یوم عشق رسول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

21 ستمبر 2012 کو پاکستان میں پہلی بار یومِ عشقِ رسول منایا گیا۔ جو در حقیقت پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کا اظہار ہے۔ اس کا محرک وہ احتجاج ہیں جو گستاخوں کی جانب سے بنائی گئی بد نام زمانہ فلم مسلمانوں کی معصومیت کے خلاف مسلمانان عالم نے کیے۔

عین اس موقع پر جب جلسے جلوس جاری تھے۔ کہیں سے چند نقاب پوش شر پسند عناصر شامل احتجاج ہوئے اور توڑ پھوڑ، گھیراؤ جلاؤ کا عمل جاری رہا۔ تاہم پولیس ان غداروں کو پکڑنے میں ناکام رہی جنہوں نے مسلمانوں کے احتجاج کو بدنام کرنے کی ناکام سازش کی۔

تفصیلات[ترمیم]

امریکا میں موجود ایک بدنامِ زمانہ نام نہاد پادری ٹیری جونز (نئی تحقیقات نے جسے بے مذہب انسان بتایا ہے) کے زیرِ سایہ نیکولا باسلے یا اسی طرح کے کس نام کے ایک درندہ صفت انسان نے کئی یہودی کاروباری لوگوں کے سرمایہ کے تعاون سے ایک مذموم حرکت کی۔ انہوں نے دنیا کے ایک بہت بڑے الہامی دین اسلام کے سب سے بڑے پیشوا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات کی معاذاللہ توہین کرنے کی ناکام کوشش کی۔ انہوں نے ایک ویڈیو فلم بنائی۔ جس کا نام انگریزی زبان میں "انو سینس آف مسلمز" ہے۔ پھر اس کے دیگر زبانوں میں ترجمے اور نام وغیرہ بھی نشر ہوئے۔ اردو میں "مسلمانوں کی معصومیت" بتایا جاتا ہے۔ اس ویڈیو میں دنیا کی سب سے عظیم اور اعلیٰ ترین شخصیت حضرت محمد کے بارے میں معاذاللہ ناپاک معاملات دکھانے کی جُرات کی گئی۔ جو سراسر خلاف واقعہ ہے۔ اس گستاخانہ فلم کے رد عمل کے طور پر مسلمان ملکوں اور دیگر ملکوں میں بھی فلم پروڈیوسر اور اس نام نہاد آزادیِ اظہار رائے کے خلاف شدید ترین احتجاج ہوئے۔ پاکستان کی حکومت نے 21 ستمبر 2012 بروز جمعہ کو یومِ عشقِ رسول کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ 21 ستمبر والے دن ملک گیر ہڑتال، احتجاج اور ریلیاں ہوئیں۔ مغربی میڈیا خاص طور پر بی بی سی نے ایک دن پہلے ہی یوم عشق رسول کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا۔[1] اگلے روز پاکستانی میڈیا نے بھی مغربی میڈیا کی تقلید کی۔ بظاہر اُس دن پاکستان کے بڑے شہروں میں آگ لگی ہوئی دکھائی گئی اور لوٹ مار بھی ثابت کی گئی۔ تاہم اکثریت کا کہنا ہے کہ کراچی میں دس سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا یہی عالم تھا۔ تو آج کیوں مسلمانوں کے عشق رسول کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ جبکہ مظاہرین کے ایک حلقے کا کہنا ہے کہ عوام نے بھی جلاؤ گھیراؤ کیا۔ دوسرے حلقے کا مؤقف ہے کہ وہ ایجنسیوں کے لوگ تھے اور پاکستانی حکومت اور مغرب کے کارندے تھے جنہوں نے توڑ پھوڑ کی۔ تاکہ پاکستانی حکومت اپنے مغربی آقاؤں کو خوش رکھ سکے۔ اسی دوران میں میڈیا نے مثالی جانب داری کا مظاہرہ کیا اور مسلمان ٹی وی چینلز نے اسلام کے نام کو دھندلانے کی سازش میں بھر پور حصہ لیا۔

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "بی بی سی اردو"۔