صفحۂ اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ہمارے ساتھ سماجی روابط کی ویب سائٹ پر شامل ہوں: F icon.svg اور G 2014-04-24 22-48.png

اردو ویکیپیڈیا میں خوش آمدیدKhushamdeednbg.png

اردو میں مضامین 68,628

صفحہ اولKASEERKHUSH.png

کل زمرہ جات  مرکزی زمرہ  منتخب ٘مضامین  فہرست ا-ی


ایک جائزہتلاشمعاونتہمارے ساتھ شامل ہوں

دس_بڑےفہارستکل زمرہ جاتفہرست تصاویر


Portal.svg اہم ابواب P religion world.svg مذہب P vip.svg سوانح حیات P history.svg تاریخ P technology.png ٹیکنالوجی P literature.svg کتبP globe.svg جغرافیہP mathematics.svg ریاضیاتSocrates blue version2.png فلسفہP Science.png سائنسP sport.svg کھیل

HSutvald3.svg منتخب مضمون

Old City (Jerusalem).jpg
قدیم یروشلم شہر دیوار بند 0.9 مربع کلومیٹر (0:35 مربع میل) پر محیط علاقہ، جو کہ جدید شہر یروشلم میں واقع ہے۔عہد نامہ قدیم کے مطابق گیارہویں صدی قبل مسیح میں داؤد علیہ السلام کے شہر کی فتح سے قبل یہاں یبوسی قوم آباد تھی۔ عہد نامہ قدیم کے مطابق یہ مضبوط دیواروں کے ساتھ قلعہ بند شہر تھا۔ داؤد علیہ السلام جس قدیم شہر پر حکومت کرتے تھے جسے شہر داؤد (City of David) کہا جاتا ہے، موجودہ شہر کی جنوب مشرق دیواروں کی طرف باب مغاربہ سے باہر تھا۔مسلمانوں نے خلیفہ دوم عمر بن خطاب کے تحت ساتویں صدی (637 عیسوی) میں یروشلم فتح کیا۔ 1099ء میں پہلی صلیبی جنگ کے دوران یہ مغربی عیسائی فوج کے قبضے میں چلا گیا۔ 2 اکتوبر، 1187 کو صلاح الدین ایوبی اسے دوبارہ فتح کیا۔ اس نے یہودیوں کو طلب کیا اور شہر میں دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دی۔

1219ء میں ایوبی خاندان کے سلطان دمشق المعظم عیسی شرف الدین نے شہر کی دیواروں کو مسمار کروا دیا۔1229ء میں یروشلم معاہدہ مصر تک تحت یہ فریڈرک دوم کے ہاتھوں میں چلا گیا، جس نے 1239ء میں دیواریں دوبارہ تعمیر کروائیں، لیکن انہیں امیر کرک نے دوبارہ مسمار کر دیا۔ 1243ء میں یروشلم دوبارہ عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا، جنہوں نے دیواروں کی دوبارہ مرمت کی۔ خوارزمی تاتاریوں نے 1244ء میں شہر پر قبضہ کرنے کے بعد دیواریں ایک بار پھر مسمار کر دیں۔

اس علاقے کا شمار مسلمانوں کے لیے اہم مقدس ترین مقامات میں سے ہوتا ہے، جہاں پرمسجد اقصی، قبۃ الصخرۃ، حرم قدسی شریف ، قبہ معراج، مسجد عمر، اور قبہ سلسلہ، قبہ نبی، قبہ خلیلی، قبہ یوسف، مصلی مروانی اسی علاقہ میں مسیحیوں اور یہودیوں کے مقدس مقامات میں دیوار گریہ، کلیسائے مقبرہ مقدس، مغربی دیوار سرنگ، کنیسہ خرابہ، چار سفاردی کنیسہ جات، راہ غم، نجات دہندہ کا لوتھری کلیسا، سینٹ جیمز کلیسا، سینٹ توروس کلیسا وغیرہ شامل ہیں۔اہم تاریخی محلوں میں مسلم محلہ، مسیحی محلہ، یہودی محلہ، آرمینیائی محلہ اور مراکشی محلہ کے نام سے محلے واقع ہیں، جبکہ دروازوں میں باب جدید، باب دمشق، باب اسباط، باب مغاربہ، باب صیہون، باب الخلیل، باب رحمت، یک محرابی دروازہ، دو محرابی دروازہ، ابواب خولدا ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیںHelp-browser - ar.svg

Solarsystem3DJupiter.gif
  • ... کہ مشتری (تصویر میں) سورج کے گرد ایک چکر 11.86زمینی گردشوں میں مکمل کرتا ہے۔
  • ... کہ ایک بیرل میں تقریباً 159 لیٹر ہوتے ہیں اور یہ نام آج سے تقریباً 6 صدیوں قبل استعمال ہونے والے لکڑی کے ڈبوں کو دیا جاتا تھا جنہیں برطانوی لوگ شراب ذخیرہ کرنے کیلئے استعمال کرتے تھے۔
  • ... کہ خط نستعلیق جو فارسی، پشتو، کھوار اور اردو لکھنے کے لئے عام طور پر استعمال ہوتا ہے، اس کے موجد میرعلی تبریزی ہیں۔
  • ... کہ کوہِ نور جس کا شمار دنیا کے مشہور اور قیمتی ترین ہیروں میں ہوتا ہے، اس کا وزن 105 قیراط (21.6 گرام) ہے۔
  • ... کہ برٹش میوزیم میں کل 1 کروڑ 30 لاکھ اشیاء محفوظ ہیں، جو تمام براعظموں سے اکھٹی کی گئی ہیں۔
  • ... کہ انسانوں میں، ایک بالغ کھوپڑی میں 22 ہڈیاں ہوتی ہیں جو جبڑے کے علاوہ ہیں، کھوپڑی کی تمام ہڈیاں ایک دوسرے سے جُڑی ہوتی ہیں۔
  • ... کہ البیرونی نے ایک ناول بنام بامیان کے دو بت لکھا تھا، یہ ناول گم یا ضائع ہو چکا ہے اور اس وقت کوئی نسخہ موجود نہیں ہے۔
  • ... کہ چھاپہ خانے سے چھاپی جانے والی اردو کی پہلی کتاب اخلاق ہندی ہے جو 1803ء میں شائع کی گئی۔

Globe-with-clock.svg خبروں میں

حالیہ وفیات: گنتھر گراس لی کوان یئو عبداللہ بن عبدالعزیز

HSUtvaldgrey.png منتخب فہرست

SevenWondersOfTheWorld.png
سات عجائبات عالم زمانۂ قدیم کے 7 عظیم تعمیراتی شاہکاروں کو کہا جاتا ہے۔عجائبات کی یہ فہرست 305 سے 204 قبل مسیح کے دوران ترتیب دی گئی۔ تاہم مذکورہ فہرست زمانے کی دست برد کی نظر ہو گئی۔ ان 7 عجائبات کا ذکر 140 قبل مسیح کی ایک نظم میں بھی ملتا ہے۔ ان 7 عجائبات عالم میں اہرام مصر، بابل کے معلق باغات، معبد آرتمیس، زیوس کا مجسمہ، موسولس کا مزار، روڈس کا مجسمہ اور اسکندریہ کا روشن مینار شامل ہیں۔ ان تمام عمارتوں میں سے صرف اہرام مصر اب تک قائم ہیں۔ جبکہ بابل کے باغات کی تاحال موجودگی ثابت نہیں۔ دیگر 5 عجائبات قدرتی آفات کا شکار ہو کر تباہ ہوئے۔ ارٹیمس کا مندر اور زیوس کا مجسمہ آتش زدگی اور اسکندریہ کا روشن مینار، روڈس کا مجسمہ اور موسولس کا مزار زلزلے کا شکار بنا۔ موسولس کے مزار اور ارٹیمس کے مندر کی چند باقیات آج بھی لندن کے برٹش میوزیم میں موجود ہیں۔ اصل میں مذکورہ یونانی فہرست میں انہیں عجائبات قرار نہیں دیا گیا تھا بلکہ ایسے مقامات قرار دیا گیا ہے جنہیں ضرور دیکھنا چاہیے۔

PL Wiki InM ikona.svg منتخب تصویر

Contactus-wmcolors.svg ویکیپیڈیا ساتھی منصوبے

دائرۃ المعارف ویکیپیڈیا کو موسسۃ الویکیمیڈیا کے تحت چلایا جاتا ہے، جس کے زیر انتظام متعدد دیگر کثیر اللسانی اور آزاد منصوبے بھی روبہ عمل ہیں:

W-circle.svg ویکیپیڈیا زبانیں