یونس ایمرے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یونس ایمرے
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1240ء[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ایشیا صغریٰ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1321ء (80–81 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اناطولیہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت عثمانیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر[2]،  مصنف،  متصوف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ترکی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل شاعر،  تصوف  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

یونس ایمرے (عثمانی ترکی: یونس امرہ) (1238ء - 1320ء) ایک ترکی شاعر اور صوفی شخصیت تھے جنھوں نے اناطولیہ کے ادب و ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔[3] انھوں نے قدیم اناطولوی ترکی میں تحاریر لکھیں جو جدید ترکی زبان کی ابتدائی شکل تھی۔ یونس ایمرے کی 750 ویں سالگرہ کے موقع پر، یونیسکو نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے 1991ء کو ’یونس ایمرے کے عالمی سال‘ کے طور پر منایا۔[4]

حالاتِ زندگی[ترمیم]

نام کا تلفظ[ترمیم]

یونس ایمرے کے نام کا عثمانی (فارسی) رسم الخط میں اِملا ’’یونس امریہ‘‘ ہے۔ موجودہ ترکی زبان کے لاطینی رسم الخط میں ’’E‘‘ کی آواز اُردو کے ہلکے زیر جیسی ہے ۔ عربی زبان کے فتحہ یعنی زبر اور الف ما قبل مفتوح کے لیے لاطینی رسم الخط کا ’’A‘‘ استعمال کیا جاتا ہے۔

یونس ایمرے کی پیدائش صاری کوئے نامی گاؤں میں ہوئی۔ اس زمانے میں قونیہ پرسلجوق ترکوں کی حکومت تھی۔ یونس ایمرے نے چالیس سال اپنے استاد شیخ تاپدوک ایمرے کے قدموں میں گزار دیے۔ اُن کی زیر نگرانی انھوں نے قرآن و حدیث کے علم میں کمال حاصل کیا۔ طریقت کے اسرار و رموز سے شناسا ہوئے۔ اُن کے کلام میں رباعی، گیت، ن ظمیں، غزلیں سبھی نظر آتی ہیں۔[5] ترکی ادب پر یونس ایمرے کے اثرات ان کے زمانے سے لے کر دورِ حاضر تک دیکھے جا سکتے ہیں۔ احمد یسوی اور سلطان ولد کے بعد یونس ایمرے پہلے شاعر تھے جنھوں نے فارسی یا عربی میں شاعری کرنے کی بجائے اپنے زمانے اور خطے میں بولی جانے والی ترکی زبان میں شاعری کی۔ ان کا طرزِ تحریر وسطی اور مغربی اناطولیہ کے معروف اور ہم عصر اندازِ بیان کے بے حد قریب تھا۔ ان کے کلام کی زبان وہی ہے جو اس خطے کے بڑی تعداد میں نامعلوم علاقائی شاعروں، علاقائی گیتوں، علاقائی قصے کہانیوں اور پہیلیوں کی زبان ہے۔

جدید میڈیا میں[ترمیم]

ترکی کے پہلے قومی ٹیلی ویژن اسٹیشن، ٹی آر ٹی 1 کی جانب سے یونس ایمرے کے حالاتِ زندگی پر انھی کے نام سے ایک ٹی وی سیریز تیار کی گئی، جو دو سیزن پر محیط تھی۔[6] سیریز کا پہلا سیزن 22 قسطوں پر مشتمل تھا جو 2015ء میں نشر ہوا، جبکہ 23 قسطوں پر مشتمل دوسرا سیزن 2016ء میں نشر کیا گیا۔

یوٹیوب چینل، ٹیلیوستان پر اس ترکی ٹی وی سیریز کو اردو متن (سب ٹائٹلز) کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔پی ٹی وی ہوم نے بھی اس کی نشریات اردو ڈبنگ میں شروع کر دیں ہیں۔

تصاویر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Babelio author ID: https://www.babelio.com/auteur/wd/140566 — بنام: Yunus Emre
  2. http://www.worldatlas.com/webimage/countrys/asia/turkey/trfamous2.htm
  3. "Encyclopædia Britannica (2007)"۔ Britannica.com۔ 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 نومبر 2015 
  4. Talat Halman (2007)۔ Rapture and Revolution۔ Syracusa University Press, Crescent Hill Publications۔ صفحہ: 316 
  5. "Roznama Dunya: اسپیشل فیچرز :- یونس ایمرے"۔ Roznama Dunya: اسپیشل فیچرز :-۔ 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 اپریل 2018 
  6. "Yunus Emre" [یونس ایمرے] (بزبان ترکی)۔ ٹی آر ٹی 1۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اپریل 2018ء 
  7. "Central Bank of the Republic of Turkey"۔ 3 جون 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 ستمبر 2014 
  8. "E 9 – Two Hundred Turkish Lira I. Series"۔ 24 ستمبر 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 ستمبر 2014 

بیرونی روابط[ترمیم]