگی
مادر علمی ہارورڈ یونیورسٹی
جامعہ عبرانی یروشلم
جامعہ تل ابیب   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان ،  منیجر ،  چیف ایگزیکٹو آفیسر   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی [1]،  عربی [1]،  یدیش زبان [1]،  عبرانی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت ہارورڈ یونیورسٹی   ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

یعقوب پیری (انگریزی: Yaakov Peri) (عبرانی: יעקב פרי، ولادت: 20 فروری 1944ء) اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسی شن بیٹ کے سابق سربراہ ہیں اور اس سے قبل یش عتید سے کنیست کے ارکان تھے۔ اُن کا شمار اسرائیلی خفیہ اداروں کی تاریخ کے اُن اہم شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے نہ صرف سلامتی کے حوالے سے اہم فیصلوں میں حصہ لیا بلکہ بعد ازاں سیاست، دانشورانہ مباحث اور عوامی گفتگو میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔[2]

خاندانی پس منظر

[ترمیم]

یعقوب پیری کا تعلق ایک متوسط اسرائیلی خاندان سے تھا۔ نوجوانی کے دوران ہی انھوں نے فوجی خدمات کا انتخاب کیا اور اسرائیلی ڈیفنس فورسز میں ابتدائی تربیت حاصل کی۔ بعد ازاں وہ شن بیٹ میں شامل ہوئے جہاں انھوں نے مختلف حساس محکموں میں خدمات انجام دیں۔[3] پیری کو خاص طور پر عربی زبان پر مضبوط عبور حاصل تھا، جس کی وجہ سے انھیں میدانِ عمل میں متعدد اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

سیاسی چیلنجز

[ترمیم]

1988ء سے 1994ء تک وہ شن بیٹ کے ڈائریکٹر رہے۔ یہ دور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع، پہلی انتفاضہ اور اندرونی سلامتی کے چیلنجز سے عبارت تھا۔ پیری نے اپنے دور میں ادارے کی اصلاح، فیلڈ آپریشنز کی تنظیم نو، ٹیکنالوجیکل انفراسٹرکچر کی توسیع اور انسانی خفیہ ذرائع میں بہتری جیسے اقدامات کیے۔[4] ان کی پالیسیوں کو کچھ حلقوں میں مثبت جبکہ کچھ میں متنازع سمجھا گیا، لیکن عمومی طور پر انھیں اسرائیلی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا ”اصلاح پسند چہرہ“ کہا جاتا ہے۔

کاروباری دنیا

[ترمیم]

شن بیٹ سے سبکدوش ہونے کے بعد پیری نے کاروباری شعبے میں قدم رکھا اور کئی ٹیکنالوجی و بینکاری اداروں میں مشاورتی اور انتظامی عہدے سنبھالے۔[5] بعد میں وہ میڈیا اور عوامی مباحث میں بھی سرگرم ہو گئے اور اسرائیل کی قومی سیکیورٹی، عرب–اسرائیل تعلقات اور امن مذاکرات پر متعدد تجزیاتی تحریریں اور انٹرویوز دیتے رہے۔

سیاسی داؤ پیچ

[ترمیم]

2012ء میں پیری نے سیاست میں داخل ہو کر نئی قائم شدہ جماعت یش عتید میں شمولیت اختیار کی، جس کی قیادت یائیر لاپڈ کر رہے تھے۔ 2013ء کے انتخابات میں وہ کنیست کے رکن منتخب ہوئے اور بعد ازاں وزیرِ سائنس، ٹیکنالوجی و خلائی امور کے عہدے پر فائز ہوئے۔[6] وزارت کے دوران انھوں نے جدید تحقیق، ہائی ٹیک سیکٹر کے فروغ، خلائی ٹیکنالوجی کے منصوبوں اور سائنسی تعاون کے بین الاقوامی شراکت پروگراموں پر کام کیا۔

بعد ازاں بعض تنازعات کی بنا پر انھوں نے کنیست کی رکنیت سے استعفیٰ دیا، تاہم وہ آج بھی اسرائیل کی داخلی سلامتی، علاقائی سیاست اور عرب–یہودی تعلقات کے موضوعات پر ایک اہم سیاسی و فکری آواز سمجھے جاتے ہیں۔[7]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب پ ت ٹ ناشر: کنیستחה"כ יעקב פרי
  2. Daniel Rozman (2020), "Comprehensive Profile of Yaakov Peri", Journal of Israeli Public Affairs.
  3. Rivka Shalom (1995), "Israel’s Internal Security Leadership", Tel Aviv Security Review.
  4. Yossi Ben Meir (1994), "Reforms in Shin Bet During Peri Era", Haaretz Security Analysis.
  5. Miriam Aharon (2001), "From Security Chief to Business Leader", Israel Economic Digest.
  6. Noam Feldman (2013), "Peri’s Entry into Israeli Politics", Jerusalem Political Quarterly.
  7. Hadar Cohen (2018), "Yaakov Peri: Legacy and Controversies", Middle East Leadership Studies.