یہود بحیثیت برگزیدہ قوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

یہودیت میں برگزیدگی (عبرانی: בחירת עם)، بحیثیت قوم یہ معنی رکھتی ہے کہ خدا نے انہیں منتخب کیا اور ان سے وعدہ کیا اس بنا پر یہودی خود کو برگزیدہ قوم قرار دیتے ہیں۔ یہ تصور یا عقیدہ پہلی بار تورات میں ملتا ہے اور اس کے بعد کی کتابوں جیسے عبرانی انجیل تک میں بھی مذکور رہا۔ خاخامی ادب میں اس خصوصیت پر بے شمار مواد موجود ہے۔ یہودیت کے تین معتبر فرقوں راسخ العقیدہ یہودیت، رجعت پسند یہودیت اور اصلاحی یہودیت کا پختہ عقیدہ ہے کہ خدا نے انہیں اپنی خاص الخاص منشا کے تحت چن کر برگزیدگی عطا کی۔

کتاب مقدس میں[ترمیم]

یہودیوں کی برگزیدگی کا استدلال تورات کی ان آیات سے کیا جاتا ہے :

خداوند نے جو تُم سے محبت کی اور تمکو چُن لیا تو اِسکا سبب یہ نہ تھا کہ تُم شمار میں اور قوموں سے زیادہ تھے کیونکہ تُم سب قوموں سے شمار میں کم تھے ؟ بلکہ چونکہ خداوند کو تُم سے محبت ہے اور وہ اُس قسم کو جو اُس نے تمہارے باپ دادا سے کھائی پورا کرنا چاہتا تھا اِس لیے خداوند تُمکو اپنے زور آور ہاتھ سے نکال لایا اور غُلامی کے گھر یعنی مصر کے بادشاہ فرعون کے ہاتھ سے تم کو مخلصی بخشی۔[1]

سو اب اگر تُم میری بات مانو اور میرے عہد پر چلو تو سب قوموں میں سے تم ہی میرےمیری خاص مِلکیت ٹھہرو گے کیو نکہ ساری زمیں میری ہے۔ اور تم میرے لیے کاہنوں کی ایک مملکت اور ایک مقدس قوم ہوگے۔[2]

البتہ عہد نامہ قدیم میں سے بعض آیات بنی اسرائیل پر شدید تنقید بھی کی گئی ہے؛

وہ ایک ایسی قوم ہیں جو مصلحت سے خالی ہو اُن میں کچھ سمجھ نہیں۔ کاش وہ عقلمند ہو تے کہ اِسکو سمجھے اور اپنی عاقبت پر غور کرتے ![3]

بیل اپنے مالک کو پہچانتا ہے اور گدھا اپنے مالک کی چرنی کو لیکن بنی اسرائیل نہیں جانتے۔ میرے لوگ کچھ نہیں سوچتے۔[4]

یہودی نقطہ نظر[ترمیم]

برگزیدگی کا عمومی یہودی نقطہ نظر دو حصوں پر مشتمل ہے ایک یہ کہ خدا نے بنی اسرائیل کو منتخب کیا اور دوسرا یہ کہ بنی اسرائیل نے بھی خدا کا انتخاب کیا۔ اگرچہ یہ یہودیوں کا واجب نظریہ نہیں تاہم سلطنت اسرائیل اور سلسلہ اسرائیل میں خاص مذہبی اہمیت کا حامل ہے۔ یہودیوں کے بعض فرقے مثلاً کابالائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا نے یہودیوں کو تخلیق عالم سے بھی پہلے منتخب کر لیا تھا۔

یہودیوں کے ہاں برگزیدگی کی اس بحث میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ خدا نے یہودیوں کو ایسے خصوصی انعامات، اعزازات اور فرائض سے نوازا جو کسی غیر یہودی قوم کو نصیب نہ ہوئے۔ اور اس کیے انہیں خود سے کمتر گردانتے ہیں۔ مثال کے طور پر میشنا 3:14 میں مذکور ہے: کاہن آکیوا نے کہا: آدم محبوب ہیں کہ وہ صورت خدا پر خلق کیے گئے اور یہ کہ خدا نے آدم سے کہا کہ انہیں اپنی صورت ہر خلق کیا جو اس بات کی اہمیت پر دلیل قاطع ہے۔ اسی طرح آفرینش 9:6 میں آتا ہے ؛ اسے صورت خدا پر خلق کیا گیا۔ میشنا میں اسی کو آگے بڑھایا گیا : اسرائیل کے بیٹے محبوب ہیں اس لیے کہ وہ خدا کے بیٹے گردانے گئے اور ان سے کہا گیا کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں اور خدا کا خود یہ کہنا اس پر دلیل ہے۔ اسی طرح تورات میں کہا گیا: تم سب خدا کے بیٹے ہو، تمہارا خدا بنی اسرائیل کو محبوب رکھتا ہے کہ تورات میں ان کے لیے آیات گراں قدر مذکور ہیں۔

اکثر یہودی کتب میں یہ عقیدہ ہے کہ خدا نے یہودیوں کو برگزیدگی عطا کر کے انہیں تمام عالم کی طرف پیغام خدا پہچانے کے عظیم کام پر مامور کیا۔ اور اگر یہودی یہ ذمہ داری نہ بھی نبھائیں تب بھی ان کی برگزیدگی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہ وہ اعزاز ہے جو خدا نے ابراہام سے وعدے کے وقت عطا کیا اور دوسری بار جب یہودی طور سینا پر تھے تو اس کا اعادہ کیا گیا۔ اسی وجہ سے یہودیوں کی روحانی زندگی کو مقربین خدا کا عنوان دیا جا سکتا ہے۔

روحانیت یہود کے مطابق خدا نے تورات کو سارے عالم کے لیے نازل کیا لیکن ماسوائے اسرائیل کے سب نے اسے رد کر دیا۔

قبالہ کے مطابق[ترمیم]

قبالہ کے کئی نوشتہ جات جیسے تانیا اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ روحانیت میں یہود کے مماثل غیر یہودی بھی ہیں۔ حالانکہ قبالہ میں سے ہی کچھ اس بات کے بھی معتقد ہیں کہ اس مسئلہ کے مطالب کو کلی طور پر لغوی معنوں میں نہیں لینا چاہئے۔ تانیا کا مصنف لکھتا ہے کہ ایک غیر یہودی بھی کوئی صالح بندہ اپنے روحانی درجات اس قدر بلند کر سکتا ہے کہ فرشتوں کا قرب حاصل کر لے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ اس کا روحانی مقام یہودیوں کی نسبت درجات و توصل کے لحاظ سے مختلف ہوگا۔

ناقدین[ترمیم]

ربی موردکی کفلان یقین رکھتا ہے کہ برگزیدگی کا یہ نسل پرستانہ عقیدہ جو یہودیت میں سرایت کرگیا ہے اسے ختم ہونا چاہئے۔ اس طرح اس نے یہودیت میں جن افکار کی بنیاد رکھی اس سے برگزیدگی کے بہت سے اسلوبی معانی یہودیت سے خارج ہوئے۔

مسیحیت کی رو سے[ترمیم]

چونکہ مسیحی بھی کتاب عہد نامہ قدیم پر ایمان رکھتے ہیں اس لیے برگزیدگی کے مسئلہ پر بنی اسرائیل کو ان کی تائید بھی حاصل ہے ؛ لیکن کچھ مسیحی اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع مسیح کے آنے پر یہودیت منسوخ ہو گئی اور وعدہ خداوندی یہودیوں سے واپس پھیر کر مسیحیوں سے مقرر کر دیا گیا۔

قرآن کی رو سے[ترمیم]

قرآن میں فرزندان اسرائیل (یعقوب) کا ذکر خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ اور قرآن میں خدا کے بنی اسرائیل کو برگزیدہ کرنے کی تائید ملتی ہے اور کئی آیات میں اس مسئلے کی طرف اشارہ ہوا ہے:

اے یعقوب کی اولاد! میرے وہ احسان یاد کرو، جو میں نے تم پر کئے تھے اور یہ کہ میں نے تم کو جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی ۔ البقرة : 47

لیکن اسلامی اور یہودی نقطہ نظر میں اہم ترین فرق یہ ہے کہ قرآن یہودیوں کی برگزیدگی کو اس میثاق سے مشروط قرار دیتا ہے جو بنی اسرائیل اور خدا کے مابین ہوا تھا۔ جس کے مطابق خدا اپنے وعدے کو اس وقت تک رائج رکھے گا جب تک بنی اسرائیل اپنے وہ فرائض جو میثاق میں مذکور ہیں پر عمل پیرا رہیں گے۔

اے یعقوب کی اولاد! میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا۔ میں اس اقرار کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا۔ البقرة : 40

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لےکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلا دیتے اور ایک جماعت کو قتل کر دیتے تھے۔

المائدة : 70

اس کی رو سے مسلمانوں اور یہودیوں کے مابین اس مسئلہ پر جو اہم ترین اختلاف ہے وہ یہ کہ یہودی سمجھتے ہیں کہ ان کے اعمال جیسے بھی ہوں خدا کا وعدہ منسوخ نہ ہوگا، نعمتیں ان سے نہ چھنیں گی اور نہ ان سے سرزمین موعود واگزار ہوگی؛ جبکہ قرآنی نقطہ نظر کے مطابق یہ سب اس وقت ہوگا جب وہ اپنے عہد سے ایفا کرینگے۔

اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکوکار بندے ملک کے وارث ہوں گے۔ الانبیاء : 105

اسی وجہ سے رومیوں کے ہاتھوں یروشلم میں ھیکل سلیمانی کی تباہی اور بنی اسرائیل کے بارہ گروہوں میں بٹ جانے کو مسلمان یہودیوں پر غضب الہی گردانتے ہیں۔ جبکہ یہودی سمجھتے ہیں کہ خدا نے از راہ کرم انہیں تمام عالم میں پھیلا دیا تاکہ سارا جہان اور غیر یہودی اقوام (دیکھیے نور اقوام عالم میں) ان کی برکتوں سے فیض یاب ہوں۔ جبکہ قرآنی نقطہ نظر سے یہودیوں کا دنیا میں منتشر ہوجانا بھی ان پر غضب الہی تھا۔

(اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انہیں بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔ الاعراف : 167

دیگر مذاہب پر اثرات[ترمیم]

عالمی یہودی کانگریس کا ایک محقق آوی بکر یقین رکھتا ہے کہ مسئلہ برگزیدگی یہودیوں اور غیر یہودیوں کے مابین وجہ تعلق ہے۔ اس کے مطابق یہودیوں کی برگزیدگی غیر یہودی اقوام میں تحسین و حسد کا مادہ پیدا ہوا اور یہی ضد سامیت کا باعث بنا۔ وہ کہتا ہے کی عیسائیوں نے یہودیوں کی نسبت اپنے نظریات کو تبدیل کیا جبکہ مسلمانوں نے ابھی تک ایسا نہیں کیا، عربوں اور اسرائیل کے مابین رابطوں میں یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

نسل پرستی[ترمیم]

فلسفی زیولوی جیسے کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ اسرائیلیوں کے عقیدہ برگزیدگی کو تاریخی وقائع کے حوالے سے ہی دیکھا جانا چاہئے۔ ان کے مطابق برگزیدگی کو اس قدر عمیق عقیدہ نہیں بنانا چاہئے کہ غیر برگزیدہ اقوام کے حوالے سے یہ قومی تعصب اور نسل پرستی قرار پائے۔

اور بعض یہ کہتے ہیں برگزیدگی میں راسخ العقیدگی تعصب ، نسل پرستی اور غیر یہودی اقوام کی تحقیر کے مترادف ہے۔

جبکہ اتحاد ضد افتراء اور دیگر یہودی تنظیموں کے مطابق یہودیت کا عقیدہ برگزیدگی نسل پرستی یا تعصب نہیں بلکہ خدا اور بنی اسرائیل کے مابین خاص رابطے کا اظہار ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. استثنا 7:7
  2. خروج 19:5
  3. استثنا 32:28
  4. یسعیاہ 1:3