یوم قومی یکجہتی (بھارت)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بھارت کی مرکزی حکومت ہر سال راشٹریہ ایکتا دیوس' یا قومی یک جہتی کا دن 31 اکتوبر کو مناتی ہے۔

دن کی اہمیت[ترمیم]

یہ دن سردار ولبھ بھائی پٹیل کی ولادت کے موقع پر منایا جاتا ہے۔ اس خصوص میں بھارت کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی زیر قیادت مرکزی حکومت نے یہ فیصلہ فیصلہ 2014 میں کر چکی ہے۔ اس دن کے طور پر تمام سرکاری ملازمین کو ایک قومی یکجہتی کا عہد انتظامیہ کی طرف سے دیا جائے گا۔ جبکہ اسکول اور کالج کے طالب علموں کو ملک کے اتحاد اور سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے اسی طرح کا حلف لینا لازم ہوگا۔[1][2]

سردار ولبھ بھائی پٹیل کا قومی یکجہتی میں تعاون[ترمیم]

ولبھ بھائی پٹیل بھارت کے عظیم مجاہد آزادی تھے۔ وہ پیشے سے وکیل تھے۔ چوں کہ وہ اور محمد علی جناح، دونوں بنیادی طور پر گجراتی تھے، اس لیے وہ دونوں کبھی اچھے دوست بھی تھے اور دونوں ہی کانگریسی بھی تھے۔ بلکہ پٹیل کا ایک مقدمہ جو بمبئی بلدیہ سے تعلق رکھتا تھا، جناح پیروی بھی کر چکے ہیں۔ اس کے بعد دونوں میں نظریاتی اختلاف آ گیا۔ پٹیل دو قومی نظریہ کے سخت مخالف تھے۔ جب اس کے باوجود تقسیم ہند ناگزیر ہوئی، تو پٹیل اپنی تمام تر کوشش غیر منقسم ہندوستان سے ملک کا جو بھی حصہ بھارت کو مل رہا تھا، وہ جوڑے رکھنے کی کوشش میں تھے۔ اس وقت بھارت 500 سے زیادہ راجاؤں، رجواڑوں اور نوابی ریاستوں میں منقسم تھا۔ پانڈیچری پر فرانسیسیوں کا قبصہ تھا، جب کہ گووا پر پرتگالیوں کا قبضہ تھا۔ یہ ممالک علی الترتیب ان علاقوں کو فرانس اور پرتگال کا حصہ سمجھنے لگے، حالاں کہ یہاں کے لوگوں کی زبان اور تہذیب کسی بھی طرح سے فرانس سے یا پرتگال سے میل نہیں کھاتی تھی۔

سب بڑا تعاون جو پٹیل کا آزادی کے بعد تھا، وہ یہ تھا کہ وہ ملکی حکمرانوں میں سے اکثریت کو بھارت میں شامل ہونے کے لیے مائل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ حالاں کہ زیادہ تر ملکی باد شاہ ہندو تھے، تاہم جوناگڑھ، ٹونک اور حیدرآباد، دکن اور پالنپور مسلم ریاستیں تھیں۔ پٹیالہ میں سکھوں کی حکومت تھی۔ پٹیل ان سبھی حکمرانوں میں سے اکثریت کو بھارت میں شامل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ جوناگڑھ کے حکمران نے پاکستان میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم ریاست کی غالب اکثریت ہندو تھی۔ وہ لوگ شدید احتجاج میں کھڑے اٹھے۔ اس کی وجہ سے جوناگڑھ بھارت کا ہی حصہ بنا اور یہ موجودہ طور پر گجرات کا حصہ ہے۔ حیدرآباد کے آصفجاہی نظام نے اپنی الگ آزادی برقرار رکھنے کا ارادہ کیا۔ اس سلسلے میں وہ بھارت کی نو آزاد حکومت کے ساتھ Standstill Agreement یا حسب حال موقف برقراری کا معاہدہ بھی کر چکے تھے۔ اس دوران حیدرآباد میں رضاکاروں کے نام سے قاسم رضوی کی قیادت میں ایک نجی غیر منظم فوج رونما ہوئے۔ یہ لوگ جوشیلے تھے اور ان پر تنظیمی گرفت کی کمی تھی۔ اس وجہ سے کچھ جگہوں پر رضاکاروں نے مقامی ہندوؤں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں کی۔ اس کی وجہ سردار پٹیل کے حکم سے آپریشن پولو نامی فوجی کارروائی کی گئی۔ 17 ستمبر 1948ء جو حیدرآباد بھارت کا حصہ بن گیا۔

اس دن کے قومی یکجہتی کے دن منانے کا مقصد یہ ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود لوگ بھارت کو ایک ملک کی طرح بنائے رکھیں۔

حوالہ جات[ترمیم]