یوسف رضا گیلانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یوسف رضا گیلانی
تفصیل=

وزیراعظم پاکستان
مدت منصب
25 مارچ 2008 – 26 اپریل 2012ء (19 جون 2012ء)
صدر پرویز مشرف
محمد میاں سومرو (عبوری)
آصف علی زرداری
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد میاں سومرو
راجہ پرویز اشرف Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
مکلم ایوان زیریں
مدت منصب
17 اکتوبر 1993 – 16 فروری 1997
Fleche-defaut-droite-gris-32.png گوہر ایوب خان
الٰہی بخش سومرو Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 9 جون 1952 (67 سال)[1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی[5]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مقام نظر بندی سینٹرل جیل راولپنڈی (2001–2006)  ویکی ڈیٹا پر مقامِ نظر بند (P2632) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش ملتان ، پاکستان
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب Islam
جماعت پاکستان پیپلز پارٹی  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد اولاد 5   ویکی ڈیٹا پر تعداد اولاد (P1971) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی فورمن کرسچین کالج
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور
جامعہ پنجاب  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ صحافی، سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان سرائیکی زبان، انگریزی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسلام آباد میں وزیرِاعظم کی رہائش گاہ

مخدوم یوسف رضا گیلانی 9 جون سنہ 1952 کو سرائیکستان کے ضلع ملتان کے ایک ایسے بااثر جاگیردار پیرگھرانے میں پیدا ہوئے جو پچھلی کئی نسلوں سے سیاست میں مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہے۔ سید صاحب کی مادری زبان سرائیکی ہے- ملتان کی درگاہ حضرت موسی پاک کا گدی نشین ہونے کی بنا پر ان کا خاندان مریدین یا روحانی پیروکاروں کا بھی وسیع حلقہ رکھتا ہے۔۔ یوسف رضا گیلانی نے 1970 میں گریجویشن اور 1976 میں یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا۔ یوسف رضا گیلانی فروری 2008 کے انتخابات میں ملتان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پانچویں مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ وہ پاکستان کے 24 ویں وزیر اعظم ہیں۔ 2012ء تک مسلسل چار سال وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے کے بعد وہ تاریخ میں پاکستان کا سب سے لمبی مدت وزیر اعظم رہنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 19 جون 2012ء کو توہین عدالت کے مقدمہ میں سزا کی وجہ سے پارلیمان رکنیت اور وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

عملی سیاست[ترمیم]

انھوں نے اپنی عملی سیاست کا آغاز سن 1978 میں کیا۔ یوسف رضا گیلانی نے 1983 میں ضلع کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے موجودہ رہنما سید فخر امام کو شکست دیکر چیئرمین ضلع کونسل ملتان منتخب ہوئے۔

سن 1985 میں انہوں نے صدر جنرل ضیاء الحق کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیااور وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر ہاوسنگ و تعمیرات اور بعد ازاں وزیرِ ریلوے بنائے گئے۔ راجا محمد ایوب انیس سو اٹھاسی میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور اسی برس ہونے والے عام انتخابات میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور اپنے مدمقابل نواز شریف کو شکست دی جو قومی اسمبلی کی چار نشستوں پر امیدوار تھے۔ ان انتخابات میں کامیابی کے بعد یوسف رضا گیلانی ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ کے رکن بننے اور اس مرتبہ انہیں بینظیر بھٹو کی کابینہ میں سیاحت اور ہاؤسنگ و تعمیرات کی وزارت ملی۔ سیاسی کیرئر کے دوران یوسف رضا گیلانی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں نیب نے ریفرنس دائر کیا اور راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے ستمبر سنہ دو ہزار چار میں یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تین سو ملازمین غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کے الزام میں دس سال قید با مشقت کی سزا سنائی تاہم سنہ دو ہزار چھ میں یوسف رضا گیلانی کو عدالتی حکم پر رہائی مل گئی ۔

یوسف رضا گیلانی نے اڈیالہ جیل میں اسیری کے دوران اپنی یاداشتوں پر مبنی پر ایک کتاب’چاہ یوسف سے صدا‘ بھی لکھی۔

توہین عدالت[ترمیم]

قومی مفاہمت فرمان 2007ء کلعدم ہو جانے کے بعد عدالت عظمیٰ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کو رکوانے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے دوبارہ مقدمات کھولنے کی درخواست سؤئس احکام کو لکھی جائے۔ گیلانی دو سال ٹال مٹول سے کام لیتا رہا حتٰی کہ عدالت عظمیٰ نے اسے توہین عدالت پر طلب کر لیا جہاں اس کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ زرداری کو بطور صدر استشنی حاصل ہے جو عدالت نے مسترد کر دیا۔[7] 13 فروری 2012ء کو عدالت نے گیلانی پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کر دی۔[8] 26 اپریل 2012ء کو عدالت نے گیلانی کو توہین عدالت پر 30 سیکنڈ کی سزا سنائی اور اس طرح گیلانی مجرم قرار پایا۔[9] 19 جون 2012ء کو عدالت نے مکلم پارلیمان کے فرمان کے خلاف مقدمے کے فیصلہ[10] میں لکھا کہ سزا کے بعد گیلانی پارلیمان کی رکنیت سے نااہل ہو چکا ہے اور اس طرح وزیر اعظم نہیں رہ سکتا۔ انتخابی محکمہ کو عدالت نے ہدایت کی اس کی معزولی کا حکم جاری کرے جو فیصلے کے چند گھنٹہ بعد جاری کر دیا گیا کہ گیلانی 26 اپریل 2012ء سے معزول سمجھا جائے۔[11]

گیلانی صاحب کی سرائیکی لوگوں کے لیے خدمت[ترمیم]

۔ مخدوم یوسف رضا گیلانی نے سرائیکی زبان اور لوگوں کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں ہیں۔

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Yousaf-Raza-Gilani — بنام: Yousaf Raza Gilani — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000026679 — بنام: Yusuf Raza Gilani — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/gilani-yousaf-raza — بنام: Yousaf Raza Gilani — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. اجازت نامہ: CC0
  6. http://pakistaniat.com/2008/03/24/profile-yousuf-raza-gllani-pakistan/comment-page-1/
  7. سعید شاہ (2 فروری 2012ء)۔ "Pakistan court to charge Yousaf Raza Gilani with contempt"۔ گارڈین۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 فروری 2012ء۔
  8. اینڈریو بنکومب۔ "Pakistan's PM is charged with contempt"۔ انڈپنڈنٹ۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 فروری 2012۔
  9. "PM convicted of contempt of court"۔ ڈان۔ 26 اپریل 2012ء۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. "فیصلہ" (پی‌ڈی‌ایف)۔ مورخہ 20 جون 2012 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 جون 2012۔
  11. "Gilani no more PM, rules SC"۔ 19 جون 2012ء۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
سیاسی عہدے
ماقبل 
گوہر ایوب خان
سپیکر قومی اسمبلی پاکستان
1993 – 1997
مابعد 
الٰہی بخش سومرو
ماقبل 
محمد میاں سومرو
وزیراعظم پاکستان
2012 - 2008
مابعد 
راجہ پرویز اشرف