جنگ آزادی ہند 1857ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(1857ء کی جنگ آزادی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
جنگ آزادی ہند 1857ء
Indian Rebellion of 1857.jpg
1912 کا ایک نقشۂ ہندوستان جو جنگِ آزادی کو بیاں کرتا ہے۔اس خطے میں دلی ،جھانسی،میرٹھ، گوالیار مشارکین ظاہر ہے۔
تاریخ10 مئی 1857ءیکم نومبر 1858ء
(1 سال 5 ماہ 22 دن)
مقامہندوستان (cf. 1857)[1]
نتیجہ ہندوستانی افواج کو کچل دیا گیا، ایسٹ انڈیا کمپنی کے سارے طاقتیں براہ راست برطانوی تاج کے سپرد کیا گیا (برطانوی سلطنت میں شامل کیا گیا)،مغل سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔
سرحدی
تبدیلیاں
برطانوی راج نے کچھ علاقوں کو ان کے اپنے باشندوں کو سونپا جبکہ ذیادہ تر علاقوں کو برطانوی تاج میں شامل کر دیا۔
محارب

Fictional flag of the Mughal Empire.svg سلطنت مغلیہ
Flag of the British East India Company (1801).svg ایسٹ انڈیا کمپنی کے سپاہی جو انگریزوں کے خلاف تھے
سات ہندوستانی نوابی ریاستیں

Flag of مملکت متحدہ برطانوی فوج
Flag of the British East India Company (1801).svg ایسٹ انڈیا کمپنی وفادار سپاہی
Native irregulars
East India Company British regulars Flag of مملکت متحدہ British and European civilian volunteers raised in the Bengal Presidency
21 نوابی ریاستیں


Flag of Nepal (19th century-1962).svg Kingdom of Nepal
کمانڈر اور رہنما
Flag of سلطنت مغلیہ بہادر شاہ ظفر
Flag of the Maratha Empire.svg نانا صاحب
Flag of the British East India Company (1801).svg بخت خان
Flag of the Maratha Empire.svg جھانسی کی رانی
Flag of the Maratha Empire.svg تانتیا توپی
अवध ध्वज.gif بیگم حضرت محل
Ishwori Kumari Devi, Rani of Tulsipur
Commander-in-Chief, India:
Flag of مملکت متحدہ جارج انسن ( مئی 1857 تک)
Flag of مملکت متحدہ Sir Patrick Grant
Flag of مملکت متحدہ سر کولن کیمبل (اگست 1857 سے)
Flag of Nepal (19th century-1962).svg جنگ بہادر[2]

اسباب[ترمیم]

framepx

ہندوستانیوں کی انگریز کے خلاف پہلی آزادی کی مسلح جنگ۔ انگریزوں نے اس جنگ کو غدر کا نام دیا۔ عموماً اس کے دو سبب بیان کیے جاتے ہیں۔ اولاً یہ کہ ایسٹ ایڈیا کمپنی نے ہندوستان کے تمام صوبے اور کئی ریاستیں یکے بعد دیگرے اپنی حکومت میں شامل کر لی تھیں۔ جس کی وجہ سے ہندوستانیوں کے دل میں کمپنی کے متعلق شکوک پیدا ہو گئے۔ دوم یہ کہ ان دنوں جوکارتوس فوجیوں کو دیے جاتے تھے۔ وہ عام خیال کے مطابق سور اور گائے کی چربی سے آلودہ تھے اور انھیں بندوقوں میں ڈالنے سے بیشتر دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا۔ ہندو اور مسلمان فوجی سپاہیوں نے اسے مذہب کے منافی سمجھا اور ان میں کھلبلی مچ گئی۔ جن سپاہیوں نے ان کارتوسوں کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا ان کی فوجی وردیاں اتار کر انھیں بیڑیاں پہنا دی گئیں۔ ان قیدیوں مین بہت سے ایسے تھے جنہوں نے انگریزوں کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں دی تھیں۔

واقعات[ترمیم]

جنگ آزادی ہند کا آغاز 1857ء میں بنگال میں دمدم اور بارک پور کے مقامات پر ہوا جہاں دیسی سپاہیوں نے ان کارتوسوں کے استعمال سے انکار کر دیا جن میں ان کے خیال کے مطابق سور اور گائے کی چربی لگی ہوئی تھی۔ انگریزی حکومت نے ان سپاہیوں کو غیر مسلح کرکے فوجی ملازمت سے برخواست کر دیا۔ لکھنؤ میں بھی یہی واقعہ پیش آیا۔ برخاست شدہ سپاہی ملک میں پھیل گئے۔ اور فوجوں کو انگریزوں کے خلاف ابھارنے لگے۔

9 مئی 1857ء کو میرٹھ میں ایک رجمنٹ کے سپاہیوں کو دس سال قید با مشقت کی سزا دی گئی۔ جس طریقے سے یہ حکم سنایا گیا وہ بھی تہذیب سے گرا ہوا تھا۔ دیسی سپاہیوں نے انگریز افسروں کو ہلاک کرکے ان قیدیوں کو آزاد کرا لیا اور میرٹھ سے دہلی کی طرف بڑھنے لگے ۔

میرٹھ کے سپاہیوں کی دہلی میں آمد سے دہلی کی فوجیں بھی بگڑ گئیں۔ اور دہلی کے مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی تخت نشینی کا اعلان کر دیا گیا۔ اس اعلان کے بعد بغاوت کی آگ دور دور تک پھیل گئی۔

بہادر شاہ ظفر رنگون میں

جنرل نکلسن نے انگریز فوجوں کی مدد سے تقریباً چار مہینے تک دہلی کا محاصرہ کیے رکھا۔ 14 ستمبر کو کشمیری دروازہ توڑ دیا گیا۔ جنرل نکلسن اس لڑائی میں مارا گیا مگر انگریز اور سکھ فوجوں نے دہلی پر قبضہ کر کے۔ بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکے رنگون بھیج دیا۔ ان کے دو بیٹوں اور ایک پوتے کو گولی سے اڑا دیا گیا۔ دہلی پر انگریزوں کا قبضہ ہو جانے سے ہر جگہ جنگ آزادی کی رفتار مدہم پڑھ گئی۔ مارچ1858ء میں لکھنؤ پر دوبارہ انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔ دہلی ،لکھنؤ ،کانپور، جھانسی کے علاوہ چند اور مقامات پر بھی انگریزوں کے تصرف میں آ گئے۔

جنگ آزادی کا نعرہ "انگریزوں کو ہندوستان سے نکال دو" تھا، اس لیے اس میں تمام ایسے عناصر شامل ہو گئے جن کو انگریز حکومت سے نقصان پہنچا تھا۔ متضاد عناصر ایک مشترکہ دشمن کے خلاف یکجا تو ہوئے تھے لیکن وطنیت اور قومیت کے تصورات سے ناآشنا تھے۔ بہادر شاہ ظفر جس کی بادشاہت کا اعلان باغی سپاہیوں نے کر دیا تھا۔ نہ بادشاہت کی صلاحیت رکھتا تھا اور نہ باغیوں کی مخالفت کرنے کی طاقت۔ مزید برآں باغیوں نے دہلی میں لوٹ مار اور غارت گری مچا کر عام لوگوں کی ہمدریاں کھو دی تھیں۔ چنانچہ 1857ء کی یہ جنگ آزادی ناکام ری۔

فتویٰ جہاد[ترمیم]

علامہ فضل حق خیر آبادی اور ان کے ساتھی مفتی صدر الدین خان آزردہ، سید کفایت علی کافی اور دیگر بہت سے مسلمان علما نے دہلی کی جامع مسجد سے بیک وقت انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا جس کے نتیجے میں مسلمان اس جنگ کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے لڑے۔[3][4][5][6][7][8][9][10]

علامہ فضل حق خیرآبادی کون ہیں

عرفان عزیز

علامہ فضل حق 1797ء کو خیرآباد کے علاقے میں پیدا ہوئے، اعلیٰ تعلیم حاصل کی ،منطق وفلسفہ کی دنیا میں اتھاریٹی تسلیم کیے گئے،تصانیف چھوڑ یں ،بہادر شاہ ظفر کے ساتھ ہندوستان کو انگریزوں کے پنجہ ناپاک سے آزاد کرانے کی جان توڑ محنت کی ،عشق ومحبت رسول پر کتابیں لکھیں ،قوانین سازی کی۔ زندگی فضل حق خیر آبادی لکھنؤ میں ایک قاضی القضاۃ تھے۔ انگریزوں کے جاسوس گوری شنکر نے 28 اگست 1857ء کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ: "مولوی فضلِ حق جب سے دہلی آیا ہے،شہریوں اور فوج کو انگریزوں کے خلاف اُکسانے میں مصروف ہے۔ وہ کہتا پھرتا ہے کہ اس نے آگرہ گزٹ میں برطانوی پارلیمنٹ کا ایک اعلان پڑھا ہے جس میں انگریزی فوج کو دہلی کے تمام باشندوں کو قتل کردینے اور پورے شہر کو مسمارکردینے کے لیے کہا گیا ہے۔ آنے والی نسلوں کو یہ بتانے کے لیے کہ یہاں دہلی کا شہر آباد تھا،شاہی مسجد کا صرف ایک مینار باقی چھوڑا جائے گا"۔ فتویٰ جہاد علامہ فضلِ حق خیرآبادی نے جنگ آزادی میں انگریزوں کے عزائم بھانپ لیے تھے۔ جامع مسجد دہلی میں نماز جمعہ کے بعد علما کے سامنے تقریر کی اور اِستِفتاءپیش کیا۔ جس میں انگریز کے خلاف جہاد کے لیے کہا گیا تھا۔ جہاد کے اس فتوے پر مفتی صدرالدین خان، مولوی عبد القادر، قاضی فیض اللہ، مولانا فیض احمد بدایونی، وزیر خان اکبر آبادی، سید مبارک حسین رامپوری نے دستخط کیے۔ اس فتوے کے جاری ہوتے ہی ہندوستان بھر میں قتال و جدال شروع ہو گیا۔ اُن علما کو اس فتوے کے نتائج و عواقب کا ادراک تھا۔ علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اﷲ علیہ کا جہاد کا فتویٰ جاری کرنا تھا کہ ہندوستان بھر میں انگریز کے خلاف ایک بہت بڑی عظیم لہر دوڑگئی اور گلی گلی، قریہ قریہ، کوچہ کوچہ، بستی بستی، شہر شہر وہ قتال وہ جدال ہوا کہ انگریزحکومت کی چولہیں ہل گئیں۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ انگریز بڑا مکار اور خبیث ہے اس نے اپنی تدبیر یں لڑا کر بڑے بڑے لوگوں کو خرید کر اور ڈرا دھمکا کر بے شمار لوگوں کو قتل کرنے کے بعد اس نے تحریک کو کُچل دیا۔ آزادی کی تحریک کوکُچل تودیا مگر حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی نے آزادی کا سنگ بنیادرکھ دیا تھا اس کو بظاہر انگریز نے وقتی طور پر کُچل دیا۔ دہلی پر انگریزوں کا قبضہ ہونے کے بعد کسی طرح یہاں سے نکل کرعلامہ فضلِ حق اودھ پہنچے۔ جنوری 1859ء میں آپ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلا اور کالاپانی کی سزا ہوئی۔ آپ نے اپنا مقدمہ خود لڑا اور عدالت میں کہا کہ: "جہاد کا فتویٰ میرا لکھا ہوا ہے اور میں آج بھی اپنے اس فتویٰ پر قائم ہوں"۔ 1857ء کی جنگ آزادی ناکام ہونے کے بعد ان کو انگریز نے قید کر دیا۔ جب ان کا بیٹا عبد الحق خیر آبادی انہیں آزاد کروانے کے لیےپورٹ بلیئر پر 13 فروری 1861ء کو پہنچا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی - فضل حق خیر آبادی کو پہلے ہی 12 فروری کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔

نتائج[ترمیم]

پھانسی کا ایک منظر

دہلی کی فتح کے بعد انگریز فوجوں نے شہری آبادی سے خوف ناک انتقام لیا۔ لوگوں کو بے دریغ قتل کیا گیا۔ سینکڑوں کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ ہزاروں نفوس گولیوں سے اڑا دیے گئے۔ ان میں مجرم بھی تھے اور بے گناہ بھی۔ مسلمان بھی تلوار کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ اور ہندو بھی۔ لیکن جلد ہی انگریزی فوج کے سکھ سپاہیوں نے قتل و غارت میں فرقہ ورانہ رنگ بھر دیا۔ مسلمان چن چن کر قتل کیے گئے۔ بہت سے مقتدر اور متمول مسلمانوں کی جائدادیں تباہ ہو گئیں۔ اور وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گئے۔ ان ہولناک مظالم کا اعادہ ان مقامات پر بھی کیا گیا جہاں اولا جنگ کی آگ بھڑکی تھی۔

اگست 1858ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے اعلان ملکہ وکٹوریہ کے ذریعے ایسٹ انڈیا کمپنی کا خاتمہ کرکے ہندوستان کو تاج برطانیہ کے سپرد کر دیا۔

اس جنگ کے بعد خصوصاً مسلمان زیر عتاب آئے۔ جب کہ ہندوؤں نے مکمل طور پر انگریز سے مفاہمت کر لی۔ یوں مسلمانوں پر جدید علم کے دروازے بند کر دیے گئے۔ اور خود مسلمان بھی نئی دنیا سے دور ہوتے چلے گئے۔ ایسے میں سرسید جیسے لوگ سامنے آئے جنہوں نے اس جنگ آزادی کے وجوہات پر روشنی ڈالی اور انگریزوں پر زور دیا کہ ہندوستانیوں میں موجود احساس محرومیوں کو دور کرکے ہی انگریز یہاں حکومت کر سکتا ہے۔ سرسید نے مسلمانوں میں تعلیمی انقلاب لانے کے لیے کالج اور یونیورسٹیاں قائم کیں۔

اس جنگ آزادی میں ہندو اور مسلمان مل کر ہندوستان کے لیے لڑے لیکن اس کے بعد انگریز کی سازش اور کچھ ہندوؤں کے رویے کی وجہ سے مسلمان اور ہندو الگ الگ قوموں کی صورت میں بٹ گئے۔ یوں پہلی مرتبہ دو قومی نظریے کی بنیاد پڑی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]