اسلام

وکیپیڈیا سے

Jump to: navigation, search
اس صفحہ کو فی الحال ترامیم کیلیۓ نـیـم محفوظ کر دیا گیا ہے، اب اس میں ترمیم کیلیۓ صارف کو اندراج (registration) کر کے داخل نوشتہ (log in) ہونا لازم ہے۔ اس فیصلے کی وجوہات میں احتمالِ تخریب کاری و جانبداری، حذف شدگی سے قبل انتباہ، مضمون کی بہتری، اور یا پھر اسکی دائرہ المعارف میں شمولیت سے نااہلیت شامل ہوسکتی ہیں۔ تبدیلیوں پر بحث یا صفحہ کو غیرمحفوظ کرنے کے بارے میں گفتگو تبادلۂ خیال کے صفحہ پر کیجیۓ۔


مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اسلام

تاریخ اسلام

عـقـائـد و اعـمـال

خدا کی وحدانیت
قبولیت اسلام
نمـازروزہ
حجزکوٰۃ

اہـم شـخـصـیـات

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
ابوبکر صدیقعمر فاروقعثمان غنیعلی حیدر
احباب حضور اکرم
حضور اکرم کا خاندان
حضور اکرم کی ازواج
دیگر پیغمبران

کـتـب و قـوانـیـن

قرآنحدیثشریعت
قوانینکلام
سـیـرت

مسلم مکتبہ ہائے فکر

سنیشـیعہصوفی

معاشرتی و سیاسی پہلو

اسلامیاتفلسفہ
فنونسائنس
فن تعمیرمقامات
سالنامہ (کلنڈر)تعطیلات
خواتین اور اسلامرہنما
سیاسیاتجہادآزاد خواہی

مزید دیکھیئے

اسلامی اصطلاحات
اسلام پر مضامین کی فہرست

اسلام ایک توحیدی (monotheistic) مذہب ہے جو کہ اللہ کی طرف سے آخری رسول و نبی ، محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی آخري الہامي کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔

فہرست

لغوي مطلب

لفظ اسلام لغوی اعتبار سے سلم سے ماخوذ ہے، جس کے معنی اطاعت اور امن ، دونوں کے ہوتے ہیں۔ ایسا فی الحقیقت عربی زبان میں اعراب کے نہایت حساس استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے جس میں کہ اردو و فارسی کے برعکس اعراب کے معمولی رد و بدل سے معنی میں نہایت فرق آجاتا ہے۔ اصل لفظ جس سے اسلام کا لفظ ماخوذ ہے ، یعنی سلم ، اپنے س پر زبر اور یا پھر زیر لگا کر دو انداز میں پڑھا جاتا ہے۔

  1. سَلم (salm) ----- جس کے معنی امن و سلامتی کے آتے ہیں۔
  2. سِلم (silm) ----- جس کے معنی اطاعت، داخل ہوجانے اور بندگی کے آتے ہیں۔

قرآنی حوالہ

  1. اسلام کا ماخذ سلم (salm) اپنے امن و صلح کے معنوں میں قرآن کی سورت الانفال کی آیت 61 میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (ترجمہ: اور اگر جھکیں وہ صلح (امن) کی طرف تو تم بھی جھک جاؤ اس کی طرف اور بھروسہ کرو اللہ پر۔ بے شک وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے)[1]۔
  2. سلم (silm) کا لفظ اپنے اطاعت کے معنوں میں قرآن کی سورت البقرہ کی آیت 208 میں ان الفاظ میں آیا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (ترجمہ: اے ایمان والو! داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے پورے اور نہ چلو شیطان کے نقشِ قدم پر بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے)۔ حوالے کے لیۓ دیکھیے حوالہ براۓ امن و صلح۔

اصطلاحي مطلب

اصطلاحي طور پر اسلام سے مراد حوالگی یا خود کو اللہ كے سپرد کردینے کے ہیں اور یہیں سے اسلام کی اصل روح کا اظہار ہوتا ہے کہ خود کو مکمل طور پر اللہ کی مرضی کے حوالے کردینا۔ اور وہ لوگ جو ایسا کریں انکے لیۓ لفظ مسلم یا مسلمان استعمال کیا جاتا ہے یعنی وہ جو اسلام پر یقین رکھتے ہیں یا وہ جو ایمان لے آئے۔ اسلام کے لیے قرآن میں اسلام کے لیں دین کی اصطلاح آئی ہے اور اسکے کئی معنی ہیں

1- ادارہء سند (authority)، حکمرانی
2- اطاعت ، فرمانبرداری
3- طرز و اسلوب ، نظام ، طریقہ
4- دادرسی ، سزا ، جزا

لہذا قرآن میں "دین" کی اصطلاح کے مفہوم کے مطابق دین ترجمہ مذہب نہیں کیا جاسکتا۔ دین کے قرآنی مفہوم کے لحاظ سے اسلام کی تعریف یوں ہوتی ہے کہ، خالق کی اطاعت ، مکمل فرمانبرداری اور اپنے آپ کو کامل طور پر اسکے بنائے گۓ اصولوں کے حوالے کردینے والا نظام زندگی اسلام ہے۔ مذہب اسلام کا نام اسلام اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ اللہ کی مکمل اطاعت اور فرماں برداری ہے،مسلمان لوگ اسلام كوايكـ مکمل ضابطہ حیات ہونے كا يقين ركھتے ہیں۔

رنگ رنگ کے فرقے ایک طرف ، اسلام کے صرف اور صرف دو ہی سرچشمے ہیں
1- قرآن : جس کے ذریعے خالق کا پیغام انسانیت کے نام ایک مرتبہ پھر درست حالت میں اور آخری بار پہنچایا گیا اور اسکا نام اس بار اسلام منتخب کیا گیا ( اس سے پہلے آنے والے مذاہب بھی اسلام ہی تھے جن میں ترامیم کردی گئیں )۔ چونکہ اس بار اللہ تعالی نے اس مذہب کو تمام انسانیت کے لیۓ آخری اور قطعی صورت یافتہ نسخہ کی حیثیت سے بھیجا ہے لہذا اسکو ہرطرح کی ترمیم سے بچانے کا وعدہ بھی اللہ تعالی نے خود ہی فرمایاہے۔ قرآن محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر 23 سال کے عرصہ میں ، 610 تا 632 عیسوی کے دوران اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوا۔
2- سنت : قرآن کے بعد اسلام کا دوسرا اور آخری منبع سنت یعنی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حیات مبارک ہے جو کہ قرآن کے تحریری اسلام کا انسانی نمونا ہے یعنی عملی اسلام۔

حوالہ جات

  1. ^ آسان قرآن نامی موقع روۓ خط ، اردو ترجمہ کے ساتھ






مذاہب و عقائد
اسلام | عیسائیت | بدھ مت | بہائی | تائو مت | جین مت | زرتشت | شنتومت | سکھ مت | کنفیوشس مت| ہندو مت| یہودیت

دیگر زبانیں