روم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Featured article candidate.svg
یہ مضمون منتخب مقالہ بنائے جانے کے لیے امیدوار ہے۔ اس لیے اس مضمون کو خاص توجہ کی ضرورت ہے۔


روم
Colosseum-2003-07-09.jpg
عمومی معلومات
ملک اٹلی
علاقہ لازیو
صوبہ صوبہ روما
رقبہ 5252 مربع کلومیٹر
سطح سمندر سے بلندی 20+ میٹر
آبادی 2,553,873
پوسٹل کوڈ 00121 تا 00199
کالنگ کوڈ 06
منطقۂ وقت مرکزی یورپی وقت (UTC+1)
حکومت
ناظم (سنداکو) والتر ویلترونی
زیر انتظام کمونے 121
اطالوی نقشہ میں شہر کا مقام
Roma posizione 3.png
علامت
Roma01.jpg


روم (انگریزی :روم ۔ English : Rome) ۔ ( اطالوی : روما۔ Italiano : Roma) اٹلی کا دارالحکومت، ملک کا سب سے بڑا شہر اور مرکزی مشرقی اٹلی کے علاقہ لازیو (Lazio) کا صدر مقام ہے۔ شہر کی آبادی تقریبا پچیس لاکھ اور پورے صوبہ روم کی آبادی اڑتیس لاکھ ہے۔ شہر دریائے آنیینے اور دریائے تیبر کے سنگم پر آباد ہے۔


تاریخ[ترمیم]

بنیاد سے سلطنت تک[ترمیم]

روم کی بنیاد روایتوں اور داستانوں میں ملتی ہے، تاہم جدید تحقیقات اس نظریہ کو تقویت دیتی ہیں کہ شہر کی بنیاد آٹھویں صدی قبل مسیح میں پڑی۔ شہر روم، رومی بادشاہت کا دارالحکومت بنا (جس پر روایات کے مطابق بادشاہوں کی سات پشتوں نے حکومت کی) اور پھر رومی جمہوریہ کا دارالحکومت بنا (جس میں ایوان بالا یا سینٹ کو زیادہ اختیارات حاصل ہوتے تھے) اور بالآخر رومی سلطنت کا دارالحکومت بنا (جس پر شہنشاہ حکومت کرتے تھے)۔ یہ کامیابی اور برتری فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ اقتصادی غلبہ کی وجہ سے بھی تھی جس نے اپنے اندر ہمسایہ تہذیبوں خاص کر ایسٹروسکن (قدیم مقامی باشندے) اور یونانی تہذیبوں کو جذب کر لیا۔ روم کی برتری پورے یورپ اور بحیرہ روم کے ساحلوں پر بڑھتی گئي جبکہ اسکی آبادی دس لاکھ سے تجاوز کر گئي۔ تقریبا ایک ہزار سال تک روم مغربی دنیا کا سب سے اہم سیاسی مرکز، امیر ترین اور سب سے بڑا شہر رہا، اور یہ برتری سلطنتوں کے اتار چڑھاؤ سے متاثر نہ ہوئی حتی کہ اس کا دارالحکومت ہونے کا اعزاز بھی چھن گیا اور اسکی جگہ مشرقی دارالحکومت قسطنطنیہ نے لے لی۔


ریاستی تباہی اور پاپاۓ روم کا طلوع[ترمیم]

410ء میں ہونے والی تبدیلیوں اور اسکے بعد 476ء میں رومی سلطنت کی تباہی کے بعد روم بازنطینی حکمرانوں اور جرمینک (Germanic) بربریوں کے زیر تسلط رہا۔ آبادی بیس ہزار نفوس تک کم ہو گئي، اور شہر کھنڈرات کا نقشہ پیش کرنے لگا۔ عیسائیت کے اوائلی طلوع کے ساتھ روم کے لاٹ پادری کو مذہب کے ساتھ ساتھ سیاسی اہمیت بھی حاصل ہونے لگی، جو آخر کار پاپاۓ روم کہلاۓ اور جنہوں نے روم کو کیتھولک گرجاؤ‎ں کا مرکز اور پاپاۓ روم کی ریاست کا دارالحکومت بنا دیا۔ عہد وسطی میں شہر مذہبی زائرین کے لیے مرکز قرار پایا اور اسکے ساتھ ساتھ پاپاۓ روم اور مقدس رومی سلطنت (جسکا آغاز چارلس اعظمCharlemagne یا Charles the Great نے کیا تھا اور روم کو مرکز قرار دیا تھا) کی درمیانی کشمکش کا مرکز بھی بنا۔


عہد وسطی کے کچھ عرصے کے لیے آزاد شہر رہنے کے علاوہ روم صدیوں مقدس شہر اور پاپاۓ روم کی ریاست کا دارلحکومت رہا، حتی کہ پاپاۓ روم کچھ عرصہ (1330ء تا 1337ء)کے لیے آوینیان (Avignon) میں بھی مقیم رہے۔ 1527ء کے بعد جب پوپ کی سیاسی طاقت ختم ہو گئی تو شہر تہذیب اور فنون لطیفہ کے اعیاء کا مرکز بنا (عہد وسطی میں چودھویں صدی عیسوی سے سولہیوں صدی تک یورپ میں علوم و فنون کے اعیاء کا زمانہ جسکو تاریخ میں Renaissance کہتے ہیں)۔ آبادی بڑھنے لگی اور ایک بار پھر سترہویں صدی عیسوی میں ایک لاکھ تک پہنچ گئي۔ تاہم روم اسی دور ترقی میں دوسرے یورپی دارالحکومتوں سے پیچھے رہا جسکی بڑی وجہ کیتھولک گرجا کی اندرونی ترتیب نو قرار دی جاتی ہے۔

جغرافیعہ[ترمیم]

روم مرکزی اٹلی کے لازیو کے علاقہ میں دریائے آنیینے اور دریائے تیبر کے سنگم پر واقع ہے۔ گرچہ مرکز شہر بحیرہ روم سے 24 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، شہر کا ساحل سمندر تک پھیلا ہوا ہے جہاں جنوب مغربی شہر اوستیہ واقع ہے۔ سطح سمندر سے شہر کی بلندی پیاسا دیل پوپولو (Piazza del Popolo) میں 13 میٹر سے بڑھتی ہوئی مونتے ماریو (Monte Mario) کی چوٹی پر 120 میٹر تک پہنچتی ہے۔ شہر کا رقبہ 1285 مربع کلو میٹر ہے جو اسے یورپ کے بڑے دارالحکومتوں میں سے بناتی ہے۔

آب و ہوا[ترمیم]

روم بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ہے اور سمندر سے قربت اسکی آب و ہوا کو معتدل بناتی ہے۔ تاہم گزشتہ چند دہائيوں میں موسم گرم ہونے کے اشارے ملے ہیں۔ اپریل سے جون تک موسم خوشگوار ہوتا ہے اور ایسا ہی وسط ستمبر سے اکتوبر تک ہے، خاص کر "اوتوبراتا (ottobrata)" جسکا مطلب اکتوبر کا مہینہ لیا جاتا ہے اپنے خوشگوار اور دھوپدار دنوں کے لیے مشہور ہے۔ اگست کے دنوں میں گرمی بڑھ جاتی ہے اور دن کا درجہ حرارت 35 درجہ سینٹی گریڈ تک بھی چڑھ جاتا ہے۔ روایتی طور پر اگست میں کاروبار بند کر دیے جاتے ہیں رومی لوگ چھٹیاں گزارنے تفریحی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس روایت میں تبدیلی ہو رہی ہے اور اب شہر اگست کے مہینہ میں بھی کھلا رہتا ہے، جسکی بڑی وجہ سیاحت میں اضافہ ہے۔ دسمبر کے دنوں کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 13 درجہ سینٹی گریڈ ہے۔

حکومت اور سیاست[ترمیم]

کاپی تولینے، قدیم رومی باشندوں کا نشان

اٹلی میں روم کو کمونے (اطالوی comune) کا درجہ دیا گیا ہے، اسکے علاوہ روم اٹلی کے بیس علاقوں میں سے علاقہ لازیو (Lazio) کا صدر مقام اور لازیو کے پانچ صوبوں میں سے صوبہ روم کا صدر مقام بھی ہے۔ روم کے موجودہ میئر والتر ویلترونی (Walter Veltroni) ہیں جو پہلی بار 2001ء میں منتخب ہوۓ اور دوسری بار 2006ء میں دوبارہ منتخب ہوۓ ہیں۔ اٹلی میں جاری موجودہ سیاسی بحث میں روم کو خصوصی اختیارات دینے کی تجویز زیر غور ہے، اور اسکو ریاست ہاۓ متحدہ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن کی طرز پر ایک الگ شہر یا داراحکومتی ڈسٹرک بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔


اندرون شہر آزاد ریاستیں[ترمیم]

روم کی خصوصیات میں ایک جو اسکو دوسرے شہروں سے منفرد کرتی ہے وہ شہر کے اندر موجود دو خودمختار ریاستیں ہیں۔ ان میں سے ایک ویٹیکن سٹی (Vatican City) ہے جس پر ہولی سی (Holy See) حکومت کرتی ہے اور دوسری ایس ایم او ایم SMOM یا ساورن ملٹری آرڈر آف مالٹا (انگریزی Sovereign Military Order of Malta) (اطالوی Sovrano Militare Ordine Ospedaliero di San Giovanni di Gerusalemme di Rodi e di Malta ) ہے، جنہوں نے 1798ء میں نپولین کے ہاتھوں مالٹا کھونے کے بعد 1834ء میں روم میں پناہ لی۔


بین الاقوامی تعلقات[ترمیم]

روم روایتی طور پر یورپی سیاست میں سرگرم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ 1957ء میں شہر نے معاہدہ روم کی میزبانی کی جس میں یورپی معاشیاتی کمیونٹی (European Economic Community) کی بنیاد ڈالی اور جس نے بعد میں موجودہ یورپی یونین (European Union) کی داغ بیل ڈالی۔ اسکے علاوہ شہر کو جولائی 2004ء میں یورپی قانون (European constitution) کے باضابطہ دستخط کے اجلاس کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہے۔ شہر میں کئی بین الاقوامی تنظیموں کے مرکزی دفاتر بھی ہیں مثلا اقوام متحدہ کی تنظیم برائے خوراک و زراعت (ادارہ برائے خوراک و زراعت) وغیرہ۔


معاشرہ اور تہذیب و تمدن[ترمیم]

مذہب[ترمیم]

سان پیعیترو، روم، اٹلی

زمانہ قدیم میں مذہب رومی یا اطالوی میں ریلیجیو رومانا (Religio Romana) ہی اہم مذہب تھا۔ لیکن بعد میں کئی دوسرے مذاہب بھی شامل ہوتے گۓ،جیسا کہ یہودیت جس کی موجودگی رومی معاشرہ میں زمانہ قدیم سے ہی ثابت ہے اور جسے کسی دور میں علاقہ رومن غیتو (Roman Ghetto) میں محصور کر دیا گیا تھا۔ اور پھر عیسایئت، جسے ابتدا میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن چوتھی صدی عیسوئی کے اوائل میں عیسائیت خاصی پھیل چکی تھی اور 313ء، عہد قونستنتائن اول (قسطنطین اعظم) میں اسے قانونی تحفظ حاصل ہوا اور 380ء، عہد تھیوڈوسیس اول (Theodosius I) میں عیسایئت کو رومی سلطنت کے باضابطہ مذہب کا درجہ دے دیا گیا۔ جس سے اسے مزید پھیلنے اور ختم ہوتے ہوۓ رومی مذہب کی جگہ پر کرنے کا موقع ملا۔


روم عیسایئت کا پہلا مرکز قرار پایا، جہاں روایات ےک مطابق پہلی صدی عیسوئی میں سینٹ پیٹر (پطرس) اور سینٹ پاول (پولس) کا مذہبی بنیاد پر قتل کیا گیا۔ روم کے لاٹ پادری یا بشپ (Bishop) نے بعد میں پوپ (Pope) یا پاپاۓ روم کا کا لقب اپنایا اور اسکو باقی تمام گرجاؤ‎ں کے لاٹ پادریوں پر برتری حاصل ہوئی اور تمام عیسائیوں پر بھی اس بنیاد پر کہ وہ سینٹ پیٹر کے جانشین ہیں۔ 313ء سے عیسائي حکمرانوں اور پیروکاروں کی جانب سے دیے جانے والے عطیوں سے پاپاۓ روم کے اثاثوں میں اضافہ ہونے لگا۔ ان اثاثوں میں لیٹرن پیلس (Lateran Palace) اور بازیلیکا (basilicas) بھی شامل تھے، اسکے ساتھ ساتھ ناکام ہوتے ہوۓ سماجی نظام پر گرجا کے اثرورسوخ میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ جسکے بعد آنے والی کئي صدیوں تک پاپاۓ روم کا سکہ ہی چلا۔

جامیعات[ترمیم]

روم اعلی تعلیم کا قومی مرکز ہے، جہاں پہلی جامعہ، جامعہ لا ساپیئنزا (La Sapienza) کی بنیاد 1303ء رکھی گئی اور جو اس وقت یورپ کی سب سے بڑی جامعہ ہے جہاں 15,000 طلبا زیر تعلیم ہیں۔ دو مزید قومی جامیعات بعد میں بنائی گئيں جن میں سے جامعہ تور ورگاتا (Tor Vergata)، سن 1982ء میں اور جامعہ روما ترے (Roma Tre) سن 1992ء میں تعمیر کی گئيں۔ شہر میں اسکے علاوہ کئي نجی جامیعات بھی ہیں جنکی تفصیل درج ذیل ہے۔

بنیادی شہری ڈھانچہ[ترمیم]

ہوائی اڈے[ترمیم]

ہوائی سفر کی سہولیات کے لیے شہر کو تین ہوائی اڈوں کی خدمات حاصل ہیں۔ لیوناردو دا ونچی بین الاقوامی ہوائی اڈہ (Leonardo Da Vinci International Airport) اٹلی کا اہم ہوائي اڈہ ہے جسکو مقامی مقامی لوگ روم کے قریبی کمونے فیمیچینو میں واقع ہونے کی وجہ سے فیومیچینو ہوائی اڈہ کہتے ہیں۔ قدرے پرانہ جیوان باتستہ پاستینے بین الاقوامی ہوائی اڈہ (Giovan Battista Pastine International Airport) قریبی جنوب مشرقی کمونے چیامپینو میں واقع ہونے کی وجہ سے چیامپینو ہوائی اڈہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ ہوائی اڈہ عام شہری استعمال کے علاوہ فوجی ضروریات کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تیسرا ہوائی اڈہ دیل اربے (Aeroporto dell'Urbe) قدرے چھوٹا ہے جو مرکز شہر سے صرف 6 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ اسے زیادہ تر ہیلی کاپٹروں کی آمدورقت یا نجی ہوائی جہازوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان تین ہوائی اڈوں کے علاوہ چوتھا ہوائی اڈہ چنتوچیلے (Aeroporto di Centocelle) ہے جو اب ہوا بازی کے لیے قابل استعمال نہیں ہے، اور اطالوی فوج کے زیر استعمال ہے۔ اس ہوائی اڈہ کے زیادہ تر حصہ کو عوامی پارک میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

ریلوے[ترمیم]

روم ترین ایطالیہ (Trenitalia) یا اطالوی ریلوے کا مرکز ہے۔ ایسکوایلینے پہاڑی (Esquiline Hill) پر روم کا مرکزی ریلوے اسٹیشن واقع ہے، جو روما ترمینی (Roma Termini) کے نام سےجانا جاتا ہے۔ اسٹیشن کا افتتاع 1867ء میں کیا گيا تھا جسکو گرا کر دوبارہ 1939ء اور 1951ء تعمیر کیا گیا۔ اسکو یورپ کا سب سے بڑا ریلوے اسٹیشن (غیر مصدقہ) قرار دیا جاتا ہے جسکو روزانہ تقریبا چھ لاکھ مسافر (غیر مصدقہ) استعمال کرتے ہیں۔ اسٹیشن کے چوبیس پلیٹ فارم ہیں، انکے علاوہ اس میں ایک خریداری مرکز (shopping centre) اور فنون لطیفہ کی نمائش گاہ (art gallery) بھی بناۓ گۓ ہیں۔ شہر کا دوسرا اہم ریلوے اسٹیشن روما تیبورتینا (Roma Tiburtina) ہے جسکو تیز رفتار ریل گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بنایا جا رہا ہے۔ شہر کے دیگر ریلوے اسٹیشنوں میں روما اوستی اینسے (Roma Ostiense)، روما تراستے ویرے (Roma Trastevere)، روما تسکولانا (Roma Tuscolana)، روما سان پی ایترو (Roma San Pietro)، اور روما کازیلینا (Roma Casilina) شامل ہیں۔

اندرون شہر آمدورفت[ترمیم]

زیر زمین ریل کا نظام[ترمیم]

اندرون شہر آمدورفت کے لیے دو رویہ زیر زمیں ریل کا نظام بنایا گيا ہے جسکو میتروپولیتانا (Metropolitana) یا روم میٹرو (Rome Metro) کہتے ہیں۔ پہلی شاخ پر کام کا آغاز 1930ء میں کیا گيا تھا، جسکا مقصد اہم ریلوے اسٹیشن روما ترمینی کو جنوب میں نۓ منصوبہ بند علاقہ ای بیالیس (E42) سے ملانا تھا۔ اس علاقہ کو 1942ء کی عالمی نمائش (1942 World Fair) کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔ لیکن یہ نمائش دوسری عالمی جنگ کی وجہ سے نہ ہو سکی اور اس علاقہ کو بعد میں روم عالمی نمائش کا نام دیا گيا جو 1950ء سے جدید کاروباری علاقہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ آمدورفت کی اس شاخ کا باقاعدہ افتتاع 1950ء میں کیا گيا، اور اسکو اب بی لائن (B line)کہا جاتا ہے۔ اے لائن کا افتتاع 1980ء میں کیا گيا، جو اوتاویانو سے شروع ہو کر انانیانا پر ختم ہوتی ہے۔ اب لائن بی سے ایک اور شاخ لائن بی ون کے نام سے زیر تعمیر جسکو بعد میں لائن سی بنے گی۔ اسی طرح لائن ڈی بھی زیر تعمیر ہے۔ زیر زمین ان گزر گاہوں کی کل لمبائی 2005ء تک 38 کلومیٹر ہے۔ لائن اے اور لائن بی صرف روما ترمینی اسٹیشن پر ایک دوسرے کا کاٹتی ہیں۔


سطحی آمدورفت کا نظام[ترمیم]

روم سطحی ریل گاڑی (ٹرام)

زیرزمین ریل کا نظام سطحی ریل گاڑیوں یا ٹراموں کے نظام کا حصہ ہے جن کا جال پورے روم میں بچھا ہوا ہے۔ ترین ایطالیہ کی ریل گاڑیاں بھی شہر کے اندر 20 سٹیشنوں کے درمیان آمدورفت کی سہولیات فراہم کرتیں ہیں۔ اندرون شہر ریل گاڑیوں کے ان نظاموں کے علاوں شہر کو ایک مکمل بس نظام بھی میسر ہے۔

جڑواں شہر[ترمیم]

مزید پڑھیں[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

باضابطہ ویب سائٹیں[ترمیم]


سیاحتی مددگار مواد اور نقشہ جات[ترمیم]



‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=روم&oldid=832780’’ مستعادہ منجانب