2013ء مصری فوجی تاخت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
2013ء مصری فوجی تاخت
تاریخ3 July 2013
(protests beginning 30 June 2013 are ongoing)
مقامتحریر چوک and Heliopolis Palace in Cairo and other Egyptian cities including اسکندریہ, پورٹ سعید, سوئیز.
محارب

Government of Egypt
Muslim Brotherhood
Freedom and Justice Party

National Coalition for Supporting Legitimacy
Egyptian Armed Forces
Tamarod
National Salvation Front
کمانڈر اور رہنما
President محمد مرسی
محمد بدیع
Saad El-Katatni
Khairat el-Shater
General عبدالفتاح السیسی
Mahmoud Badr (Tamarod)
محمد البرادعی (NSF)
Grand Imam Ahmed el-Tayeb
Pope Tawadros II

3 جولائی 2013ء کو مصری فوج کے جامع عبد لفتح السیسی نے مصر کے منتخب صدر محمد مرسی کے خلاف فوجی تاخت برپا کر دیا۔ مرسی کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہونے پر قاہرہ میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے بڑے مظاہرے کیے جس پر فوج نے مرسی کو حزب اختلاف سے معاملات طے کرنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی اور پھر فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اخوان المسلمین نے تاخت کے خلاف مظاہرے کیے جس پر فوج نے گولی چلا کر سینکڑوں افراد کو شہید کر دیا۔[1] فوجی سیسی نے عوام کو کہا کہ وہ سڑکوں پر نکل کر اخوان کی مخالفت اور فوج کی حمایت اور دہشت گردی کے خلاف مظاہرے کریں۔ مرسی کو قید میں ڈال کر دہشت گردی کے الزام لگائے گئے۔

عالمی رد عمل[ترمیم]

نواز شریف کی حکومت نے فوجی بغاوت پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے مرسی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔[2]