آغا حشر کاشمیری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
آغا حشر کاشمیری
معلومات شخصیت
پیدائش 3 اپریل 1879  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
امرتسر  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 28 اپریل 1935 (56 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن میانی صاحب قبرستان  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو[2]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

آغا محمد حشر ابن آغا غنی شاہ بنارس میں 1879ء میں پیدا ہوئے تعلیم و تربیت بنارس میں ہوئی۔ آپ کے والد مذہبی معاملات میں قدامت پسند تھے۔ اس لیے آغا حشر ابتدا میں انگریزی تعلیم سے محروم رہے۔ دینیات کی تعلیم مولوی عبد الصمد سے حاصل کی اور سولہ پارے حفظ کیے۔
آغا حشر موزوں طبیعت رکھتے تھے۔ چھوٹی عمر میں شعر کہنے لگے اور فائز بنارسی کو کلام دکھانے لگے۔ مہدی حسن احسن لکھنوی مشہور ڈراما نویس سے جھڑپ ہوجانے پر ڈراما نگاری کا خیال پیدا ہوا۔ چنانچہ 1897ء میں آپ کا پہلا ڈراما (آفتاب محبت) کے نام سے شائع کیا جو بہت مقبول ہوا۔ آغا حشر نے انیس سال کی عمر میں ڈراما نگاری میں نام پیدا کر لیا تھا تاہم وہ آگے چل کر اردو زبان کے شیکسپئر کہلائے۔ آغا حشر نے انگریزی زبان سیکھی اور شیکسپئر اور دیگر غیر ملکی ڈراما نویسیوں کے ڈرامے پڑھے اور بعض کا اردو میں ترجمہ کیا۔ آپ نے نظمیں بھی لکھیں اور غزلیں بھی لکھیں۔ 1935ء میں لاہور میں فوت ہوئے اور یہیں دفن ہوئے۔
آغا حشر نے بے شمار ڈرامے لکھے جن میں خواب ہستی، رستم و سہراب، مرید اشک، اسیر حرص، ترکی حور، آنکھ کا نشہ، یہودی کی لڑکی، خوبصورت بلا، سفید خون بہت مشہور ہوئے۔

آغا حشر کا اردو ادب میں مقام [ترمیم]

ڈراما نویسی[ترمیم]

آغا حشر کا اردو ادب میں مقام اُن کی ڈراما نویسی سے ہے۔ آغا حشر نے کوئی 32، 33 سال ڈرامے لکھے۔ اِس مدت میں اُن کی مقبولیت برابر بڑھتی رہی۔ اُن کی ڈراما نگاری کی اِس مدت کو چار دوروں (اَدوار) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر اگلے دور میں اُن کی شہرت اور قبولِ عام کا آفتاب برابر زیادہ چمکا اور زیادہ بلند ہوا۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی اِتفاقی بات نہیں ہوسکتی۔ آغا حشر میں ضرور کوئی نہ کوئی ایسی خصوصیت تھی جس نے ہر لمحہ اُن کی شہرت کو پہلے سے زیادہ چمکایا۔ آخر وہ خصوصیت کیا تھی؟۔ اِس سوال کا جواب خود اُن کے ڈرامے دیتے ہیں۔ اِن ڈراموں کو دیکھ کر واضح طور پر دو باتیں نظر کے سامنے آتی ہیں: پہلی تو یہ ہے کہ آغا حشر نے اپنی ڈراما نگاری کے ہر دور میں زمانے کو وہ چیز دِی جو اُس نے اُن سے طلب کی۔ حشر نے اپنے فن کو زمانے کی ضرورت کے سانچے میں بھی ڈھالا ہے اور اپنی جرأت اور اعتماد سے فن کو برابر ایسی شکل بھی دی ہے کہ وہ زمانے کے مذاق کو بہتر بناتا رہے۔ اُن کی ڈراما نگاری کا ہر دور اِنہیں دو بڑی خصوصیات کا حامل ہے، اِن میں سے ہر دور ہم آہنگی، جرأت، اعتماد اور جِدـت پسندی کی ایک نئی منزل ہے۔ آخری منزل کی طرف جرأت اور یقین کا ایک اور قدم ہے۔

ڈراما[ترمیم]

ان کی مقبولیت کی وجوہات کو چراغ حسن حسرت نے کچھ یوں بیان کیا ہے:

’ابھی ہندوستان میں فلموں کا رواج نہیں تھا۔ جو کچھ تھا تھیئٹر ہی تھیئٹر تھا۔ اور اس دنیا میں آغا حشر کا طوطی بول رہا تھا۔ یوں تو اور بھی اچھے اچھے ڈراماٹسٹ موجود تھے، احسن، بیتاب، طالب، مائل سب کے سب ناٹک کی لنکا کے باون گزے تھے، لیکن آغا کے سامنے بونے معلوم ہوتے تھے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ آغا سے پہلے اس فن کی قدر بھی کیا تھی؟ بچارے ڈراماٹسٹ تھیئٹر کے منشی کہلاتے تھے۔‘

زیادہ دیر نہیں گذری تھی کہ آغا حشر کو ہندوستان کے شیکسپیئر کا خطاب دے دیا گیا۔ انھیں خود بھی یہ لقب پسند تھا، چنانچہ انھوں نے جب 1912 میں اپنی ڈراما کمپنی کا آغاز کیا تو اس کا نام انڈین شیکسپیئر تھیئٹریکل کمپنی رکھا۔

شیکسپیئر کے تراجم کے علاوہ حشر نے جو دوسرے ڈرامے لکھے ان میں ’یہودی کی لڑکی‘ اور ’رستم و سہراب‘ کو بےحد مقبولیت حاصل ہوئی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Encyclopædia Britannica — مصنف: اینڈریو بیل — ناشر: انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا انک.
  2. Identifiants et Référentiels — اخذ شدہ بتاریخ: 6 مارچ 2020
  3. https://www.bbc.com/urdu/entertainment/2016/05/160504_agha_hashar_zis