یوکرین کی جدید تاریخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سوویت دور میں یوکرین کا ابھرنا 1922ء-1954ء۔ پولش وولہینیا محصلہ (1939ء)؛ مفقود ترانس نیستریا (1940ءترانسکارپاتیا محصلہ (1945ءرومانیہ کا ایک ٹاپو محصلہ (1948ءکریمیا کا حصول (1954ء).

یوکرین ایک ملک کے تصور کے ساتھ اور اہلِ یوکرین قومیت کے طور پر یوکرینی نشاۃ ثانیہ کے ساتھ وجود میں آئے جو انیسویں صدی میں کسانوں کی بغاوت کے ساتھ 1768ء-1769ء میں پیش آئے تھے۔ اس کا نتیجہ پولش–لیتھووینیا دولت مشترکہ کی تقسیم کی شکل میں رونما ہوا۔ گالیشیا آسٹریائی سلطنت کا حصہ بن گیا اور باقی یوکرین سلطنت روس کا حصہ بن گیا۔

یوکرین پہلی بار یوکرینی جنگ آزادی میں 1917ء تا 1921ء آزاد رہا، مگر اس سے ابھرنے والی یوکرینی سوویت اشتراکی جمہوریہ (جو 1919ء انضمام شدہ یوکرینی عوامی جمہوریہ اور مغربی یوکرینی عوامی جمہوریہ سے بنی تھی)، جلد ہی سوویت یونین میں ضم کر دی گئی۔ اصل یوکرین (لٹل رشیا) کے علاوہ سوویت جمہوریہ میں کئی روسی گو علاقہ جات شامل تھے جنہیں ماضی میں نیا روس، گالیشیا، جنوبی بیس عربیہ، شمالی بوکووینا اور کارپاتھیائی روتھینا ریبن تروف معاہدے اور دوسری جنگ عظیم کے تحت شامل کیے گئے تھے۔

سوویت یونین کا بکھراؤ اور نئی طرز کی آزادی[ترمیم]

یوکرینی صدر لیونید کرافچوک اور روسی وفاق کے صدر بورس یلسن نے بیلاویژا معاہدہ پر دستخط کی، سوویت یونین کی تحلیل کا اعلان کیا گیا (1991ء

یوکرین نے 1991ء میں سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد آزاد ملک کی حیثیت اختیار کی۔

روس نوار صدر جمہوریہ اور عوام کا شدید رد عمل[ترمیم]

2014ء اس وقت یوکرین کا بحران طول پکڑنے لگا جب روس حامی صدر ویکٹر یانوکوویچ نے حکومت اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے معاہدوں پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے فوری بعد دار الحکومت کیف میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا اور پرتشدد احتجاج کے دوران 100 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ویکٹر یانوکوویچ کو صدارتی محل چھوڑ کر روسی سرحد سے متصل ریاست کریمیا میں جا کر چھپنا پڑا جہاں کی اکثریت روسی النسل عوام آباد ہے۔

کریمیا پر روس کا قبضہ[ترمیم]

2014ء میں یوکرین کے جزیرہ نما کریمیا میں فوجی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرکے ان پر روسی پرچم لہرا دیا۔ ایک اور متصلہ واقعے میں اسی سال روسی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں بھی روس نوازمظاہرین نے آگے بڑھنا شروع کر دیے تھے۔ اس کے نتیجے جہاں یوکرینی زباں داں نوکرین کی پر زور حمایت کرنے لگے تھے، وہیں روسی النسل عوام روس کی حمایت میں لگ گئے تھے جس سے سابق سوویت مملکت کے بکھرنے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا ۔

عالمی برادری کا رد عمل[ترمیم]

اس صورت حال میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسین، امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور یورپی ممالک کے رہنماؤں نے کریمیا کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ان لوگوں نے روس کو متنبہ بھی کیا تھا کہ وہ کشیدگی کو بڑھانے سے گریز کرے ۔

روس کا رد عمل اور یوکرین کے بدلنے والے سیاسی حالات[ترمیم]

دوسری جانب روسی سدر ولادیمیر پیوتن نے یوکرائن سے متصل علاقوں میں متعین روسی افواج کو الرٹ کیا۔ انہوں نے جنگی طیاروں کو چوکس رہنے کا حکم بھی دیا تھا۔ یوکرین کے معزول صدر ویکٹر یانوکوویچ 5 روز تک ایر زمین رہنے کے بعد روس میں نمودار ہوئے ہیں جبکہ یوکرین کی پارلیمنٹ نے نئی کابینہ کی منظوری دیتے ہوئے ارسینے یتسنیوک کو اس وقت کا نیا وزیر اعظم منتخب کر لیا تھا۔ بعد کے انتخابات میں پیٹرو پوروشینکو صدر منتخب ہوئے تھے جنہیں روس مخالف تصور کیا جاتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]