یونٹ آف اکاونٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

معاشیات میں یونٹ آف اکاونٹ یا حساب کی اکائی سے مراد مالیاتی اکائی ہوتی ہے جس میں قیمتیں اور قرضے طے کیے جاتے ہیں مثال کے طور پر روپیہ، ڈالر، پاونڈ، یورو، ین، روبل وغیرہ کرنسی کی اکائیاں ہیں۔
کرنسی کے استعمال کے لیے انگریزی زبان کا یہ شعر بہت مشہور رہا ہے۔

Money's a matter of functions four,
A Medium, a Measure, a Standard, a Store.[1]

یعنی کرنسی کی چار خصوصیات ہوتی ہیں۔* medium of exchange۔ کرنسی تبادلے کا ذریعہ ہوتی ہے۔* common measure of value (or unit of account)۔ اس کے نام سے سب اس کو پہچان لیتے ہیں۔* a standard of value (or standard of deferred payment)۔ اس کی قوت خرید سب کی سمجھ میں آ جاتی ہے۔* store of value۔ کرنسی پائیدار ہوتی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ بچت کرنے سے اس کی قوت خرید کم نہیں ہوتی۔

تنقید[ترمیم]

کرنسی ایک ایسی چیز ہوتی ہے جو نہ صرف قوت خرید کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا سکتی ہے بلکہ قوت خرید کو موجودہ زمانے سے آنے والے زمانے تک بھی منتقل کر سکتی ہے۔

کرنسی کے medium of exchange اور store of value ہونے پر کوئی شک نہیں۔ مگر جو چیز standard of value ہو سکتی ہے وہی یونٹ آف آکاونٹ بھی ہونی چاہیے۔ جب ایک چیز اچھی طرح پہچانی جا سکتی ہے تو اس کی قوت خرید بھی سمجھ میں آ جاتی ہے پھر یہاں دو الگ الگ اصطلاح استعمال کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
Murray Rothbard اپنی تصنیف What Has Government Done to Our Money? میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ پہلے زمانوں میں سکے اپنے وزن کے لحاظ سے اپنی قوت خرید رکھتے تھے۔ لیکن اس طرح حکومت ان سکوں کی قدر گرا کر منافع حاصل نہیں کر پاتی تھی۔ اس لیے حکومتوں نے سکوں کو ڈالر، پاونڈ، مارک، فرانک جیسے قومی نام دے دیے تاکہ کرنسی کا تعلق سکوں کے وزن سے ختم کیا جا سکے۔ جب یہ نام ہر جگہ استعمال ہونے لگے تو حکومتیں اپنے سکوں میں دھات کی مقدار کم کرنے لگیں لیکن قانون کے مطابق ایک ڈالر ایک ڈالر ہی رہتا تھا۔ اس طرح حکومت کی آمدنی بڑھ جاتی تھی کیونکہ ملک میں سونے چاندی کی مقدار میں اضافہ نہ ہونے کے باوجود سکوں کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ اضافی سکے حکومت کی جیب میں چلے جاتے تھے۔

Having acquired the mintage monopoly, governments fostered the use of the name of the monetary unit, (unit of account) doing their best to separate the name from its true base in the underlying weight of the coin...Debasement was the State's method of counterfeiting the very coins it had banned private firms from making in the name of vigorous protection of the monetary standard.[2]

جب سکوں میں دھات کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے مہنگائی بڑھنے لگتی ہے تو اس کا الزام منڈی پر لگایا جاتا ہے اور حکومت قیمتیں گرانے کے لیے اقدامات شروع کر دیتی ہے۔

In that way, government continually juggled and redefined the very standard it was pledged to protect. The profits of debasement were haughtily claimed as "seniorage" by the rulers.

سونے اور چاندی کی قیمت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ لیکن جب حکومت ان کی درمیانی شرح تبادلہ طے کر دیتی ہے (یعنی bimetallism) تو آگے چل کر ایک ناممکن صورت حال جنم لیتی ہے۔

Now we see the importance of abstaining from patriotic or national names for gold ounces or grains. Once such a label replaces the recognized world units of weight, it becomes much easier for governments to manipulate the money unit and give it an apparent life of its own. The fixed gold-silver ratio, known as bimetallism, accomplished this task very neatly.

جب سونے یا چاندی کو "قانونی کرنسی" قرار دیا گیا تو لوگوں کو اس میں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا۔ حالانکہ انہیں سمجھ جانا چاہیے تھا کہ حکومت کرنسی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے جو خطرے کی ابتدا ہے۔

When only the original gold or silver was designated "legal tender," people considered it harmless, but they should have realized that a dangerous precedent had been set for government control of money.

کرنسی پر حکومت کی اجارہ داری اس وقت مکمل ہوئی جب حالیہ صدیوں میں کرنسی کے متبادل وجود میں آئے۔ کاغذی کرنسی اور بینک ڈپازٹ نے حکومت کے لیے "کھل جا سم سم" کی طرح خزانوں کے منہ کھول دیے اور پوری معیشت پر کنٹرول مہیا کیا۔

Governmental control of money could only become absolute, and its counterfeiting unchallenged, as money-substitutes came into prominence in recent centuries. The advent of paper money and bank deposits, an economic boon when backed fully by gold or silver, provided the open sesame for government's road to power over money, and thereby over the entire economic system.

گراوٹ Debasement[ترمیم]

اسپین میں ساتویں صدی عیسوی کے اختتام پر دینار کے سکے میں 65 گرین (grain) خالص سونا ہوا کرتا تھا۔ مسلمانوں کے دور حکومت میں لگ بھگ پانچ سو سال بعد بارہویں صدی کے وسط تک دینار میں 60 گرین سونا اب بھی باقی تھا۔ لیکن اس کے بعد مسیحی بادشاہ نے اسپین پر قبضہ کر لیا۔ تیروھیں صدی کے شروع میں دینار کا نام بدل کر maravedi کر دیا۔ لیکن اب اس میں سونے کی مقدار صرف 14 گرین رہ گئی۔ اس کے بعد اسے ختم کر کے 26 گرین کا چاندی کا سکہ رائج کیا گیا جس کا نام وہی رہا۔ پندروھیں صدی کے وسط تک اس میں چاندی کی مقدار صرف 1.5 گرین رہ گئی۔

ارسطو[ترمیم]

ارسطو نے کرنسی کی چار خوبیاں بتائی تھیں۔ کرنسی پائیدار ہوتی ہے، قابل تقسیم ہوتی ہے، اس کی منتقلی آسان ہوتی ہے اور اس کی قدر کسی کی ضمانت سے مربوط نہیں ہوتی۔

Aristotle test of being durable, divisible, portable, and intrinsically valuable.[3]

اس میں حساب کی اکائی کا ذکر اس لیے نہیں ہے کیونکہ وزن کی اکائی ہی حساب کی اکائی ہوتی تھی۔

کاغذی کرنسی[ترمیم]

جب امریکی ڈالر سونے اور چاندی کا سکہ ہوتا تھا تو سونے اور چاندی کی قیمت وزن کے لحاظ سے ہوتی تھی یعنی چاندی کے 15 سکے سونے کے ایک سکے کے برابر ارزش رکھتے تھے جبکہ دونوں طرح کے سکے وزن اور خالصیت (قیراط) کے لحاظ سے بالکل برابر تھے۔ ہندوستان میں بھی 15 چاندی کے روپے ایک اشرفی (گولڈ مُہر) کے برابر ہوتے تھے۔
لیکن جب بینکاروں نے کاغذی کرنسی جاری کرنی شروع کی تو کاغذی نوٹ کو وزن کے لحاظ سے ارزش دینا ممکن نہ رہا۔ اس لیے وزن کا پیمانہ ہٹا کر محض ایک نام (ڈالر) کو مالیت کا معیار مانا گیا جو نوٹ پر لکھا ہوتا تھا۔ اس طرح حساب کی اکائی وجود میں آئی۔
آج بھی اگر سونے چاندی کے سکوں کا دور واپس آ جائے تو وزن کی اکائی ہی حساب کی اکائی (unit of account) بن جائے گی۔

"The decline of the Roman Empire went hand in hand with the decline of sound money."[4]
"it is not Caesar's face and titles, but weight and goodness that procure credit."[5][6]

==مزید دیکھیے==* شرح سود* کاغذی کرنسی* کیش کے خلاف جنگ* آئی ایم ایف

حوالے[ترمیم]