مدائن صالح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مدائن صالح
Madâin Sâlih
عالمی ثقافتی ورثہ

Thamudi.jpg
مدائن صالح
ملک سعودی عرب
قسم ثقافتی
شرائط عالمی ثقافتی ورثہ
حوالہ 1293
علاقہ**
تاریخِ شمولیت
شمولیت 2008  (بتیسواں اجلاس)
* عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں مندرج نام
** یونیسکو کا علاقہ

مدائن صالح یا صالح کے شہر[ترمیم]

'مدائن صالح' عربی، اردو اور فارسی زبان میں یکساں لکھا جاتا ہے۔ اسے الحجر یا حجرہ بھی کہا جاتا ہے۔ مدائن، مدینہ کی جمع ہے جس کا مطلب شہر ہے- مدائن صالح سے اردو، عربی اور فارسی زبان میں مراد 'صالح کے شہر' ہیں۔ یہ جگہ سعودی عرب کے انتظامی خطہ مدینۃ میں العلی میں واقع ہے جو کہ ظہور اسلام سے قبل کا ایک انسانی معاشرہ اور تہذیب ہے۔ اس قدیم شہر کی اکثر باقیات 'سلطنت نباتین' سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ جگہ سلطنت کی جنوبی طرف اور پترہ { عربی میں البتراء} جو کہ دارلحکومت تھا، کے بعد سب سے بڑی ہے۔ قدیم 'لحیان' اور قدیم 'رومی' بادشاہت کے قبضہ جات کے آثار، 'نباتین' سلطنت سے قبل اور بعد کے بھی ملے ہیں۔ جبکہ قرآن شریف سے یہ ثابت ہے کہ ۳ تین ہزار قبل مسیح کی ہزاری میں، یہاں پر 'قوم ثمود' آباد تھی۔ اسلامی عبارات اور معلومات کیمطابق قوم ثمود جس نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے تھے، ان کی بت پرستی اور اس پر اٹل قائم رہنے اور حضرت صالح علیہ السلام جن کو اس قوم کی طرف اللہ نے نبی بنا کر ہدایت و راہنمائی کیلئے بھیجا کو خفیہ طور پر قتل کرنے اور حق و ہدایت کی راہ نہ اختیار کرنے کے عزائم پر اللہ تعالٰی نے زلزلہ اور سخت بجلی و گرج چمک کے برساو کے ساتھ بطور سزا کے عذاب نازل کیا۔ اور قوم ثمود کے نافرمان لوگ نیست و نابود ہو گئے۔ یوں مدائن صالح والی جگہ اسی وقت عذاب الہی سے اللہ کے غضب و قہر کی عبرتناک نشانی بن گئی۔ سعودی عرب کی حکومت ۱۹۷۲ء سے اس شہرکو اس کی اس تاریخی حیثیت سے ہٹ کر اسے سیاحت و تفریح کی کشش کیلئے مدائن صالح کے طور سے فروغ دے رہی ہے اور اس کو قومی تہذیبی تشخص کی حیثیت سے محفوظ کیا گیا ہے۔ قدیم مٹی ہوئی تہذیب 'سلطنت نباتین' کے انتہائی محفوظ حالت میں موجود خاص کر ۱۳۱ پتھروں کے تراشیدہ گھر اور ان کے بیرونی داخلی دروازوں کو، سن ۲۰۰۸ء میں اقوام متحدہ کے ادارے یو نیسکو نے اسے سعودی عرب کی پہلی عالمی ورثہ کی جگہ قرار دیا ہے۔