حیوان المہیب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سینکینبرگ عجائب گھر (Senckenberg Museum) میں ایک حیوان المہیب ؛ ٹیرانوساوروس ریکس (Tyrannosaurus rex)

حیوان المہیب ، دراصل قبل ازتاریخ نمودار و ناپید ہوجانے والے جاندار ہیں جنکو انگریزی میں ڈائنوسار (Dinosaur) کہا جاتا ہے۔

اردو میں اسکی جمع، حیوانات المہیب کی جاتی ہے
مـخـتلف زبانوں میں حیوان المہیب کا لفظ اور اسکی ماخوذیت
  • اردو --- حیوان المہیب : یہ لفظ حیوان بمعنی جانور اور مہیب بمعنی قوی اور وجیہ سے مرکب ہے
  • انگریزی --- Dinosaur : یہ لفظ یونانی deinos بمعنی terrible اور sauros بمعنی lizard سے مرکب ہے
  • جاپانی --- 恐竜 (کیوریو / Kyoryu) : یہ لفظ Kyo بمعنی terrible اور ryu بمعنی dragon سے مرکب ہے

اوپر کے بیان میں قابل غور بات یہ ہے کہ انگریزی اور جاپانی سمیت دیگر زبانوں میں لفظ terrible اس جاندار کے نام کا حصہ تو ہے مگر اس لفظ کا یہاں اصل مفہوم دہشت و وحشت نہیں بلکہ عظیم و قوی ہے ، گویا ان زبانوں میں اس جاندار کے نام کی اصل الکلمہ مبالغہ آمیز ہے۔ اسکے برعکس اردو زبان میں اس جاندار کا نام ---- حیوان المہیب ---- اس قسم کے مبالغے اور خامی سے پاک ہے

زمانہ[ترمیم]

حیوان المہیب جانوروں کے زمانے کی ابتداء 20 تا 23 کروڑ (23 کے بعد 7 صفر) سال قبل ہو کر 6 کروڑ 50 لاکھ سال قبل ختم ہو جاتی ہے گویا لگ بھگ 16 کروڑ سال تک یہ جاندار خاک ارض (terrestrial) پر چلتے پھرتے رہے۔ آج کرہءارض پر اڑتے پرندے ، حیوان المہیب کی ایک قسم تھیروپوڈ (theropod) کی اولاد سمجھے جاتے ہیں۔

قبل از حیوانات المہیب[ترمیم]

عمر کائنات کا تخمینہ تیرہ ارب ستر کروڑ سال اور عمرارض کا چارارب پچاس کروڑ سال (45 کے بعد 8 صفر) لگایاگیا ہے اور اس پیدائش زمیں کے ایک ارب سال بعد یعنی تین ارب پچاس کروڑ سال قبل (انسانی تخمینوں کے مطابق) اللہ تعالٰی نے اس پر زندگی کو پیدا کیا۔ یہ ابتدائی زندگی یک خلوی تھی جسکو کثیرخلوی ہونے میں مزید دو ارب سال لگے۔ یہ تمام حیات پانی میں ہوئی اور پھر تقریبا 47 کروڑ سال قبل تک زندگی مچھلی وغیرہ سے ملتے جلتے جانداروں جیسی رہی۔ اسکے بعد خشکی پر بھی حشرات نما زندگی دیکھی جانے لگی۔ جو خاک ارض پر مختلف ادوار طے کرتی ہوئی کوئی 20 کروڑ سال قبل، حیوانات المہیب تک پہنچی ۔۔۔۔۔ اس موضوع پر تفصیلی مضمون کے لیۓ دیکھیۓ زندگی کی ابتداء (origin of life)

تاریخ دریافت[ترمیم]

حیوانات المہیب کے بارے میں مختلف اقسام کی کہانیاں اور معلومات دنیا کے مختلف حصوں میں شائد ہزار برسوں سے ملتی چلی آرہی ہیں ؛ مثلا خیال ہے کہ چین میں پایا جانے والا مشہور تصور عفریت جو کہ ایک اژدہا کی صورت رکھتا ہے، اور اسی طرح یورپ کا وہ تصور کہ جسکے مطالق طوفان نوح میں یا شائد اس سے بھی پہلے کسی طوفان عظیم میں ڈوب کر ناپید ہوجانے والے دیوہیکل جاندار ، حیوان المہیب ہی کی ذات سے نکلنے والی حققتیں ہوسکتی ہیں جو کہ برس ہا برس گذرے پر افسانوی داستانیں بن گئیں (طوفان عظیم اور / یا طوفان نوح کے بارے میں خاصہ ابہام پایاجاتا ہے جو کہ ویکیپیڈیا میں اپنے اپنے مقامات پر درج ہے)

حیوان المہیب کی پہلی نوع جو کہ 1822 میں گیڈون مانٹیل (Gideon Mantell) نے دریافت کی اسکو موجودہ دور میں پاۓ جانے والی بڑی چھپکلی کی ایک قسم اگوانے سے مماثلت کی وجہ سے اگوانوڈون (Iguanodon) کا نام دیا گیا۔

جسامت[ترمیم]

چونکہ ناپید ہوجانے والے حیوانات میں سے انتہائی کم ہی ایسے ہوتے ہیں جو کہ سنگوارہ (fossil) میں تبدیل ہوتے ہیں اور ان میں سے بھی کثیر حصہ ابھی تک کرہءارض کی گہرائیوں میں دفن ہے لہذا یہ کہنا مشکل ہے کہ سب سے چھوٹا اور سب سے بڑا حیوان المہیب جسامت میں کون سا تھا اور اسکی جسامت کیا تھی۔ چھوٹے ترین ساؤروپوڈ بھی اپنے گرد موجود محل ہست وبود میں کسی بھی جانور سے بڑے ہوا کرتے تھے۔ فیل کبیر (mammoth) جو کہ زمانہ گزشتہ میں ناپیدشدہ ایک عظیم الجسامت ہاتھی تھا وہ بھی ان ساؤروپوڈوں کے سامنے بونے کی حیثیت رکھتا ہے۔ دور حاضر کے چند ہی جاندار شاید فیل کبیر کی جسامت کو پہنچ سکیں (مثلا، حوت نیلگوں --- blue whale) جو کہ وزن میں 190000 کلوگرام اور طوالت میں ساڑھے 33 میٹر تک جاسکتی ہے۔

لیکن تمام حیوان المہیب ساؤروپوڈ کی طرح عظیم جسامت کے بھی نہیں تھے ، انمیں کچھ چھوٹی جسامت والے تھے ۔ ایک ماہر حفریات ، Bill Erickson کے مطابق ایک اوسط درجے کے حیوان المہیب کا وزن 500 تا 5000 کلوگرام تک پایا جاتا تھا۔ یہ بات کہی جاسکتی ہے