یاس یگانہ چنگیزی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(یگانہ چنگیزی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
یاس یگانہ چنگیزی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 17 اکتوبر 1884  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 4 فروری 1956 (72 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی کلکتہ یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصنف،  شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

یاس یگانہ چنگیزی(پیدائش: 17 اکتوبر 1884ء – وفات: 4 فروری 1956ء) ہندوستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر تھے۔یگانہ چنگیزی کا اصل نام مرزا واجد حسین تھا۔ پہلے یاسؔ تخلص کرتے تھے لیکن بعد میں یگانہ ؔہو گئے۔ ان کے اجداد ایران سے ہندوستان آئے اور سلطنت مغلیہ کے دربار سے وابستہ ہو گئے۔ پرگنہ حویلی عظیم آباد میں جاگیریں ملیں اور وہیں سکونت پزیر ہوئے۔ اسکول کے زمانے سے انہوں نے شاعری کا آغا کیا اور بیتاب عظیم آباد ی سے کے شاگرد ہوئے۔ سنہ 1903ء میں کلکتہ یونیورسٹی سے انٹرنس کا امتحان پاس کیا اور اس کے بعد معاش کی جستجو میں مصروف ہو گئے، جس میں انہیں در در کی خاک چھاننی پڑی۔ چونکہ ان کی شادی لکھنؤ میں ہوئی تھی، اس لیے وہ لکھنؤ میں جا بسے لیکن وہاں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اپنی شاعری میں یگانہ تھے۔ انہوں نے ہمیشہ وہ راہ ترک کر دی جو پہلے سے مستعمل تھی، اس لیے لکھنؤ اسکول میں آتش کے بعد یگانہ ہی سب سے منفرد شاعر ہیں، جن کی آواز سب سے الگ محسوس ہو تی ہے۔ یاس یگانہ کا کلام ان کے مختلف مجموعوں اور اس زمانے کے رسالوں میں بکھرا ہوا تھا۔ ان اوراقِ لخت لخت کو نام ور محقق مشفق خواجہ نے اکٹھا کر 2003ء میں کلیاتِ یگانہ شائع کی، جس نے یگانہ کی شاعرانہ شخصیت کی بازیافت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

یگانہؔ چنگیزی 27 ذی الحجہ 1301ھ مطابق 17 اکتوبر 1884ء کو پٹنہ کے محلے مغل پورہ میں پیدا ہوئے۔ پانچ چھ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے۔ فارسی کی چند کتابیں پڑھنے کے بعد عظیم آباد (پٹنہ) کے محمڈن اینگلو عربک اسکول میں نام لکھوایا گیا۔ اسکول میں ہمیشہ اول رہے۔ پڑھنے میں اچھے تھے، اس لیے ہر سال وظیفہ اور انعام پاتے رہے۔1903ء میں انٹرنس پاس کیا۔ 1904ء میں مٹیا برج، کلکتہ گئے، جہاں شہزادہ مرزا مقیم بہادر کے صاحب زادوں شہزادہ محمود یعقوب علی مرزا اور شہزادہ محمد یوسف علی مرزا کی انگریزی تعلیم کے استاد مقرر ہوئے۔ لیکن کلکتہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی اور کچھ دنوں بعد وطن واپس چلے آئے۔ علاج کے سلسلے میں لکھنؤ آئے اور لکھنؤ کی فضا ایسی راس آئی کہ اچھے ہوکر بھی واپس جانا گوارا نہیں کیا۔ لکھنؤ ہی میں 1913ء میں شادی کرکے اسی کو اپنا وطن بنالیا۔

لکھنؤ کا قیام[ترمیم]

یگانہؔ کا لکھنؤ کا قیام بڑا ہنگامہ خیز اور معرکہ آرا رہا، جس کا اثر ان کے فن پر بھی پڑا۔ معرکہ آرائیوں نے بھی ان کے فن کو جلا بخشی۔ شروع میں لکھنؤ کے شعرا سے ان کے تعلقات خوشگوار تھے۔ اتنا ہی نہیں وہ عزیزؔ، صفیؔ، ثاقبؔ و محشرؔ وغیرہ کے ساتھ مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ جب عزیزؔ کی سرپرستی میں رسالہ ’’معیار‘‘ جاری ہوا اور معیار پارٹی وجود میں آئی تو یگانہؔ بھی اس پارٹی کے مشاعروں میں غالبؔ کی زمینوں میں غزلیں پڑھتے تھے۔ ان طرحی مشاعروں کی جو غزلیں’’معیار‘‘ میں چھپی ہیں، ان میں بھی یگانہؔ کی غزلیں شامل ہیں۔ لیکن یہ تعلق بہت دنوں تک قائم نہ رہ سکا اور لکھنؤ کے اکثر شعرا سے یگانہؔ کی چشمک ہو گئی۔ اس سلسلے میں مالک رام بہ زبان یگانہؔ تحریر کرتے ہیں کہ :

اب اس میں میرا کیا قصور ! یہ خدا کی دین ہے، میرا کلام پسند کیاجانے لگا۔ باہر کے مشاعروں میں بھی اکثر جانا پڑتا۔ میری یہ ہر دل عزیزؔی اور مقبولیت ان تھڑدلوں سے دیکھی نہ گئی۔[1]

یگانہؔ سے اہلِ لکھنؤ کی چشمک کا معاملہ کچھ یوں تھا کہ "معیار" پارٹی کے مشاعروں میں ان کے کلام پر خندہ زنی کی جاتی تھی اور بے سروپا اعتراض کیے جاتے تھے مگر یہ سب کچھ زبانی ہوتا تھا۔ اصلی اور تحریری جنگ کا آغاز خود یگانہؔ نے کیا۔ اس کے بعد ایک دوسرے کے خلاف لکھنے کا سلسلہ چل پڑا، جس کی انتہا ’’شہرتِ کاذبہ‘‘ نامی یگانہؔ کی کتاب ہے۔ لکھنؤ کے شعرا غالبؔ کے بڑے قائل تھے، لہٰذا یگانہؔ کے لیے اب یہ بات بھی ناگزیر ہو گئی کہ وہ غالبؔ کی بھی مخالفت کریں۔ غالبؔ کی مخالفت کے سلسلے میں انہیں اندھا مخالف نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ انہوں نے خود کہا ہے کہ :

یہ کس نے آپ کو بہکا دیا کہ میں غالب کا مخالف ہوں، وہ یقینا بہت بڑا شاعر ہے۔ صاحب ! غالبؔ کی صحیح قدر و منزلت مجھ سے زیادہ کون سمجھے گا۔ مجھے غصہ اس بات پر آتا ہے کہ لوگ اس کے جائز مقام سے زیادہ اسے دینا چاہتے ہیں ۔ اور پھر قسم یہ ہے کہ یہ بھی وہ لوگ نہیں، جو اس کا صحیح مقام سمجھتے ہوں، بلکہ وہ جو تقلیداً اسے بڑا سمجھتے ہیں ۔۔۔ تو صاحب ! میں غالبؔ کے خلاف نہیں تھا، اور نہ ہوں لیکن میں اس کی جائز جگہ سے زیادہ اس کے حوالے کردینے پر تیار نہیں ۔[2]

یگانہؔ نے اس مخالفت کے چلتے اپنے آپ کو ’’آتشؔ کا مقلد‘‘ کہنا شروع کر دیا اور اپنے مجموعۂ کلام ’’نشترِ یاس‘‘ کے سرورق پر اپنے نام سے پہلے ’’خاک پائے آتشؔ ‘‘ لکھا اورجب اس کے ایک سال بعد ’’چراغِ سخن‘‘ شائع ہوا تو انہوں نے اپنے آپ کو ’’آتشؔ پرست‘‘ کے درجے تک پہنچا دیا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے آتشؔ اور غالبؔ کا تقابلی مطالعہ کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آتشؔ، غالبؔ سے بڑا شاعر ہے۔ یہ مضمون رسالہ ’’خیال ‘‘ میں نومبر 1915ء میں شائع ہوا اور یہ سلسلہ ایک لمبی مدت تک جاری رہا۔ اس غالبؔ شکنی کی انتہا وہ رسالہ ہے، جو انہوں نے 1934ء میں ’’غالبؔ شکن‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ اس رسالے کو دوبارہ مزید اضافوں کے ساتھ 1935ء میں چھاپا۔ اس مخالفت کی وجہ سے یگانہؔ کا اچھا خاصا وقت ضائع ہو گیا کیوں کہ اس مخالفت سے نہ تو شعرائے لکھنؤ کا کچھ ہوا اور نہ ہی غالبؔ کو کچھ نقصان پہنچا بلکہ یگانہؔ ہی خسارے میں رہے کہ اپنی شاعری پر پوری طرح توجہ نہ دے سکے ۔

ان سب مخالفتوں اور معرکہ آرائیوں کے باوجود یگانہؔ کا ایک گروپ تھا، جن سے ان کے اچھے مراسم تھے۔ 1919ء میں انہوں نے ’’انجمن خاصانِ ادب‘‘ کے نام سے ایک ادبی انجمن قائم کی۔ اس انجمن کے صدر: بیخودؔ موہانی، سکریٹری: یگانہؔ اور جوائنٹ سکریٹری: عبد الباری آسی تھے۔ اس انجمن کے اعزازی رکن اور سرپرستوں میں فصاحتؔ لکھنوی اور سید مسعود حسن رضوی ادیبؔ جیسے لکھنوی اہل قلم بھی شامل تھے ۔

قیام دکن[ترمیم]

زندگی کے دوسرے مشاغل کے ساتھ ساتھ یگانہؔ کی ملازمت کا سلسلہ بھی ناہمواری کا شکار رہا۔ ایک عرصے تک وہ ’’اودھ اخبار‘‘ سے وابستہ رہے۔ لیکن حتمی طور سے یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ کب سے کب تک، البتہ ’’اودھ اخبار‘‘ کے مدیروں میں یگانہؔ کا نام شامل ہے۔1924ء میں یگانہؔ اٹاوہ چلے گئے، جہاں انہیں اسلامیہ ہائی اسکول میں ملازمت مل گئی۔ مارچ 1925ء کے آس پاس وہ اٹاوہ کو چھوڑ کر علی گڑھ چلے گئے، وہاں ایک پریس میں انہیں ملازمت مل گئی۔ 1926ء میں انہوں نے لاہور کا رخ کیا اور ’’اردو مرکز‘‘ سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں کا ماحول انہیں راس آیا۔ یہاں کے ادیبوں سے ان کے بہتر مراسم رہے۔ کئی کتابوں اوررسالوں کے چھپنے کی سبیل پیدا ہوئی۔ اقبالؔ کے یہاں بھی ان کا آنا جانا رہتا تھا۔ اقبالؔ بھی یگانہؔ کے بڑے قائل تھے۔ 1928ء میں یگانہؔ ’’اردو مرکز‘‘ سے علاحدہ ہو گئے لیکن قیام لاہور ہی میں رہا۔ لاہور کے بعد انہوں نے حیدرآباد دکن کا رخ غالباً 1928ء میں کیا۔ حیدرآباد میں ان کا قیام ان کے لیے کافی آسودگی لے کر آیا۔ جہاں ان کا تقرر نثار احمد مزاج کے توسط سے محکمہ رجسٹریشن میں ’’نقل نویس‘‘ کی حیثیت ہو گیا۔ یہاں ان کی آمدنی پچیس تیس روپے ماہوار تھی اور کبھی کبھی زیادہ بھی ہوجاتی تھی۔1931ء میں یگانہؔ محکمۂ رجسٹریشن میں باقاعدہ ملازم ہو گئے۔ یہ جگہ سب رجسٹرار کی تھی۔ اس طرح وہ ’’عثمان آباد‘‘، ’’لاتور‘‘ اور ’’یادگیر‘‘ میں اپنی خدمات انجام دیتے رہے اور 1942ء میں 55 برس کی عمر میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد ایک لمبے عرصے تک حیدرآباد ہی میں قیام رہا۔ 1946ء میں وہ بمبئی گئے اور وہاں اپنے بڑے بیٹے آغا جان کو ملازمت دلوائی۔ حیدرآباد میں نواب معظم جاہ نے انہیں اپنے دربار سے وابستہ کرناچاہا لیکن یگانہؔ راضی نہ ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد یگانہؔ بار بار حیدرآباد روزگار کی امید سے آتے رہے لیکن انہیں مایوسی ہی نصیب ہوئی۔

مجموعہ ہائے کلام[ترمیم]

یگانہؔ کا پہلا مجموعۂ کلام ’’ نشترِ یاس‘‘ 1914ء میں شائع ہوا۔ اس کا بڑا حصہ ان کے ابتدائی اور روایتی کلام پر مشتمل ہے۔ ان کا دوسرا مجموعہ ’’ آیاتِ وجدانی‘‘ کے نام سے 1927ء میں منظر عام پر آیا۔ یگانہؔ کی قدر و منزلت کا دار و مدار بڑی حد تک اسی مجموعے پر ہے۔ ’’آیاتِ وجدانی‘‘ کے بعد ان کا تیسرا مجموعہ ’’ترانہ‘‘ کے نام سے سات سال بعد 1933ء میں شائع ہوا۔ 1934ء میں ’’آیاتِ وجدانی‘‘ کا دوسرا اڈیشن منظر عام پر آیا۔ 1945ء میں اس مجموعے کا تیسرا اڈیشن بھی آگیا۔ اس اشاعت کا کام پہلی اشاعتوں سے بہتر تھا۔ 1946ء میں جب یگانہؔ بمبئی گئے تو اس وقت ان کی ملاقات سید سجاد ظہیر سے ہوئی تھی۔ ان کے لیے یگانہؔ نے اپنے تمام مجموعوں میں شامل کلام کو ’’گنجینہ‘‘ کے نام سے مرتب کر دیا۔ یہ مجموعہ کمیونسٹ پارٹی کے اشاعتی ادارے سے 1947ء میں شائع کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے چند کتابچے بھی لکھے تھے۔ مثلاً ’’ شہرتِ کاذبہ‘‘ جسے خرافاتِ عزیزؔ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے ’’غالبؔ شکن‘‘ بھی شائع کیا، جس سے لکھنؤ کے ادبی حلقوں میں بڑی اٹھا پٹک ہوئی ۔

شاعرانہ خصوصیات[ترمیم]

یگانہؔ ایک کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ حالانکہ انہوں نے قطعات و رباعیات بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ان کی غزلیں ہی ہیں۔ انہوں نے غزل کے موضوعات کے دائرے کو ایک نئی جہت اور اونچائی عطا کی اور ایسے مضامین نظم کیے جو پہلی بار حقیقت پسندانہ کیفیت کے ساتھ غزل کے افق پر نمودار ہوئے۔ وہ خود اپنی ذاتی زندگی میں، جس طرح کے شیریں و تلخ تجربات سے گزرے تھے اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا جس طرح تجربہ کیا تھا، اس سے ان کے دل و دماغ نے جو تاثرات قبول کیے تھے، انہیں واقعات نے ان کی غزلوں کو اصلیت پسندی اور تابناکی بخشی۔ ان کی غزل گوئی ان کے مزاج کی آئینہ دار ہے۔ وہ ایک خود دار اور صاف گو انسان تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بھی اس کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے ۔

زور کلام[ترمیم]

یگانہؔ کی شاعری میں جو چیز سب سے پہلے دل پر اثر کرتی ہے، وہ ہے ان کا زورِکلام۔ بندش کی چستی کے علاوہ بلند بانگ مضامین کے لیے ایسے الفاظ لے آتے ہیں، جو پوری طرح مفہوم کو ذہن نشین کرانے کے ساتھ ساتھ خیالات کو بھی جلا دیتے ہیں۔ دوسری چیز جو ان کی شاعری میں دلکشی پیدا کرتی ہے وہ ہے ’’طنز‘‘ ،ان کی شاعری کا یہ عنصر کہیں کہیں اتنا تیز اور تیکھا ہوتا ہے کہ زور بیان کا لطف دوبالا کردیتا ہے ۔

انسان کا انسان فرشتے کا فرشتہ

انسان کی یہ بوالعجبی یاد رہے گی

پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا

خدا تھے کتنے مگر کوئی آڑے آنہ گیا

کیسے کیسے خدا بنا ڈالے

کھیل بندے کا ہے خدا کیا ہے

حال دونوں کا ہے غیر،اب سامنا مشکل کا ہے

دل کو میرا درد ہے اور مجھ کو رونا دل کا ہے

جو خاک کا پتلا، وہی صحرا کا بگولہ

مٹنے پہ بھی اک ہستی برباد رہے گی

’’دردِدل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ‘‘

زندگی پھر کیوں ہوئی ہے دردِ سر میرے لیے

تخیل کی بلندی[ترمیم]

یگانہؔ کے کلام میں تخیل کی بلند پروازی اور فکر کی بالیدگی دیکھتے ہی بنتی ہے۔ وہ حقائق کو عالمِ بالا سے چن کر لاتے ہیں اور نہایت صفائی و سادگی کے ساتھ اشعار میں سمو دیتے ہیں۔ بندش ایسی ہوتی ہے کہ الفاظ و تراکیب میں مطلب ومفہوم الجھنے نہیں پاتا۔ ان کے کلام میں زیادہ تر حوصلہ اور ہمت افزائی کی لہریں موجزن نظر آتی ہیں۔ مصیبتوں میں گِھرجانے کے باوجودبھی انسان کو ہمت کسی بھی صورت میں ہارنا نہیں چاہیے ۔

مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا

ہمیں سر مار کر تیشے سے مرجانا نہیں آتا

بزم دنیا میں یگانہؔ ایسی بیگانہ روی

میں نے مانا عیب ہے لیکن ہنر میرے لیے

رات دن شوقِ رہائی میں کوئی سر پٹکے

کوئی زنجیر کی جھنکار سے دیوانہ بنے

واہ کس ناز سے آتا ہے ترا دور شباب

جس طرح دور چلے بزم میں پیمانے کا

باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے بازآ

ڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہے

بلند ہوتو کھلے تجھ پہ راز پستی کا

بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا

خودی[ترمیم]

یگانہؔ ایک خود دار،حق گو اور بے باک انسان تھے اور یہی خصوصیات ان کے کلام میں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی خودداری کہیں کہیں ’’اناپرستی‘‘ سے جا ملتی ہے، جسے بعض ناقدین نے ان کی ’’کجروی‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اپنے دور میں انہیں وہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی ،جس کے وہ مستحق تھے۔ ان کی زندگی کشمکش، آزمائش اور اتار چڑھاؤ سے عبارت تھی، اس کے باوجود ان کی شاعری میں زندگی سے فرار، مایوسی اور پست ہمتی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ زندگی کے ہر مرحلے کو طئے کرنے کی ان میں بڑی جرأت تھی۔ میرا خیال ہے شاید اسی وجہ سے ان کے کلام میں مایوسی، قنوطیت اور حرماں نصیبی نہیں پائی جاتی۔

ہنوز زندگی تلخ کا مزا نہ ملا

کمال صبر ملا صبر آزمانہ ملا

بہار آئے گی پھر یاس ناامید نہ ہو

ابھی تو گلشن ناپائدار باقی ہے

دل ہے حوصلہ ہے اک ذرا سی ٹھیس کا مہماں

وہ آنسو کیا پیے گا جس کو غم کھانا نہیں آتا

سراپا راز ہوں میں کیا بتاؤں،کون ہوں،کیا ہوں

سمجھتا ہوں مگر دنیا کو سمجھانا نہیں آتا

رہائی کا خیالِ خام ہے یا کان بجتے ہیں؟

اسیرو،بیٹھے کیا ہو گوش بر آوازِ در ہوکر

پاؤں ٹوٹے ہیں مگر آنکھ ہے منزل کی طرف

کان اب تک ہوس بانگ درا کرتے ہیں

تشبیہات و استعارات[ترمیم]

یگانہؔ کے کلام کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہیں فارسی ترکیبوں کے استعمال سے کافی لگاؤ تھا۔ تشبیہات کی جدت سے وہ طرزِبیان میں تازگی پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مصرعے نہایت چست ہوتے ہیں۔ ان کے یہاں الفاظ کی بندش سے اشعار میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ مثلاً:

وحشت آباد عدم ہے وہ دیارِ خاموش

کہ قدم رکھتے ہی ایک ایک سے بیگانہ بنے

حسن وہ حسن کبھی جس کی حقیقت نہ کھلے

رنگ وہ رنگ جو ہر رنگ میں شامل ہو جائے

چشمِ نامحرم سے، غافل،روئے لیلیٰ ہے نہاں

ورنہ اک دھوکا ہی دھوکا پردۂ محمل کا ہے

دیوانہ وار دوڑ کے کوئی لپٹ نہ جائے

آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھا نہ کیجیے

سیمابی کیفیت[ترمیم]

یگانہؔ نے صرف اپنا تخلص ہی یاس سے یگانہؔ (1920-21 میں ) نہیں کیا بلکہ 1932ء تک پہنچتے پہنچتے، اس میں چنگیزی کا اضافہ بھی کر لیا۔ اس کے بارے میں خودلکھتے ہیں کہ:

جس طرح چنگیز نے اپنی تلوار سے دنیا کا صفایا کر دیا تھا ،اسی طرح جب سے میں نے غالبؔ پرستوں کا صفایا کرنے کا تہیہ کیا ہے،یہ لقب اختیار کیا ہے۔[3]

یہ تبدیلی صرف تخلص تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ نظریات و افکار میں بھی تبدیلی کی دلالت ہے۔ اہلِ لکھنؤ سے ان کے معرکے نے انہیں اور خود سر اور پر اعتماد بنا دیا۔ انہیں معرکوں کے باعث ان کے لہجے میں تیزی آئی۔ یہاں یگانہؔ کے کلام سے کچھ ایسے شعر دیکھتے چلیں، جن سے ان کے لہجے کا انوکھا پن ہی نہیں بلکہ تیکھا پن بھی سامنے آجائے توشاید کوئی مضائقہ نہ ہو۔

کون دیتا ہے ساتھ مردوں کا -

حوصلہ ہے تو باندھ ٹانگ سے ٹانگ

موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی -

لے دعا کرچکے اب ترک دعا کرتے ہیں

کلامِ یاس سے دنیا میں پھر اک آگ لگی -

یہ کون حضرتِ آتَشؔ کا ہم زباں نکلا

دن چڑھے سامنا کرے کوئی

شمع کیا شمع کا اجالا کیا

صبر کرنا سخت مشکل ہے، تڑپنا سہل ہے

اپنے بس کا کام کرلیتا ہوں آساں دیکھ کر

مندرجہ بالا اشعار یگانہؔ کی یگانہ روی کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ زبان و بیان کے اعتبار سے ان کا کلام ان کے کسی ہم عصر سے کم تر نہیں ہے۔ روزمرہ محاوروں کا استعمال، طرزِ ادا، کلام میں روانی اور بے ساختگی یگانہؔ کی خاص پہچان بن گئے تھے۔

رباعی[ترمیم]

یگانہ نے اپنی رباعیوں میں بھی ایک طرح کی جدت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ دیگر شعرا سے ان کا رنگ الگ رہے۔ اس فراق میں انہوں نے ایسی بندشیں اور محاورے استعمال کیے جو منجھے ہوئے نہیں تھے یا جن پر زبان کی صفائی نے ابھی تک جلا نہیں کی تھی۔ لیکن یہ بات طئے ہے کہ یگانہؔ کو رباعی کے فن پر کامل عبور تھا۔ وہ اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ رباعی کے چوتھے مصرعے میں خیال کی تان ٹوٹتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رباعیاں ہمیں اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہیں۔ انہوں نے غالبؔ کے کلام پر بھی رباعی میں اظہار خیال کیا تھا۔ یگانہؔ کی رباعیوں کے مجموعے کا نام ’’ ترانہ ‘‘ ہے، جسے کافی سراہا گیا ہے۔ ان کی رباعیوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے تمام تر رباعیوں کو عنوان دے کر رقم کیا ہے۔ مثلاً : ’’ تحفۂ درد‘‘ ملاحظہ ہو:

دل کو پہلے ٹٹول لیتا ہوں

پھر تحفۂ درد مول لیتا ہوں

آثارِ زلال و درد و مستی و خمار

آنکھوں آنکھوں میں تول لیتا ہوں میں

’’ حسن دو روزہ ‘‘

سورج کو گہن میں نہیں دیکھا شاید

کیوں، چاند کو گہن میں نہیں دیکھا شاید

اے حسن دو روزہ پہ اکڑنے والو -

یوسف کو کفن میں نہیں دیکھا شاید

’’ٹیڑھے مرزا‘‘

شاہوں سے مری کلاہ ٹیڑھی ہی رہی

بد مغزوں سے رسم و راہ ٹیڑھی ہی رہی

ٹیڑھے مرزا کو کون سیدھا کرتا

سیدھی نہ ہوئی نگاہ ٹیڑھی ہی رہی

غالب شکنی[ترمیم]

یگانہؔ نے غالبؔ شکنی کے باعث بڑی بدنامی مول لی لیکن یہ بدنامی ایسے ہی نہیں تھی بلکہ انہوں نے بہت سی رباعیاں اس سلسلے میں کہی تھیں۔ ان کی اس رنگ کی بھی چند رباعیاں پیش ہیں تاکہ حقیقت کا اندازہ کیا جاسکے ۔

غالبؔ کے سوا کوئی بشر ہے کہ نہیں

اوروں کے بھی حصے میں ہنر ہے کہ نہیں

مردہ بھیڑوں کو پوجتا ہے ناداں

زندہ شیروں کی کچھ خبر ہے کہ نہیں

اللہ ری ہوا وہو میں خلعت و زر مرزا کا

سر ہے اور انگریز کا در ہاں کیوں نہ ہوں

مورکھوں کے دیوتا غالبؔ ہے

باؤلے گاؤں اونٹ بھی پرمیشر

وفات[ترمیم]

یگانہ کا انتقال 4 فروری 1956ء کی صبح لکھنؤ میں ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرزا یگانہؔ چنگیزی، مضمون مشمولہ، میرزایگانہ :شخصیت اور فن ص: 20
  2. مضمون از مالک رام مشمولہ ،میرزا یگانہؔ :شخصیت اور فن ،ص: 19
  3. یگانہؔ سوانحی خاکہ، مشمولہ، کلیاتِ یگانہؔ چنگیزی، ص: 68

بیرونی روابط[ترمیم]