یوگی آدتیہ ناتھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یوگی آدتیہ ناتھ
Ajay Bisht.jpg 

مناصب
وزیر اعلیٰ اتر پردیش (21 )   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
آغاز منصب
19 مارچ 2017 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png اکھلیش یادو 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 5 جون 1972 (46 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
پوڑی گڑھوال ضلع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان،  مہنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر

یوگی آدتیہ ناتھ (پیدائشی نام اجے موہن بِشٹ[1][2][ا] تاریخ پیدائش 5 جون 1972ء[4]) ایک بھارتی سنیاسی اور ہندو قوم پرست سیاست دان اور 19 مارچ 2017ء سے وزیر اعلیٰ اترپردیش ہیں۔[5][6]

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 2017ء کے ریاستی اسمبلی انتخابات جیتے کے بعد انہیں وزیر اعلیٰ نامزد کیا تھا، ان انتخابات میں یوگی آدتیہ ناتھ نمایاں مہم چلانے والے تھے۔[7][8][9] وہ سنہ 1998ء سے 2014ء تک لگاتار پانچ مرتبہ گورکھپور حلقہ، اترپردیش سے پارلیمان کے رکن رہ چکے ہیں۔[10] سنہ 2008ء میں اعظم گڑھ جاتے ہوئے دہشت گرد مخالفت ریلی میں ان کے بدرقہ (کانوائے) پر حملہ ہوا تھا۔ حملے میں ایک شخص ہلاک اور کم از کم 6 اشخاص زخمی ہوئے تھے۔[11][12] آدتیہ ناتھ گورکھپور میں واقع ایک ہندو مندر گورکھ ناتھ مٹھ کے مہنت بھی ہیں، اس عہدے پر وہ اپنے روحانی باپ مہنت اویدیہ ناتھ کی وفات (ستمبر 2014ء) کے بعد سے فائز ہیں۔ وہ فرقہ ورانہ تشدد میں ملوث ایک نوجوان تنظیم، ہندو یوا واہنی کے بانی بھی ہیں۔[13][14] انہیں دائیں بازو-عوامیت پسند ہندو قوم پرست اور اختلافات کو ہوا دینے والا سمجھا جاتا ہے۔[1][15][16][17]

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

اجے موہن بِشٹ کشتریہ خاندان میں 5 جون 1972ء کو پنچر گاؤں، پوڑی گڑھوال، اتر پردیش (موجودہ اتراکھنڈ) میں پیدا ہوئے۔[1][2][18][19] ان کے والد آنند سنگھ بِشٹ مہتمم جنگلات تھے۔[20] وہ چار بھائیوں اور تین بہنوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔[20] انہوں نے اتراکھنڈ کی ہیموٹی نندن بہوگنا گڑھوال یونیورسٹی سے ریاضی میں بیچلرز مکمل کیا۔[21][22]

انہوں نے 1990ء کی دہائی میں ایودھیا رام مندر تحریک میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے اپنا گھر چھوڑ دیا۔ وہ گورکھ ناتھ مٹھ کے سربراہ پنڈت، مہنت اویدیہ ناتھ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے شاگرد بن گئے۔ مہنت اویدیہ ناتھ نے اجے موہن بِشٹ کو 'یوگی آدتیہ ناتھ' کا نام دیا اور اپنا جانشین مقرر کیا۔ گورکھپور میں رہتے ہوئے آدتیہ ناتھ اپنے آبائی گاؤں اکثر جایا کرتے، انہوں نے وہاں سنہ 1998ء میں ایک اسکول قائم کیا تھا۔[20]

حواشی[ترمیم]

  1. کچھ ماخذوں میں "اجے سنگھ بِشٹ" لکھا ہے[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ "Firebrand Hindu Cleric Yogi Adityanath Picked as Uttar Pradesh Minister"، دی نیو یارک ٹائمز، 18 مارچ 2017 
  2. ^ ا ب Who is Yogi Adityanath? MP, head of Gorakhnath temple and a political rabble-rouser, Hindustan Times, 6 April 2017.
  3. In The End, This Is What Worked In Yogi Adityanath's Favour, 18 March 2017.
  4. Shri Yogi Adityanath: Members bioprofile, Sixteenth Lok Sabha, retrieved 19 March 2017.
  5. "Modi’s party picks Yogi Adityanath, strident Hindu nationalist priest, as leader of India’s biggest state"۔ واشنگٹن پوسٹ۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-04-27۔ 
  6. مائیکل صفی (2017-03-25)۔ "Rise of Hindu ‘extremist’ spooks Muslim minority in India’s heartland"۔ دی گارڈین (برطانوی انگریزی زبان میں)۔ آئی ایس ایس این 0261-3077۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-04-27۔ 
  7. "BJP's Adityanath sworn in as UP chief minister with 2 deputies"۔ The Times of India۔ 19 مارچ 2017۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 مارچ 2017۔ 
  8. "Hindu firebrand Yogi Adityanath picked as Uttar Pradesh chief minister"۔ بی بی سی نیوز۔ 18 مارچ 2017۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 مارچ 2017۔ 
  9. "Yogi Adityanath is new Uttar Pradesh CM, will have two deputies"۔ دی انڈین ایکسپریس۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 مارچ 2017۔ 
  10. اکھلیش سنگھ (22 مئی 2017)۔ "Yogi, Parrikar and Maurya to stay MPs till President polls in July"۔ ٹائمز آف انڈیا۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 مارچ 2017۔ 
  11. "BJP MP Yogi Adityanath`s convoy attacked, 7 injured"۔ زی نیوز۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 February 2018۔ 
  12. "Yogi Adityanath: When Yogi survived a murderous attack |"۔ ٹائمز آف انڈیا۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 فروری 2018۔ 
  13. پرشانت جاہ (2014-01-01)۔ Battles of the New Republic: A Contemporary History of Nepal (انگریزی زبان میں)۔ Oxford University Press۔ صفحہ 110۔ آئی ایس بی این 9781849044592۔ 
  14. "Hindu-Muslim Communal Riots in India II (1986-2011)"۔ Online Encyclopedia of Mass Violence; Sciences Po.۔ 2013-08-20۔ صفحات 30, 31۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-04-20۔ 
  15. "Yogi Adityanath, Hindutva Firebrand, Is The New CM Of UP"۔ ہفنگٹن پوسٹ انڈیا۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-07-06۔ 
  16. "India's prime minister just selected an anti-Muslim firebrand to lead its largest state"۔ ووکس۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-04-12۔ 
  17. "Wag the dog: On Yogi Adityanath as UP CM"۔ دی ہندو (انگریزی زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-07-06۔ 
  18. "Saffron power in Gorakhpur"۔ دی ہندو۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 مارچ 2017۔ 
  19. "Smart father’s ‘simple’ son battles a Yogi"۔ ٹیلی گراف انڈیا۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 مارچ 2017۔ 
  20. ^ ا ب پ Anupam Trivedi, Father, villagers in Uttarakhand elated over Yogi Adityanath’s elevation as UP CM, Hindustan Times, 19 March 2017.
  21. "Yogi Adityanath, a Maths graduate who became a sanyasi"، دی اکنامک ٹائمز، 19 مارچ 2017 
  22. "How a Pauri youth turned into Yogi"۔ دی ٹائمز آف انڈیا۔ 4 ستمبر 2014۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 ستمبر 2014۔