2020ء کا ہاتھرس اجتماعی آبرو ریزی اور قتل کا واقعہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
2020ء کا ہاتھرس اجتماعی آبرو ریزی اور قتل کا واقعہ
2020ء کا ہاتھرس اجتماعی آبرو ریزی اور قتل کا واقعہ is located in اتر پردیش
2020ء کا ہاتھرس اجتماعی آبرو ریزی اور قتل کا واقعہ
2020ء کا ہاتھرس اجتماعی آبرو ریزی اور قتل کا واقعہ (اتر پردیش)
مقامہاتھرس، اتر پردیش، بھارت
متناسقات27°36′N 78°03′E / 27.60°N 78.05°E / 27.60; 78.05متناسقات: 27°36′N 78°03′E / 27.60°N 78.05°E / 27.60; 78.05
تاریخ14 ستمبر 2020ء (2020ء-09-14)
حملے کی قسمآبرو ریزی، کشیدہ موت اور گلا گھونٹنا ( دوپٹہ سے)[1]
ہلاکتیں1
شرکا کی تعداد4
ملزمسندیپ، رامو، لوکُش اور روی[2]
الزاماتقتل، آبرو ریزی[3] اور درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل (انسداد مظالم) قانون، 1989ء کی سنگین خلاف ورزی۔[4]

2020ء کا ہاتھرس اجتماعی آبرو ریزی اور قتل کا واقعہ (انگریزی: 2020 Hathras gang rape and murder) بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ہاتھرس ضلع میں مبینہ طور پر چار اعلٰی ذات کے لڑکوں سندیپ، رامو، لوکُش اور روی کی جانب سے کھیتوں میں برسر خدمت ایک دلت لڑکی پر کیا گیا سنگین جرم تھا۔ اس جرم میں نہ صرف متاثرہ کی جبری آبرو ریزی کی گئی تھی بلکہ اسے گلا گھونٹ کر مار دیا گیا۔ متاثرہ لڑکی کو ابتداء میں ریاستی علاج و معالجہ کے بعد دہلی منتقل کیا گیا اور بعد میں دہلی کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا۔ یہ لڑکی دو ہفتوں کی جد و جہد کے بعد انتقال کر گئی۔ شروع شروع میں اتر پردیش کی ریاستی پولیس کسی آبرو ریزی کی خبر کی تردید کر چکی تھی۔ تاہم بعد ازاں متوفیہ کے انتقالی بیان (dying declaration) اور طبی معائنے کی روشنی میں سی بی آئی چاروں ملزمین سندیپ، رامو، لوکُش اور روی پر اس لڑکی کی عصمت دری اور قتل کا مقدمہ درج کیا۔ [2][5][6]

بی جے پی قائدین کی جانب سے آبرو ریزی کے معاملے کو دبانے کی کوشش[ترمیم]

  • اتر پردیش حکومت نے متوفیہ کی لاش کو راتوں رات بغیر کیس مذہبی رسم کے جلا دیا۔ یہ متوفیہ کے ارکان خاندان کی مرضی اور گاؤں کی رات میں آخری رسومات نہ ادا کرنے کے اصول کے مغائر تھا۔ بعد میں حکومت نے کہا کہ اگر لڑکی کی لاش رات کو نہیں جلائی جاتی تو اگلی صبح تشدد بڑھ سکتا تھا۔[7]
  • ہاتھرس اجتماعی آبروریزی کے واقعے نے بی جے پی اور اپوزیشن پارٹیوں کو سڑکوں پر آمنے سامنے لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ بی جے پی اب اجتماعی آبرو ریزی کے خلاف آواز بلند کرنے والے افراد سے نمٹنے کے لئے پولیس جیسا ہی رویہ اختیار کرچکی ہے۔ وہ حسب موقع تشدد بھی برپا کر چکی ہے۔[8]
  • ملیالم اور اردو ویکیپیڈیا کے معاون اور دہلی میں کیرلا یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کی اکائی کے سیکریٹری صدیق کپن کو 5 اکتوبر 2020ء کو گرفتار کیا گیا جب وہ متھرا کے راستے ہاتھرس جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان پر ریاستی پولیس کی جانب سے غداری کا الزام عائد کیا گیا۔[9]
  • اس سے قبل 2018ء کے کٹھوعہ آبرو ریزی واقعے میں جموں و کشمیر حکومت میں شامل دو بی جے پی وزراء چودھری لال سنگھ اور چندر پرکاش گنگا نے ہندو ایکتا منچ کی جانب سے ریاست میں ملزمین کے خلاف کی گئی کار روائی کی مذمت میں نکالی گئی ایک ریالی میں اس اقدام جنگل راج سے تعبیر کیا تھا۔[10] 2017ء کے اناؤ آبرو ریزی کے واقعے میں بی جے پی نے ملزم اور خود کے رکن اسمبلی کلدیب سنگر کو کافی تاخیر سے پارٹی سے خارج کیا اور اس کے سرکردہ قائد ساکشی مہاراج نے ملزم سے خیر خواہانہ انداز میں جیل میں ملاقات کی تھی۔[11] ہندو قومیت کے علمبردار ونایک دامودر ساورکر (جو عرف عام میں ویر ساورکر کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں)، جنہیں اٹل بہاری واجپائی کی وزارت عظمٰی کے دور میں بھارت رتن کا اعزاز عطا کرنے کی کوشش کی گئی تھی، مگر اس وقت کے صدر جمہوریہ کے آر نارائن کے اعتراض کی وجہ سے ہو نہ سکا تھا[12]، نے آبرو ریزی کو ایک سزا کے ہتھیار کے طور پر وکالت کی تھی، جس کی وجہ سے کچھ مبصرین کے خیال میں ملک کے دائیں محاذ کے نزدیک یہ عمل اس قدر سنگین اور قابل مذمت نہیں ہے، جتنا کہ آزاد خیال اور بائیں محاذ کے دانشور اسے تصور کرتے ہیں۔[13]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Uttar Pradesh Dalit girl, victim of murder, dies in Delhi hospital". دی ہندو op. 29 September 2020. اخذ شدہ بتاریخ 30 ستمبر 2020. 
  2. ^ ا ب Jaiswal، Anuja (29 ستمبر 2020). "Rape survivor moved to Delhi, 'spine damage permanent'". ٹائمز آف انڈیا. Times Now Network (TNN). اخذ شدہ بتاریخ 1 اکتوبر 2020. 
  3. "Hathras gangrape: Dalit woman succumbs to injuries in Delhi; security beefed up outside hospital amid protests". دی انڈین ایکسپریس. 29 ستمبر 2020. اخذ شدہ بتاریخ 1 اکتوبر 2020. 
  4. Johari، Aarefa (30 ستمبر 2020). "In videos: How the Dalit woman raped in Hathras was cremated without letting her family say goodbye". Scroll.in. اخذ شدہ بتاریخ 1 اکتوبر 2020. 
  5. [http://www.roznamasahara.com/hathras-case--if-the-body-was-not-cremated-the-violence-could-have-spread-the-next-morning-up-govt-before-sc.html لاش نہیں جلائی جاتی تو اگلی صبح تشدد پھیل سکتا تھا: اترپردیش حکومت][مردہ ربط]
  6. ہاتھرس اجتماعی آبرو ریزی: بی جے پی کارکنان نے الہ آباد یونیورسٹی طلبہ یونین کی لیڈر نیہا یادو کے ساتھ کی شرمناک حرکت
  7. Family of arrested Kerala journalist Siddique Kappan seeks CM's intervention
  8. Kathua rape case: 2 BJP ministers attend rally in support of accused
  9. BJP MP Sakshi Maharaj Wishes Kuldeep Sengar After Denouncing Attack On Rape Survivor
  10. कैसे दफ़्न हुई वीडी सावरकर को भारत रत्न देने की अटल बिहारी वाजपेयी की सिफ़ारिश, जानिए कहानी
  11. India is Paying the Price For VD Savarkar’s Advocacy of Rape