یگیشے چارینتس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یگیشے چارینتس
(آرمینیائی میں: Եղիշե Չարենց خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Yeghishe Charents Armenian poet.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 مارچ 1897  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
قارص[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 27 نومبر 1937 (40 سال)[2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
یریوان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات قتل،  وسزائے موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Russia.svg سلطنت روس
Flag of the Soviet Union (1922–1923).svg سوویت اتحاد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت اشتمالی جماعت سوویت اتحاد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مترجم،  وشاعر[4]،  ونثر نگار،  ومصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان آرمینیائی زبان[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

یگیشے چارینتس (آرمینیائی: Եղիշե Չարենց، پیدائش: 13 مارچ 1897ء - وفات: 27 نومبر 1937ء) سوویت آرمینیا کے عظیم شاعر، مصنف اور عوامی کارکن تھے۔

حالات زندگی و تخلیقی دور[ترمیم]

یگیشے چارینتس صوبہ قارص، آرمینیا، روسی سلطنت میں 13 مارچ 1897ء کو قالین کے تاجر کے گھر پیدا ہوئے۔ عظیم شاعر، خانہ جنگی کے سرگرم شریک، سوویت آرمینیا میں شوشلزم کی فتح کے مغنی یگیشے چارینتس یادگار نظموں اور منظم داستانوں دانتوں کا افسانہ، ایتلا، سوما، جنونی ہجوم، عوام کا گیت، بریوسوف کے استادانہ ترجمے کی ساری نظمیں،پیرس کے قبرستان میں کمیوناردوں کی دیوار، باکو کے 26 کمیساروں کی داستان، گھنگھریالے بالوں والا لڑکا وغیرہ کی حیثیت سے لازوال شہرت کے حامل ہیں۔[6]

انقلاب کے بانی مبانی لینن سے چارینتس نے اپنی نظمیں 'چچا لینن، لینن اور علی،ولادیمیر ایلیئچ، کسان اور ایک جوڑی فل بوٹ کی داستان معنون کیں۔ اپنی نظموں کا لاجواب مجموعہ کتاب راہ مکمل کرنے کے بعد انہیں المناک موت نے آلیا۔ چارینتس کی غنائی اور رزمیہ استعداد مایا کوفسکی کی استعداد کے پیمانے کی ہے۔ اس کا اندازہ خاص طورسے چارینتس کی ان تخلیقات سے ہوتا ہے کو انہوں نے ولادیمیر ایلیئچ لینن سے معنون کی ہیں۔فرانس، اٹلی، جرمنی اور ترکی کا سفر کرنے کے بعد چارینتس نے نظموں کا ایک پورا سلسلہ تخلیق کیا جو شعلہ بار پرولتاری بین الاقوامیت پسندی سے مملو ہے۔ ان کے ہرو ہیں خانہ جنگی کے سورما لیپاریت مخچیان اور جارجیائی نوجوان کمیونسٹ لیگ کے بانی بریس دزینیلادزے اور باکو کے کمسومول کا گمنام ممبر۔[7]

چارینتس نے اپنی شاعری میں اپنے پورے سوزوگداز کے ساتھ سرمایہ دارانہ ظلم و جبر سے محنت کش عوام کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لازوال و لافانی ہونے کی توثیق کی۔[7]

تخلیقات[ترمیم]

نظمیں[ترمیم]

  • دانتوں کا افسانہ (16-1915ء)
  • ایتلا
  • سوما (1918ء)
  • جنونی ہجوم
  • عوام کا گیت
  • پیرس ے قبرستان میں کمیوناردوں کی دیوار
  • باکو کے 26 کمیساروں کی داستان
  • گھنگھریالے بالوں والا لڑکا
  • ولادیمیر ایلیئچ، کسان اور ایک جوڑی فل بوٹ کی داستان
  • لینن اور علی
  • چچا لینن (1924ء)

مجموعۂ شاعری[ترمیم]

  • کتاب راہ (34-1933ء)

وفات[ترمیم]

یگیشے چارینتس 40 سال کی عمر میں 27 نومبر 1937ء کو یریوان، آرمینیا کی جیل اسپتال میں کر گئے۔[8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.panarmenian.net/eng/culture/news/58579/
  2. http://avproduction.am/?ln=en&page=person&id=108
  3. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w67s9v0p — بنام: Yeghishe Charents — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. http://www.imdb.com/title/tt1521716/
  5. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12300479b — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. ظ انصاری، تقی حیدر، موج ہوائے عصر، رادوگا اشاعت گھر ماسکو، سوویت یونین، 1985ء ،ص177
  7. ^ ا ب ظ انصاری، تقی حیدر، موج ہوائے عصر، رادوگا اشاعت گھر ماسکو، سوویت یونین، 1985ء،ص178
  8. http://russiapedia.rt.com/prominent-russians/literature/nikolay-zabolotsky/