یوکرین کی زبانیں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
یوکرین کی زبانیں
Map12 b.png
Fluency in Ukrainian by region 1998–2001
دفتری زبان(یں)


اہم غیر دفتری زبان(یں)


مقامی زبان(یں)


علاقائی زبان(یں)


اقلیتوں کی زبان(یں)

 

Main غیرملکی زبان(یں)


  1. روسی
  2. انگریزی
  3. جرمن
  4. فرانسیسی
  5. ہسپانوی زبان
  6. چینی / اطالوی / عربی
اشاراتی زبان(یں) Ukrainian Sign Language
کی بورڈ کا عمومی خاکہ
Cyrillic layout in ونڈوز وسٹا
Keyboard layout ua vista ext.png
مآخذ مردم شماری-2001

یوکرین کی سرکاری زبان یوکرینی ہے، جو یوکرین کے 67.5% عوام کی مقامی زبان بھی ہے۔ جبکہ 29.6% عوام روسی زبان اور بقیہ 2.9% عوام دیگر زبانوں میں بات کرتے ہیں۔[1] اتیھنولاگ 40 ایسی اقلیتی زبانوں اور بولیوں کی کی فہرست پیش کرتا ہے جو سابقہ سوویت یونین کی مقامی زبانیں یا بولیاں تھیں۔

حالیہ زبانیں[ترمیم]

ایتھنولاگ کے مطابق یوکرائن کی زبانیں حسب ذیل ہیں۔ ( ان میں رومانی زبان، جاکتی زبان اور سلوواک زبانیں شامل نہیں ہیں جن کی رعایا کے اعداد و شمار میسر ہیں۔[2]

* یوکرینی: 32,000,000 (2001)* روسی: 8,330,000 (2001)* یدیش: 634,000 (1991)* روسین: 560,000 (2000)* رومانیائی: 319,000 (2001)* بیلاروسی: 276,000 (2001)* کریمیائی تاتاری: 260,000 (2006)* بلغاری: 234,000* یوکرین اشارہ زبان: 223,000 (2014)* مجارستانی: 157,000 (2001)* پولش: 144,000 (2001)* آرمینیائی: 99,900

زبان اور روزانہ زندگی[ترمیم]

اا تا 23 دسمبر 2015 کو رازم کو سنٹر نے یوکرین کے تمام علاقوں میں رائے شماری کی جس میں رشیا کا اضافہ کردہ کریمیا اورعلاحدہ پسندوں کے زیر قبضہ علاقے ڈونسٹکس اور لوحانکس شامل نہیں تھے۔ رائے شماری میں یہ بات سامنے آئی کہ 60 % یوکیرین کو اپنی مقامی زبان سمجھتے ہیں، جبکہ 15% رشین زبان کو اپنی مقامی زبان کا درجہ دینے ہیں۔ 22% ایسے لوگ ہیں جو دونوں زبانوں کو مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ 2% لوگ کوئی اور زبان کو مقامی زبان کا درجہ دیتے ہیں۔ یوکرینی یا رشین دونوں زبانوں کو بطور ترجیحی زبان کے اپنانے والے لوگ 37% ہیں جبکہ 21% لوگ ذو لسانی ہیں۔ یہ رائے شماری 1% کے فرق کا امکان کے ساتھ 10،071 اشخاص کے درمیان کی گئی تھی۔[3][4]

علاقائی زبانیں[ترمیم]

پیش کیے گئے قانونی بل برا ئے پالیسی ریاستی زبان ،جسے ورکھونا ردا نے اگست 2012 کو قانون کا درجہ دیا تھا، کی رو سے ایسی زبانوں جو 10 فی صد سے زیادہ عوام میں بولی جاتی ہیں انھیں علاقائی کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ جہاں یوکرینی زبان کو ریاست بھر میں دفتری زبان کی حیثیت حاصل ہے وہیں حکومت کے تعلیمی ،عدلیہ اور دیگر مقامی ادارجات میں دیگر زبانوں کو بھی رابطہ کی زبان کے طور پر قبول کر لیا گیا۔[5][6]

حوالہ جات[ترمیم]