معاویہ بن ابو سفیان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بنو امیہ
Umay-futh.PNG
خلفائے بنو امیہ
معاویہ بن ابو سفیان، 661-680
یزید بن معاویہ، 680-683
معاویہ بن یزید، 683-684
مروان بن حکم، 684-685
عبدالملک بن مروان، 685-705
ولید بن عبدالملک، 705-715
سلیمان بن عبدالملک، 715-717
عمر بن عبدالعزیز، 717-720
یزید بن عبدالملک، 720-724
ہشام بن عبدالملک، 724-743
ولید بن یزید، 743-744
یزید بن ولید، 744
ابراہیم بن ولید، 744
مروان بن محمد، 744-750


41ھ سے 60ھ

661ء سے 680ء

معاویہ بن ابو سفیان ایک مشہور صحابی تھے اور اموی سلطنت کے بانی تھے۔ آپ کے عہد سے مسلم طرز حکومت خلافت سے ملوکیت میں تبدیل ہو گیا۔ [1]

ابتدائی زندگی

معاویہ ابوسفیان بن حرب کے بیٹے تھے۔ ان کی والدہ کا نام ہندہ تھا۔ جنہوں نے غزوہ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبایا تھا۔ ظہور اسلام سے قبل ابوسفیان کا شمار رؤسائے عرب میں ہوتا تھا۔ جبکہ ابوسفیان اسلام کے بڑے دشمنوں میں شمار ہوتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عام معافی کا اعلان کیا تو ابوسفیانRAZI.PNG، ہندہ اور ان کے تمام خاندان نے اسلام قبول کر لیا۔ امیر معاویہ RAZI.PNG بھی ان میں شامل تھے۔ ہجرت مدینہ سے تقریباً 15 برس پیشتر مکہ میں آپ کی پیدائش ہوئی۔ اعلان نبوت کے وقت آپ کی عمر کوئی چار برس کے قریب تھی۔ جب اسلام لائے تو زندگی کے پچیسویں برس میں تھے۔ فتح مکہ کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں کے تالیف قلب کے لیے ابوسفیان کے گھر کو بیت الامن قرار دیا۔ یعنی جو شخص ان کے گھر چلا جائے وہ مامون ہے۔ اور ان کے بیٹے معاویہRAZI.PNG کو کاتب وحی مقرر کیا۔ اس کے علاوہ بیرون ملک سے آئے ہوئے لوگوں اور ملاقاتیوں کی مہمان نوازی اور دیکھ بھال کا کام بھی آپ کے سپرد تھا۔ یہ دور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کا آخری حصہ تھا۔ اس لیے امیر معاویہ RAZI.PNG زیادہ عرصہ آستانہ نبوت سے منسلک نہ رہ سکے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کے بھائی یزید بن ابوسفیان کو شام کے محاذ پر بھیجا تو معاویہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ عہد فاروقی میں یزید کی وفات کے بعد آپ کو ان کی جگہ دمشق کا حاکم مقرر کیا گیا۔ رومیوں کے خلاف جنگوں میں سے قیساریہ کی جنگ آپ کی قیادت میں لڑی گئی جس میں 80 ہزار رومی قتل ہوئے تھے ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آپ کو دمشق ،اردن ، اور فلسطین تینوں صوبوں کا والی مقرر کیا اور اس پورے علاقہ کو شام کا نام دیا گیا۔ والی شام کی حیثیت سے آپ کا بڑا کارنامہ اسلامی بحری بیڑے کی تشکیل اور قبرص کی فتح ہے۔ حضرت عثمان RAZI.PNG آپ پر بہت اعتماد کرتے تھے اور آپ کا شمار عرب کے چار نامور مدبرین میں ہوتا تھا۔

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوارج سے مقابلہ کیا، مصر، کوفہ، مکہ، مدینہ میں باصلاحیت افراد کو عامل و گورنر مقرر کیا، مصر میں عمرو بن العاص- رضی اللہ عنہ- کو حاکم بنایا، پھر ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے عبد اللہ بن عمرو بن العاص کو بنایا، ان کے دور حکومت میں جوبیس سال کو محیط ہے۔ سجستان، رقہ، سوڈان، افریقہ، طرابلس، الجزائر اور سندھ کے بعض حصے فتح کیے گئے۔ ان کا دور حکومت ایک کامیاب دور تھا، ان کے زمانہ میں کوئی علاقہ سطلنت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوا، بلکہ اسلامی سلطنت کا رقبہ وسیع تر ہوتا چلا گیا۔

اموی خلافت

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اندوہناک واقعہ شہادت کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت خلافت ہوئی تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے (جو اس وقت ملک شام کے امیر تھے) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ مطالبہ کیا کہ آپ پہلے قاتلانِ عثمان سے قصاص لیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ ابھی ہرطف شورش اور ہنگامہ ہے، یہ فرو ہوجائے اس کے بعد قصاص لیں گے۔ اس کے بعد سبائیوں نے ریشہ دوانیاں شروع کیں اورایک دوسرے سے بدظن کرتے رہے اور انھیں جھوٹی سچی باتیں کہہ کر ورغلاتے رہے، یہاں تک کہ ان سبائیوں نے دونوں میں جنگ کرادی،( دونوں کی نیت صحیح تھی اختلاف پیدا کرنے والے اور باہم جنگ کرانے والے سبائی اور صرف سبائی تھے۔ ہمیں مشاجراتِ صحابہ میں نہ الجھنا چاہیے۔ اس سے کسی صحابی کے بارے میں مبادا بدگمانی پیدا ہوجائے اور ہم ایمانی خرابی میں مبتلا ہوجائیں۔) جنگ (صفین) کے بعد آپ کی خلافت کا اعلان کر دیا گیا یہ اعلان دھوکا دہی سے کیا گیا۔ اس طرح اسلامی مملکت دو حصوں میں بٹ گئی۔
اس موضوع پر مزید دیکھیے شہادت عثمان اور جنگ صفین کے مضامین

اسلامی سلطنت کا اتحاد

حضرت علی کو اپنے دور خلافت میں خوارج کا مقابلہ کرنا پڑا - حضرت علی کی شہادت کے بعد اہل کوفہ نے امام حسن کی بیعت کر لی لیکن آپ کے اعلان خلافت کے فوراً بعد امیر معاویہ نے عراق پر فوج کشی کر دی۔ کوفی قابل اعتماد نہ تھے اس کے علاوہ امام حسن کی پوزیشن بھی مستحکم نہ تھی اس لیے آپ نے بہتر یہی سمجھا کہ امت مسلمہ کو مزید خونریزی سے بچانے کے لیے وہ امیر معاویہ کے حق میں دست بردار ہو جائیں۔ آپ کے اعلان دست برداری کے بعد 661ء میں امیر معاویہ نے اپنی خلافت کا اعلان کیا۔ امام حسن نے امیر معاویہ کے ساتھ صلح کرتے ہوئے ان کے ہاتھ پر بیعت کی” مستند حوالہ درکار“۔ یہیں سے اموی خلافت کا آغاز ہوا۔

استحکام سلطنت کے لیے اقدامات

خوارج کا مقابلہ

مخالفین بنو امیہ میں سب سے زیادہ منظم اور خطرناک گروہ خوارج کا تھا۔ امیر معاویہ کے تخت نشین ہونے کے فوراً بعد 661ء میں ایک خارجی فسردہ بن نوفل نے کوفہ کے قریب علم بغاوت بلند کیا۔ سرکاری افواج ان کے عزم و ہمت کا مقابلہ نہ کر سکیں اور شکست کھانے پر مجبور ہوئیں ۔ امیر معاویہ نے اس بغاوت کے لیے اہل کوفہ کو ذمہ دار سمجھتے ہوئے انہیں تنبیہ کی کہ اگر انہوں نے فسردہ کو گرفتار کرکے حکومت کے سپرد نہ کیا تو انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس دھمکی کا خاصہ اور کوفیوں نے فسردہ کو گرفتار کرا دیا لیکن خوارج نے اس کے باوجود عبداللہ بن ابی الحوسا کی زیر سرکردگی اپنی جدوجہد کو بدستور جاری رکھا

امیر معاویہ نے کوفہ میں خوارج کی سرگرمیوں کے تدارک کے لیے اب مغیرہ بن شعبہ کو مقرر کیا۔ مغیرہ مسلسل ایک برس تک ان کے خلاف برسرپیکار رہے۔ اس دوران خوارج نے عید کے دن عین حالت نماز میں اچانک حملہ کرنے کی سازش کی لیکن بروقت علم ہو جانے کی وجہ سے مغیرہ نے ان کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔ مغیرہ کی زبردست کوششوں کے نتیجہ کے طور پر خوارج کو دوبارہ سر اٹھانے کی ہمت نہ ہوئی اور ان کے راہنما مارے گئے ۔

کوفہ کے بعد خوارج کا دوسرا مرکز بصرہ تھا۔ بصرہ کے خوارج کی سرکوبی کے لیے زیاد بن ابیہ کو بصرہ کی ولایت سپرد کی گئی۔ زیاد بن ابیہ نے اہل بصرہ کے جذبہ خودسری کو کچل دیا۔ اس کی سخت گیری اور تشدد کی بدولت تمام عراق میں امن و امان قائم ہوا۔ مغیرہ کی وفات کے بعد کوفہ کی ولایت بھی اس کے سپرد کر دی گئی

حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کا قتل

حضرت حجر بن عدی حضرت علی کے فدائیوں میں سے تھے۔ جب امیر معاویہ نے اپنے عہد اقتدار میں قاتلان عثمان پر سب و شتم کی بنیاد رکھی اور تمام صوبوں کے والیوں اور اعمال حکومت کو حکم دیا کہ وہ بھی جمعہ کے خطبہ میں قا تلان عثمان کو برسر منبر برا بھلا کہیں (خلافت و ملوكيت تصنيف مولانا مودودى) امیر معاویہ نے حضرت علی RAZI.PNG کو برسر منبر برا بھلا کہنے کا حکم دیا۔ ۔ حضرت علی کو برا بھلا کہنے کی روایت حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ختم کروائی۔ اس بنا پر حجر بن عدی میں امیر معاویہ اور ان کے ساتھیوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا ۔زیاد نے کوفہ کی امارت کے زمانہ میں حجر بن عدی اور ان کے چند ساتھیوں کو قتل کرا دیا۔ حجر بن عدی بڑے مرتبہ کے صحابی تھے ۔ آپ کے قتل نے دنیائے اسلام پر بہت برا اثر چھوڑا۔ (حوالہ خلافت و ملوکیت از مولانا مودودی)

بغاوتوں کی روک تھام

661ء میں بلخ ،بخارا ،ہرات اور بادغیس کے حکمرانوں نے اموی اقتدار کے خلاف بغاوت کر دی ۔ امیر معاویہ نے قیس بن ہثیم کو خراسان کا والی مقرر کیا۔ عبداللہ ابن حازم اور قیس نے مل کر ان علاقوں پر لشکر کشی کی اور انہیں اطاعت قبول کرنے پر مجبور کیا۔

663ء میں کابل کے حکمران نے بغاوت کر دی عبدالرحمن بن سمرہ اس بغاوت کو فرو کرنے پر مامور ہوا۔ اس نے شہر کا محاصرہ کرنے کے بعد فوج کو سنگباری کا حکم دیا۔ محصورین نے بقول یعقوبی از خود شہر کے پھاٹک کھول دئیے۔ اس کے بعد اموی افواج اردگرد کے علاقوں کو فتح کرتی ہوئی غزنہ پہنچیں۔ اہل غزنہ نے تھوڑی سے مزاحمت کے بعد شکست قبول کر لی۔ اس طرح بخارا سے لے کر غزنہ اور کابل تک کے تمام علاقہ کو اموی احاطہ اقتدار میں دوبارہ شامل کر لیا گیا۔

سندھ پر حملہ

امیر معاویہ کے زمانہ میں سندھ پر دو طرفہ حملہ کیا گیا ایک مہم مہلب کی کمان میں اور دوسری بلوچستان سے منذر کی زیر سرکردگی روانہ کی گئی۔ مہلب کابل ، قندھار ، فتح کرتا ہوا سرزمین سندھ میں داخل ہوا دوسری طرف منذر مکران کا علاقہ فتح کرتا ہوا قلات کی طرف آگے بڑھا۔ یہ دونوں مہمیں بہت کامیاب رہیں اور بہت سا مال غنیمت حاصل کرکے واپس ہوئیں ۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے کئی ایک مہمات روانہ کی گئیں جو کامیاب ہو کر واپس لوٹیں۔

ترکستان کی فتوحات

اگرچہ عبیداللہ ابن زیاد کے زمانہ میں ترکستان کی فتح کے لیے کئی ایک کامیاب مہمات روانہ کی گئی تھیں لیکن سعید بن عثمان کی ولایت کوفہ کے زمانہ میں ترکستان پر باقاعدہ لشکر کشی کی گئی۔ سعید دریا جیحوں پار کرکے اہل سغد کے پایہ تخت تک جا پہنچا۔ ملکہ قبق نے صلح کی خواہش کا اظہار کیا لیکن سغدیوں نے ملکہ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا اور ایک لاکھ بیس ہزار فوج لے کر مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے نکل پڑے۔ بخارا میں دونوں افواج کے درمیان زبردست جنگ ہوئی لیکن چونکہ سغدی باہمی پھوٹ کا شکار ہوگئے اس لیے ملکہ صلح کرنے پر مجبور ہوئی۔ بخارا پر قبضہ کے بعد اسلامی لشکر نے سمرقند کا محاصرہ کر لیا۔ اہل سمرقند نے کچھ عرصہ تو مزاحمت کی لیکن بالاخر سات لاکھ درہم سالانہ کے وعدہ پر صلح کر لی۔ سمرقند کے بعد ترمذ کا علاقہ بھی فتح کر لیا گیا ۔ اس طرح ترکستان کا بیشتر حصہ اموی سلطنت کا جزو بنا

شمالی افریقہ کی فتوحات

شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ خلافت راشدہ کے زمانہ میں فتح ہو چکا تھا۔ امیر معاویہ کے زمانہ میں ان علاقائی فتوحات میں مزید توسیع کی گئی۔عمرو بن العاص شمالی افریقہ کے گورنر تھے ۔ آپ نے عقبہ بن نافع اور معاویہ بن خدیج کو شمالی افریقہ کی فتح کے لیے نامزد کیا۔ 661ء میں عقبہ نے شمالی افریقہ پر فوج کشی کرکے طرابلس ، تونس اور الجزائر کے علاقوں پر قبضہ کر لیا اور اس کے بعد بوزانہ اور زناطہ تک اپنے حلقہ اقتدار کو وسیع کیا۔ 663ء میں سوڈان پر لشکر کشی کی گئی اور اس کے کثیر حصہ پر قبضہ کر لیا گیا افریقہ کے سرکش بربروں کو کچل دیا گیا اور قیروان کی مشہور چھاونی قائم کی گئی تاکہ افریقہ میں مستقل اور پائدار امن قائم رہے۔

قسطنطنیہ پر حملہ

شام اور مصر پر اسلامی غلبہ کے باوجود رومی آئے دن اسلامی سرحدوں پر حملے کرتے رہتے تھے کیونکہ رومیوں کو ایشیائے کوچک اور یورپی مقبوضات پر ابھی تک پوری طرح بالادستی حاصل تھی۔ نیز مشرقی کلیسا کے مرکز کی حیثیت سے بھی بازنطینی حکمران عیسائیوں کی امیدوں کا مرکز تھے۔ اس بنا پر وہ اسی کوشش میں لگے رہتے تھے کہ وہ اپنے کھوئے ہوئے علاقے کو دوبارہ حاصل کریں۔ رومی حملوں کی روک تھام کے لیے امیر معاویہ نے بالاخر بازنطینی حکومت کے دارالحکومت قسطنطنیہ کی تسخیر کا باقاعدہ منصوبہ بنایا۔ آپ کے اس منصوبہ کی اطلاع جب مکہ و مدینہ تک پہنچی تو اکابر صحابہ نے بھی اس میں شمولیت کے لیے آمادگی کا اظہار کیا کیونکہ رسول اللہ نے فاتحین قسطنطنیہ کو مغرفت کی بشارت دی تھی۔ ( اصل حدیث میں یہ وضاحت بھی ہے ، جو شخص قسطنطنیہ فتح کرے گا اس کا نام پیغمبر کے نام پر ہوگا۔ یہ پیشن گوئی سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں پوری ہوئی)55ھ میں سفیان بن عوف ازدی کو اس فوج کا انچارج بنایا گیا ۔ اس مہم میں ابوایوب انصاری ، عبداللہ ابن عمر اور عبداللہ ابن عباس ، عبداللہ بن زبیر جیسے مقتدر صحابی بھی شریک ہوئے۔ فوج کے ایک دستہ کی کمان امیر معاویہ کے بیٹے یزید کے ہاتھ میں بھی تھی۔ قسطنطنیہ چونکہ مشرقی کلیسا کا مرکز تھا اس لیے رومیوں نے بھی اس کے دفاع کے زبردست انتظامات کر رکھے تھے ۔ محاصرہ کے دوران شہر کی بلند فصیل سے وہ مسلمانوں پر آگ کے گولے برساتے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو سخت جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ جب کامیابی کی صورت نظر نہ آئی تو محاصرہ اٹھانے کا حکم دیا گیا۔ یہ حملہ اگرچہ ناکام رہا لیکن رومیوں پر اس قدر خوف طاری رہا کہ آئندہ کئی برسوں تک انہوں نے مسلمانوں کے خلاف کوئی جارحانہ کاروائی نہ کی۔

اس محاصرہ کے دوران مشہور صحابی ابوایوب انصاری وفات پا گئے ۔ مسلمانوں نے آپ کو شہر کی فصیل کے نیچے لے جا کر دفن کر دیا۔ مسلمانوں نے رومیوں کو خبردار کر دیا کہ وہ لاش کی یا مزار کی بے حرمتی نہ کریں وگرنہ اس کے نتائج اچھے نہ ہوں گے ۔ لیکن آہستہ آہستہ خود رومی ان کا احترام کرنے لگے۔ ان کے مزار پر منتیں ماننے لگے۔ عثمانی ترکوں کے زمانہ میں آپ کے مزار پر مقبرہ بنوایا گیا اور مسجد تعمیر کی گئی جو جامعہ ایوبیہ کہلائی۔

جزائر روڈس اور ارواڈ کی فتح

شامی علاقہ کے تحفظ کے نقطۂ نظر سے جزائر روم کی فتح ضروری تھی چنانچہ اس مقصد کی خاطر اس سے پیشتر جزیرہ قبرص فتح کیا جا چکا تھا۔ امیر معاویہ نے اپنے زمانہ میں ایک قدم مزید آگے بڑھا کر جزیرہ روڈس پر قبضہ کر لیا۔ یہ اناطولیہ کے قریب جنوب مغرب میں واقع ہے۔ جزیرہ صیقلہ (سسلی) پر بھی قبضہ کی کوشش کی گئی مگر کامیابی نہ ہوئی۔ اس کے بعد 54ھ میں جزیرہ ارواڈ پر قبضہ ہوا۔

نظام حکومت اور انتظامی اصلاحات

جہاں تک نظم و نسق کا تعلق ہے تو امیر معاویہ نے اس کی کافی حد تک اصلاح کرکے حکومت کو استحکام بخشا اور فوجی اور دیگر اصلاحات سے ملک کو بیرونی حملوں سے تحفظ دیا ۔ ان کے نظام حکومت کا خاکہ درج ذیل ہے:

خلیفہ کے اختیارات میں اضافہ

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے انیس سالہ دور حکومت میں ملک سے بدامنی اور خانہ جنگی دور کرکے ایک مضبوط حکومت قائم کی ۔ جو داخلی انتشار اور خارجی حملوں کا مقابلہ کر سکتی تھی۔ اس حکومت کی بنیاد خلیفہ کے وسیع اختیارات پر تھی۔ انہوں نے خلافت راشدہ کے شورائی اور جمہوری طرز حکومت کی بجائے مضبوط مرکزی حکومت قائم کی۔ جو خدا کے سو کسی کے سامنے جوابدہ نہ ہو۔ اگرچہ دور خلافت کے قائم کردہ ادارے بظاہر اسی طرح قائم تھے لیکن ان کے اندر وہ جمہوری روح باقی نہیں رہی ۔ مجلس شوریٰ کا وجود قائم تھا اور اس میں عرب کے معروف مدبر عمرو بن العاص ، مغیرہ بن شعبہ ، زیاد بن ابی سفیان اور دیگر اکابرین سلطنت شامل تھے۔ جن کا انتخاب خلیفہ کی ذاتی پسند یا ناپسند پر مبنی تھا ۔ خلیفہ کسی بھی شخص کو شوریٰ کا رکن بنا سکتا تھا اور خود شوریٰ کے کسی فیصلے کا پابند نہ تھا۔ شوریٰ کے ارکان بھی خلیفہ کی خواہش و مرضی کے خلاف رائے دینے سے اجتناب کرتے اور اگر اختلاف کرتے تو ادب و احترام کے ساتھ۔ بے باک تنقید جس کا رواج خلافت راشدہ میں تھا۔ یہاں اس کی گنجائش نہ تھی۔

صوبائی نظام

ملکی تقسیم اور صوبائی حد بندی کا نظام تقریباً وہی رہا جو حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں تھا۔ ہر صوبے کے لیے الگ گورنر تھا جسے والی کہتے تھے۔ صوبائی گورنروں کی تقرری اور تنزلی کا اختیار خلیفہ کو تھا اور وہ خلیفہ کی ہدایات او روضع کردہ احکامات کے تابع فرمان تھے۔ بعض مقامی نوعیت کے معاملات میں انہیں نے فیصلوں کا اختیار تھا۔ امیر معاویہ کے زمانہ میں صوبوں میں مکمل امن و امان قائم رہا۔

فوجی نظام

بنی امیہ مکہ کے فوجی قائدین میں سے تھے ۔ اس لیے عہد امیر معاویہ میں فوج کی تنظیم کی طرف خصوصی توجہ دی گئی ۔ اس کا ڈھانچہ عہد فاروقی کے خطوط پر قائم رہا۔ فوج کے دو حصے تھے جنھیں گرمائی اور سرمائی علی الترتیب صافیہ اور شاتیہ کہتے تھے۔ فوج کی تنخواہ اور بھرتی کے نظام کی اور زیادہ اصلاح کی گئی ۔ غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف ملکی دفاع کے لیے نئی نئی چھاؤنیاں اور شہر آباد کیے گئے ۔ دوران جنگ تلواروں ، تیروں اور دیگر رائج الوقت اسلحہ کے علاوہ قلعہ شکن آلات کا عام استعمال ہوتا تھا۔ جس کے ذریعہ بڑے بڑے قلعوں کی فصیلوں میں شکاف کر دیا جاتا تھا۔ امیر معاویہ نے فوج کی تنظیم اس طرح کی کہ ڈسپلن اور استعداد کے لحاظ سے یہ دنیا کی صف اول کی افواج کی ہم پلہ بن گئی

بحریہ کی تشکیل

امیر معاویہ کا سب سے شاندار کارنامہ اسلامی بحریہ کی تشکیل ہے۔ رومیوں کے خلاف جنگوں میں بحریہ کی اہمیت محسوس ہوگئی تھی۔ چنانچہ منصب خلافت سنبھالنے کے بعد آپ نے سب سے زیادہ توجہ بحریہ کی ترقی پر صرف کی۔ عہد عثمانی میں 500 جنگی بحری جہاز موجود تھے۔ جن کے ذریعے قبرص کا جزیرہ فتح ہوا تھا۔ امیر معاویہ نے اس بحری بیڑے کو مزید مستحکم بنایا اور مصر و شام کے ساحلی مقامات پر جہاز سازی کے کارخانے قائم کیے گئے۔ بحری فوج کا سپہ سالار علیحدہ مقرر کیا گیا ۔ جسے امیرالبحر کہتے تھے۔ اس عہد میں خبادہ بن ابی امیر اور عبداللہ بن قیس اس عہدہ پر فائز رہے۔

پولیس

ملک کے اندرونی نظام اور امن و امان کے قیام کے لیے محکمہ پولیس کو باقاعدہ منظم کیا گیا۔ عراق میں بالخصوص پولیس کا بڑا زبردست انتظام تھا۔ شہر کوفہ میں چالیس ہزار پولیس کے سپاہی موجود تھے۔ راہ پڑی اشیاء وہیں کی وہیں پڑی رہ جاتیں اور کوئی دوسرا انہیں اٹھانے کی جرات نہ کرتا۔ ملک کے اندر ایک سرے سے دوسرے سرے تک مکمل امن و امان تھا۔ مشتبہ لوگوں کے نام رجسٹر میں درج تھے۔ بعض ہنگامی حالات میں لوگوں کے باہر آنے جانے پر پابندی لگا دی جاتی جس طرح موجودہ حالات میں کرفیو آرڈر نافذ کیا جاتا ہے۔ پولیس کی اس نگرانی اور سختی کا خاطر خواہ اثر پڑا تمام شورشیں اور غیر قانونی سرگرمیاں ختم ہوگئیں۔ اور لوگوں نے امن و سکون کا سانس لیا۔

دیوان البرید

اس سے پہلے خبر رسانی اور ڈاک کی ترسیل کے لیے مملکت اسلامی میں کوئی باقاعدہ محکمہ نہ تھا۔ امیر معاویہ نے اس کام کے لیے برید کے نام سے مستقل محکمہ قائم کیا۔ اس کام کے لیے ہر منزل پر تازہ دم گھوڑے ہر وقت موجود رہتے جو ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ڈاک پہنچاتے اور اس طرح حکومت ملکی حالات سے اچھی طرح باخبر رہتی ۔

دیوان الخاتم

اس سے پہلے دفتروں میں سرکاری ریکارڈ کی نقل رکھنے کا کوئی بندوبست نہ تھا۔ ایک دفعہ ایک شخص نے جعل سازی کرکے ایک لاکھ کی جگہ دو لاکھ وصول کر لیے۔ جب یہ بات امیر معاویہ کے علم میں آئی تو انہوں نے دیوان خاتم کے نام سے ایک محکمہ قائم کیا۔ جس کے ذمہ تمام ریکارڈ کی نقلیں رکھنا اور خطوط کو سربمہر کرکے متعلقین تک پہنچانا تھا۔

نئے شہروں کی تعمیر

جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے امیر معاویہ نے فوجی ضروریات کی بنا پر نئی نئی چھاؤنیاں تعمیر کیں اور برباد شدہ شہروں کو دوبارہ آباد کیا۔ یہ فوجی چھاؤنیاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے شہروں میں تبدیل ہوگئیں ۔ واسط اور قیروان کی چھاؤنیاں بعد میں بڑے بڑے شہروں کی شکل اختیار کر گئیں۔ ارواڈ کے جزیرہ میں مسلمانوں کو آباد کیا اسی طرح انطاکیہ میں ایک مسلم نو آبادی قائم کی

رفاہ عامہ کے کام

زندگی میں کوئی شعبہ ایسا نہ تھا جو معاویہ کے اصلاحات سے متاثر نہ ہوا ہو۔ خوشحالی اور زراعت کی ترقی کے لیے آبپاشی کے نظام کی طرف خصوصی توجہ دی گئی ۔ مدینہ کے قرب و جوار میں متعدد نہریں کھدوائی گئیں جن سے اناج اور پھلوں کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ نہر معقل جو بصرہ میں حضرت عمر کے زمانہ میں کھودی گئی تھی کو دوبارہ کھدوا کر آبپاشی کے قابل بنایا گیا ۔ نئے شہروں میں لوگوں کے دینی فرائض کی بجا آوری کے لیے مسجدیں تعمیر کی گئیں۔

غیر مسلموں سے حسن سلوک

حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کے لیے کچھ طریقے مقرر کیے گئے تھے۔ امیر معاویہ نے انہیں بدستور جاری رکھا۔ تمام وعدے جو ان سے کیے جاتے ان کو پورا کیا جاتا ۔ ان کی جان و مال عزت و آبرو محفوظ تھی۔ انہیں عبادت اور اجتماع کی آزادی تھی۔ خلافت راشدہ کے زمانہ میں غیر مسلموں کو کلیدی آسامیوں پر فائز نہیں کیا جاتا تھا لیکن امیر معاویہ نے یہ روایت ترک کرکے انہیں اعلیٰ مناصب پر فائز کیا۔

امیر معاویہ کی حکمت عملی

امیر معاویہ قریش کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے ان کی شخصیت مجموعہ صفات تھی۔ عربی سوانحی اور تاریخی ادب میں شاید ہی کوئی کتاب ایسی ہو جس میں امیر معاویہ کی نرمی ، ضبط اور تحمل کی صفات کو خراج عقیدت پیش نہ کیا گیا ہو۔ ان کی حکمت عملی کی سب سے نمایاں خصوصیت حلم تھی۔ ان کا یہ وصف تاریخی مسلمات میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ بے جا و بے وقت سختی کے قائل نہ تھے۔ مخالفین اور معترضین کی نکتہ چینی کا خندہ پیشانی سے جواب دیتے ۔ اس معاملہ میں انہوں نے اپنے طرز عمل کی یوں وضاحت کی ہے:

’’جہاں میرا کوڑا کام کرتا ہے وہاں میں تلوار کام میں نہیں لاتا اور جہاں زبان کام دیتی ہے وہاں کوڑا کام میں نہیں لاتا ۔ اگر میرے اور لوگوں کے درمیان بال برابر بھی رشتہ قائم ہو تو میں اس کو نہیں توڑتا۔ جب لوگ اس کو کھینچتے ہیں تو میں ڈھیل دے دیتا ہوں اور جب وہ ڈھیل دیتے ہیں تو میں کھینچ لیتا ہوں۔‘‘

انہوں نے ایک ایسی کامیاب حکمت عملی اختیار کی کہ حضرت امام حسن کو خلافت سے دست برداری پر آمادہ کر لیا نیز مغیرہ بن شعبہ ، عمرو بن العاص اور زیاد بن سمیہ جیسے عرب اکابر اور دانشوروں کو اپنا معاون بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ۔ یہی لوگ سیاسی معاملات اور انتظامی امور میں ان کے دست وبازو تھے اس کے علاوہ انہوں نے مختلف عرب قبائل مثلاً یمنی اور عدنانیوں میں اس طرح توازن قائم رکھا کہ ان کی قبائلی عصبیتیں دبی رہیں اور انہیں دونوں قبیلوں کا عملی تعاون حاصل رہا۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ایک مدبر حکمران اور دوراندیش سیاستدان تھے۔

سیرت و کردار

امیر معاویہ کا شمار اپنے زمانہ کے پانچ بڑے سیاستدانوں میں کیا جاتا ہے ایک بار انہوں نے خود کہا کہ میں بہ نسبت زیاد کی تلوار کے اپنی زبان سے کہیں زیادہ ہمنوا اور حامی پیدا کیے۔ ان میں لوگوں کو متاثر کرنے کی بے پناہ صلاحیتیں موجود تھیں۔ اگرچہ وہ خلفائے راشدین کی خصوصیات کے حامل نہ تھے لیکن وہ ایک اعلی درجہ کے حکمران ضرور تھے۔ تدبر و رائے اور سیاست دانی میں روسائے عرب میں سے کوئی بھی ان کا ہم پلہ نہ تھا۔ فصاحت و بلاغت میں بھی وہ یکتا تھے اس کے علاوہ وہ ایک بہترین خطیب بھی تھے۔ خوردونوش ، رہائش ، لباس اور عادات و اطوار میں شاہانہ طرز زندگی کے خوگر تھے۔ ان کے دربار سے قیصر و کسریٰ کی شان ٹپکتی تھی۔ درباریوں ، شاعروں ، دوستوں اور حاجت مندوں خواہ وہ دشمن ہی کیوں نہ ہو خسروانہ عنایات سے نوازتے ۔ اونچے ایوانوں میں رہنے کے باوجود رعایا کے کمزور سے کمزور اور غریب سے غریب آدمی کے حالات سے باخبر رہتے تھے۔ مسجد میں بیٹھ کر لوگوں کی شکایات سنتے اور وہیں ان کی تکالیف کا ازالہ کا حکم صادر فرماتے ۔ اہل دربار پر بھی یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ وہ لوگ جو ان تک نہیں پہنچ سکتے ان کی ضروریات کو امیر تک پہنچانا ان کا ذمہ ہے۔

ایک فوجی ماہر کی حیثیت سے ان کا مقام بہت بلند تھا رومیوں کے خلاف کامیاب فتوحات ان کی اس صفت کی شاہد ہیں سب سے بڑھ کر جو چیز ان کو ہمعصر حکمرانوں سے ممتاز اور نمایاں کرتی ہے وہ ان کی سیاست دانی، معاملہ فہمی اور تدبر ہے۔ آپ کی سیاست ہمیشہ کامیاب رہی ان ہی اوصاف اور کارہائے نمایاں کی بدولت انہوں نے ایک مضبوط اموی حکومت کی بنیاد رکھی۔

یزید کی جانشینی

مغیرہ بن شعبہ نے 50 ھ میں پہلی بار امیر معاویہ کے سامنے خلافت کو ان کے خاندان میں منتقل کرنے اور یزید کو ولی عہد مقرر کرنے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ :

’’عثمان کی شہادت کے بعد سے مسلمانوں میں جو اختلاف اور خونریزی قائم ہوئی ہے وہ آپ کی نگاہوں کے سامنے ہے اس لیے میری رائے میں یزید کی ولی عہدی کی بیعت لے کر اسے جانشین بنا دینا چاہیے۔ تاکہ جب آپ کا وقت آخر آئے تو مسلمانوں کے لیے ایک سہارا اور جانشین موجود ہو اور ان میں خونریزی اور فتنہ و فساد پیدا نہ ہو۔‘‘

یہ امیر معاویہ کے دل کی آواز تھی ۔ لیکن انہیں اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا پورا پورا احساس تھا۔ سیاسی نقطہ نظر سے ملک کے تین طاقتور مرکز تھے اور امیر کی اس پر نگاہ تھی۔ کوفہ و بصرہ دنیاوی لحاظ سے اور حجاز مذہبی نقطہ نظر سے نہایت اہم مراکز تھے۔ مغیرہ نے فوراً تجویز پیش کی کہ کوفہ کی ذمہ داری مجھ پر رہی۔ بصرہ کے لیے زیاد کافی ہیں اور حجاز کی ذمہ داری مروان بن حکم کے سپرد کی جائے۔ کوفہ جو مغیرہ کے ماتحت تھا، کے ایک وفد نے امیر معاویہ کے سامنے باقاعدہ یزید کی نامزدگی کی تجویز پیش کر دی۔ اس وفد کی قیادت خود مغیرہ کے بیٹے موسٰی نے کی۔

زیاد حاکم بصرہ کو جب امیر معاویہ کی رائے کا علم ہوا تو انہوں نے ازخود کوئی معاملہ طے کرنے کی بجائے عبید بن کعب سے مشورہ کیا۔ زیاد کی رائے میں یزید کی نامزدگی کی وجہ سے بہت سے مسائل اور الجھنیں پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ لٰہذا اس معاملہ میں عجلت موزوں نہ تھی۔ چنانچہ عبید نے یزید کو تمام صورت حال سے آگاہ کیا اور اسے خلاف شرع حرکات سے باز رہنے کی تلقین کی۔ کہا جاتا ہے کہ یزید نے اس کے بعد اپنے کردار میں کافی اصلاح کرلی ۔ لہٰذا بصرہ کا ایک وفد بھی امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یزید کی نامزدگی کی تجویز کو پسند کیا۔

حجاز کی نوعیت کوفہ اور بصرہ سے بالکل مختلف تھی ایک تو وہ خطہ تھا جس پر آفتاب رسالت کی شعاعیں براہ راست پڑیں اور دوسرے ایسے مقتدر صحابی اور اکابرین بھی موجود تھے جو ہر لحاظ سے یزید پر فوقیت رکھتے تھے۔ لہذا ایسے اہل الرائے اور اہل اللہ سے یزید کی نامزدگی کی تائید حاصل کرنا بے حد مشکل تھا۔ امام حسین ، عبداللہ بن عمر ، عبداللہ بن عباس ، عبداللہ بن زبیر اور عبدالرحمن بن ابی بکر خصوصی طور پر امیر معاویہ کی نگاہ میں تھے۔ اس کام کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے مروان بن حکم کو تحریر کیا گیا اور اسے اہل مدینہ کا مشورہ اور رائے معلوم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ امیر معاویہ نے اپنے پہلے خط میں یزید کی نامزدگی کا ذکر نہ کیا چنانچہ لوگوں نے آپ کے خیالات کو سراہا مگر اپنے دوسرے خط میں امیر معاویہ نے یزید کی نامزدگی کی وضاحت کر دی۔ لوگوں نے یزید کا نام سنتے ہی اختلاف کیا۔ عبدالرحمن بن ابی بکر نے کہا کہ:

’’یہ سنت ہرقل و کسریٰ کی ہے اس سے امت کی کوئی بھلائی مقصود نہیں بلکہ معاویہ خلافت کو ہرقل کی شہنشاہی بنانا چاہتے ہیں کہ ایک ہرقل کے بعد دوسرا ہرقل جانشین ہو۔‘‘

مروان نے تمام صورت حال اور کیفیت امیر معاویہ کو لکھ دی۔ اس دوران کوفہ ، بصرہ اور حجاز کے وفود دمشق پہنچ چکے تھے۔ امیر معاویہ نے بصرہ کے وفد کے قائد احنف بن قیس کی موجودگی میں دربار منعقد کیا اور حاضرین دربار کے روبرو یزید کی خوبیاں بیان کیں پھر احنف بن قیس سے رائے طلب کی۔ احنف صاف گو آدمی تھے کہا کہ:

’’ اے امیر اگر جھوٹ بولوں تو خدا سے ڈر لگتا ہے اور اگر سچ بولوں تو آپ کا خوف لاحق ہے۔ آپ یزید کے شب و روز اور افعال سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اگر اس کے بعد بھی آپ اسے امت محمدی کے لیے بہتر سمجھتے ہیں تو پھر صلاح و مشورہ کی کیا ضرورت اور اگر ایسا نہیں سمجھتے تو پھر خود دوسرے عالم کو جاتے ہوئے اس کو دنیا کا توشہ نہ دیجیے۔ ورنہ ہمارا کام تو آپ کا حکم سننا اور بجا لانا ہے۔

چونکہ امیر معاویہ یزید کی نامزدگی طے کر چکے تھے اس لیے باوجود احقاق حق کے انہوں نے کچھ لوگوں کو ڈرا دھمکا کر کچھ کو انعام و اکرام سے نواز کر ہموار کر لیا چنانچہ عراق اور شام کے باشندوں نے یزید کی بیعت کر لی۔

حجاز کا معاملہ اس سے مختلف تھا ۔ امیر معاویہ نے خود مکہ اور مدینہ کا سفر اختیار کیا۔ انہیں عبداللہ بن عمر ، عبداللہ بن عباس عبداللہ بن زبیر ، امام حسین اور عبدالرحمن بن ابی بکر سے شدید مخالفت کا خطرہ تھا۔ یہاں بھی انہوں نے سیاست سے کام لیا اور ہر ایک کو فرداً فرداً مل کر ہر ایک سے کہا کہ تم پانچ آدمیوں کے علاوہ سب نے یزید کی ولی عہدی قبول کر لی ہے اور تم ان چاروں کی رہبری کر رہے ہو۔ سوائے عبدالرحمن ابی بکر کے سب نے جواب دیا کہ

’’میں کسی کی رہبری نہیں کر رہا ہوں۔ آپ چاروں آدمیوں کو کہیے کہ اگر وہ بیعت کا اعلان کر دیں تو مجھے عذر نہ ہوگا۔‘‘

بعض مورخین کا یہ خیال ہے کہ یہ حضرات امیر معاویہ کی آمد کا سن کر مدینہ سے چلے گئے تھے۔ بہرحال بزرگوں نے بیعت سے انکار کر دیا۔ لیکن امیر معاویہ نے لوگوں میں یہ مشہور کر دیا کہ یہ حضرات بیعت کر چکے ہیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے امیر معاویہ نے دل کھول کر روپیہ خرچ کیا مگر اہل حجاز کو اپنی اس تجویز کا حامی نہ بنا سکے ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر نے باقی چار اصحاب کی نمائندگی کرتے ہوئے انہیں حضور اکرم اور خلفائے راشدین کے سلسلہ میں اختیار کردہ تین طریقہ ہائے انتخاب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ان پر واضح کر دیا کہ جانشینی کا طریقہ انہیں کسی صورت میں بھی منظور نہیں۔ امیر معاویہ واپس دمشق پہنچے اور یزید کی نامزدگی کا اعلان کر دیا۔

وصیت اور وفات

680ء میں امیر معاویہ کا انتقال 79 برس کی عمر میں دمشق میں ہوا۔ مدت خلافت انیس سال چند ماہ ہے۔ آپ نے تجہیز و تکفین کے بارے میں وصیت کی کہ رسول اللہ کے کرتہ مبارک کا کفن پہنایا جائے اور آپ کے ناخن مبارک اور موئے مبارک کو منہ اور آنکھوں پر رکھ دیا جائے ان کی طفیل خدا مجھے بخش دے۔ یزید کی جانشینی کے بارے میں وصیت کی ۔

’’جان پدر میں نے تمہاری راہ کے تمام کانٹے ہٹا کر تمہارے لیے راستہ ہموار کر دیا ہے۔ دشمنوں کو زیر کرکے سارے عرب کی گردنیں تمہارے سامنے جھکا دی ہیں اور تمہارے لیے ایک بڑا خزانہ جمع کر دیا ہے۔ میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ اہل حجاز کے حقوق کا ہمیشہ خیال رکھنا وہ تمہاری اصل بنیاد ہیں جو حجازی تمہارے پاس آئے اس سے حسن سلوک سے پیش آنا۔ اس کی عزت کرنا اس پر احسان کرنا اور جو نہ آئے اس کی خبر گیری کرتے رہنا۔ اہل عراق کی ہر خواہش پوری کرنا اگر وہ روزانہ عاملوں کا تبادلہ چاہیں تو روزانہ کر دینا کہ عمال کا تبادلہ تلواروں کے بے نیام ہونے سے بہتر ہے۔ شامیوں کو اپنا مشیر بنانا ان کا خیال ہر حال میں مدنظر رکھنا جب کوئی دشمن تمہارے مقابلہ پر آئے تو ان سے مدد لینا۔ لیکن کامیاب ہونے کے بعد ان کو فوراً واپس بلا لینا ورنہ دوسرے مقام پر زیادہ ٹھہرنے سے ان کے اخلاق بدل جائیں گے۔

خلافت میں حسین بن علی ، عبداللہ بن عمر ، عبدالرحمن بن ابی بکر ، عبداللہ بن زبیر کے علاوہ کوئی حریف نہیں ہے۔ عبداللہ بن عمر سے کوئی خطرہ نہیں انہیں زہد و عبادت کے علاوہ کسی چیز سے واسطہ نہیں ہے۔ عام مسلمانوں کی بیعت کے بعد انہیں بھی کوئی عذر نہ ہوگا۔ عبدالرحمن بن ابی بکر میں کوئی ذاتی حوصلہ و ہمت نہیں ہے جو ان کے ساتھ کریں گے وہ اس کی پیروی کر لیں گے۔ البتہ حسین بن علی کی جانب سے خطرہ ہے اہل عراق انہیں تمہارے مقابلہ میں انہیں لا کر چھوڑیں گے ۔ جب وہ تمہارے مقابلہ پر آئیں اور تم ان پر قابو حاصل کر لو تو درگزر سے کام لینا کہ وہ قرابت والے، بڑے حقدار اور رسول اللہ کے عزیز ہیں۔ البتہ جو شخص لومڑی کی طرح دکھائی دے گا اور شیر کی طرح حملہ کرے گا وہ عبداللہ بن زبیر ہے اگر وہ صلح کر لے تو خیر ورنہ قابو پانے کے بعد اس کو ہرگز نہ چھوڑنا اور اس کے ٹکڑے اڑا دینا۔

مسلم بادشاہت کا آغاز

- امیر معاویہ بنیادی طور پر ایک دنیاوی حکمران تھے لہٰذا ان کے عہد حکومت کو خلفائے راشدین کے معیار پر جانچنا ایک تاریخی غلطی ہے ان کا اپنا قول ہے ’’انا اول الملکوک‘‘ (مستند حوالہ درکار ہے) یعنی عربوں میں سب سے پہلا بادشاہ میں ہوں۔ اگرچہ انہوں نے حکومت کا ظاہری ڈھانچہ خلفائے راشدین کے مطابق ہی قائم رکھا ۔ لیکن اسلامی طرز حکومت میں مندرجہ ذیل بنیادی تبدیلیاں کیں جس کی وجہ سے مسلم بادشاہت کا آغاز ہوا اور ان کی حکومت خلفائے راشدین کے راستہ سے ہٹ گئی - - اسلامی تعلیمات میں شخصی حکومت کا کوئی تصور موجود نہیں۔ خلفائے راشدین عوامی تائید و حمایت سے ہی مسند خلافت پر متمکن ہوئے تھے۔ عوام کو ان کے احتساب کا پورا پورا حق تھا۔ لیکن امیر معاویہ نے یزید کو اپنی زندگی ہی میں اپنا جانشین نامزد کر دیا اور اس کے لیے بیعت بھی لے لی۔ یہ بیعت لالچ اور جبر کا نتیجہ تھی۔ یہیں سے اسلام میں شخصی اور موروثی حکومت کا آغاز ہوا۔ - - خلافت راشدہ کی بنیاد شورائیت پر تھی ان کی رہنمائی کے لیے مجلس شوری موجود تھی جس کے رکن مسلم اکابرین عرب میں سے تھے ۔ یہ لوگ پوری آزادی سے ملکی معاملات میں خلیفہ کو مشورہ دیتے لیکن امیر معاویہ نے مجلس شوریٰ ختم کرکے اس کی جگہ اپنے درباری مشیروں کو دے دی۔ یہ مشیر بالعموم ان کے رشتہ دار یا ان کے ہمنوا ہوتے - - بیت المال خلفائے راشدین کے زمانہ میں قومی امانت سمجھا جاتا تھا لیکن اب یہ خلیفہ کے ذاتی تصرف میں تھا آمد و خرچ میں بھی جائز و ناجائز کی تخصیص روا نہ رکھی جاتی ۔ بیت المال کی رقوم عموماً عوامی تائید و حمایت حاصل کرنے کے استعمال کی جاتیں چنانچہ امیر معاویہ کے زمانہ میں بیت المال ’’شاہی خزانہ‘‘ کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ - - اعلی مناصب پر تقرری کے لیے تقوی اور اہلیت کی بجائے اب خلیفہ کے ساتھ خاندانی اور ذاتی تعلقات بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔ - - خلافت راشدہ سادگی کا انتہائی حسین نمونہ تھی۔ مسجد نبوی کا صحن قصر خلافت کا کام دیتا تھا لیکن امیر معاویہ نے اپنے دفاتر اور محل قصر و کسریٰ کے نمونہ پر تعمیر کرائے ۔ ان کا طرز رہائش بھی شاہانہ تھا۔ محل پر پہرہ دار اور دروازوں پر دربان مقرر کرنے کا طریقہ آپ ہی نے پہلی بار اختیار کیا ۔ آپ نے اپنے بیٹھنے کے لیے ایک ایسی چیز بنوائی تھی جو تخت کے مشابہ تھی۔ اگرچہ آپ مسجد میں امامت کے فرائض ادا کرتے تھے لیکن وہاں آپ نے اپنے لیے آڑ (مقصورہ) بنوا رکھی تھی۔ یہ طور طریقے آ نے رومی شہنشاہوں سے مستعار لے کر اپنے ملک میں رواج دئیے ۔ لٰہذا ان تمام تبدیلیوں کی روشنی میں یہ کہنا درست ہوگا کہ امیر معاویہ کے عہد میں مسلم بادشاہت کا آغاز ہوا۔ (خلافت و ملوکیت مولانا مودودی)

حوالہ جات

  1. ^ Maulana Modoodi, khilaft wa malookiyat

بیرونی روابط