p53 (وراثہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
  • اس مضمون میں ابہام سے بچنے کے ليے وراثہ (gene) اور لحمیہ (protein) کے الفاظ کو الگ رکھنا لازمی ہے کیونکہ p53 کا لفظ دونوں کے ليے استعمال ہوا ہے۔

p53 ایک ایسی gene یعنی وراثے کا نام ہے جو جانداروں کے خلیات میں اسی p53 نام کا ایک لحمیہ (protein) تیار کرتا ہے جسے p53 (لحمیہ) کہتے ہیں اور یہ لحمیہ خلیات میں سرطان کی سرکوبی کرنے کا کام انجام دیتا ہے۔ اور اسی وجہ سے یہ لحمیہ p53 بنانے والی جین p53 کو سرطان کی سرکوبی کرنے والی جین کی حیثیت دی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ جین یا وراثہ خلیات کی بے قابو نشو و نما کو تضبیط (کنٹرول) کرتا ہے۔ یہ اہم ترین کام سر انجام دینے کے ليے p53 نامی یہ وراثہ یا جین، apoptosis یا سادہ الفاظ میں برمجی خلیاتی موت (programmed cell death) جیسے mechanism کو استعمال کرتی ہے۔

آسان خلاصہ[ترمیم]

آسان سے الفاظ میں پی تریپن کو یوں بیان کرسکتے ہیں کہ یہ ایک ایسا وراثہ یا جین ہوتی ہے کہ جو خلیات میں اسی نام کی ایک پروٹین (لحمیہ) p53 تیار کرتی ہے۔ اس پروٹین 53 کی سالماتی ساخت قدرت کی طرف سے ایسی بنائی گئی ہے کہ جو اس کو خلیات کے تعداد میں بڑھنے اور پھلنے پھولنے مقدار کو مناسب حد میں رکھنے یا کنٹرول کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ اگر خلیات کے پھلنے پھولنے کی مقدار کو کنٹرول نہ کیا جائے تو ان کے بے لگام بڑھتے رہنے سے جسم میں ایک اور جسم (یعنی سرطان یا رسولی یا ورم) بننے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

پی 53 جین سے بننے والا یہ پی 53 لحمیہ، خاص طور پر ایسے خلیات کو پھلنے پھولنے سے روکتا ہے کہ جن کے DNA میں کوئی نقص یا کوئی ترمیم واقع ہو گئی ہو۔ کیوں کہ نقص والا ڈی این اے اکثر خلیات کی بے قابو نشو و نما کر کے سرطان کا موجب بنتا ہے۔ پی 53 کی پہلی کوشش تو یہ ہوتی ہے کہ اس خلیہ کو جس کا ڈی این اے بگڑ گیا ہو اس وقت تک تقسیم ہونے سے روکے رکھا جائے جب تک کہ خلیات میں موجود ڈی این اے کو درست کرنے والے آلات اس کو درست نہ کر دیں۔ بعض اوقات یہ نقص ناقابل اصلاح یا بہت شدید ہوا کرتا ہے اور ایسی صورت میں پی 53 کے پاس اس خلیہ کو خود کشی کی جانب بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

ترجمہ : پی پریپن سرطان کی سرکوبی کرنے والی جین، خلیے کی موت و حیات کو قــابــو میں کرنے والے متعدد اشارات کو بہم پیوستہ کرتی ہے۔ یوں کہ جیسے انٹرنیٹ میں موجود ایک کثیر روابط والا نــوڈ منہدم ہو جائے، پی تریپن کا منقطع ہوجاتا سخت نتائج رکھتا ہے [1]

Original words: The p53 tumour-suppressor gene integrates numerous signals that control cell life and death. As when a highly connected node in the Internet breaks down, the disruption of p53 has severe consequences.

وجہ تسمیہ[ترمیم]

p53 وراثے کے نام میں p کا حرف دراصل protein کی علامت ہے کیونکہ یہ gene، اسی نام کی پروٹین p53 بناتا ہے۔ اور 53 کا عدد دراصل اس پروٹین یا لحمیہ کا سالماتی وزن یا سالماتی کمیت کو ظاہر کرتا ہے جو 53kD ہوتی ہے۔

دیگر نام[ترمیم]

p53 کو مندرجہ ذیل ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

  • ایک مختصر جائزہ، اس موضوع پر تفصیلی مضمون کے ليے دیکھیےتاریخ p53

1970 کی دہائی میں وائرسوں کے سرطان کا موجب بننے پر تحقیق بہت تیز رفتاری سے ہو رہی تھی اور اسی دور میں تحقیقکاروں نے یہ بات دریافت کی کہ وائرسوں میں موجود کچھ وراثے یا genes ایسی لحمیات تیار کرتے ہیں جو انسانی خلیات میں نشو و نما کے نظام کو بگاڑ دیتی ہیں۔ انکو مستضد یعنی antigen کہا گیا کیوں کہ انسانی (یا جس جاندار میں بھی وائرس ہو اس کے ) خلیات ان وائرس کی لحمیات کے خلاف جسمضد (antibody) تیار کرتے ہیں۔ 1979 میں ڈیوڈ لین اور اس کے ساتھیوں نے یہ بات دریافت کرلی کہ وائرس (دراصل SV40) سے پیدا ہونے والے یہ مستضد، خلیات میں موجود ایک protein سے بندھ یا چپک جاتے ہیں جس کو اس کے وزن کی وجہ سے protein53 کہا گیا۔ [2] مزید ایک یہ بات منکشف ہوئی کہ اس نئی دریافت شدہ p53 کا ارتکاز یا مقدار عام خلیات کی نسبت ان خلیات میں بہت زیادہ ہے کہ جن پر SV40 یا کسی دیگر وائرس کا حــملہ ہوچکا ہو۔ اور یہاں سے p53 کو سرطان پیدا کرنے والا سمجھا جانے لگا۔ اب پی53 کی تحقیق میں نہایت تیزی آچکی تھی اور تحقیقکاروں کے کئی گروہ اس کی cloning کی تگ و دو میں مصروف ہو گئے، 1983 میں اورین اور لیوائن، پی53 کے mRNA کے ایک حصے کا cDNA حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے [3] اس mRNA کی مدد سے p53 جسمضد استعمال کرتے ہوئے p53 کو حاصل کرنے کے عمل کو اس زمانے میں سالماتی حیاتیات کی معراج فن کہا جاتا ہے۔

لیکن تحقیقکار پی53 کے صرف ایک حصے کی بجائے اس کی مکمل طوالت کا cDNA حاصل کرنا چاہتے تھے اور بالاخر پینیکا ڈائین نے 1984 میں اس مقصد میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی تحقیق کی کہانی ایک مشہور جریدے وائرولوجی میں شائع کردی۔ [4]

یہ موضوع اس مختصر جائزے پر یہاں ختم ہوتا ہے۔ p53 کس طرح ایک سرطان پیدا کرنے والی جین سے سرطان کی سرکوبی کرنے والی جین بنی؟ اس کی مکمل داستان کے ليے اوپر موجود، تاریخ p53 کا مضمون مخصوص ہے۔

پی تریپن کے حیاتیاتی خواص[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]