یوسف ایسٹس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
  1. رجوع_مکرر سانچہ:خ۔م/مخلوط اختیاری سطر برائے ویکی ڈیٹا2
یوسف ایسٹس
یوسف ایسٹس ایمسٹرڈیم میں (2013ء)
یوسف ایسٹس ایمسٹرڈیم میں (2013ء)

معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1944 (73 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اوہائیو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
ویب سائٹ
ویب سائٹ www.yusufestes.com

یوسف ایسٹس (پیدائش 1 جنوری 1944ء جوزف ایسٹس) امریکی مذہبی شخصیت ہے جنہوں نے 2011ء میں مسیحیت چھوڑ کر اسلام قبول کیا۔[1]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

یوسف ایک عیسائی امریکی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا گھرانہ نئے چرچز اور عیسائی اسکول بنانے کے لیے معروف تھا۔ جب آپ بارہ سال کے تھے تب ہی آپ کو ہوسٹن ٹیکساس میں بپتسمہ دیا گیا۔ یوسف ہر چرچ کے بارے میں معلومات اور مہارت حاصل کرتے رہے۔

قبول اسلام[ترمیم]

انہوں نے ہندو اور بدھ مذہب کے ساتھ کئی دیگر مذاہب کا بھی مطالعہ کیا مگر اس وقت ابتدائی میں دین اسلام سے دل میں اتنا بغض تھا کہ کبھی اس کے بارے میں جاننے کی کوشش نہ کی۔ آپ کے والد تو چرچ میں منسٹر تھے ہی ان کو بھی مذہبی موسیقی کا منسٹر بنادیا ۔ تیس سال تک یوسف نے اپنے والد کے ساتھ مل کر کاروبار کیا اور اس سے کروڑ پتی بن گئے۔ان کے والد نے انہیں اپنے ایک نئے بزنس پارٹنر سے ملنے کو کہا جو ایک مصری مسلمان تھا۔ لفظ مسلمان سنتے ہی آپ نے پوری کوشش کی کہ اس سے نہ ملا جائے مگر والد کے اصرار پر ملنے کو تیار ہوگئے۔ جس دن ملاقات تھی اس دن چرچ سے ایک بڑا سا مذہبی جبہ پہنا، گلے میں ایک چمکیلا سا کراس لٹکایا اور ایسی کیپ پہن کر گئے۔

اس مصری مسلم شخص سے ملے تو ان کی امید کے برخلاف نہ اس کی لمبی داڑھی تھی اور نہ ہی عربی لباس تھا۔ اس کے بعد یوسف ایسٹس نے اسے مسیحیت کی دعوت دینا شروع کی۔ کچھ عرصہ کے لیے وہ یوسف ایسٹس کے گھر مقیم ہوا تو دن رات وہ ، انکی بیوی اور ان کے والد اسے بائبل سیکھانے کی کوشش کرتے رہے۔ اسی دوران میں ایک کیتھولک چرچ کا پادری بھی ان کے گھر پر مقیم ہوا۔ یہ ہر روز نشست جماتے جس میں ہر ایک اپنی اپنی بائبل کے بارے میں گفتگو کرتا تینوں مسیحی افراد تین الگ الگ بائبلوں کو زیادہ قطعی سمجھتے تھے۔

سب مل کر اس محمد نامی مہمان کو مسیحیت کی تبلیغ کرتے جسے وہ بہت غور سے سنتا اور سوال پوچھنے پر اسلام کے بارے میں بھی بتاتا۔ پھر ایک روز کیتھولک پادری نے اس مسلم شخص سے فرمائش کی کہ کیا مجھے مسجد دیکھا سکتے ہو؟ محمد انہیں مسجد لے گئے۔ واپسی پر سب نے پوچھا کہ کیسا رہا ؟ تو بتایا کہ مسلمان تو نہ گانا گاتے ہیں نہ ہر نماز کے ساتھ تقریر کرتے ہیں۔ بس عبادت کرکے آجاتے ہیں۔

کچھ دن بعد ایک بار پھر اس کیتھولک پادری نے ساتھ جانے کی فرمائش کی۔ اس بار پورا دن گزر گیا اور محمد اور پادری صاحب نہیں آئے۔ رات گئے جب واپسی ہوئی تو پادری اب اسلام قبول کر کے مسلم ہو چکے تھے۔ یوسف ایسٹس جن کا اس وقت نام جوزف ایسٹس تھا بہت پریشان ہوئے اور اپنی بیوی کو روداد سنائی۔ جواب میں ان کی بیوی نے کہا کہ میں نے تو پادری سے پہلے ہی قبول اسلام کا فیصلہ کرلیا ہے، یہ سن کر یوسف حیران ہوئے اور فوراََ گئے اور محمد کو سوتے میں سے اٹھایا اور کہا کہ انہیں بات کرنی ہے۔ پھر مذہب پر یوسف ایسٹس اور محمد ساری رات گفتگو کرتے رہے اور فجر تک گفتگو جاری رہی۔ پھر یوسف ایسٹس نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ منسٹر والد نے بھی چند مہینے بعد اسلام کو سمجھنے کے بعد اسے قبول کیا اور سب سے آخر میں ان کی کی سوتیلی ماں ایمان لے آئیں۔

بیرونی روابط[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Ahmed، Akbar S. (2010)۔ Journey Into America: The Challenge of Islam۔ Brookings Institution Press۔ صفحہ 303۔ آئی ایس بی این 978-0-8157-0440-9۔