2014 جناح انٹر نیشنل ائیرپورٹ حملہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
2014 جناح انٹر نیشنل ائیرپورٹ حملہ
تاریخ 8 جون 2014 (پاکستان کا معیاری وقت)
نشانہ جناح بین الاقوامی ہواگاہ
قسم حملہ
دہشتگردی
ہلاکتیں 31 (بشمول 10 دہشتگرد)[1][2]
منصوبہ ساز تحریک طالبان پاکستان (ذمہ داری قبول کی)

8 جون 2014 کو کراچی، پاکستان کے جناح انٹرنیشنل پر 10 دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ کل 31 افراد بشمول 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ کم از کم 18 افراد زخمی ہیں۔

پسِ منظر[ترمیم]

جناح انٹرنیشنل پاکستان کا سب سے بڑا اور سب سے مصروف ہوائی اڈہ ہے جو قومی ائیر لائن پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کے مرکز کا کام کرتا ہے۔ کئی ملکی اور بین الاقوامی پروازیں روزانہ اس ائیرپورٹ سے ہو کر گذرتی ہیں۔ کئی سالوں میں اس ائیر پورٹ پر ہونے والا یہ پہلا بڑا حملہ تھا۔ آخری بار یہاں پین امریکن فلائٹ 73 کو ہائی جیک کیا گیا تھا۔

حملہ[ترمیم]

8 جون کو حملہ 11 بج کر 20 منٹ پر شروع ہوا اور 9 جون کو صبح 4 بجے جا کر ختم ہوا۔ 10 حملہ آور وین پر سکیورٹی چوکی توڑ کر اندر پہنچے اور کارگو ٹرمینل پر حملہ کر دیا۔ حملے میں خود کار ہتھیار، دستی بم، راکٹ پروپیلڈ گرنیڈ اور دیگر دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا۔ حملہ آوروں نے سکیورٹی گارڈ کی وردیاں پہن رکھی تھیں اور کئی حملہ آوروں نے خودکش جیکٹ پہن رکھی تھی۔ ان کی وردیاں ائیرپورٹ سکیورٹی فورس کے اراکین سے مماثل تھیں اور انہوں نے جعلی شناختی کارڈ کی مدد سے ائیرپورٹ تک رسائی حاصل کی۔ ایک سینئر پاکستانی انٹیلی جنس افسر کے مطابق کچھ حملہ آوروں نے ایک جہاز کو اغوا کرنے کی ناکام کوشش بھی کی۔ حملہ شروع ہونے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد سپیشل سروسز گروپ کے سینکڑوں کمانڈو ائیرپورٹ پہنچ کر حملہ آوروں سے نبرد آزما ہو گئے۔ شنید ہے کہ ابتداء میں حملہ آوروں نے ٹارمیک اور رن وے پر قبضہ کر لیا تھا۔ چند گھنٹوں میں ہی 10 میں سے 8 حملہ آور کاروائی کے نتیجے میں مارے گئے جبکہ دو افراد نے فرار کی راہ نہ پاتے ہوئے خودکش جیکٹ پھاڑ کر خودکشی کر لی۔ ائیرپورٹ کا محاصرہ 5 گھنٹے بعد ختم ہو گیا۔ کل 31 افراد ہلاک ہوئے جن میں 10 دہشت گرد بھی شامل تھے۔ دیگر ہلاک شدگان میں سے 8 ائیرپورٹ سکیورٹی فورس کے افراد، 2 رینجرز، 1 سندھ پولیس کا افسر جبکہ دو پی آئی اے کے ملازمین بھی شامل ہیں۔ کم از کم 18 سکیورٹی کے اراکین بھی زخمی ہوئے اور انہیں عباسی شہید ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ پی آئی اے، شاہین ائیرلائن اور ایک غیر ملکی کارگو جہاز کو بھی نقصان پہنچا۔ اصفہانی ہینگر میں بھی ایک دستی بم پھینکا گیا۔

ذمہ داری[ترمیم]

تحریک طالبان پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اسے اپنے سابقہ سربراہ حکیم اللہ محسود کے قتل کا بدلہ قرار دیا ہے جو ایک ڈرون حملے میں نومبر 2013 کو شمالی وزیرستان میں مارا گیا تھا۔تحریک طالبان کی طرف سے مزید حملوں کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کے مطابق ائیرپورٹ پر حملہ کی وجہ یہ تھی کہ یہاں کم شہری اور زیادہ سرکاری افراد ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان نے 10 جون سے پورے پیمانے پر پاکستانی ریاست کے خلاف حملوں کی دھمکی دی ہے۔تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر پاکستانی حکومت مذاکرات شروع کرے تو تحریک طالبان پاکستان بھی مذاکرات پر تیار ہے۔ طالبان کے بقول اس حملے کا اصل مقصد پاکستانی حکومت کو کمزور کرنا ہے اور اس میں جہازوں کا اغوا اور حکومتی تنصیبات کو تباہ کرنا بھی شامل تھا۔

نتیجہ[ترمیم]

ہوائی اڈے پر تمام تر آپریشن روک دیئے گئے اور تمام پروازیں دوسرے ہوائی اڈوں کو موڑ دی گئیں اور حملے کے بعد ائیرپورٹ کو خالی کر ادیا گیا۔ پاکستان آرمی کے جوان حملے کے دوران ہوائی اڈے پر موجود رہے۔ آپریشن ختم ہونے پر وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ "دہشت گردی کا یہ عمل ناقابلِ معافی ہے۔ حکومت نے اس کا بھرپور جواب دیا ہے۔ حملہ آور اور ان کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو شکستِ فاش دی جائے گی"۔ دی گارڈئین کے مطابق ماضی میں ائیرپورٹ کے حفاظتی انتظامات پر پہلے بھی اعتراضات ہوئے ہیں۔ بیرونی احاطے سے گذرنے والے سڑک پر جعلی بم ڈٹیکٹر لگے ہیں اور اخبار نے حیرت ظاہر کی کہ اس ڈٹیکٹر کے بیچنے والے کو برطانیہ میں فراڈ کے الزام میں قید کی سزا ہو چکی ہے اور امریکی حکومت نے صاف الفاظ میں ان آلات کے ناکارہ ہونے کا بتایا ہوا ہے پھر بھی اسے عراق، لبنان، کینیا، تھائی لینڈ اور پاکستان میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ حملے کے بعد ہمسائیہ ملک انڈیا کے ہوائی اڈوں کی حفاظت بڑھا دی گئی۔

تحقیقات[ترمیم]

ابتدائی رپورٹوں اور ڈی جی سندھ رینجرز جنرل رضوان اختر کے مطابق حملہ آور غیر ملکی تھے اور ازبک لگتے تھے۔

ردِ عمل[ترمیم]

بین الاقوامی[ترمیم]

انڈیا کی وزارت خارجہ امور نے اس حملے کی مذمت کی ہے جبکہ انڈین ہائی کمشنر برائے پاکستان نے کہا ہے کہ "ہم کراچی کے دہشت گردانہ حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہیں اور یہ علاقائی سالمیت اور استحکام کے لئے بڑا دھچکہ ہے"۔ انہوں نے اس حملے میں کسی بھی قسم کی انڈین معاونت کی تردید کی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

ٗ