یہودیوں کی قومی ریاست کا بنیادی قانون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

یہودیوں کی قومی ریاست کا بنیادی قانون (عبرانی: חוק יסוד: ישראל - מדינת הלאום של העם היהודי‎) ایک بنیادی قانون ہے جس کی رو سے اسرائیل اب صرف یہودیوں کا ملک ہے۔ قومی ریاست کے اس قانون کو قومیت کا بل بھی کہا جاتا ہے۔ اس بل کے مطابق اب اسرائیل یہود کی قومی ریاست ہے۔[1] اس قانون کو کنیست میں 55 کے مقابلے 62 ووٹوں کی موافقت سے 19 جولائی 2018ء کو منظور کیا گیا۔[2][3] [4][5][6][7][8][9] بین الاقوامی سطح پر اس قانون کی زبردست تنقید کی جا رہی ہے، یہاں تک کہ بیرون اسرائیل منتشر یہودی آبادی بھی اس بل سے خوش نہیں ہے۔[10][11][12][13][14][15]

قانون سازی کی تاریخ[ترمیم]

3 اگست 2011ء کو خارجہ امور اور دفاع کمیٹی کے چیئرمین اوی ڈیچر نے کنیست کے 39 ارکان کے ساتھ مل کر ایک مسودہ قانون پیش کیا تھا جس میں اسرائیل کو یہود کی قومی ریاست قرار دیا گیا اور یہ کہ اسرائیل کا تعین یہود کی قومی ریاست کے طور پر کیا جائے۔ [16] اس بل میں مندرجہ ذیل نکات پیش کیے گئے تھے:

  • اسرائیل کا یہود کی قومی سیاست کے طور پر تعین کیا جائے۔
  • حق خودارادیت صرف یہود کے لیے خاص ہو۔
  • اسرائیل میں نسلی برادری بنائی جائے تا کہ ہر شہری اپنی تہذیب و ثقافت کو اپنا سکے اور عمل کر سکے۔
  • عبرانی زبان کو سرکاری زبان بنایا جائے اور عربی زبان کو خصوصی زبان کا درجہ دیا جائے۔
  • عبرانی تقویم ریاست اسرائیل کا رسمی کلینڈر ہو۔
  • عبرانی قانون اسرائیلی قانون سازوں کی پہلی ترجیح ہو اور تمام قوانین اسی کی روشنی میں بنائے جائیں۔[17]

بنیادی قانون کا متن[ترمیم]

بنیادی اصول[ترمیم]

اس میں تین اہم بنیادی اصول ہیں:[18][19]

  1. ارض اسرائیل یہود کا تاریخی مادر وطن ہے جہاں ریاست اسرائیل قائم ہے۔
  2. ریاست اسرائیل یہود کی قومی ریاست ہے جہاں یہود کی فطری، ثقافتی، مذہبی اور تاریخی حقوق کی پاسداری ہوتی ہے۔
  3. ریاست اسرائیل میں حق خودارادیت صرف یہود کے لیے محفوظ ہوں۔[18][19]

ریاست کی علامت[ترمیم]

یہ شق ریاست کا نام ‘‘اسرائیل‘‘ بتاتی ہے اور مندرجہ ذیل ریاست کی علامات کا تعین کرتی ہے:

دار الحکومت[ترمیم]

یہ شق وضاحت کرتی ہے کہ "مکمل اور متحد" یروشلم ریاست اسرائیل کا دار الحکومت ہو۔ [18][19]

زبان[ترمیم]

اس شق میں درج ہے کہ عبرانی زبان ریاست کی سرکاری زبان ہو جبکہ عربی زبان کو خصوصی زبان کا درجہ دیا جائے۔[18][19]

مہاجرین کا اجتماع[ترمیم]

عالیہ کے تحت آنے والے یہودی مہاجرین کے لیے ریاست کے دروازے کھلے ہیں۔[18][19]

یہودیوں سے ربط و تعلق[ترمیم]

اس شق میں 3 ایسے اصول بیان کیے گئے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ ریاست اسرائیل یہودیوں کا خیال رکھتی ہے۔

  1. ایک یہود کو یہودیت کے اسرائیل شہری ہونے کی بنا پر کہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور نہ ہی اسے کہیں قید کیا جائے۔
  2. یہود کی منتشر آبادیوں میں کام کیا جائے تاکہ ان سے تعلقات استوار ہوں۔
  3. بیرون اسرائیل یہود کی آبادیوں میں یہودی تاریخ، یہودی ثقافت اور یہودیت کے تحفظ کے اقدامات کیے جائیں۔[18][19]

یہودی آبادکاری[ترمیم]

اس شق کی رو سے ریاست اسرائیل یہودی آباد کاری کو قومی درجہ دیا جائے اور اس کے لیے سرکاری سطح پر کوششیں کی جائیں۔[18][19]

سرکاری تقویم[ترمیم]

یہ شق عبرانی تقویم کو سرکاری تقویم کا درجہ دیتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ عیسوی تقویم عبرانی تقویم کے ساتھ استعمال کی جائے۔ تقویم کے استعمال میں عدالت کی مداخلت ضروری ہے۔[18][19]

یوم آزادی[ترمیم]

اس شق میں یوم آزادی اسرائیل کو سرکاری تعطیل قرار دیا گیا ہے۔[18][19]

یوم راحت اور سبت[ترمیم]

سبت کو سرکاری چھٹی کا دن قرار دیا جائے؛ اس شق میں غیر یہودیوں کو اپنے حساب سے اپنا مذہبی دن منانے کی آزادی ہے۔[18][19]

امتیازیت[ترمیم]

اس شق میں تصریح کی گئی ہے کہ اس مذکورہ بنیادی قانون میں کوئی ترمیم نہیں ہوگی جب تک کنیست کے ارکان کی اکثریت کوئی دوسرا بنیادی قانون متعارف کروائے۔[18][19]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Press Releases from the Knesset"۔ knesset.gov.il۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 July 2018۔ 
  2. RAOUL WOOTLIFF۔ "Israel passes Jewish state law, enshrining ‘national home of the Jewish people’"۔ The Times of Israel۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 July 2018۔ 
  3. "Israel Passes ‘National Home’ Law, Drawing Ire of Arabs"۔ The New York Times (en زبان میں)۔ 18 July 2018۔ 
  4. Isabel Kershner (19 July 2018)۔ "Israel Passes Law Anchoring Itself as Nation-State of the Jewish People"۔ The New York Times۔ اصل سے جمع شدہ 19 July 2018 کو۔ 
  5. "The Jewish State Must Remain Jewish"۔ Algemeiner.com۔ 19 July 2018۔ 
  6. Andrew Carey؛ Oren Liebermann (19 July 2018)۔ "Israel passes controversial 'nation-state' bill into law"۔ CNN۔ 
  7. "Israel passes controversial Jewish nation-state law"۔ ABC News (en زبان میں)۔ 20 July 2018۔ 
  8. Jonathan Lis (19 July 2018)۔ "Israel's Contentious Nation-state Law: Everything You Need to Know"۔ Haaretz (en زبان میں)۔ 
  9. "Israel adopts symbolic but divisive Jewish nation-state law"۔ english.alarabiya.net (en زبان میں)۔ 
  10. Paul Goldman, Lawahez Jabari and F. Brinley Bruton, 'Israel 'nation-state' law prompts criticism around the world, including from U.S. Jewish groups,' NBC News 20 Julyt 2018
  11. Emma Green, Israel's New Law Inflames the Core Tension in Its Identity, The Atlantic 21 July 2018
  12. "EU leads criticism after Israel passes Jewish 'nation state' law"۔ theguardian.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 July 2018۔ 
  13. "OIC, MWL condemn Israel’s nation-state law as racist and illegal"۔ arabnews.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 July 2018۔ 
  14. "Board of Deputies criticises Israel's new 'regressive' Nation State law"۔ thejc.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 July 2018۔ 
  15. "AJC Criticizes Knesset Adoption of Nation-State Bill"۔ phillytrib.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 July 2018۔ 
  16. "Bill would secure country’s status as Jewish state"۔ The Jerusalem Post۔ 4 August 2011۔ 
  17. Basic Law: Israel is the nation-state of the Jewish people Ministry of Justice, www.justice.gov.il
  18. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ "Full text of Basic Law: Israel as the Nation State of the Jewish People"۔ The Knesset: Press Releases۔ State of Israel۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 July 2018۔ 
  19. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ Raoul Wootliff۔ "Final text of Jewish nation-state law, approved by the Knesset early on July 19"۔ The Times of Israel۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 July 2018۔