2016ء لاہور خودکش دھماکا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
2016ء لاہور خودکش دھماکا
بسلسلہ شمال مغرب پاکستان میں جنگ
Gulshan-e-Iqbal Park map.PNG
گلشن اقبال پارک
لوا خطا ماڈیول:Location_map میں 485 سطر پر: Unable to find the specified location map definition: "Module:Location map/data/Lahore" does not exist۔
مقام گلشن اقبال پارک، لاہور، پاکستان
متناسقات 31°30′59″N 74°17′25″E / 31.51625°N 74.29032°E / 31.51625; 74.29032متناسقات: 31°30′59″N 74°17′25″E / 31.51625°N 74.29032°E / 31.51625; 74.29032
تاریخ 27 مارچ 2016
6:30 شام (یو ٹی سی+05:00)
نشانہ مسیحی شہری
حملے کی قسم خودکش حملہ
ہلاکتیں 72 (29 بچے بھی شامل)[1]
زخمی 300+
مشتبہ مرتکبین تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرار

27 مارچ 2016، لاہور، پاکستان میں گلشن اقبال پارک میں خودکش دھماکا ہوا، جس میں 72 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے۔[1] یہ حملہ لاہور میں ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک تھا۔[1][2][3][4] حملے کا نشانہ تفریحی مرکز میں موجود ایسٹر کا تہوار منانے والے مسیحی تھے، جن میں سے بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی تھی۔[5] ہلاک ہونے والوں مین 29 بچے شامل تھے۔

پس منظر[ترمیم]

پاکستانی طالبان کی چھتری تلے کئی جنگجو گروہ جمع ہیں، جو مشترکہ کارروائیاں کر تے ہیں۔ جو عام طور پر پاکستانی اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہیں، جیسے مسیحی، جو پاکستانی آبادی کا 2% ہیں، ان حملوں کا نشانہ رہے ہیں۔[6]

2013 پشاور گرجا گھر بم دھماکا جو تاریخی آل سینٹس کیتھیڈرل چرچ ہوا، اس میں 75 مسیحی ہلاک ہوئے،[7][8] مارچ 2015ء میں لاہور گرجا گھر میں 15 افراد خودکش دھماکے میں مارے گئے،[9] طالبان نے ذمہ داری قبول کی اور خبردار کیا ہے کہ مزید حملوں کی توقع رکھیں۔[9]

دھماکا[ترمیم]

خودکش دھماکا 18:30 ہوا، ریسکیو 1122 کے ایک اہلکار کے مطابق، انھیں شام 18:44 کال موصول ہوئی، جس پر فوری عمل کرتے ہوئے، 23 ایمبولینس جائے وقوعہ پر بھیج دی گیئں۔[10] 40 میتیں جناجی اسپتال، لاہور لائی گیئں۔[11] ایمبولینسوں کی کمی کی وجہ سے زخمیوں کو ٹیکسیوں اور رکشوں پر مجبورا لے جانا پڑا۔[11] دھماکے کی ذمہ داری پاکستانی طالبان کے ساتھ وابستہ ایک گروہ، جماعت الاحرار نے لی، جو ماضی میں، 15 مارچ 2015 کو لاہور میں دو گرجا گھروں پر بم حملوں کی ذمہ دار لے چکے ہیں۔[12][13]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ "Suicide blast kills at least 65 in Lahore park"۔ دا ایکسپریس ٹریبون۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ bbc1 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  3. "At least 73,dead after suicide attack in Lahore park"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. "Blast at Lahore park leaves 10 dead"۔ دا نیوز۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 مارچ 2016۔
  5. "Scores killed in Lahore suicide attack"۔ الجزیرہ۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 مارچ 2016۔
  6. Los Angeles Times۔ "Taliban says it targeted Christians in a park on Easter Sunday, killing 65"۔ latimes.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  7. "Orders fresh probe into church attack SC rues poor investigation in sensitive cases | Newspaper"۔ Dawn.Com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-02-18۔
  8. نیو یارک ٹائمز: "Suicide Attack at Christian Church in Pakistan Kills Dozens" by ISMAIL KHAN and SALMAN MASOOD 22 ستمبر 2013
  9. ^ ا ب Adeel Raja؛ Zahir Shah؛ Jethro Mullen۔ "In Pakistan, Taliban's Easter bombing targets Christians; 67 people killed"۔ سی این این۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 مارچ 2016۔
  10. "At least 60 dead, over 250 injured in Gulshan-e-Iqbal blast in Lahore"۔ The Nation۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 مارچ 2016۔
  11. ^ ا ب "30 killed in Lahore's Gulshan-e-Iqbal Park bombing"۔ پاکستان ٹوڈے۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 مارچ 2016۔
  12. "At least 65 dead after suicide attack in Lahore park"۔ Dawn۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 مارچ 2016۔
  13. "Deadly blasts hit Pakistan churches in Lahore"۔ بی بی سی نیوز۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 مارچ 2016۔