مکہ

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
مکہ مکرمہ

مکہ (مکمل نام: مکہ مکرمہ، عربی: مَكَّةُ الْمُكَرّمَةْ‎، ترکی: Mekke) تاریخی خطہ حجاز میں سعودی عرب کے صوبہ مکہ کا دارالحکومت اور مذہب اسلام کا مقدس ترین شہر ہے ۔ شہر کی آبادی 2004ء کے مطابق 12 لاکھ 94 ہزار 167 ہے ۔ مکہ جدہ سے 73 کلومیٹر دور وادی فاران میں سطح سمندر سے 277 میٹر بلندی پر واقع ہے ۔ یہ بحیرہ احمر سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔

یہ شہر اسلام کا مقدس ترین شہر ہے کیونکہ روئے زمین پر مقدس ترین مقام بیت اللہ یہیں موجود ہے اور تمام باحیثیت مسلمانوں پر زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ یہاں کا حج کرنا فرض ہے ۔

فہرست

[ترمیم] نام

انگریزی زبان میں Mecca کا لفظ کسی بھی خاص شعبہ یا گروہ کے مرکزی مقام کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ 1980ء کی دہائی میں حکومت سعودی عرب نے شہر کا انگریزی نام Mecca سے بدل کر Makkah کردیا۔

معروف مؤرخ ابن خلدون کے مطابق مکہ پہلے بکہ کے نام سے جانا جاتا تھا تاہم مؤرخین کے درمیان اس امر پر اختلاف ہے: ابراہیم النخعی نے بکہ کو کعبہ اور مکہ کو شہر سے منسوب کیا جبکہ امام ُزہری بھی اسی کے حامی ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ بکہ میں استعمال ہونے والا ب دونوں آوازوں کے درمیان قربت کے باعث بعد ازاں م میں تبدیل ہوگیا۔ مکہ کو ”ام القری“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

[ترمیم] تاریخ

مسجد حرام کے اندر قائم خانۂ کعبہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیهم السلام نے تعمیر کیا ۔ مؤرخین کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے قبل ہی مکہ عبادت اور کاروبار کا مرکز تھا۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ مکہ جنوبی عرب سے شمال میں رومی و بازنطینی سلطنتوں کے لیے زمینی راستے پر تھا اور ہندوستان کے مصالحہ جات بحیرہ عرب اور بحر ہند کے راستے سے یہیں سے گزرتے تھے۔

کعبة الله کی تعمیری تاریخ عہد ابراہیم اور اسماعیل علیهم السلام سے تعلق رکھتی ہے اور اسی شہر میں نبی آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پیدا ہوئے اور اسی شہر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر وحی کی ابتدا ہوئی۔ یہی وہ شہر ہے جس سے اسلام کا نور پھیلا اور یہاں پرہی مسجد حرام واقع ہے جوکہ لوگوں کی عبادت کے لیے بنائی گئی جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے :

”اللہ تعالی کا پہلا گھر جولوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہ وہی ہے جومکہ مکرمہ میں ہے جوتمام دنیا کے لئے برکت و ہدایت والا ہے“ ( آل عمران:96 )

570ء یا 571ء میں یمن کا فرمانروا ابرہہ ساٹھ ہزار فوج اور تیرہ ہاتھی (بعض روایات کے مطابق نو ہاتھی) لے کر کعبہ کو ڈھانے کے لیے مکہ پر حملہ آور ہوا۔ اہل مکہ اس خیال سے کہ وہ اتنی بڑی فوج سے لڑ کر کعبے کو بچانے کی طاقت نہیں رکھتے ، اپنے سردار عبدالمطلب کی قیادت میں پہاڑوں پر چلے گئے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہزاروں ابابیل چونچوں اور پنجوں میں سنگریزے لیے ہوئے نمودار ہوئے اور انہوں نے ابرہہ کے لشکر پر ان سنگریزوں کی بارش کر دی چنانچہ یہ سارا لشکر منیٰ کے قریب وادی محسر میں بالکل کھائے ہوئے بھوسے کی طرح ہو کر رہ گیا۔

تو اس طرح یہ مکمل لشکر اللہ تعالٰی کے حکم سے تباہ و برباد ہوگیا اللہ تعالٰی نے اس حادثے کا قرآن مجید میں کچھ اس طرح ذکر فرمایا ہے :

"کیا آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا ان کی سازش و مکر کو بے کار نہیں کردیا ؟ اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دئیے ، جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے ، پس انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا" ( سورة الفیل )

یہ وہی سال تھا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیدائش ہوئی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے زندگی کا بیشتر حصہ یہیں گزارا۔ آپ پر وحی بھی اسی شہر میں نازل ہوئی اور تبلیغ اسلام کے نتیجے میں کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آکر مسلمان یہاں سے مدینہ ہجرت کر گئے۔

بالآخر 10 رمضان المبارک 8ھ بمطابق 630ء میں مسلمان حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قیادت میں اس شہر میں دوبارہ داخل ہوئے ۔ مدینہ ہجرت جانے کے بعد رسول اللّہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قیادت میں مسلمانوں کی دوبارہ اس شہر مکّہ میں آمد کو فتح مکہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمام اہلیان شہر کے لیے عام معافی کا اعلان کیا۔

خلافت اسلامیہ کے عروج پر پہنچنے کے بعد مکہ مکرمہ مسلم دنیا کے معروف علمائے کرام اور دانشوروں کا مسکن بن گیا جو کعبة الله سے زیادہ سے زیادہ قریب رہنا چاہتے تھے۔ اس زمانے میں سفر حج کی مشکلات اور اخراجات کے باعث حجاج کرام کی تعداد اتنی زیادہ نہیں تھی جتنی آج کل ہے ۔ 18 ویں اور 19 ویں صدی کے نقشہ جات اور تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا شہر تھا جس میں مسجد حرام کے گرد ایک شہر قائم تھا۔

مکہ کبھی بھی ملت اسلامیہ کا دارالخلافہ نہیں رہا۔ اسلام کا پہلا دارالخلافہ مدینہ تھا جو مکہ سے 250 میل دوری پر واقع ہے۔ خلافت راشدہ کے زمانے میں بھی مدینہ ہی دارالخلافہ رہا اور پھر حضرت علی رضی اللہ کے زمانے میں پہلے کوفہ اور اس کے خاتمے کے بعد دمشق اور بعد ازاں بغداد منتقل ہوگیا۔

مکہ مکرمہ صدیوں تک ہاشمی شرفاء کی گورنری میں رہا جو اس حکمران کے تابع ہوتے تھے جو خود کو خادم الحرمین الشریفین کہلاتا تھا۔

1926ء میں سعودیوں نے شریف مکہ کی حکومت ختم کرکے مکہ کو سعودی عرب میں شامل کرلیا۔

جدید زمانے میں حاجیوں کی روز بروز بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث شہر تیزی سے وسعت اختیار کرتا جارہا ہے اور شہر کی اکثر قدیم عمارات ختم ہوچکی ہیں جن کی جگہ بلند و بالا عمارات، شاپنگ مالز، شاہراہیں اور سرنگیں تعمیر کی گئی ہیں۔

[ترمیم] اہمیت

بیت اللہ و مسجد حرام

مسلمانوں کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا اسلام کے پانچ بنیادی اراکین میں سے ایک ہے ۔ حالیہ سالوں میں ماہ ذوالحجہ میں 20 سے 30 لاکھ مسلمان ہر سال حج بیت اللہ کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لاتے ہیں۔ علاوہ ازیں لاکھوں مسلمان عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے بھی سال بھر مکہ آتے ہیں۔

شہر مکہ میں بنیادی حیثیت بیت اللہ کو حاصل ہے جو مسجد حرام میں واقع ہے ۔ حج و عمرہ کرنے والے زائرین اس کے گرد طواف کرتے ہیں، حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں اور زمزم کے کنویں سے پانی پیتے ہیں۔ علاوہ ازیں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سعی اور منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل بھی کیا جاتا ہے ۔ حج کے دوران میدان عرفات میں بھی قیام کیا جاتا ہے ۔

مسلمانوں کے لیے مکہ بے پناہ اہمیت کا حامل ہے اور دنیا بھر کے مسلمان دن میں 5 مرتبہ اسی کی جانب رخ کرکے نماز ادا کرتے ہیں۔

غیر مسلموں کو مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں اور شہر کی جانب آنے والی شاہراہوں پر انتباہی بورڈ نصب ہیں۔ جن مقامات سے غیر مسلموں کو آگے جانے کی اجازت نہیں وہ حدود حرم کہلاتی ہیں۔

[ترمیم] بیرونی روابط

مکہ کے لئے سعودی حکومت کی ویب سائٹ

مکہ کا نقشہ

مکہ کی تصاویر

مکہ کی تصاویر

‘‘http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%DA%A9%DB%81’’ مستعادہ منجانب